عالمی اسلامی تحریکات کی مجلس عمل سے وابستہ توقعات

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ نومبر ۲۰۰۲ء

پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتائج پر دنیا بھر میں جہاں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہاں مختلف ممالک کے دینی حلقوں اور اسلامی تحریکات میں توقعات اور امیدوں کی ایک نئی لہر بھی ابھری ہے۔ گزشتہ سال افغانستان پر امریکہ کے حملوں اور پاکستان میں طالبان کی حمایت کرنے والی دینی شخصیات اور کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ جہادی تحریکات کے خلاف کریک ڈاؤن سے مایوسی اور اضطراب کی جو صورتحال پیدا ہو گئی تھی اس پس منظر میں متحدہ مجلس عمل کی انتخابی کامیابی سے دنیا بھر کی دینی تحریکات کو حوصلہ ملا ہے، مجھے اس سلسلہ میں لندن میں جن شخصیات سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا ان کے تاثرات پیش خدمت ہیں۔

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا شمار بھارت کے ممتاز علمی شخصیات میں ہوتا ہے، وہ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کے فرزند ہیں، ایک مدت سے ماہنامہ الفرقان لکھنو کے ایڈیٹر ہیں، صاحب فکر و دانش ہیں کافی عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں، ان سے ہر سال لندن میں حاضری پر ملاقات کا موقع ملتا ہے، اس دفعہ ملاقات ہوئی تو دریافت کیا کہ انہوں نے ’’الفرقان‘‘ میں جو تفصیلی مضمون لکھا ہے وہ میری نظر سے گزرا ہے یا نہیں؟ یہ مضمون ’’الفرقان‘‘ کے اداریے کے طور پر دو قسطوں میں چند ماہ قبل شائع ہوا تھا، میں نے اس کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن دیکھ نہیں پایا تھا، اس میں انہوں نے طالبان کی پالیسیوں اور سیاسی و فکری طرز عمل پر ناقدانہ نظر ڈالی ہے اور اس حسرت کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی صورت میں ایک مثالی اسلامی ریاست و حکومت کا جو خواب دنیا بھر کے مسلمانوں نے دیکھا تھا وہ طالبان قیادت کے خلوص و دیانت اور سادگی و ایثار کے باوجود اس کی بعض مسائل میں غلط حکمت عملی کے باعث بکھر کر رہ گیا ہے۔ میں نے ان کے اس ارشاد کے بعد وہ مضمون دیکھا، مولانا سنبھلی کا خیال تھا کہ میں ان کے مضمون پر سخت ردعمل کا اظہار کروں گا مگر میں نے عرض کیا کہ مجھے ان کے موقف سے نہ صرف یہ کہ اصولی طور پر اتفاق ہے بلکہ میں ان کے مضمون کو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ میں شائع کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں۔

مجھے ان لوگوں سے اتفاق نہیں ہے جو طالبان قیادت کو ’’معصومیت‘‘ کے مقام پر فائز کر کے ان کی حکمت عملی اور پالیسیوں سے اختلاف کو ’’گناہ‘‘ قرار دیے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں اہل علم و دانش کو طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور کا پوری تفصیل اور گہرائی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے اور خالصتاً علمی اور فکری بنیادوں پر جہاں انہیں کوئی جھول اور غلطی محسوس ہو اس کی صاف طور پر نشاندہی کرنی چاہئے، کیونکہ طالبان اگر افغانستان کے اقتدار میں دوبارہ آنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے ذہن میں مستقبل کا کوئی نقشہ ہے تو اصحاب علم و دانش کا یہ بحث و مباحثہ ان کے پیش نظر ہونا چاہئے اور اسے سامنے رکھ کر انہیں اپنی نئی حکمت عملی اور پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں۔

البتہ مولانا سنبھلی سے میں نے یہ گزارش کی کہ ان کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے کہ ’’خواب بکھر گیا ہے‘‘ اور معاملہ ختم ہو گیا ہے کیونکہ ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں، ابھی عشق کے اور بھی کئی امتحان انتظار میں ہیں، اور ستاروں سے آگے جہانوں کا سلسلہ ابھی بہت وسیع ہے۔ میرے اندازے کے مطابق ابھی طالبان نے ایک کروٹ لینی ہے اور جہاد افغانستان میں اسلام کی سربلندی کے جذبہ کے ساتھ حصہ لینے والے مجاہدین کی نئی صف بندی ہونی ہے، اس لیے موجودہ صورتحال کو حتمی تصور نہ کیا جائے اور اسے محمود غزنویؒ کے سومنات پر کئے جانے والے ان سولہ حملوں میں سمجھ لیا جائے جنہیں بعض لوگ ناکام حملے قرار دیتے ہیں لیکن میں انہیں سترھویں اور کامیاب حملے کی تمہید سمجھتا ہوں۔

متحدہ مجلس عمل کی انتخابی کامیابی پر مولانا سنبھلی بہت خوش ہیں البتہ ان کی رائے یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل کو اپنی تمام تر توجہ صوبہ سرحد کی حکومت پر مبذول رکھنی چاہئے اور وہاں حکومت کا ایسا نمونہ پیش کرنا چاہیے جو ملک کے دوسرے حصوں کے عوام کے لیے بھی کشش کا باعث بن سکے اور آئندہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی ملک گیر کامیابی کا ذریعہ ثابت ہو۔

ڈاکٹر محمد بن عبد اللہ المسعری سعودی عرب کے ان دانشوروں میں سے ہیں جو امریکی فوجوں کی خلیج میں آمد کے موقع پر شاہ فہد کی خدمت میں ایک عرضداشت پیش کرنے کے جرم میں زیر عتاب ہیں، وہ ریاض یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، اس عرضداشت پر دستخط کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے، کسی طرح جیل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور یمن کے راستے لندن پہنچ کر سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے خود میری تلاش میں تھے ایک روز میری قیام گاہ پر تشریف لائے اور مختلف مسائل پر ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی، انہوں نے متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کو اسلامی قوتوں کی ایک اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو یہ ووٹ افغانستان میں امریکی مظالم کے ردعمل میں ملے ہیں اور پاکستان کے غیور مسلمانوں نے اپنے جذبات کا اچھے انداز میں اظہار کیا ہے، اب اس ووٹ بینک کو سنبھالنے اور اس میں اضافے کے لیے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے اور متحدہ مجلس عمل کو اپنے کام کا دائرہ پھیلانے کے بجائے سرحد اور بلوچستان کو سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہیے۔ اگر صوبہ سرحد کی حکومت کی صورت میں ملک کے عوام کو یہ نظر آ گیا کہ یہ حکومت سابقہ حکومتوں سے مختلف ہے اور حکمرانی کی بجائے عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے تو پنجاب اور سندھ کے لوگ بھی آئندہ سوچنے پر مجبور ہوں گے، لیکن اگر دوسرے صوبوں کی حکومتوں کی طرح صوبہ سرحد کی حکومت بھی روایتی ڈگر پر چلتی رہی اور لوگوں کو کوئی نمایاں عملی فرق دکھائی نہ دیا تو متحدہ مجلس عمل اپنے موجودہ ووٹ بینک کی حفاظت بھی نہیں کر سکے گی۔

ڈاکٹر المسعری نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ اس کے لیے کئی حربے اختیار کرے گی جس میں فنڈ کی فراہمی میں رکاوٹیں بھی شامل ہیں، اس پر قابو پانے کے لیے عوام کو ساتھ ملانا ہوگا اور امداد باہمی کو فروغ دے کر رفاہی اور سماجی کاموں کا دائرہ بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے مثال دی کہ الجزائر میں اسلامک سالویشن فرنٹ نے پہلے مرحلہ میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور لوکل حکومتیں بنائی تھیں، جنہیں ناکام بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے ضروری فنڈز روک لئے، مگر اسلامک سالویشن فرنٹ نے اس کی پرواہ کئے بغیر عام لوگوں سے رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دینے کی اپیل کی اور فرنٹ کی قیادت خود بھی خدمت گزاروں میں شامل ہو گئی، مقامی حکومتوں کے ذمہ دار حضرات عام لوگوں کے ساتھ مل کر گلیوں کی صفائی کرتے اور مختلف شعبوں میں رضاکارانہ خدمات سرانجام دیتے جس کی ۔ ۔ ۔

(مضمون کا بقیہ حصہ دستیاب نہیں ہو سکا۔)