قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ

   
تاریخ بیان: 
۱۰ فروری ۲۰۰۳ء

(۸ ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ کو بعد نماز مغرب جامعہ قاسمیہ، قاسم ٹاؤن، گوجرانوالہ میں درس حدیث۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا۔ اس پر حضرت براء بن عازبؓ کے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیارؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو عید سے قبل قربانی کا جانور ذبح کر کے اس کے گوشت سے ناشتہ کر آیا ہوں، میں یہ سمجھا تھا کہ آج کا سارا دن کھانے پینے کا دن ہے اس لیے میں نے جانور ذبح کر دیا، اب میں کیا کروں؟ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ اس کے بدلے دوسرا جانور ذبح کرو۔ ابوبردہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک بکری ہے جو پلی ہوئی تو خوب ہے مگر عمر اس کی پوری نہیں ہے، کیا وہ ذبح کر دوں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ تم وہی ذبح کر دو مگر تمہارے بعد کسی اور کو اس کی اجازت نہیں ہے۔

یہ اس روایت کا خلاصہ ہے جو حضرت براء بن عازبؓ کے حوالہ سے امام بخاریؒ نے بیان فرمائی ہے، اس سے فقہاء کرام متعدد مسائل کا استنباط کرتے ہیں اور خود امام بخاریؒ نے بھی اسے مختلف عنوانات کے تحت ذکر کیا ہے۔ ان میں سے چند مسائل کا تذکرہ آپ حضرات کے سامنے کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے جہاں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے مسائل بیان فرمائے اور اس کی تلقین کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قربانی صرف منٰی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، جیسا کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ قربانی اصل میں تو صرف منٰی میں ہے تاکہ حج کے موقع پر دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے حاجی حضرات کی مہمانی ہو سکے، اور اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر صاحب حیثیت حضرات سے کہا ہے کہ وہ جانور ذبح کریں تاکہ حاجی حضرات کی تواضع ہو جائے، جبکہ منیٰ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔ مگر بخاری شریف کی یہ روایت ان حضرات کے اس دعویٰ کی نفی کرتی ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ نے قربانی کا یہ حکم مدینہ منورہ میں دیا ہے اور اس دور میں حاجی حضرات کا مدینہ منورہ جانے کا کوئی معمول نہیں ہوتا تھا۔

بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ خود بھی مدینہ منورہ میں ہر سال قربانی کیا کرتے تھے، بلکہ ایک روایت میں ہے کہ دو بکرے ذبح کرتے تھے، ایک اپنی طرف سے اور دوسرے جانور کے بارے میں فرماتے تھے کہ ’’عن من لم یضح من أمتی‘‘ یہ میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے ہوں گے۔ اللہ اللہ! حضورؐ کی اپنی امت کے ساتھ شفقت و رحمت کا اندازہ کیجئے کہ امت کے قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے افراد کو قربانی کے ثواب سے محروم نہیں رکھنا چاہتے اور ان کی طرف سے خود قربانی کر گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے قربانی نہ کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’من وجد سعۃ ولم یضح فلا یقربن مصلانا‘‘ جو قربانی کی استطاعت رکھتا ہے اور اس نے قربانی نہیں کی وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ یہ ناراضگی کا اظہار ہے اور لاتعلقی اور براءت کا جملہ ہے کہ اس کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟

الغرض حضرت براء بن عازبؓ کی اس روایت سے پہلا مسئلہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قربانی صرف منٰی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان بستے ہیں قربانی کا یہ حکم ان سب کے لیے ہے۔

دوسرا مسئلہ اس حدیث سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض حضرات نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ قربانی کا اصل مقصد تو صدقہ خیرات ہے اس کے لیے جانور ذبح کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ رفاہ عامہ کا کوئی کام اور غریب لوگوں کے فائدہ کے لیے کوئی خرچہ کسی بھی طریقہ سے کر لیا جائے تو اس سے قربانی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ قربانی کو اللہ تعالیٰ نے، قرآن کریم میں ’’نسک‘‘ عبادت قرار دیا ہے۔ اور عبادت وہی ہوتی ہے جس کا طریقہ شریعت نے متعین کیا ہے، شریعت نے جس عبادت کا جو طریقہ اور شکل طے کی ہے اسی کے مطابق وہ عبادت ادا کی جائے گی تو عبادت کہلائے گی ورنہ وہ عبادت نہیں رہے گی۔ مثلاً نماز عبادت ہے، اس کی خاص شکل متعین ہے اور شریعت نے اس کے ارکان، طریقہ اور اوقات خود طے کیے ہیں۔ اب کوئی شخص یہ کہے کہ اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اطاعت اور بندگی کا اظہار ہے اور نماز کی دو چار رکعتوں میں پانچ دس منٹ صرف ہوتے ہیں، میں اس کی بجائے مسجد میں با وضو قبلہ رو کھڑے ہو کر دو گھنٹے تلاوت کلام کریم اور ذکر اذکار کروں گا، اگر اس کی نیت میں مذکورہ فتور نہیں ہے تو اسے دو گھنٹے کی اس تلاوت اور ذکر اذکار کا ثواب ملے گا، لیکن اس کی یہ ورزش اور محنت اس دو رکعت فرض نماز کا متبادل نہیں ہو گی جو وہ صرف تین چار منٹ میں ادا کر لیتا ہے۔ اور وہ دو رکعت فرض نماز اسی وقت عبادت قرار پائے گی جب وہ شریعت کی مقررہ ہیئت اور طریق کار کے مطابق ادا کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت ابوبردہؓ کو نماز عید سے قبل جانور ذبح کرنے کی غلطی کی تلافی کے لیے اس کی جگہ دوبارہ جانور ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قربانی کی عبادت جانور ذبح کرنے کی صورت میں ہی ادا ہو گی، اس کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔

تیسرا مسئلہ اس حدیث کی رو سے فقہاء کرامؒ یہ بیان فرماتے ہیں کہ قربانی واجب ہے کیونکہ جناب رسول اکرمؐ کا حضرت ابوبردہؓ کو دوبارہ جانور ذبح کرنے اور قربانی ادا کرنے کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ قربانی ضروری ہے اور صاحب استطاعت سے یہ ذمہ داری قربانی دیے بغیر ساقط نہیں ہو گی۔ اسے ہمارے فقہاء احناف واجب سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسرے فقہاء کرامؒ اسے سنت مؤکدہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ اصطلاحی فرق ہے ورنہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ قربانی کی طاقت رکھنے والا شخص اگر قربانی نہیں دے گا تو گنہگار ہو گا۔

چوتھا مسئلہ اس حدیث سے فقہاء کرامؒ نے یہ مستنبط کیا ہے کہ جس شہر یا قصبہ میں عید کی نماز ادا کی جاتی ہے وہاں قربانی نماز عید کی ادائیگی کے بعد کرنی چاہیے، نماز عید سے قبل کی گئی قربانی ادا نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے آنحضرتؐ نے حضرت ابوبردہؓ کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے نماز سے قبل ذبح کیے ہوئے جانور کے بدلے میں دوسرا جانور ذبح کیا۔

پانچواں مسئلہ اس حدیث سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قربانی کے لیے جانور کی جو عمر شریعت نے مقرر کی ہے اس سے کم عمر کا جانور قربانی میں ذبح کرنا درست نہیں ہے اور اس سے قربانی ادا نہیں ہوتی، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ نے حضرت ابوبردہؓ کو کم عمر کا جانور ذبح کرنے کی اجازت یہ فرما کر دی تھی کہ تمہارے بعد کسی کو اس کی اجازت نہیں ہو گی۔

یہ چند مسائل فقہائے کرامؒ نے حضرت براء بن عازبؓ کی اس روایت کی روشنی میں بیان فرمائے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔