علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں

   
تاریخ بیان: 
۶ مارچ ۲۰۰۳ء

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، فیصل مسجد، اسلام آباد میں علماء کرام کی تربیتی کلاس سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ : دعوہ اکیڈیمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، میں ان کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے آج آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرمائیں اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔ مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ آج کے حالات چونکہ آپ کے سامنے ہیں اور آپ ان میں سے گزر رہے ہیں اس لیے اس حوالہ سے آپ کے مشاہدہ، فہم اور بصیرت پر اعتماد کرتے ہوئے دوسرے عنوان یعنی ’’علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ پر دو چار باتیں اختصار کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا۔ علماء کرام کی ذمہ داریوں کا موضوع بھی بے پناہ وسعت کا حامل ہے اور اس کے بہت سے پہلوؤں پر گفتگو ضروری ہے مگر میں نے ان میں سے تین امور کا آج کی محفل کے لیے انتخاب کیا ہے اور انہی کے حوالہ سے معروضات پیش کر رہا ہوں۔

(۱) علم سے بہرہ ور لوگوں کی کسی بھی سوسائٹی میں پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم کو خود اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے اردگرد حالات اور ماحول پر نظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کو بھی علم و دانش میں اپنے ساتھ شریک کرنے کی کوشش کریں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ علم کسی بھی نوعیت کا ہو اور دانش کا کوئی بھی میدان ہو اسے معاشرہ میں عام کرنا اور سوسائٹی کے دوسرے لوگوں کو اس میں شریک کرنا اہل علم کی ذمہ داری ہے، خاص طور پر دینی علوم سے بہرہ ور لوگوں کی ذمہ داری زیادہ ہے، اس لیے کہ ان کے علم کے ساتھ لوگوں کی ہدایت اور دین و دنیا دونوں کی فلاح وابستہ ہے۔

اس سلسلہ میں دور نبویؐ کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جسے امام محمد بن حسن شیبانیؒ نے ’’کتاب الکسب‘‘ میں نقل کیا ہے اور عرب دنیا کے محدث الشیخ عبد الفتاح ابو غدۃؒ نے، جو میرے استاذِ محترم بھی ہیں، اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابزٰیؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن جمعۃ المبارک کے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ ’’ما بال أقوام لایفقھون جیرانھم ولا یعلمونھم ولا یفطنونھم ولا یأمرنھم ولا ینھونھم‘‘ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے اردگرد کے لوگوں کو دین نہیں سمجھاتے، انہیں تعلیم نہیں دیتے، انہیں دانش سے بہرہ ور نہیں کرتے، انہیں نیکی کی تلقین نہیں کرتے اور انہیں برائی سے نہیں روکتے۔ اس کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’وما بال أقوام لا یتعلمون من جیرانھم ولا یتفقھون ولا یتفطنون فہم‘‘۔ اور ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل نہیں کرتے، ان سے دین نہیں سمجھتے اور ان سے دانش نہیں سیکھتے۔ ان دونوں طبقوں کا ذکر کرنے کے بعد جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ دونوں طبقے اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں، علم والے اپنے اردگرد کے لوگوں کو تعلیم دیں اور بے علم لوگ اپنے ماحول میں رہنے والے اہل علم سے تعلیم حاصل کریں۔ اور اگر انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا اور طرز عمل کی اصلاح نہ کی تو ’’لأعا جلنھم بالعقوبۃ فی دار الدنیا‘‘ میں ان کے لیے اس دنیا کی زندگی میں سزا مقرر کروں گا، یعنی آخرت کی سزا تو اپنی جگہ ہو گی اس دنیا میں بھی ان کے لیے سزا مقرر کی جائے گی۔

امام محمدؒ نے غالباً اس روایت سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ معاشرہ میں تعلیم کو عام کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ریاست جبر بھی کر سکتی ہے۔ روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے بعد مدینہ منورہ میں حسب عادت چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ یہ بات عمومی طور پر کہی گئی ہے یا کسی خاص طبقہ کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آنحضرتؐ نے یہ بات اشعریین کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا خاندان تھا جو یمن سے ہجرت کر کے آیا تھا اور مدینہ منورہ میں ایک طرف الگ بستی بسا کر آباد ہو گیا تھا۔ یہ خاندان پڑھے لکھے لوگوں کا خاندان کہلاتا تھا، انہیں قراء اور فقہاء کے خاندان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا اور ان کا محلہ اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ جبکہ ان کے اردگرد اعرابی اور کاشت پیشہ لوگ آباد تھے جنہیں تعلیم وغیرہ کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا تھا، اس لیے ماحول کی مناسبت سے لوگوں کی نظر ادھر چلی گئی کہ نبی کریمؐ نے یہ بات ان کے بارے میں فرمائی ہے۔ عام لوگوں کا یہ تاثر اشعریین تک بھی پہنچا اور ان کے سرکردہ لوگ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس بات کی تصدیق کر سکیں۔ روایت کے مطابق آپؐ نے ان کے استفسار پر اپنی بات دوبارہ دہرا دی جو اس بات کی تصدیق تھی کہ لوگوں کا خیال درست ہے۔ اس پر اشعریوں کے وفد نے پوچھا ’’یا رسول اللہ! انعاقب بطیر غیرنا وتقصیرہ؟‘‘ کیا دوسروں کی کوتاہی اور قصور کی ہمیں سزا دی جائے گی؟ اس پر پھر نبی اکرمؐ نے اپنا ارشاد گرامی دوبارہ دہرایا۔ اشعریین نے یہ سن کر عرض کیا کہ ’’فأمہلنا سنۃ فأمہلہم سنۃ‘‘ یارسول اللہ ہمیں اس کوتاہی کی تلافی کے لیے ایک سال کی مہلت دے دیں۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے انہیں ایک سال کی مہلت عطا فرمائی اور اس کے بعد قرآن کریم سورۃ المائدہ کی آیت ۸۷ اور ۸۹ تلاوت فرمائی جس میں کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے جو لعنت فرمائی ہے اس کے اسباب میں ایک بات یہ بھی تھی کہ انہوں نے ایک دوسرے کو برائی سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔

اس روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ذمہ داری صرف بے علم لوگوں کی نہیں ہے کہ وہ اہل علم سے رابطہ کریں اور ان سے تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں بلکہ اہل علم کی بھی اسی طرح یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد ماحول پر نظر رکھیں، اور دین، علم اور دانش تینوں حوالوں سے جو کمی محسوس کریں اسے پورا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس لیے میں آپ حضرات سے یہ گزارش کروں گا کہ آپ عالم دین کی سند اور مقام حاصل کرنے کے بعد جہاں بھی جائیں اور جس حوالہ سے بھی اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں، وہاں کے ماحول میں آپ کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ماحول اور سوسائٹی میں چاروں طرف نظر دوڑائیں اور علم و دانش کا جو خلا پر کرنے میں آپ کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں اس میں کوتاہی نہ کریں۔

(۲) دوسری گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ حضرات نے علم دین حاصل کیا ہے جو سراسر خیر کا علم ہے اور خیر کے علوم حاصل کر کے آپ عالم دین بنے ہیں۔ لیکن سوسائٹی میں اپنا کردار صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے صرف خیر کا علم کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ شر کا علم بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک شر کا علم نہیں ہوگا اور اس سے واقفیت نہیں ہو گی آپ اس سے لوگوں کو روکنے کا فریضہ صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ جبکہ شر کے علم کے بغیر خیر کی پہچان بھی پورے طور پر نہیں ہو سکتی کہ چیزیں اپنی ضد کے ساتھ پہچانی جاتی ہیں۔ آپ کی ذمہ داری صرف خیر کو سوسائٹی میں عام کرنا نہیں ہے بلکہ شر کی روک تھام بھی آپ کے فرائض میں ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطلب یہی ہے، اس لیے جب آپ شر سے آگاہ نہیں ہوں گے، اس کے اسباب کا آپ کو علم نہیں ہوگا، اس کے مراکز اور سرچشموں سے واقفیت نہیں ہو گی اور اس کے طریق واردات سے باخبر نہیں ہوں گے، اس وقت تک اس کی روک تھام اور سوسائٹی کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے۔

آج ہماری کمزوریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم شر کے اسباب، مراکز، سرچشموں اور طریق کار سے بے خبر ہوتے ہیں اور محض جذباتی اور سطحی طور پر اس کی مخالفت کرتے رہتے ہیں، جو اکثر ناکام رہتی ہے اور شر اپنا کام کر گزرتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک معروف صحابی حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کے ارشاد اور ذوق کا حوالہ دینا چاہوں گا جو فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عام طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی باتیں پوچھا کرتے تھے اور میں اکثر شر کی باتیں پوچھتا تھا ’’کانوا یسئالونہ عن الخیر وکنت أسالہ عن الشر‘‘۔ حضرت حذیفہؓ زیادہ تر فتنوں کے بارے میں دریافت کیا کرتے تھے کہ وہ کیسے رونما ہوں گے، ان کی نوعیت کیا ہو گی، اور ان سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں انہیں فتنوں کا بڑا عالم سمجھا جاتا تھا اور اس حوالہ سے کوئی بات پوچھنے کے لیے عام طور پر ان سے رجوع کیا جاتا تھا۔ یہ ایک مستقل ذوق ہے اور مستقل دینی ذمہ داری ہے۔ اور جس طرح باقی صحابہ کرامؓ کے مختلف ذوق اور خصوصیات کی بنیاد پر امت میں علماء کرام کے مستقل طبقات قائم ہوئے ہیں، اسی طرح حضرت حذیفہؓ کے ذوق کو بھی علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے ہر دور میں دین کے مستقل شعبہ کے طور پر اپنایا ہے۔ مثلاً:

  • محدثین کرام حضرت ابو ہریرہؓ کے ذوق کے حاملین ہیں،
  • مفسرین کرام نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے ذوق سے استفادہ کیا ہے،
  • فقہاء کرام حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے خوشہ چین ہیں،
  • قراء کرام حضرت ابی بن کعبؓ کے پیروکار ہیں،
  • وراثت و فرائض کا علم رکھنے والوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کا نقش قدم اختیار کیا ہے،
  • اسی طرح ہر دور میں عقیدہ، عمل اور اخلاق کے حوالہ سے رونما ہونے والے فتنوں کی نشاندہی اور ان کی روک تھام کی جدوجہد کرنے والے علماء کرام نے حضرت حذیفہؓ کے مشن کا پرچم بلند رکھا ہے۔ ان میں حضرت امام ابوحنیفہؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؓ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے اساطین امت کے نام آتے ہیں۔

مجھے اس سلسلہ میں جب دینی مدارس کے اساتذہ سے گفتگو کا موقع ملتا ہے تو عام طور پر دیوان حماسہ کے دو اشعار کا حوالہ دیا کرتا ہوں، جن کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک نوجوان کو اس کے خاندان نے پال پوس کر جوان کیا، ناز و نعم میں اس کی پرورش کی اور خوب کھلایا پلایا، لیکن فنون حرب کی تعلیم نہیں دی۔ اور اسے جوان ہونے کے بعد جن دشمنوں سے سابقہ پیش آنے والا تھا، ان کے مقابلہ کے لیے اسے تیار نہیں کیا۔ وہ جوان ہوا اور عملی زندگی میں داخل ہوا تو دشمنوں سے آمنا سامنا ہوا مگر وہ ان کا مقابلہ نہ کر سکا اور اسے شکست سے دوچار ہونا پڑا،۔وہ اس صورتحال میں اپنے خاندان اور قبیلہ کو کوستے ہوئے کہتا ہے کہ ؎

فہلا أعدونی لمثلی تفاقدوا
اذا لخصم أبزی مائل الرأس انکب
وہلا أعدونی لمثلی تفاقدوا
وفی الأرض مبثوث شجاع وعقرب

میرے خاندان اور قبیلہ والے ایک دوسرے کو گم پائیں، جب انہیں معلوم تھا کہ میرا دشمن ٹیڑھی گردن والا، متکبر اور رعونت والا ہے تو انہوں نے مجھے اس کے مقابلہ کے لیے تیار کیوں نہیں کیا؟ اور وہ ایک دوسرے کو گم پائیں، جب ان کے سامنے تھا کہ زمین میں ہر طرف سانپ اور بچھو بکھرے ہوئے ہیں تو انہوں نے مجھے ان سے بچاؤ کے طریقے کیوں نہیں سکھائے؟

علماء کرام اور خاص طور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمنوں سے آگاہی حاصل کریں، ان کے طریقہ ہائے واردات کو سمجھیں، ان کے سرچشموں اور مراکز سے واقف ہوں اور ان کی قوت کار کا ادراک حاصل کریں۔ پھر ان کے مقابلہ کے لیے خود بھی تیاری کریں اور اپنے تلامذہ اور خوشہ چینوں کو بھی تیار کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے شاگرد اور خوشہ چین کل عملی زندگی میں اپنے مدمقابل لوگوں کا سامنا نہ کر پائیں اور دین کے دشمنوں کے سامنے جم کر کھڑے نہ ہو سکیں، تو ہمیں یاد کر کے حماسہ کے یہ اشعار زیر لب گنگنانا شروع کر دیں۔

(۳) تیسری گزارش آپ حضرات سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ جس ماحول میں جائیں اور جن لوگوں میں بیٹھ کر آپ نے کام کرنا ہے ان کی زبان کو سمجھیں، ان کی ذہنی سطح اور نفسیات سے واقفیت حاصل کریں، اور ان کے اسلوب اور ذوق سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق ان سے مخاطب ہوں۔ؔ یہ گفتگو کا بنیادی اصول ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں اپنے اولین مخاطبین یعنی مشرکین عرب کے طرز گفتگو کو اپنایا ہے، ان کی زبان میں بات کی ہے، ان کے محاوروں اور ضرب الامثال کو اختیار کیا ہے، اور ان کی نفسیات اور ذہنی سطح کے مطابق کلام کیا ہے۔ گفتگو اور خطاب کا پہلا اصول یہی ہے کہ متکلم اپنی زبان اور اسلوب میں نہیں بلکہ مخاطب کی زبان اور اسلوب میں گفتگو کرے ورنہ گفتگو بے فائدہ ہو گی، میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کر کے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں آئے تھے اور تب سے وہیں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، یہ ساٹھ برس کا قصہ ہے، ان کی مادری زبان پشتو ہے اور اردو پر انہیں ماہرانہ عبور حاصل ہے، لیکن انہوں نے خطابت اور درس میں ٹھیٹھ پنجابی زبان کو ذریعہ بنایا، ان کی پنجابی سن کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ ان کی مادری زبان نہیں ہے، ٹھیٹھ پنجابی زبان کے ساتھ اس علاقے کے عام محاورے، مثالیں اور کہاوتیں ان کی زبان پر عام ہوتی ہیں۔ یہی گفتگو اور خطاب کا اصول ہے، آپ اگر لوگوں کی زبان اور ذہنی سطح کا لحاظ کیے بغیر اپنی سطح اور علم کے معیار پر گفتگو کریں گے تو کسی کے پلے کچھ نہیں پڑے گا، ایسے موقع پر میں ایک لطیفہ علماء کرام کو سنایا کرتا ہوں، آپ حضرات سے بھی عرض کر دیتا ہوں۔

کہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند سے نئے نئے فارغ ہو کر ایک عالم دین گھر واپس جاتے ہوئے لاہور ریلوے سٹیشن سے گزرے، علم تازہ تازہ تھا، سند صندوق میں پڑی تھی، ریلوے سٹیشن پر ایک ریڑھی والے کو گول گپے بیچتے دیکھا، مولوی صاحب نے یہ چیز پہلے نہیں دیکھ رکھی تھی۔ قریب آئے اور چیک کرنے کے لیے گول گپے خریدنا چاہے، ریڑھی والے سے دریافت کیا کہ ’’ارے میاں! عددًا بیچتے ہو یا وزنًا؟‘‘ ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ چیز جو تم بیچ رہے ہو، گن کر دیتے ہو یا تول کر؟ مگر اتنے بھاری بھر کم الفاظ سے اس ریڑھی والے کے کان آشنا نہیں تھے، اس لیے اس نے ایک دفعہ مولوی صاحب کی طرف غور سے دیکھا اور پھر بڑی سادگی سے بولا ’’صوفی صاحب! میں تے گول گپے ویچناں‘‘۔ یعنی مجھے یہ علم نہیں کہ آپ کیا چیز مانگ رہے ہیں میں تو صرف گول گپے بیچتا ہوں۔ اس لیے آپ حضرات سے میری استدعا ہے کہ جن لوگوں سے آپ نے مخاطب ہونا ہے اور جن کی تعلیم و اصلاح کے آپ محنت کرنا چاہتے ہیں ان کی زبان، اسلوب، ذہنی سطح، اور نفسیات سے واقفیت حاصل کریں اور اس کے مطابق ان میں کام کریں، ورنہ آپ کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

میں ایک بار پھر ڈاکٹر خالد علوی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہاں حاضری اور آپ حضرات سے گفتگو کا موقع عنایت فرمایا اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے اپنے ماحول میں دین حق کی صحیح اور مؤثر خدمت کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔