نیکی اور اس کی حفاظت

   
تاریخ بیان: 
۲۳ مئی ۲۰۰۳ء

(جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شسشماہی امتحان کے بعد دو ہفتے کی تعطیلات کے دوران شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے امریکہ اور برطانیہ کا تبلیغی اور مطالعاتی دورہ کیا۔ امریکہ میں دو ہفتے قیام کے دوران انہوں نے دارالہدیٰ (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا)، دارالعلوم نیویارک (کوئینز، نیویارک)، مکی مسجد (بروکلین، نیویارک)، دارالعلوم مدنیہ (بفیلو، نیویارک) اور دیگر مقامات میں دینی اجتماعات سے خطاب کیا۔ ۲۳ مئی ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد دارالہدٰی اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے مولانا زاہد الراشدی کا خطاب درج ذیل ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ الکہف کے آخری رکوع کی ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایک اہم مسئلہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ دنیا میں ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے اور ثواب والے کام کرے تاکہ یہ ثواب اور نیکیاں آخرت میں اسے کام آئیں، لیکن جس طرح نیکیاں کمانا ضروری ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور کیے ہوئے نیک اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلے تو نیکی کے بارے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ بعض دوست پوچھتے ہیں کہ مولوی صاحب یہ جو روزانہ ہم سنتے اور پڑھتے ہیں کہ فلاں کام کرنے سے اتنی نیکیاں ملتی ہیں تو یہ نیکیاں کیا چیز ہیں اور کس شکل میں ملتی ہیں؟ میں اس سوال کے جواب میں عرض کیا کرتا ہوں کہ نیکیاں آخرت کی کرنسی ہیں، جس طرح اس دنیا کے معاملات روپے پیسے سے طے ہوتے ہیں اسی طرح آنے والی زندگی میں اور آخرت میں باہمی معاملات نیکیوں اور بدیوں کے ذریعے طے ہوں گے۔ آج جس طرح ہم ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں اور بارڈر کراس کرتے ہیں تو ہمیں وہاں لین دین اور معاملات کے لیے اس ملک کی کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہم بارڈر کراس کرنے سے قبل اس کا انتظام کر کے اس ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی طرح موت بھی دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے، وہاں جانے سے قبل نیکیوں کا اتنا ذخیرہ جمع کر لینا چاہیے کہ وہاں کی زندگی آسانی کے ساتھ گزاری جا سکے۔

موت کے بارے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ موت فنا ہو جانے کا نام ہے یہ غلط بات ہے، یہ مشرکین کا عقیدہ تھا جس کی قرآن کریم نے جابجا صراحت کے ساتھ تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ موت فنا ہو جانے کا نام نہیں بلکہ دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہونے اور اِس جہان کا بارڈر کراس کر کے دوسرے جہان میں داخل ہو جانے کا نام ہے۔ اس اگلے جہان کے معاملات نیکی اور بدی کی کرنسی میں طے ہوں گے اور بہت سے مقامات پر باہمی حقوق کا فیصلہ کرتے وقت نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ کر کے حساب برابر کرنا ہوگا۔ اس لیے قرآن کریم نے ترغیب دی ہے اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ثواب کماؤ اور جتنی زیادہ ہو سکے نیکیاں حاصل کرو تاکہ آخرت کی زندگی اور قیامت کے دن کے حساب کتاب میں تم سرخرو ہو سکو۔ لیکن جو آیت کریم میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت نے اس کے دوسرے پہلو کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ نیکیاں کمانے کے ساتھ ان کی حفاظت کرنا اور آخرت کے حساب کتاب کے وقت تک انہیں بچا کر رکھنا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ’’قل ھل ننبئکم بالاَخسرین أعمالا، الذین ضل سعیھم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا‘‘ اے پیغمبرؐ! کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں نہ بتائیں جو اعمال کے لحاظ سے زیادہ خسارے میں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی سعی اس دنیا کی زندگی میں رائیگاں چلی گئی، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔

ایک خسارہ یہ ہے کہ کوئی شخص سرے سے کماتا ہی نہیں ہے، یہ شخص بھی خسارے میں ہے، لیکن دوسرا خسارہ یہ ہے کہ وہ شخص محنت مزدوری کرتا ہے اور سارا دن مشقت کر کے کمائی کرتا ہے لیکن اپنی کمائی ہوئی رقم کی حفاظت نہیں کر پاتا اور وہ گھر پہنچنے سے قبل راستہ میں ہی کہیں ضائع ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ دوسرا شخص پہلے سے زیادہ خسارے میں ہے اور اس نے زیادہ نقصان اٹھایا ہے کہ محنت و مشقت بھی کی لیکن اپنی محنت کی کمائی سے ضرورت کے وقت فائدہ نہ اٹھا سکا۔ یہی بات قرآن کریم نے نیکیوں کے بارے میں فرمائی ہے کہ جو شخص سرے سے نیکی نہیں کماتا وہ بھی خسارے میں ہے لیکن جو نیکیاں کما کر برباد کر دیتا ہے وہ اس سے زیادہ خسارے میں ہے۔ نیکی وہ کام کی ہے جو آخرت کے حساب کتاب تک انسان کے ساتھ جائے، اور جو راستے میں ہی کہیں برباد ہو جائے وہ کسی کام کی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات الٹا وبال کا باعث بن سکتی ہے۔

قرآن کریم نے ایسے متعدد افعال و اعمال کی نشاندہی کی ہے جو نیکیوں کو برباد کر دیتے ہیں، جس طرح بعض وائرس کمپیوٹر کے پروگراموں کو صاف کر دیتے ہیں اور انسان کا کیا ہوا کام ضائع ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح بعض اعمال ایسے ہیں جن کے ارتکاب سے ایک انسان کی نیکیاں ختم ہو جاتی ہیں اور حاصل کیا ہوا ثواب برباد ہو جاتا ہے۔ مثلاً شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ اس سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ اللہ رب العزت نے خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’لئن أشرکت لیحبطن عملک‘‘ اگر خدانخواستہ آپؐ سے شرک سرزد ہو جائے تو آپ کی نیکیاں بھی برباد ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدانخواستہ جناب نبی اکرمؐ سے شرک کا صدور ممکن ہے، ایسا نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالٰی کے پیغمبر معصوم ہوتے ہیں، ان سے شرک کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس آیت کریمہ کے ذریعے ہمیں سمجھانا مقصود ہے کہ شرک اتنا سنگین جرم ہے کہ اگر خدانخواستہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے سرزد ہو جائے تو ان کے اعمال بھی حبط ہو جائیں گے۔ چنانچہ شرک ایسا عمل ہے جو نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے، ثواب کو کھا جاتا ہے اور انسان کے کیے ہوئے اعمال اس کی نحوست سے غارت ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالٰی نے سورۃ الحجرات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس و محفل کے آداب بیان کرتے ہوئے ذکر فرمایا ہے کہ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو اور اے ایمان والو! تمہاری آواز رسول اللہ کی آواز سے بلند نہ ہونے پائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔ یعنی اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کے بعد دوسرا سنگین جرم جس سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں وہ جناب نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی ہے اور دربار رسالتؐ کی بے ادبی ہے، جس سے خود اللہ تعالٰی نے ہمیں خبردار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میرے رسول کی شان میں تمہارا کوئی گستاخانہ طرز عمل تمہاری بے خبری میں زندگی بھر کی نیکیاں برباد کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سورۃ محمدؐ میں قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’ذٰلک بانھم کرھوا ما انزل اللّٰہ فاَحبط اعمالھم‘‘ انہوں نے اللہ تعالٰی کے اتارے ہوئے احکام و زیارت کے بارے میں ناپسندیدگی اور کراہت کا اظہار کیا تو اللہ تعالٰی نے ان کے اعمال برباد کر دیے، یعنی قرآن کریم کی آیات، احکام اور ارشادات کے بارے میں خدانخواستہ کراہت یا ناپسندیدگی کا کسی بھی درجہ میں اظہار ایسا سنگین جرم ہے جس سے حاصل کیا ہوا ثواب ضائع ہو جاتا ہے اور انسان کی کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔

قرآن کریم نے ایک اور عمل کا بھی ذکر کیا ہے جو نیکیوں کو ضائع کرنے کا ذریعے بنتا ہے، اور وہ ہے کسی پر احسان کر کے اسے جتلانا، جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ’’یا ایھا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاَذٰی‘‘ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو منّ اور أذی کے ساتھ باطل نہ کرو۔ منّ کی تشریح مفسرین کرامؒ یہ کرتے ہیں کہ کسی پر خرچ کیا ہے یا کسی کے ساتھ کوئی نیکی کی ہے اور اس کے بعد اسے منہ پر جتلایا ہے کہ میں نے تم پر یہ خرچ کیا تھا اور تمہارے ساتھ یہ نیکی کی تھی۔ جبکہ أذی کی تشریح بعض مفسرینؒ کے نزدیک یہ ہے کہ جس پر صدقہ یا احسان کیا ہے اسے براہ راست منہ پر تو نہیں جتلایا لیکن اس کی غیر حاضری میں کسی کے سامنے اس نیکی کا اس انداز سے ذکر کر دیا جس سے اس شخص کو اذیت پہنچتی ہو، تو ایسا کرنا بھی ممنوع ہے اور ایسا کرنے سے بھی صدقے کا ثواب باطل ہو جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب صدقہ اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے ہے اور اس کا ثواب بھی اسی سے لینا ہے تو پھر بندے کو جتلانے کا کوئی معنی نہیں اور اگر براہ راست بندے کو جتلا کر یہ کہہ دیا ہے کہ میں نے تجھے دیا تھا تو پھر اللہ تعالٰی سے اس کے ثواب کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض اعمال کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان سے کسی مسلمان کی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں، مثلاً حسد کے بارے میں فرمایا کہ ’’ان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب‘‘۔ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ حسد ایک منفی جذبہ ہے جس کا شمار اخلاق رذیلہ میں ہوتا ہے، حسد اسے کہتے ہیں کہ انسان اپنے کسی بھائی، دوست یا رشتہ دار کو اچھی حالت میں دیکھ کر دل میں جلن محسوس کرے، کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھے تو اس کی طبیعت تنگ پڑے، اور اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ یہ نعمت مجھے نہیں ملی تو اسے کیوں ملی ہے؟ اور اگر میرے پاس یہ نعمت نہیں ہے تو خدا کرے اس کے پاس بھی نہ رہے، یہ منفی جذبہ ہے، بداخلاقی ہے اور اتنا برا عمل ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق انسان کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو لمحوں میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ حسد کے برعکس ایک اور جذبہ جو مثبت ہے اور اچھا جذبہ ہے جسے عربی میں غبطۃ کہتے ہیں اور اردو میں اسے رشک کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے شخص کو اچھی حالت میں دیکھے یا اس کے پاس کوئی نعمت اسے نظر آئے تو خوش ہو اور دل میں یہ تمنا کرے کہ یا اللہ جس طرح آپ نے میرے اس بھائی پر مہربانی فرمائی ہے مجھ پر بھی اسی طرح مہربانی فرما دیں۔ یہ محمود جذبہ ہے، اخلاق حسنہ میں سے ہے اور اس پر اللہ تعالٰی راضی ہوتے ہیں۔

قرآن کریم اور احادیث نبویہؐ میں اور بھی بہت سے برے اعمال مذکور ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اعمال انسان کی نیکیوں کو برباد کر دیتے ہیں اور اس کے نیک اعمال کو غارت کر دیتے ہیں۔ اختصار کی وجہ سے ان میں سے چند کا میں نے ذکر کیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ ہم جس طرح نیکیاں کمانے کی محنت کرتے ہیں، ثواب کے حصول کے لیے مشقت کرتے ہیں اسی طرح ان نیکیوں کو بچانے اور بچا کر آخرت تک لے جانے کی فکر بھی کرنی چاہیے، ورنہ اگر قیامت کے روز نیکیوں کا خانہ خالی نکلا اور اس وقت پتہ چلا کہ جو تھوڑی بہت نیکیاں کمائی تھیں وہ بھی دوسرے اعمال کی وجہ سے برباد ہو چکی ہیں، تو یہ بہت بڑے خسارے کی بات ہو گی، اس سے بڑے خسارے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائیں، ان کی حفاظت کریں اور ایسے اعمال سے بچنے کی کوشش کریں جو نیکیوں کو برباد کرتے ہیں تاکہ جو تھوڑی بہت نیکی اور ثواب ہم کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیتے ہیں وہ آخرت میں ہمارے کام آجائے، اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین۔