سیرۃ النبیؐ اور مسافروں کے حقوق

   
تاریخ بیان: 
فروری ۲۰۱۸ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مسافروں کے حوالے سے آج میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کو جناب نبی کریمؐ کے زمانے کے چند مسافروں کے قصے سناؤں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بنو غفار قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، بہت بڑے صحابی ہوئے ہیں۔ ان کا قصہ بخاری شریف میں مذکور ہے، وہ خود بیان کرتے ہیں، قصہ سفر کا بھی ہے اور قبول اسلام کا بھی ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں انہیں دیگر بہت سے حضرات کی طرح بت پرستی سے نفرت تھی، موحد تھے، اللہ کی عبادت پسند تھی اور اپنے طور پر عبادت کرتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں، مجھے پتہ چلا کہ مکہ مکرمہ میں کوئی صاحب ہیں جو توحید کی تلقین کرتے ہیں، شرک سے روکتے ہیں اور اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہیں۔ مجھے شوق پیدا ہوا کہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ میں نے چھوٹے بھائی کو بھیجا کہ مکہ جا کر پتہ کرو یہ صاحب کون ہیں، ان کا تعارف کیا ہے اور ان کی دعوت کیا ہے؟ میرا بھائی مکہ گیا، واپس آکر اس نے بتایا کہ وہ ایک اچھا شریف آدمی ہے، لوگ اس کی بڑی عزت کرتے ہیں، توحید کی بات کرتا ہے، شرک سے روکتا ہے، اللہ کی عبادت کا حکم کرتا ہے ۔ابوذرؓ کہتے ہیں مجھے تسلی نہیں ہوئی، میں نے خود جانے کا ارادہ کیا، سفر کا سامان باندھا، کھجوریں پانی ساتھ لیا اور چل دیا۔

مکہ مکرمہ پہنچا تو وہاں کی فضا یہ تھی کہ جناب نبی کریمؐ اور آپؐ کے ساتھیوں پر قریش نے ماحول بہت تنگ کر رکھا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب شعب ابی طالب میں مکہ والوں نے حضورؐ، آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ قریش کے قبائل نے معاہدہ کر کے تین سال سوشل بائیکاٹ کیے رکھا۔ مکہ مکرمہ میں خوف و ہراس کی کیفیت تھی، آپؐ کا نام لینا بھی پریشانی کا سبب بنتا تھا، میں نے کسی سے آپؐ کے گھر کا پتہ پوچھا کہ کہاں ملیں گے تو کوئی تسلی بخش نہیں ملا، جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آسانی سے کوئی آپؐ کا پتہ نہیں بتائے گا اور اگر میں نے زیادہ اصرار کیا تو شاید مجھے تنگ بھی کیا جائے۔ کہتے ہیں، میں مسجد حرام میں جا کر بیٹھ گیا۔ سارا دن وہاں بیٹھا رہا، زمزم پیتا رہا۔ کسی سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی، شام کو ایک صاحب آئے، پوچھا، مسافر ہو؟ میں نے کہا جی۔ پوچھا، روٹی کھائی ہے؟ کہا، نہیں۔ کہا، چلو میرے ساتھ چل کر روٹی کھا لو۔ میں سارے دن کا بھوکا بیٹھا ہوا تھا اللہ کا شکر ادا کیا کہ کھانے کا انتظام ہو گیا۔ پرانے زمانے میں ایسے ہوتا تھا، خاص طور پر دیہاتوں میں کہ کوئی مسافر مسجد میں نظر آ جائے تو اسے گھر لے جا کر کھانا کھلا دیتے ہیں، سونے کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں میں گیا، کھانا کھایا اور واپس آ کر اسی جگہ زمزم کے پاس بیٹھ گیا۔

دوسرا دن بھی اسی کیفیت میں گزر گیا کہ خوف و ہراس کی کیفیت تھی، کسی سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ شام کا وقت ہوا، کل والا آدمی پھر آیا، اس نے پوچھا، مسافر ابھی یہیں ہے، جانا نہیں ہے۔ میں نے کہا، نہیں! آج ادھر ہی ہوں۔ اس نے کہا، چلو کھانا کھا لو۔ میں نے جا کر کھانا کھایا، واپس مسجد میں رات گزاری۔ تیسرا دن بھی اسی کیفیت میں گزر گیا کسی سے پوچھا بھی تو اس نے جواب نہیں دیا، گھور کر جواب دیا، اور مجھے یہ خطرہ بھی تھا کہ مسافر ہوں، کوئی مجھے پکڑ کر لے جائے تو نہ معلوم میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ تیسرے دن شام کو وہ آدمی پھر آیا اور کہا، مسافر ابھی یہیں ہے، جانے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے کہا نہیں ابھی میرا کام نہیں ہوا۔ اس نے کہا، چلو چل کر کھانا کھا لو۔ میں نے اس کے گھر جا کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد اس نے پوچھا تم تین دن سے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے ہو، خیر تو ہے، کس کام آئے تھے؟ میں نے کہا وہ کام بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے، اگر بات اپنے تک رکھو اور کسی کو نہ بتاؤ تو تم سے بات کہہ دیتا ہوں۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے بتاؤ۔ میں نے کہا، مجھے پتہ چلا ہے یہاں کوئی صاحب ہیں جو اللہ کی بات کرتے ہیں، شرک اور بت پرستی کی مخالفت کرتے ہیں، اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، میرا ذوق بھی یہی ہے، میں ان سے ملنے آیا ہوں لیکن یہاں کی فضا دیکھ کر کسی سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ آپ اگر بتا دیں تو آپ کی مہربانی، اگر نہیں بتانا تو کم از کم میرا پردہ رکھنا، کسی اور کو نہ بتانا۔

یہ شخص کون تھے جو روزانہ شام کو مہمان کو ساتھ لے جا کر کھانا کھلاتے تھے؟ یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ حضرت علیؓ اگرچہ فقیر آدمی تھے، مالدار نہیں تھے، محنت مشقت کرتے تھے لیکن ان کے بارے میں آتا ہے کہ زندگی میں کبھی اکیلے کھانا نہیں کھایا۔ سیدہ فاطمہؓ کہتی ہیں حضرت علیؓ کا معمول تھا، انتظار کرتے تھے کہ کوئی مسافر، کوئی مہمان ہو تو مل بیٹھ کر کھانا کھائیں، اور اگر کوئی نہیں آتا تھا تو یہ خود مدینہ کے راستے میں جا کر کھڑے ہو جاتے، کسی مسافر کو بلا لاتے کہ میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔

حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں، جب میں نے ان سے اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں نے کہا تم نے صحیح آدمی سے بات کی ہے، میں بھی ان کا ساتھی ہوں، ان کا بھائی ہوں، تمہارا کام بن گیا، اب تمہیں کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی جا کر آرام کرو، صبح میں چاشت کے وقت آؤں گا تو تم چپکے سے میرے پیچھے چل پڑنا، میں تم سے بات نہیں کروں گا، میں اس وقت انہی کے پاس جاتا ہوں، تمہیں وہاں لے جاؤں گا، لیکن میرے پیچھے چلتے ہوئے تم نے ظاہر نہیں ہونے دینا کہ تم میرے پیچھے آرہے ہو، ورنہ پکڑے جاؤ گے۔ مجھے جہاں بھی خطرہ محسوس ہوا تو میں جوتے کا تسمہ صحیح کرنے کے بہانے بیٹھ جاؤں گا، تم آگے چلتے جانا تاکہ کسی کو اندازہ نہ ہو کہ تم میرے پیچھے چل رہے ہو۔ اس سے اندازہ کریں، اس وقت خوف کی کیا کیفیت تھی۔ صبح حضرت علیؓ آئے، میں ان کے ساتھ پیچھے پیچھے چل پڑا، راستے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

جناب نبی کریمؐ ان دنوں زید بن ارقمؓ کے مکان پر خفیہ مجلس کیا کرتے تھے، خاص خاص ساتھیوں کو پتہ ہوتا تھا جو چپکے سے وہاں آجاتے۔ حضرت ابوذر غفاریؒ کہتے ہیں، حضورؐ وہاں موجود تھے، میں وہاں پہنچا اور جناب نبی کریمؐ سے ملاقات کی، تعارف کرایا کہ بنو غفار قبیلے کا ہوں، میرا نام ابوذر ہے، آپ کے بارے میں سنا تھا، پہلے بھائی کو بھیجا تھا، اس نے کوئی تسلی بخش بات نہیں بتائی، اب میں خود آیا ہوں، تین دن سے حرم میں بیٹھا رہا ہوں۔ یہ آدمی روزانہ مجھے ملتا تھا، آج میں نے اس سے بات کی تو یہ مجھے آپ کے پاس لے کر آگیا۔ اب آپ بتائیں آپ کیا باتیں کرتے ہیں؟ آپؐ نے دین کی بنیادی باتوں کی دعوت پیش کی، اللہ کی دعوت، توحید کی دعوت، قیامت اور رسالت کی بات کی۔ میں نے کہا، آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں، مجھے کلمہ پڑھائیے۔ میں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔ پھر پوچھا اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ آیا اپنی مرضی سے تھا لیکن اب تو کلمہ پڑھ لیا ہے، کلمہ پڑھنے کے بعد کیا مسلمان کی اپنی مرضی باقی رہ جاتی ہے؟ آج ہماری مرضی تو شروع ہی کلمہ کے بعد ہوتی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا ابھی تو تم اپنے قبیلے میں واپس جاؤ، کسی کو بتانا نہیں ورنہ لوگ تنگ کریں گے۔ مجھے اندازہ ہے کہ ہمیں کچھ عرصے تک یہاں سے جانے کی اجازت مل جائے گی تو ہم یہاں سے ہجرت کر کے کسی جگہ اپنا مستقل ٹھکانہ بنائیں گے۔ جب تمہیں یہ پتہ چلے کہ ہم نے مکہ چھوڑ دیا ہے اور کسی جگہ ٹھکانہ بنا لیا ہے تو تم وہاں آجانا، اس وقت تک تم نے کسی کو بتانا نہیں ہے، گھر جا کر چپکے سے اللہ اللہ کرتے رہو۔

ابوذرؓ کہتے ہیں میں حضورؐ کی باتیں سن کر رات حرم میں آگیا کہ صبح واپس جاؤں گا۔ صبح ہوئی تو چاشت کے وقت مکہ کے بڑے بڑے لوگ اور چوہدری حرم میں اپنے معمولات کے لیے اکٹھے ہوتے تھے، میرے ضمیر نے مجھے کہا کلمہ پڑھ کر یوں چپکے چپکے چلے جانا ٹھیک نہیں ہے، ان کو پتہ چلنا چاہیے کہ میں نے کلمہ پڑھا ہے۔ مجھے حضورؐ کی بات بھی یاد تھی لیکن میرا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا، کہہ رہا تھا کہ تم نے کلمہ پڑھا ہے کوئی گناہ تو نہیں کیا، اس کا اظہار کرو۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ انہیں بتا کر جاؤں گا۔ قریش کا مجمع لگا ہوا تھا، میں بیچ میں جا کر کھڑا ہو گیا اور ان سے کہا، مجھے جانتے ہو میں کون ہوں؟ بنوغفار کا ابوذر ہوں ’’اشھد ان لا الّہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ۔ میرا کلمہ پڑھنا تھا کہ گویا وہاں دھماکہ ہو گیا، وہ حیران تھے کہ بنوغفار کا آدمی یہاں آ کر کلمہ پڑھ رہا ہے اور ہمارے درمیان آ کر اظہار بھی کر رہا ہے۔ اب وہ مجھ پر حملہ آور ہوئے، کوئی مکے مار رہا ہے، کوئی جوتے مار رہا ہے، کوئی کپڑے کا کوڑا بنا کر مار رہا ہے، کوئی ڈنڈے مار رہا ہے۔ مجھے لٹا دیا اور مارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ قریب تھا کہ میں مر جاتا، حضرت عباسؓ جو حضورؐ کے چچا محترم تھے، انہوں نے کلمہ فتح مکہ کے موقع پر پڑھا ہے لیکن چچا بھتیجا کی دوستی پہلے سے تھی، انہوں نے دیکھ لیا کہ یہ تو اسے مار دیں گے، انہوں نے شور مچایا ارے خدا کے بندو! کیا کر رہے ہو؟ آ کر لوگوں کو مجھ سے ہٹایا، مجھے نکالا اور ان سے کہا یہ بنوغفار کا آدمی ہے اور قبیلہ بنوغفار شام کے تجارتی قافلوں کے راستے میں ہے، یہ مر گیا تو تمہارا تجارت کا راستہ بند ہو جائے گا، تمہیں اس کا قبیلہ وہاں سے نہیں گزرنے دے گا، پھر غلہ کہاں سے لاؤ گے، راستہ بند کروانا ہے؟ پھر مجھے کہا، آپ کو کس نے کہا تھا ان کے سامنے کلمہ پڑھو، اب یہاں سے کھسک جاؤ۔ وہ تو کہہ کر چلے گئے۔ میں جا کر زمزم کے پاس بیٹھا، سانس برابر ہوا تو میں نے سوچا ابھی نہیں جاؤں گا، ایک راؤنڈ اور ہونا چاہیے۔ رات ادھر ہی گزاری۔ صبح اسی وقت پھر میں نے ان کے سامنے آ کر کہا، میں ابوذر ہوں، بنوغفار سے آیا ہوں، اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدًا رسول اللہ۔ وہ پھر مجھ پر حملہ آور ہو گئے اور پٹائی شروع کر دی اور میری وہی کل والی حالت ہو گئی۔ عباسؓ دور سے دوڑتے ہوئے آئے اور لوگوں کو مجھ سے ہٹایا، انہیں لعن طعن کیا کہ یہ مسافر ہے اسے کیوں مارتے ہو؟ بڑی مشکل سے مجھے ان سے بچایا، اور مجھے کہا، اللہ کے بندے کل تمہیں اتنی مشکل سے چھڑایا تھا اور کہا تھا کہ کھسک جاؤ، تم نے آج پھر وہی کام کیا، جاؤ چلے جاؤ۔ میں پھر زمزم کے کنویں پر جا کر بیٹھ گیا، سانس برابر ہوا، پانی پیا، آرام کیا، تازہ دم ہوا تو میں نے سوچا رات پھر ادھر ہی رہوں گا اور ایک راؤنڈ اور ہونا چاہیے۔ رات سو گیا، صبح اسی وقت پھر مشرکین کے مجمع میں جا کر میں نے کلمہ پڑھ دیا، وہ پھر مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ عباسؓ اس بار بھی تاک میں تھے، تیسری بار بھی انہوں نے مجھے چھڑایا اور کہا یہاں سے جاتے کیوں نہیں ہو، ان کے ہاتھوں مرنا ہے؟ اس طرح تین دن میں نے خود اپنی پلاننگ کے ساتھ مار کھائی اور پھر وہاں سے گیا۔

اس مسافر کا قصہ بڑا ایمان افروز قصہ ہے، میں نے اس قصہ کا خلاصہ بیان کیا ہے، تفصیلی قصہ بخاری شریف میں موجود ہے۔ اسے کہتے ہیں ایمان، اللہ رب العزت اس ایمان کی چھوٹی سی جھلک ہمیں بھی نصیب فرما دے۔

ایک اور مسافر کا قصہ سنانا چاہوں گا، وہ مسافر مدینے کے ہیں، حضرت ابو سعید خدریؓ انصاری صحابہ میں سے ہیں۔ کہتے ہیں ہم کچھ ساتھی سفر پر جا رہے تھے۔ پرانے زمانے ایسا میں ہوتا تھا، راستے میں رات پڑ جاتی تو مسافر قریب کسی بستی میں جا کر آواز دیتے تھے کہ ہم مسافر ہیں روٹی کھلا دینا۔ اس وقت ہوٹل اور تندور وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے، لوگ روٹی کھلا دیا کرتے تھے اور بستر بھی لا دیا کرتے تھے۔ جب سے بستر غائب ہونا شروع ہوئے تو لوگوں نے یہ بند کر دیا، ورنہ یہ ہوتا تھا۔ ابوسعیدؓ کہتے ہیں، ہم نے گاؤں کے باہر خیمہ لگایا اور گاؤں میں آواز دی کہ ہم چند مسافر ہیں، ہمیں کھانا کھلا دینا۔ انہوں نے کہا، کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے بتایا مدینہ سے۔ انہوں نے کہا اچھا! محمد کے ساتھی ہو، صابی ہو، جاؤ تمہارے لیے کوئی روٹی نہیں ہے، بیٹھے رہو۔ بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ ہم آ کر بیٹھ گئے، اپنی تو پکا نہیں سکتے تھے، رات کو لیٹ گئے، بھوک میں نیند بھی کہاں آتی ہے۔ آدھی رات کا وقت ہوا تو گاؤں سے ایک دو آدمی آئے، کہنے لگے کہ ہمارے سردار کو سانپ یا بچھو وغیرہ نے ڈس لیا ہے وہ بیچارہ تڑپ رہا ہے، ہمارا کوئی علاج کامیاب نہیں ہو رہا، آپ میں سے کسی کے پاس کوئی دَم ٹونہ وغیرہ ہو تو مہربانی کرو ہمارے ساتھ چلو، ہمارا سردار مر رہا ہے۔ ابوسعید کہتے ہیں میں نے کہا کہ میرے پاس ٹونہ اور دَم ہے، میں دَم کروں گا وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا لیکن ہم مسافر ہیں تم سے کھانا مانگا تم نے ہمیں کھانا نہیں کھلایا، اس لیے ایک سو (ایک روایت کے مطابق تیس) بکریاں لوں گا تب دم کروں گا ویسے دم نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا ہم بکریاں دے دیں گے۔ ابوسعیدؓ نے کہا نہیں! پہلے بکریاں دو پھر دم کروں گا۔ وہ مجبور تھے کیا کرتے، انہوں نے بکریاں لا کر دیں اور کہا اب ساتھ چلو دم کرو۔ حضرت ابوسعیدؓ نے جا کر اسے دم کیا تو وہ آدمی ٹھیک ہوگیا، ایسے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

اب ان صحابہ نے خیمے میں آ کر صلاح مشورہ کیا کہ بکریاں تو ہم نے غصے میں لے لی ہیں لیکن نہ معلوم یہ لینا درست تھا یا نہیں۔ کسی نے کہا، واپس کر دو۔ دوسرے نے کہا، ان کو تو واپس نہیں کریں گے۔ مدینہ چلتے ہیں، جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں سارا قصہ عرض کرتے ہیں، بکریاں پیش کرتے ہیں اور ان کا حکم معلوم کرتے ہیں، اس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک آپؐ اجازت نہ دے دیں۔ چنانچہ مدینہ پہنچے اور جا کر آپؐ کی خدمت میں سارا قصہ سنایا اور بکریاں پیش کیں کہ ان کا کیا حکم ہے، ہمارے لیے جائز ہیں یا نہیں؟ اگر جائز ہیں تو ہم آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں اور اگر جائز نہیں ہیں تو بیت المال میں جمع کرا دیتے ہیں۔ آپؐ نے مسکراتے ہوئے فرمایا، ٹھیک ہے یہ بکریاں تمہاری ہیں ان میں میرا حصہ بھی نکالو۔ یہ تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ جائز ہیں، پریشانی والی بات نہیں ہے۔ آپؐ نے پوچھا، دَم کس نے کیا تھا؟ ابوسعیدؓ نے کہا، میں نے۔ آپؐ نے پوچھا، کیا پڑھا تھا؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ! سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا، تمہیں کس نے بتایا تھا کہ سورہ فاتحہ دم ہے۔ ایک وہ منظر تھا ابوذرؓ کے ایمان کا، اور ایمان کا ایک پہلو یہ ہے کہ ابوسعیدؓ نے کہا یارسول اللہ! ایک دفعہ آپ کی زبان مبارک سے سنا تھا کہ سورہ فاتحہ کا نام سورہ شفاء بھی ہے، بس ایمان تھا اور آپ کے فرمان پر یقین تھا، میں نے دم کر دیا اور اللہ نے ٹھیک کر دیا۔ یہ میں نے دو مسافروں کے قصے سنائے ہیں۔

جناب نبی کریمؐ نے بہت سفر کیے ہیں۔ دس سال میں ستائیس غزوے کیے، ایک سال میں اوسطاً پونے تین سفر بنتے ہیں، گویا آپؐ اکثر سفر میں ہی رہتے تھے۔ حضورؐ نے خود بھی بہت سفر کیے ہیں اور مسافروں کو بھی بہت سنبھالا ہے۔ حضورؐ کے پاس مدینہ منورہ میں ہر وقت مسافروں کا جمگٹھا لگا رہتا تھا۔ اصحاب صفہ مسافر ہی تھے۔ ایک چھتہ سا ڈال رکھا تھا جو حضورؐ کا مہمان خانہ تھا۔ اس میں چالیس سے اَسی تک کی تعداد رہا کرتی تھی۔ یہ حضرات حضورؐ سے ملاقات اور آپؐ کی صحبت میں رہنے کے لیے آتے تھے، کئی کئی دن آپؐ کی خدمت میں رہتے تھے اور انصار مدینہ ان کی خدمت کیا کرتے تھے۔ کوئی دودھ لے آتا، کوئی کھجوریں لے آتا، کوئی انگور لا کر لٹکا دیتا، اور کبھی بھوکا بھی رہنا پڑتا تھا، ان میں سے ایک مسافر کا قصہ سناتا ہوں۔

حضرت ابوہریرہؓ اپنا قصہ سناتے ہیں کہ میں اصحابِ صفہ میں سے تھا، کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، پانی اور چند کھجوروں پر گزارہ کرتے۔ کبھی کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ ایک دن ایسے ہی سخت بھوک لگی ہوئی تھی لیکن حضورؐ کا مہمان تھا کسی سے مانگنا بھی نہیں تھا، بھوک سے لڑکھڑا رہا تھا۔ اتنے میں حضرت عمرؓ جاتے ہوئے دکھائی دیے۔ میں نے ان کے پاس جا کر سلام کہا اور ان سے باتیں شروع کر دیں اور پوچھا کہ حضرت! قرآن کریم کی فلاں آیت کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے آیت کا مطلب رستے میں چلتے چلتے بتایا۔ ان کے دروازے تک پہنچے، حضرت عمرؓ نے گھر پہنچ کر دروازہ بند کر لیا، وہ اندر چلے گئے اور میں باہر رہ گیا۔ کہتے ہیں مجھے آیت کا مطلب معلوم تھا، آیت پوچھنا مقصد نہیں تھا، مقصد یہ تھا کہ میری آواز سن کر سمجھ جائیں گے کہ بھوکا ہے تو کھانا کھلا دیں گے۔ میرا داؤ کامیاب نہیں ہوا، وہاں سے لڑکھڑاتا ہوا واپس ہوا۔ جناب نبی کریمؐ نے دیکھ لیا، فرمایا، ابوہریرہ! بھوک لگی ہوئی ہے؟ میں نے کہا یارسول اللہ! بھوک سے برا حال ہے۔ آپؐ نے چہرہ سے اندازہ کر لیا تھا کہ بھوک لگی ہوئی ہے۔ آپؐ گھر تشریف لے گئے، اپنے حجروں میں پوچھا کہیں کوئی کھانے کی چیز ہو تو ایک سافر بھوکا ہے۔ چوتھے یا پانچویں حجرے سے دودھ کا پیالہ لے کر آئے تو میری جان میں جان آئی۔ میں خوش ہوا کہ گزارہ ہو جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا، ابوہریرہ! جاؤ صفہ والوں کو بلا لاؤ۔ میں پریشان ہوا کہ یہ بھی گیا۔ ایک پیالہ دودھ کا ہے اور صفہ میں چالیس پچاس آدمی ہیں، مجھے اس میں سے کیا ملے گا۔ لیکن حضورؐ کا حکم تھا، میں گیا اور ان سے کہا، آپ کو حضورؐ بلاتے ہیں، سب آگئے حضورؐ نے فرمایا، گھیرا ڈال کے بیٹھ جاؤ، سب بیٹھ گئے۔ آپؐ نے مجھے پیالہ دیا کہ ان کو پلاؤ۔ میں نے پلانا شروع کیا۔ ایک نے پیا، دوسرے نے پیا، پیالہ ویسے کا ویسا ہی رہا، حتٰی کہ سب نے باری باری دودھ پی لیا لیکن پیالہ ویسے کا ویسا ہی دودھ سے لبریز رہا۔ پھر مجھے حضورؐ نے فرمایا، تم پیو۔ میں نے پیا۔ آپؐ نے فرمایا، اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا، اور پیو۔ میں نے اور پیا، اتنا پیا، اتنا پیا کہ اب بھی (یعنی چالیس پچاس سال بعد جب واقعہ بیان کیا) حلق میں دودھ اچھلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ پھر حضورؐ نے باقی ماندہ خود پیا۔

آج میں نے دورِ نبویؐ کے دو تین مسافروں کے قصے سنائے ہیں۔ مسافر کے حقوق کے بارے میں آپؐ کا اسوۂ یہ ہے کہ اسے صحیح مشورہ دینا صحیح راستہ بتانا، جس کا ٹھکانہ کوئی نہ ہو اسے ٹھکانہ دینا، اور جو بھوکا پیاسا ہو اسے کھلانا پلانا اس کی خدمت کرنا یہ بڑے اجر و ثواب کی بات ہے، یہ بھی مہمان کی خدمت کی طرح ہی ہے، اللہ تعالٰی ہمیں مسافروں کو سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔