مساجد کمیٹیوں کو رفاہی اور مصالحتی کردار بھی ادا کرنا چاہیے

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

عاشوراء کے روز دیگر بہت سے معمولات کے ساتھ ایک ایسے کارِ خیر میں شریک ہونے کا موقع مل گیا جس طرح کے کاموں کی مجھے تلاش رہتی ہے۔ واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ کے سامنے کنگ مال کے عقب میں ایک نئی مسجد روڈ پر بنی ہے جس کے سامنے سے کئی بار گزر ہوا اور اب یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلم روڈ کے حاجی محمد طارق بشیر صاحب نے یہ مسجد تعمیر کرائی ہے ، وہ مسجد اقدس کے سابق خطیب مولانا حافظ محمد عارفؒ کے حلقہ احباب میں سے ہیں جو ہمارے مہربان اور بزرگ دوست تھے۔ مسجد کے ساتھ معاشرہ کے بے سہارا افراد کے لیے مرکز بھی بنایا گیا ہے جس میں یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے قیام و طعام کے ساتھ دینی و عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ایسے بوڑھے لوگوں کے لیے قیام و طعام اور علاج معالجہ کا اہتمام کیا گیا ہے جو بے سہارا اور بے روزگار ہیں۔ اس مرکز کے زیر اہتمام ایک تقریب میں مجھے شرکت اور اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی جس میں کچھ معروضات پیش کیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ اس مسجد کے سامنے سے کئی بار گزر ہوا ہے اور آج یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی ہے کہ مسجد کے بانی حاجی محمد طارق بشیر اور ان کے رفقاء نے مسجد کے ساتھ بے سہارا لوگوں کے لیے یہ مرکز بھی بنایا ہے جس میں ہم سب اس وقت جمع ہیں۔ اس حوالہ سے میں ایک بات اکثر عرض کیا کرتا ہوں اور آج بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ عبادت، تعلیم اور خدمت خلق کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور تینوں باہم لازم و ملزوم ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا پہلا سبق غارِ حراء کی وہ وحی ہے جو پانچ آیتوں پر مشتمل ہے جس میں علم، قلم اور قراءت کا ذکر ہے اور غار حرا کی عبادت کے ماحول میں وہ ہمیں دی گئی ہیں۔ اس کے تھوڑے وقفہ کے بعد اسی روز ہمارا دوسرا سبق ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کے وہ جملے ہیں جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس واقعہ سے گھبراہٹ دیکھ کر فرمائے تھے کہ اللہ تعالٰی آپ کو ضائع نہیں ہونے دے گا، اس لیے کہ آپ (۱) صلہ رحمی کرتے ہیں (۲) لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں (۳) محتاجوں کو کما کر کھلاتے ہیں (۴) مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں (۵) اور ناگہانی حادثات و آفات میں متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔

یہ ایک ہی روز کے دو سبق ہیں، ایک جناب نبی اکرمؐ کی وحی کے ذریعے ملا ہے جو قرآن کریم کی قراءت اور تعلیم و قلم کے حوالے سے ہے، اور دوسرا ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کے ذریعے ملا ہے ہے جو حضورؐ کے معاشرتی کردار اور خدمتِ خلق کے حوالے سے ہے۔ اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ عبادت، تعلیم اور خدمت خلق آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ آج ایک واقعہ اس کے ساتھ اور ذکر کرنا چاہتا ہوں، بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحابؓ کے ساتھ مکہ والوں کے مظالم کی انتہا ہو گئی اور ان کا وہاں رہنا مشکل ہو گیا تو بہت سے صحابہ کرامؓ حضورؐ کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے ، جبکہ آپؐ خود بھی ہجرت کے لیے اللہ تعالٰی کی طرف سے اجازت کے انتظار میں تھے، اس دوران حضرت ابوبکرؓ نے اجازت مانگ لی کہ میں بھی کسی طرف ہجرت کر جاتا ہوں، اجازت مل گئی اور حضرت ابوبکرؓ ہجرت کی تیاری کر کے مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے، کچھ سفر بھی کر لیا، راستہ میں بنو قارہ قبیلہ کے سردار ابن الدغنہ نے انہیں جاتے دیکھ لیا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ ہجرت کر کے جا رہے ہیں تو یہ کہہ کر روک لیا کہ آپ جیسے لوگ شہر چھوڑ کر نہیں جایا کرتے تھے، میرے ساتھ واپس چلیں، مکہ والوں سے میں خود بات کرتا ہوں کہ وہ آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔ ابن الدغنہ کافر تھا مگر معاشرتی ضروریات کو سمجھتا تھا، اس نے حضرت ابوبکرؓ کو ہجرت سے روکنے کے لیے وہی جملے کہے جو حضرت خدیجہؓ نے جناب رسول اکرمؐ سے کہے تھے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو کما کر کھلاتے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور ناگہانی حادثات و آفات میں متاثرین کی مدد کرتے ہیں، اس لیے میں آپ کو مکہ مکرمہ سے نہیں جانے دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنی ضمانت پر انہیں مکہ مکرمہ واپس لایا اور قریش کے سرداروں سے اس سلسلہ میں بات کر کے انہیں تنگ کرنے سے روکا۔

یہاں میں ایک بات عرض کروں گا کہ ان دونوں واقعات سے اشارہ ملتا ہے کہ نبوت اور خلافت کا مزاج ایک ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو خلافت حضرت ابوبکرؓ سے شروع ہوئی وہ آج بھی دنیا میں خدمت خلق اور ویلفیئر سوسائٹی کے حوالہ سے آئیڈیل سمجھی جاتی ہے اور بالخصوص حضرت عمرؓ کے عدل و انصاف ، خدمت خلق اور انتظام و انصرام کا تو نمایاں طور پر ذکر ہوتا ہے اور مسلم و کافر سب کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں مساجد و مدارس کے منتظمین سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ عبادت، تعلیم اور خدمت خلق کے کاموں کو پھر سے اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میری تجویز ہے کہ ہر مسجد کی انتظامیہ کو اپنے ماحول میں دو کاموں کا اہتمام کرنا چاہیے:

  1. ایک یہ کہ مسجد کے اس ماحول میں جو بے سہارا لوگ ہوں اور ضرورت مند ہوں، ان کی خدمت و معاونت کا مسجد کمیٹی خود اہتمام کرے اور یہ اس کے باقاعدہ نظم کا حصہ ہو۔ اس سے بد عنوانی کا امکان کم ہو گا کہ مسجد کے منتظمین اپنے ماحول کے ضرورتمندوں کو جانتے ہیں اور ہر ایک کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، اس لیے یہ کام صحیح طریقہ سے سرانجام دیا جا سکتا ہے۔
  2. دوسرا یہ کہ ہر مسجد کی کمیٹی اس بات کو بھی اپنے نظم کا حصہ بنائے کہ مسجد کے ماحول میں اپنے نمازیوں اور محلے داروں کے درمیان کوئی تنازعہ اور جھگڑا ہو تو وہیں اسے نمٹانے کی کوشش کی جائے اور لوگوں کو تھانے کچہری کے چکروں سے بچایا جائے، کیونکہ اکثر تنازعات ایسے ہوتے ہیں جو مقامی سطح پر زیادہ آسانی کے ساتھ حل کیے جا سکتے ہیں۔ مقامی حضرات کو اپنے اردگرد کے لوگوں اور ان کے حالات و مزاج کا زیادہ علم ہوتا ہے، وہ تنازعات کے اسباب بھی سمجھتے ہیں اور حل بھی بہتر طریقہ سے کر سکتے ہیں۔ اس سے عدالتوں پر بوجھ کم ہو گا اور لوگ بے پناہ اخراجات سے بھی بچ جائیں گے۔

چنانچہ آج بے سہارا لوگوں کی مدد کے اس مرکز میں گفتگو کا موقع ملنے پر جہاں مرکز کے منتظمین کے اس کارِ خیر کی تحسین کر رہا ہوں وہاں مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے لیے رفاہی اور مصالحتی کاموں کو اپنے نظام کا حصہ بنانے کی تجویز بھی ایک بار پھر پیش کر رہا ہوں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: