ملک کی جغرافیائی، نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کا تحفظ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

ماہِ ستمبر ملک بھر میں قومی و دینی سرگرمیوں کی گہماگہمی میں گزر رہا ہے اور مختلف ملی حوالوں سے اجتماعات و تقریبات کا تسلسل دکھائی دے رہا ہے۔

  • چھ ستمبر کو ’’یوم دفاع پاکستان‘‘ منایا گیا کہ اس دن ۱۹۶۵ء کی جنگ کے دوران قومی وحدت اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کے مناظر کو ذہنوں میں تازہ کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعِ وطن کے لیے عزمِ نو کا اظہار کیا گیا۔
  • سات ستمبر کو ’’یوم تحفظ ختمِ نبوت‘‘ منا کر مختلف طبقات نے ۱۹۷۴ء کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ ایک بار پھر ہم آہنگی کا اظہار کیا جو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کے لیے غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے معاشرتی مقام کے تعین کے حوالہ سے ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ہمیشہ کے لیے فیصلہ صادر کر دیا تھا۔ اس روز پورے ملک میں سینکڑوں تقریبات و اجتماعات کے ماحول میں پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام منعقد ہونے والی تاریخی کانفرنس کلیدی حیثیت رکھتی ہے جس نے دنیا کو ایک بار پھر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں پاکستانی عوام کے جذبات و احساسات آج بھی وہی ہیں جو ۱۹۷۴ء میں تھے اور ان میں لچک یا کمی کا مستقبل میں بھی کوئی امکان نظر نہیں ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔ جس پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے تمام رفقاء کار تبریک و تحسین کے مستحق ہیں۔
  • آٹھ ستمبر کو ’’پاکستان قومی زبان تحریک‘‘ نے اردو زبان کے دن کے طور پر منانے کا سلسلہ چند برسوں سے اس مناسبت سے شروع کر رکھا ہے کہ اب سے پانچ برس قبل اس روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ نے ایک تاریخی فیصلہ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام ریاستی اداروں کو حکم دیا تھا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اس لیے سرکاری، دفتری، تعلیمی اور عدالتی دائروں میں اردو کا استعمال لازمی بنایا جائے اور ہر سطح پر اردو زبان کو عملًا رائج کیا جائے۔ یہ فیصلہ ابھی تک تشنۂ تکمیل و تعمیل ہے اس لیے پاکستان قومی زبان تحریک کے عنوان سے دانشوروں کے ایک گروپ نے آٹھ ستمبر کو ہر سال اس فیصلہ کی یاددہانی کے دن کے طور پر منانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    اس تحریک کے صدر جناب محمد جمیل بھٹی اور نائب صدر پروفیسر محمد سلیم ہاشمی نے گزشتہ دنوں مسجد خضراء سمن آباد لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا عبد الرؤف فاروقی، حاجی عبد اللطیف خالد چیمہ اور راقم الحروف سے ملاقات کر کے آٹھ ستمبر کو اس سلسلہ میں لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو مولانا فاروقی اور راقم الحروف نے اس میں شمولیت کا وعدہ کیا اور پھر ہم دونوں کانفرنس میں شریک ہوئے، جو کینال روڈ پر واقع مولانا ظفر علی خانؒ ٹرسٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی اور میں خلافِ مزاج و معمول اول تا آخر شریک رہا جس کی وجہ عنوان کے ساتھ گہری دلچسپی تو تھی ہی مگر اس کا ایک باعث یہ بھی تھا کہ قومی زبان کے لیے کام کرنے والوں کی باتیں براہ راست سن کر اس تحریک میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہتا تھا چنانچہ میں نے کانفرنس کے دوران اس تحریک میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

گزشتہ روز جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میں نے اس صورتحال کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور گزارش کی کہ ایک خوش آئند اور فطری تسلسل قائم ہو گیا ہے کہ چھ ستمبر کو ہم نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا دن منایا ہے، سات ستمبر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے جذبہ سے منایا گیا ہے، جبکہ آٹھ ستمبر نے ملک کی تہذیبی سرحدوں کے دفاع کا عنوان اختیار کر لیا ہے۔ یہ تینوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی صورت گری کے لیے ان کا تسلسل یقیناً نیک فال ثابت ہو گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔

  • اس کے ساتھ ہی آج ۱۱ ستمبر کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور کا ۷۲واں یوم وفات ہے اور اس موقع پر ملک کے مختلف علاقوں میں ان کی قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ ایک عرصہ سے قومی سطح پر دکھائی دے رہا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ علامہ محمد اقبالؒ، قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور تحریک پاکستان کے نظریاتی قائدین کو بھول جانے کی کوشش کر رہے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ قائدین تحریک پاکستان کے دوران اسلام کی بالادستی بات کرتے تھے، مسلم تہذیب کے تحفظ کی بات کرتے تھے، اور قرآن و سنت کی عملداری کی بات کرتے تھے۔ کچھ عرصہ تک یہ کوشش ہوتی رہی ہے کہ ان کی ایسی باتوں کو تاریخ کے ریکارڈ سے محو کر دیا جائے جس میں کامیابی نہ ہونے پر اب ان شخصیات کو ہی پس منظر میں لے جانے کی کاروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں اور اس میں مختلف عالمی اور قومی لابیاں منظم طور پر شریک دکھائی دیتی ہیں۔ اس لیے ان شخصیات کو یاد رکھنا بھی ہماری قومی ضروریات کا حصہ ہے۔
  • جبکہ اس معروضی صورتحال میں ایک اور بات بھی شامل ہو گئی ہے کہ حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے چند اہم شخصیات کے بارے میں مختلف عوامی اجتماعات میں بعض حضرات کی طرف سے منفی خیالات کے مسلسل اظہار نے ردعمل کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کے موضوع پر اجتماعات کا سلسلہ چل نکلا ہے جو امت کی ان بزرگ ترین شخصیات کے ساتھ امت کی عقیدت و محبت کا فطری اظہار ہے۔ چنانچہ اسی حوالہ سے ۱۲ ستمبر ہفتہ کو کراچی میں مولانا مفتی منیب الرحمٰن کی زیرقیادت ایک بڑی ریلی کی تیاریاں دیکھنے میں آ رہی ہیں اور اندازہ ہے کہ یہ ریلی کراچی کے بڑے اجتماعات میں سے ہو گی جس کے اہتمام پر مفتی صاحب موصوف اور ان کے رفقاء مبارکباد کے مستحق ہیں۔
  • البتہ یہ یاددہانی اس موقع پر ضروری محسوس ہوتی ہے کہ صرف دو ماہ کے بعد دسمبر بھی آ رہا ہے جو ہماری ۱۹۷۰ء کی تلخ یادوں کو دامن میں لیے وارد ہو گا اس لیے ہمیں امید اور خوف دونوں کو ہر حال میں سامنے رکھنا ہو گا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اسی کو قرار دیا ہے۔