امریکی مسلمانوں کی صورت حال اور مستقبل کی توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۳ء

اس سال رجب اور شعبان کی تعطیلات امریکہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ ۱۸ ستمبر کو میں امریکہ پہنچا اور ۴ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ دار الہدیٰ، سپرنگ فیلڈ ورجینیا کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر کا تقاضا تھا کہ ان تعطیلات میں وہاں حاضری دوں اور دار الہدیٰ میں مختلف موضوعات پر خطابات کے سلسلے میں شریک ہوں۔ اس سے قبل اسی سال مئی کے دوران میں کم وبیش تیرہ سال کے وقفہ کے بعد دو ہفتے کے لیے امریکہ گیا تھا اور اس وقت بھی زیادہ تر قیام دار الہدیٰ میں ہی رہا تھا۔ اسی موقع پر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تعطیلات کے دوران دار الہدیٰ میں مختلف عنوانات پر لیکچرز کا ایک پروگرام طے پا گیا تھا۔ اسی کے مطابق یہ سفر ہوا۔ یہ پروگرام کم وبیش ایک ماہ تک جاری رہا اور سیرت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے اہم پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کا درس بھی اس پروگرام میں شامل تھا۔ بہت سے مسلمان بھائی اپنی مصروفیات کے باوجود پابندی کے ساتھ ان پروگراموں میں شریک ہوتے رہے۔ ان کی دلچسپی سے اندازہ ہوتا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں میں دینی بیداری کا رجحان بڑھ رہا ہے اور قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے کا ذوق اضافہ پذیر ہے۔

اسپرنگ فیلڈ شہر اگرچہ ریاست ورجینیا کے شمالی حصہ میں ہے لیکن دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے قریب ہونے کی وجہ سے اسی کا ایک محلہ معلوم ہوتا ہے۔ اور راولپنڈی واسلام آباد کی طرح بسا اوقات یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ درمیان کے جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یہ واشنگٹن کا حصہ ہے یا شمالی ورجینیا میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مجھے نیو یارک، بفیلو (نیویارک)، لانگ آئی لینڈ (نیویارک)، پراوی ڈنس (روڈ آئی لینڈ)، بوسٹن (میساچیوسٹس)، برمنگھم (الاباما)، بالٹی مور (میری لینڈ)، لنکاسٹر (پینسلوینیا) اور دیگر علاقوں میں جانے کا بھی موقع ملا اور مختلف اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ بوسٹن یونیورسٹیوں کا شہر ہے جہاں چند گھنٹوں کے لیے جانے اور چند یونیورسٹیوں کے درمیان گھومنے پھرنے کا اتفاق ہوا۔ آکسفورڈ کی یاد تازہ ہو گئی۔ بوسٹن جانے کا اچانک فیصلہ ہوا تھا اور پہلے سے مجھے وہاں کی صورت حال کا علم نہیں تھا ورنہ زیادہ وقت لے کر جاتا اور یونیورسٹیوں کے ارد گرد گھومنے کے بجائے ان کے اندر جا کر کچھ اصحاب دانش اور طلبہ سے گفتگو کی کوئی صورت نکالتا، اس لیے وہاں سے تشنہ ہی واپس آیا۔ خدا کرے کہ آئندہ یہ تشنگی دور کرنے کا کوئی موقع مل جائے۔

لنکاسٹر کاؤنٹی امریکہ کی ریاست پنسلوینیا میں ہے اور اس میں آمش لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ جوہر آباد اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے دو دوستوں جناب محمد اشرف اور جناب علی ناہن کے ہمراہ وہاں کا چکر لگایا۔ آمشوں کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہ بجلی، فون، گیس اور دیگر سائنسی سہولتیں استعمال نہیں کرتے، دستی آلات سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑی کے ذریعے سے سفر کرتے ہیں اور صدیوں پرانی طرز پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی دیکھنے کے لیے ہم وہاں گئے تھے۔ انہیں جیسا سنا تھا، ویسا ہی پایا۔ آمش لوگ تین سو برس قبل جرمنی سے امریکہ جا کر آباد ہوئے تھے۔ کٹڑ مذہبی لوگ ہیں، چرچ کی راہ نمائی پر یقین رکھتے ہیں، امریکہ میں رہنے کے باوجود اس کے نظام سیاست میں شریک نہیں ہیں، ووٹ مانگتے ہیں نہ دیتے ہیں، موم بتی اور لالٹین کی روشنی میں رہتے ہیں، فون استعمال نہیں کرتے، مقامی سطح پر تیار کردہ گیس استعمال کر لیتے ہیں، عورتیں گھریلو زندگی بسر کرتی ہیں، مردوں کے لیے سیاہ لباس، ڈاڑھی اور سر پر ہیٹ پہننا لازمی ہے، فوٹو نہیں کھنچواتے اور نہ ہی گھر میں رکھتے ہیں، خچروں کے ذریعے سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑوں والی بگھی ان کا عام ذریعہ سفر ہے، دستی ہینڈ پمپ اور ہوائی پنکھوں سے چلنے والے نلکے ان کے ہاں پانی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اور صدیوں پرانی رسموں پر سختی کے ساتھ کاربند ہیں۔ ان کی تعداد امریکہ میں نوے ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جو بیس ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لنکاسٹر کاؤنٹی میں ان کا گاؤں ’’انٹر کورس‘‘ کے نام سے معروف ہے جہاں مختلف علاقوں سے سیاح ان کو دیکھنے آتے ہیں۔

ایک بزرگ آمش سے ہماری ملاقات وگفتگو بھی ہوئی اور ان سے خاصی معلومات حاصل ہوئیں۔ آمشوں کی قیادت کرنے والے چرچ میں جا کر ان کے مذہبی راہ نماؤں سے ملاقات کی خواہش تھی مگر بتایا گیا کہ چرچ میں غیر آمشوں کا داخلہ ممنوع ہے اور پادری صاحبان سے بھی شاید ملاقات نہ ہو سکے۔ آمشوں کے طرز زندگی اور چرچ کی راہ نمائی کا یہ انداز دیکھ کر ذہن ماضی کی طرف مڑ گیا اور دماغ نے اس رخ پر سوچنا شروع کر دیا کہ جس چرچ کا آج کے دور میں یہ حال ہے، وہ تین سو سال قبل کس انداز سے مسیحی سوسائٹی کی قیادت کرتا ہوگا اور پھر تاریخ کے وہ اوراق نگاہ تصور میں باری باری سامنے آنے لگے جن میں بتایا گیا ہے کہ سائنسی تحقیقات اور کائنات کے مشاہدہ کے عمل کو چرچ نے مذہب سے بغاوت اور الحاد وارتداد قرار دے دیا تھا اور ان علوم کا مطالعہ اور تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کو باقاعدہ چرچ کی عدالت سے سزائیں دی جاتی تھیں اور پھر مذہب کے معاشرتی کردار سے مغرب کے اجتماعی انحراف وانکار کی وجہ بھی کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔

لنکاسٹر سے واشنگٹن تک واپسی کے سفر میں میرا ذہن انہی سوچوں میں گم رہا اور خیال ہوا کہ یورپ میں مذہب نے سائنسی دور کو مسترد کرنے اور بادشاہ اور جاگیردار کے مظالم کے خلاف عوام کی بغاوت میں عوام کا ساتھ دینے کے بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھی بننے کا جو کردار ادا کیا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ یورپ اور مغرب معاشرتی اور اجتماعی معاملات میں مذہب کا کوئی کردار قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان کی نظر میں اس حوالہ سے تمام مذاہب برابر ہیں حتیٰ کہ وہ اسلام کو بھی اس زمرہ میں شمار کر رہے ہیں جس کا معاشرتی کردار ہر دور میں اس سے قطعی مختلف رہا ہے اور اندلس میں اسلامی معاشرت اور تعلیم وتدریس سے استفادہ کر کے ہی یورپ تہذیب وتمدن کے دور میں داخل ہوا تھا۔

رمضان المبارک کے آٹھ نو روز بھی میں نے وہیں گزارے اور قرآن کریم سے متعلقہ مختلف موضوعات پر نماز فجر اور نماز عشا کے بعد گفتگو کے علاوہ احباب کی خواہش پر تراویح میں تین چار پارے بھی سنائے اور اس طرح تقریباً پونے دو ماہ امریکہ کے دار الحکومت میں قیام کے بعد وطن واپس آ گیا۔

امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے۔ اب یہ ادارہ ایک وسیع خرید کردہ بلڈنگ میں ہے، مسجد کے لیے ایک بڑا ہال ہے جو تراویح میں فل ہوتا تھا اور رش کی وجہ سے رمضان المبارک کا پہلا جمعہ اس بلڈنگ میں تین بار ادا کرنا پڑا۔

دوسری بات جو میں نے سیاسی حوالہ سے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس بات کا احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ صدارتی الیکشن میں جارج ڈبلیو بش کی حمایت کر کے غلطی کی ہے اور اب آئندہ صدارتی الیکشن میں وہ اس کی تلافی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ اگر جارج بش کے بجائے ڈیموکریٹک صدر ہوتا تو اگرچہ عالمی پالیسی اس کی بھی یہی ہوتی لیکن عراق اور افغانستان میں اس کا طریق کار یقیناًصدر بش سے مختلف ہوتا اور وہ کچھ نہ ہوتا جو وقوع پذیر ہو چکا ہے۔

بہرحال امریکی مسلمانوں میں دینی اور سیاسی بیداری کا رجحان اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی سوچ میں اضافہ میرے لیے خوشی کا باعث بنا اور میں نے بھی وہاں کے مسلمانوں سے یہی عرض کیا کہ انہیں منظم طور پر امریکہ کی قومی سیاست میں دخیل ہونا چاہیے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے تمام قانونی اور جائز ذرائع استعمال کرنے چاہییں۔ مسلمان اب امریکہ میں تعداد کے لحاظ سے یہودیوں سے کم نہیں رہے اور اگر وہ ہوش مندی اور تدبر کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کر لیں تو امریکہ کی قومی زندگی اور سیاست میں یہودیوں جیسا مقام تو شاید حاصل نہ کر سکیں مگر توازن ضرور قائم کر سکتے ہیں اور عالم اسلام کے حوالے سے امریکہ کی منفی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے یہی توازن اور بیلنس آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔