تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل

   
تاریخ بیان: 
۲۲ مئی ۲۰۱۲ء

(۲۰۰۷ء میں دارالعلم والتحقیق کی جانب سے مولانا سید زوار حسین یادگاری خطبات کا اجرا کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ کا چھٹا یادگاری خطبہ مناسب تدوین کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ دارالعلم والتحقیق)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔

حضرت مولانا سید فضل الرحمٰن صاحب اور معزز شرکائے مجلس!

سب سے پہلے تو ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن کا شکریہ ادا کروں گا کہ وہ کراچی حاضری کے موقع پر آپ حضرات کے ساتھ ملاقات کا کوئی نہ کوئی موقع فراہم کر دیتے ہیں، آپ حضرات سے ملاقات ہو جاتی ہے اور اس ماحول میں کچھ وقت گزر جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی انہیں جزائے خیر دے اور ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائے۔

ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا ہے کہ اس سے قبل اس سلسلہ خطبات سے آپ حضرات کو مستفید فرما چکے ہیں اور اب چھٹے نمبر پر مجھے مذکورہ موضوع کے حوالہ سے کچھ کہنے اور اپنی معروضات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک بات پیشگی معذرت کے طور پر پیش کروں گا کہ وہ معیار، سطح اور یادگاری انداز کا خطبہ تو میرے بس کی بات نہیں ہے، میں ہلکی پھلکی گفتگو کا قائل ہوں اور موضوع کی مناسبت سے کچھ باتیں بے تکلفانہ انداز میں عرض کرنا چاہوں گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں اور دین حق کی جو باتیں علم میں آئیں، سمجھ میں آئیں، ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں۔ حق کی تلاش انسانی فطرت ہے، کوئی بھی انسان جو ذی شعور اور ذی فہم ہو، حتٰی کہ کوئی چھوٹا سا بچہ بھی جب کوئی چیز دیکھتا ہے تو اس کی اصل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ چھوٹا سا بچہ ہے، کوئی چیز دیکھی ہے، اگر اس بچے میں تھوڑی بہت عقل موجود ہے تو وہ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرے گا، اس کی توڑ پھوڑ بھی کرے گا، اس کو کھولے گا، بظاہر نقصان بھی کرے گا، لیکن اس کی کوشش ہو گی کہ وہ یہ دیکھے کہ یہ چیز ہے کیا؟ یہ انسان کی نیچر ہے، فطرت ہے اور صرف دین یا علم کے حوالے سے نہیں، ہر شعبے میں انسانی تجسس کا یہ حال ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ لے لیں، کوئی پہلو لے لیں، حق کو معلوم کرنا، حقیقت کو معلوم کرنا، وہاں تک پہنچنا، حق تک رسائی حاصل کرنا یہ انسان کی ضرورت ہے انسان کی نیچر ہے۔ اس اعتبار سے حق کے پھر کئی معنٰی ہو جائیں گے۔

اس حوالہ سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ حق کے اپنے اپنے دائرے ہیں، حق کو معلوم کرنے کا اپنا اپنا طریق کار ہے، کوئی ایک دائرے میں حق کو تلاش کر رہا ہے، کوئی دوسرے دائرے میں حق کو تلاش کر رہا ہے۔ میں مثال کے طور پر چند دائروں کا ذکر کروں گا۔

مثلاً ایک دائرہ ظاہر کا ہے اور ایک باطن کا ہے۔ انسان اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور خود اپنے بارے میں جاننا چاہتا ہے کہ میں کیا ہوں۔ (۱) اس میں ایک دائرہ میڈیکل سائنس کا ہے کہ چیر پھاڑ کر پتہ کرنا کہ اندر کیا ہے۔ اس کا دائرہ الگ ہے۔ یہ اپنی ذات اور وجود کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی ذات کو پہچاننے کا ایک دائرہ میڈیکل سائنس کا ہے۔ انسان کے وجود کو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک چیر پھاڑ کر دیکھنا کہ یہ کیا ہے، کیسے کام کرتا ہے، اس کا میکنزم کیا ہے وغیرہ۔ (۲) ایک دائرہ حضرات صوفیائے کرام کا ہے، عرفانِ ذات۔ اپنے آپ کو پہچاننا۔ صوفیائے کرام کا دائرہ یہ ہے کہ عرفانِ ذات کی جائے، یعنی اپنی ذات کو پہچاننا کہ میں کون ہوں، کیا ہوں، مجھے کس نے بنایا ہے، میرا مقصد کیا ہے، اور بنانے والے کے ساتھ میرا تعلق کیا ہے؟

پھر چند سوالات کائنات کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں، ان سوالات کا اپنا اپنا دائرہ ہے۔ مثلاً کہ یہ کائنات کیا ہے، جس ماحول میں ہم رہتے ہیں یہ ماحول کیا ہے، اس کائنات کے پیچھے کونسی قوت ہے، قوتِ محرکہ کون ہے؟ آخر اس حرکت کے لیے کوئی قوت محرکہ تو ہو گی، کوئی طاقت تو ہے کوئی پاور تو ہے پیچھے جو اس کو چلا رہی ہے۔ اس نوعیت کے بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں، ان پر غوروفکر اور تحقیق کے مختلف دائرے ہیں اور اس حوالے سے اہل تحقیق کے مختلف دائرے، مختلف سطحوں پر، مختلف اوقات میں کام کرتے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ قیامِ قیامت تک جاری رہے گا۔ فلاسفر اپنے دائرے میں کام کرتے رہیں گے، سائنسدان اپنے دائرے میں کام کرتے رہیں گے، شریعت کے ماہرین اپنے دائرے میں کام کرتے رہیں گے، اور صوفیائے کرام اپنے دائرے میں کام کرتے رہیں گے۔ ان دائروں کا اور ان کے تحت کام کرنے والے اہل تحقیق کا ایک دوسرے سے تعلق بھی ہے لیکن دائرے سب کے اپنے اپنے ہیں۔

کائنات کو پہچاننا، کائنات بنانے والے کو پہچاننا، اپنی ذات کو پہچاننا، اپنے مقاصد کا تعین کرنا اور انہیں سمجھنا، اپنی حقیقت کا تعین کرنا کہ میں کیا ہوں، کون ہوں، کیسے ہوں، کیوں ہوں؟ یہ ایک مستقل دائرہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں حق کی تلاش کا ایک دائرہ مختلف مذاہب کے درمیان بھی ہے۔ دنیا میں کشمکش جاری ہے اور ایک سوال انسان کو سرگرم جستجو رکھے ہوئے ہے کہ انسان کی نجات کا ذریعہ کون سا مذہب ہے؟ کون سا طریقہ ہے؟ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر دور میں انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والتسلیمات حق تک پہنچنے کا ذریعہ رہے ہیں، آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپؐ کے بعد قیامت تک کسی نبی نے نہیں آنا، اس لیے اب قیامت تک حق تک پہنچنے کا ذریعہ صرف جناب نبی اکرمؐ ہیں۔ حق تک پہنچنے کا ذریعہ حضرت آدم علیہ السلام کے دور میں حضرت آدمؑ تھے، حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں حضرت نوحؑ تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں حضرت ابراہیمؑ تھے، حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور میں حضرت موسٰیؑ تھے، حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دور میں حضرت عیسٰیؑ تھے، اور اب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حق تک پہنچنے کا واحد ذریعہ اور راستہ نبی کریمؐ ہیں۔ حضورؐ کی بعثت سے لے کر قیامت تک حق تک رسائی کا ذریعہ وحی ہے اور جناب نبی کریمؐ کی ذات گرامی ہے۔

بہت سے دیگر مذاہب کے لوگ اپنی بات کرتے ہیں اور اسے حق کی بات سمجھ کر کرتے ہیں۔ عیسائی اپنے فلسفے کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یہودی اپنے فلسفے کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جو بدھ مت ہیں وہ اپنے طریقے کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ہندو اپنے طریقے کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اس طرح ایک کشمکش حق کی تلاش کے میدان میں جاری ہے۔ اس علمی اور حقیقی روایت کی بابت عرض کر دوں کہ ماضی میں کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے ایک اجتماع ہوا کرتا تھا ’’میلہ خدا شناسی‘‘ خدا کو پہچاننے کے لیے میلہ۔ اس میلے میں ہندو بھی آتے تھے، آریا بھی آتے تھے، مسلمان بھی آتے تھے، سکھ بھی آتے تھے، عیسائی بھی آتے تھے۔ یہ تمام لوگ خدا کے بارے میں اپنا اپنا تصور پیش کرتے تھے۔ اس میلے کا مقصد یہ تھا کہ خدا کو پہچانیں یا کم از کم خدا کے بارے میں اپنی پہچان کا اظہار کریں۔ خدا کے بارے میں اپنی اپنی پہچان کا اظہار اس کا زیادہ بڑا مقصد ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک دائرہ ہے یعنی حق کی تلاش اور حق کی تحقیق۔ جبکہ اس کا ایک دائرہ ہمارا داخلی ہے، مسلمانوں کے اندر کا دائرہ۔ اس دائرے کو دیکھیں گے تو ایک الگ کشمکش کا پتہ چلے گا کہ شریعت اور دین تک رسائی کے راستے کون کون سے ہیں۔ ہر داعی اپنی بات کے بارے میں یہی کہے گا کہ یہی حق کا راستہ ہے اور میں حق کے راستے پر کھڑا ہوں، یا میں حق کی تلاش ہوں، حق کی وضاحت کر رہا ہوں اور میرا راستہ ہی حق ہے۔

یہ مختلف سطحیں ہیں، مختلف درجے ہیں حق کی شناخت کے، حق کی پہچان کے، حق کے اظہار کے، حق کی وضاحت کے، لیکن ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہے کہ حق تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور حق کی تلاش کی کوشش کرتا ہے۔ جو اس کی ضرورت بھی ہے کہ وہ حق کو پہچانے اور پہچان کر اس کے مطابق زندگی بسر کرے، یہ انسان کی طبعی اور فطری ضرورت ہے۔ لیکن میں اس وسیع تر دائرے کو سمیٹتے ہوئے صرف ایک دائرے میں توجہ مرکوز کر رہا ہوں کہ ہمارے ہاں علمی ماحول میں تحقیق کی روایت کیا رہی ہے؟ علم سے مراد اگر شریعت کا دائرہ لیں، شریعت سے مراد انسانی زندگی کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کے جو احکام ہیں ان احکام تک رسائی اور ان کی تحقیق اور حقیقت معلوم کرنا ہے، اس کو کہیں گے فقہی دائرہ۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کیا ہیں، ان کی درجہ بندی کیا ہے اور ان کی ترجیحات کیا ہیں، مجھے کس حکم پر عمل کرنا ہے، کس حکم پر کتنا عمل کرنا ہے، اس کو ہم فقہی دائرہ کہیں گے۔ میں اس سلسلہ میں اپنے ہاں رائج روایت کے دو حصوں کا تعارف کروانا چاہوں گا، اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے ہاں علمی معیار اور تحقیقی روایت کیا رہی ہے۔

فقہی دنیا میں اہل تفقہ اور اہل اجتہاد کی ایک روایت تو وہ ہے جس کو ہم حضرت امام ابوحنیفہؒ سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ تابعین کا آخری اور تبع تابعین کا ابتدائی دور تھا۔ جب قرآن و سنت کے احکام کی تلاش، اور ان میں ترجیحات طے کرنے میں، اور ان میں سے بہتر، اعلٰی اور صحیح کو معلوم کرنے کے حوالہ سے دوچار نہیں بلکہ بیسیوں مکاتب فکر موجود تھے۔ تابعین کے دور میں اور ان کے بعد تبع تابعین کے دور میں قران و سنت کے احکام تک پہنچنا اور احکام کی درجہ بندی اور اس کے دائروں کے تعین کے لیے بیسیوں فقہی مکاتب فکر اور حلقے سرگرم عمل تھے۔ حضرت حسن بصریؒ کا اپنا مکتب فکر تھا، حضرت سفیان ثوریؒ کا اپنا مکتبۂ فکر تھا، حضرت لیث ابن سعدؒ کا اپنا تھا، امام ابوحنیفہؒ کا اپنا تھا، امام مالکؒ کا اپنا مکتبۂ فکر تھا، وغیرہ۔ ان بیسیوں مکاتب فکر میں سے اللہ رب العزت نے چار پانچ مشہور و معروف کر دیے، اگر میں انہیں ساڑھے چار کہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ان میں احناف ہیں، مالکیہ ہیں، شوافع ہیں، حنابلہ ہیں، اور جس کو میں نے نصف گننے کی کوشش کی ہے وہ ظواہر ہیں جو مکتبِ فکر ہونے کے دعویدار نہیں ہیں مگر مستقل فقہی مکتبِ فکر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

میں اس وقت اہل سنت کے دائرے کی بات کر رہا ہوں۔ ان میں سب سے آئیڈیل اور سب سے معیاری تحقیق کا جو دائرہ آج بھی دنیا تسلیم کرتی ہے وہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی تحقیق اور استنباط کا دائرہ ہے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اس عمل کی بنیاد مشاورت پر تھی، اور قیاس و عقل پر تھی، اس کا ایک بڑا ذریعہ جس کو آج کل کامن سینس کہتے ہیں یعنی عقلِ عام تھی۔ کسی بھی مسئلہ تک رسائی کے لیے عقل کو جو مقام حاصل ہونا چاہیے وہ اس کو حاصل تھا۔ اس فقہی مجلس میں چالیس پینتالیس علماء بیٹھتے تھے، مسئلہ پیش ہوتا تھا، اس پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا، سوال و جواب ہوتا تھا، ایک ایک مسئلہ بعض اوقات کئی کئی دن تک زیر بحث رہتا تھا۔ اس پورے عمل سے گزر کر اگر کسی مسئلہ پر اتفاق رائے ہو جاتا تھا تو اسے اتفاق سمجھا جاتا تھا، ورنہ اختلاف پر ہی اتفاق تسلیم کر لیا جاتا تھا کہ خلاف پر بھی اتفاق ہوتا ہے۔

اختلاف پر اتفاق کو سمجھنے کے لیے حضرت امام ابوحنیفہؒ کے منہجِ تحقیق و استدلال کو سمجھنا بہت ضروری ہے جس کا امام صاحبؒ نے خود ذکر کیا ہے۔ امام صاحب مسائل کی تحقیق کے حوالے سے اپنے منہج کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سب سے پہلے قرآن کریم سے مسئلہ لیتا ہوں، پھر سنت رسولؐ سے لیتا ہوں، پھر صحابہؓ سے لیتا ہوں، صحابہ کرامؓ کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کے مختلف اقوال میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کر لیتا ہوں، اس دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔ یہ اس کی ایک شکل ہے جو بات میں نے عرض کی ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اگر کسی مسئلہ میں چار پانچ اقوال ہیں تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ اختلاف پر اتفاق ہے۔ یعنی یہ چاروں پانچوں اقوال قابل قبول ہیں، فقہاء ان میں اپنی ترجیح قائم کرتے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا طریقہ یہ تھا۔ ان کی باقاعدہ مجلس ہوتی تھی، مختلف علوم و فنون کے ماہر علماء اس مجلس میں موجود رہتے تھے، کوئی لغت کا ماہر ہے، کوئی نحو کا ماہر ہے، کوئی بازار کے علم کا ماہر ہے، کوئی زراعت کا ماہر ہے، اس مجلس کے علماء اپنے اپنے مقام پر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین بھی ہوتے تھے۔ مجلس میں جب غوروفکر کے لیے کوئی مسئلہ پیش ہوتا تھا تو اس پر ہر زاویے سے باقاعدہ بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ زیر بحث مسئلہ پر اظہار رائے ہوتا تھا، اختلاف رائے ہوتا تھا، دلائل دیے جاتے تھے۔ اگر کسی نکتے پر اتفاق ہو جاتا تو اتفاقی مسئلہ لکھا جاتا تھا، اگر اتفاق نہیں ہوتا تھا تو الگ الگ اقوال لکھ دیے جاتے تھے کہ اس مسئلہ پر امام صاحبؒ کی رائے یہ ہے، امام ابو یوسفؒ کی رائے یہ ہے، اور امام محمدؒ کی رائے یہ ہے۔ حتٰی کہ اگر اس اجتماعی بحث و مباحثہ کے نتیجے میں سب اہل مجلس ایک طرف ہو گئے ہیں، صرف ایک صاحب دوسری طرف ہیں اور وہ اس اتفاق رائے سے مطمئن نہیں ہیں تو آج کی اصطلاح میں انہیں اختلافی نوٹ لکھوانے کا حق ہوتا تھا کہ آپ کا فیصلہ یہ ہے، ٹھیک ہے، مگر میری رائے یہ ہے اور میں اپنی رائے واپس نہیں لیتا۔ اس مجلس کے شرکاء کو اپنے اختلافی نوٹس لکھوانے کا حق حاصل تھا، جو آج بھی دنیا میں بحث و مباحثے اور تحقیق کا آئیڈیل تصور ہے کہ اہل علم کے درمیان مسئلہ پیش ہو، اس پر کھلے دل سے بحث و مباحثہ ہو، غوروفکر ہو، پھر جو بھی صورت سامنے آئے اس کا اظہار کر دیا جائے۔

امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں یہ سارا عمل اتنے کھلے دل سے ہوتا تھا کہ ایک دفعہ امام صاحبؒ کی مجلس میں جاحظ آگئے۔ امام جاحظ مشہور نحوی ہیں، وہ آ کر دیکھنے لگے کہ میں نعمان بن ثابتؒ کی مجلس دیکھتا ہوں۔ بیٹھ گئے۔ ایک مسئلہ میں امام صاحبؒ نے اپنی رائے بیان کی کہ میری رائے یہ ہے، یہ سن کر ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ’’اخطأت‘‘ آپ نے غلط کہا، خطا کی آپ نے۔ جاحظ کو تعجب ہوا کہ یہ لڑکا امام ابوحنیفہؒ کو کہتا ہے کہ ’’اخطأت‘‘۔ شیخ نے ایک بات کی اور یہ کھڑا ہو گیا کہ یاشیخ آپ نے خطا کی، آپ نے صحیح بات نہیں کی۔ جاحظ نے کہا کہ آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ استاد کے سامنے ایسی باتیں کرتے ہو۔ امام صاحب نے کہا ’’نحن عودناہ‘‘ ہم نے خود ان لوگوں کو اس کی عادت ڈالی ہے کہ بات سامنے کیا کرو۔ علم کی دنیا میں اختلاف رائے رکھنا، اپنی بات دلیل سے کرنا، اختلاف کرنا، اختلاف کا حق مانگنا ہماری روایت ہے، ہم نے خود عادت ڈالی ہے۔

اس علمی و تحقیقی روایت کا ایک دائرہ میں نے عرض کیا ہے۔ یہ تب بھی آئیڈیل تھا اور آج بھی آئیڈیل ہے۔ آج کی دنیا میں بھی بحث و مباحثہ جس کو ڈائیلاگ کہتے ہیں، مکالمے کے ذریعے، بحث و مباحثے کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچا جائے، یہ زیادہ اسلم طریقہ ہے اور زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

میں بات سمجھانے کے لیے دوسری طرف کے بارے میں بھی عرض کروں۔ یہ وہ دور تھا جب دو فقہیں مرتب ہوئیں۔ شوافع تو بعد میں آئے۔ ایک طرف کوفے میں امام ابوحنیفہؒ کی مجلس ہوتی تھی، دوسری طرف مدینہ منورہ میں امام مالکؒ کی مجلس ہوا کرتی تھی۔ یہ تقریباً ایک ہی دور ہے، دونوں مجلسوں کا دس پندرہ سال کا فرق ہے۔ ان کا تھوڑا تقابل عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایک طرف طریق کار یہ ہے کہ امام صاحبؒ کی مجلس میں نوجوان نے ’’اخطأت‘‘ کہہ دیا اور امام صاحبؒ نے کہا کہ چھوڑو ہم نے خود عادت ڈالی ہے، اسے کہنے دو۔ دوسری جانب حضرت امام مالکؒ جو عظیم الشان امام ہیں، ان کا اپنا مرتبہ ہے، اپنا درجہ ہے، ان کی مستقل حیثیت ہے، امت کے بڑے آئمہ میں سے ہیں، لیکن ان کی مجلس میں کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، صرف سننا ہی ہوتا تھا، ہاں کسی لفظ کی وضاحت کسی نے پوچھ لی تو پوچھ لی لیکن اس طرح سوال کہ بات یوں نہیں یوں ہے، اس کی ان کے ہاں اجازت نہیں تھی۔

حضرت امام مالکؒ کے حالات میں ایک لطیفہ مذکور ہے کہ ایک دفعہ اپنی مجلس میں تشریف فرما تھے، حدیث کی مجلس تھی۔ حدیث میں اگر کوئی بات وضاحت کے قابل ہوتی تو امام صاحبؒ اس کی وضاحت کرتے ورنہ کہتے کہ آگے چلو۔ ایک دن امام مالکؒ کے ایک شاگرد کو شوق ہوا کہ آج امام صاحب سے حدیث سننی چاہیے، روزانہ ہم سناتے ہیں، آج عبارت استاد پڑھیں گے۔ یہ شاگرد جنہیں یہ شوق ہوا، یہ بھی اپنے دور کے بڑے امام ہیں، ہشام بن عمارؒ نام ہے اور یہ محدث دمشق و محدث شام کہلاتے ہیں، اپنے وقت کے بڑے محدثین میں سے ہیں۔ چنانچہ امام مالکؒ آ کر اپنی مسند پر تشریف فرما ہوئے اور انہوں نے کہا کہ پڑھو تو ہشام نے کہا کہ یا استاد آج آپ پڑھیں گے، ہماری درخواست ہے کہ آج آپ حدیث پڑھ کر سنائیں گے۔ امام صاحبؒ نے پھر کہا ’’اقراء‘‘۔ ہشام پھر کہنے لگے کہ آپ سے سننا چاہتے ہیں۔ امام مالکؒ پھر بولے کہ اقراء۔ کہا کہ استاد! آج آپ سے سننا چاہتے ہیں۔ امام مالک کو غصہ آگیا اور ساتھ بیٹھے نوجوان سے کہا کہ چھڑی پکڑو اور اس کی کمر پر پندرہ چھڑیاں مار دو۔ اس نے چھڑی پکڑی اور ہشام کی کمر پر پندرہ چھڑیاں مار دیں۔ استاد کا حکم تھا۔ ہشام کھڑے ہو گئے اور کہا کہ آپ نے مجھے پندرہ چھڑیاں مروائیں، میرا کیا مطالبہ تھا؟ کوئی غلط بات تو نہیں تھی، میں آپ سے حدیث سننا چاہ رہا تھا، آپ کی زبان مبارک سے حدیث سننے کی خواہش تھی، اب میرا اور آپ کا ان پندرہ چھڑیوں کا حساب قیامت والے دن اللہ کی عدالت میں ہو گا۔ شاگرد نے دھمکی دے دی کہ آپ کے خلاف کیس دائر کروں گا، کہاں کروں گا؟ اللہ کی عدالت میں۔ اب یہ فیصلہ کہ آپ نے صحیح کیا یا غلط کیا، یا میرے ساتھ نا انصافی کی ہے، یہ فیصلہ اللہ کی عدالت میں ہو گا۔ اچھا زمانہ تھا، اچھے لوگ تھے، قیامت کا نام سن کر گھبرا گئے۔ قیامت کا نام سنا کہ یہ قیامت کی دھمکیاں دے رہا ہے، ڈر گئے۔

اچھے لوگ تھے کہ قیامت کا نام سن کر ڈر جاتے تھے، ہم پر قیامتیں بیت جاتی ہیں ہمارا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ قیامت کا نام سن کر ڈر گئے کہ غلطی ہو گئی معاف کر دو۔ شاگرد نے کہا کہ کوئی معافی نہیں ہے، قیامت کا دن ہو گا، اللہ کی عدالت ہو گی، چھڑیاں ہوں گی، آپ ہوں گے، میں ہوں گا، اس حوالے سے کوئی معافی نہیں ہے۔ استاد پریشان ہو گئے کہ یہ تو سنجیدہ کیس ہے۔ انہوں نے بڑی نرمی سے کہا کہ غلطی ہو گئی، معاف کر دو۔ کیا معافی کی کوئی صورت ہے؟ شاگرد نے کہا کہ ہاں ایک ہی شکل ہے۔ آپ نے جتنی چھڑیاں ماری ہیں اب آپ اتنی حدیثیں سنا دیں۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا اور شاید آخری بھی کہ حضرت امام مالکؒ نے اس روز قیامت کے ڈر سے خود احادیث پڑھ کر سنائیں، ورنہ وہاں تصور ہی نہیں تھا کہ کوئی سوال کرے اور کوئی کسی بات کا جواب دے۔

میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ تحقیق، ریسرچ، حق تک پہنچنے کا اس وقت آئیڈیل تصور کیا تھا؟ امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں تحقیق کے حوالے سے جو تصور موجود تھا وہ علمی روایت ہمارے ہاں آج تک زندہ ہے۔ مجھ سے دوست پوچھتے ہیں کہ فلاں مسئلہ میں علماء کا ایک گروہ کہتا ہے کہ جائز ہے، دوسرا کہتا ہے کہ ناجائز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں تردّد کی کوئی بات نہیں۔ مثلاً مزارعت کا مسئلہ اس حوالے سے نہایت اہم ہے، اس میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے ہے کہ یہ حرام ہے۔ بٹائی پر زمین دینا ناجائز ہے اور اس کی کمائی حرام ہے۔ ان ہی کے دو شاگردوں امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا فتوٰی ہے کہ جائز ہے۔ یہ بحث آج تک چل رہی ہے، اس میں اختلاف رائے ہے البتہ فتوٰی صاحبین کے قول پر ہے۔ چنانچہ آج بھی جب حدیث پڑھاتے ہوئے اساتذہ مزارعت کے باب میں آتے ہیں تو اس مسئلہ پر خوب بحث کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ امام صاحبؒ کے دلائل یہ ہیں، صاحبین کے دلائل یہ ہیں۔ کوئی اس رائے کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی دوسری رائے کو ترجیح دیتا ہے، مگر یہ بحث آج تک چل رہی ہے۔ اور یہ سلسلہ ۱۳۰۰ سال سے جاری ہے۔ آج بھی استاد ذوق والا ہو تو مزارعت پر بات کرتا ہے، دونوں طرف کے دلائل کا تقابل کرتا ہے، موازنہ کرتا ہے، محاکمہ کرتا ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ بحث حلال و حرام کی ہے۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کہتے ہیں کہ یہ عمل حلال، جبکہ امام ابوحنیفہؒ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔ یہ آپس میں استاد شاگرد ہیں مگر علمی مسئلے پر علمی انداز میں اختلاف جاری ہے۔ یہ بحث آئندہ بھی رہے گی مگر فتوٰی اجتماعی ضرورت کے مطابق ہے اور اسی پر عمل ہو رہا ہے۔

یہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی قائم کردہ ایک روایت کی کچھ تفصیلات تھیں۔ تحقیق کی روایت میں ہمارے ہاں ایک دائرہ یہ رہا ہے اور میرے وجدان کے مطابق اور میری طالبعلمانہ رائے میں آج بھی آئیڈیل تصور تحقیق کا وہی ہے۔ مکالمہ، ڈائیلاگ، بحث و مباحثہ، اختلاف رائے اور اس پر دلائل، دلائل کا تقابل، موازنہ اور پھر کسی نتیجے پر پہنچنا۔

یہاں پر میں دوسری بات بھی عرض کرنا چاہوں گا۔ میں حدیث کا طالب علم ہوں اور فقہ کا طالب علم بھی ہوں۔ بحث بھی کرتا ہوں، مکالمہ بھی کرتا ہوں اور وہ سب کچھ کرتا ہوں جو ایک مدرس کرتا ہے۔ میں اپنے نوجوان علماء سے کہا کرتا ہوں کہ تحقیق، مسائل کی تحقیق اور حق کی تحقیق کے حوالے سے میرے نزدیک سب سے آئیڈیل شخصیت امام صاحبؒ کی ہی ہے۔ اسی طرح ہمارے احناف کے بڑے امام ہیں، بڑے ترجمان ہیں امام طحاویؒ، ان کا طریقہ تحقیق کیا ہے؟ امام طحاوی کی ’’شرح المعانی الآثار‘‘ سب کے پاس موجود ہے۔ میں بھی پڑھاتا ہوں، اور بھی بہت سے علماء پڑھاتے ہیں۔ ہمارے لیے قابل غور بات یہ ہے کہ امام طحاویؒ کا طرز تحقیق کیا ہے؟ مسائل کی تحقیق میں، احکام کی تحقیق و تطبیق میں طحاوی کا انداز اور منہج کیا ہے؟

امام طحاویؒ نے کتاب کے دیباچے میں ایک بات لکھی ہے کہ میں یہ طریق کار اختیار کروں گا کہ کسی بھی مسئلہ کے حوالہ سے مختلف احادیث بیان کر کے یہ بتاؤں گا کہ اس حوالے سے یہ حدیث بھی موجود ہے اور یہ بھی ہے۔ پھر میں کہیں ان کے مابین تطبیق دوں گا، کہیں ترجیح دوں گا، کہیں ناسخ منسوخ کی بات کروں گا، لیکن میرے اس طرز بحث کا مقصد کیا ہے؟ اس مباحثے کی غرض اور مقصد سمجھیے۔ امام طحاویؒ کی یہ تمہید محض چار پانچ سطروں کی ہے لیکن اس میں انہوں نے پوری بات سمو دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بہت سی احادیث میں ظاہری تعارض کی حقیقت سے ناواقف آدمی کا دل بڑا دکھتا ہے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ یہ بھی حدیث ہے اور یہ بھی حدیث ہے، ایک چیز کو جائز کہنے والا بھی دو چار احادیث پیش کر دیتا ہے اور ناجائز کہنے والا بھی دو چار احادیث پیش کرتا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ یہ احادیث متعارض ہیں تو کیوں متعارض ہیں؟ امام طحاویؒ کہتے ہیں کہ اس طرز عمل سے ناواقف لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا ہوتا ہے، الجھن پیدا ہوتی ہے، لیکن میں اس بحث و مباحثے کا دروازہ اس لیے کھول رہا ہوں کہ احادیث میں جو بظاہر تعارض نظر آتا ہے یہ اصل میں تعارض نہیں ہے، کوئی حکم پہلے کا ہے کوئی حکم بعد کا ہے۔ کسی حکم کی روایت مضبوط ہے، کسی کی روایت کمزور ہے۔ کسی کو ترجیح کی بنیاد ایک وجہ ہے اور کسی کی کوئی اور وجہ ہے۔ میں یہ وہم دور کرنا چاہتا ہوں، جیسا کہ اہل الحاد اور اہل جہل کو بھی وہم ہو جاتا ہے کہ احادیث متعارض ہیں۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حدیثیں متعارض نہیں ہیں، البتہ ان کو سمجھنے کے لیے فہم میں درجہ بندی کی ضرورت ہے، ان کے فہم میں دائرے متعین کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے درمیان تطبیق کی ضرورت ہے۔

میں یہ عرض کرتا ہوں کہ مسائل میں بحث اور اختلاف رائے کا ایک دائرہ اور طریق کار یہ ہے کہ کسی بھی حوالے سے موجود اختلاف کو اجاگر کیا جائے اور اس کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں تشویش پیدا کی جائے۔ یہ عمل آج ہمارے درمیان بھی موجود ہے اور اس طریق کار کے داعی اور حامی سرگرم ہیں۔ جبکہ ایک مقصد یہ ہے کہ علمی بحث کے ذریعے اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور لوگوں کے ذہنوں کو مطمئن کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں تعارض نہیں ہے، بس تھوڑی سی درجہ بندی کی ضرورت ہے، حدیث کے مزاج اور تقسیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کام دونوں طبقوں کا یکساں دکھائی دیتا ہے مگر مقاصد دونوں کے مختلف ہیں۔ ایک صاحب وہی کام کر رہے ہیں، وہ احادیث کے تعارض پر بحث کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں تشویش پیدا ہو، ان کے ذہنوں میں شک پیدا کیا جائے۔ جبکہ اس کا دوسرا مقصد امام طحاویؒ بیان کرتے ہیں کہ میں اختلافات پر بحث کرتا ہوں، درجہ بندی کرتا ہوں، تطبیق کرتا ہوں، ان کی مختلف ترجیحات قائم کرتا ہوں اور ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ یہ حدیث بھی صحیح ہے، یہ بھی صحیح ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کا دائرہ الگ ہے اور اس کا دائرہ الگ ہے۔

یہ اختلاف ماضی میں بھی تھے، آج بھی ہیں، آئندہ بھی رہیں گے، لیکن امام طحاویؒ کے حوالے سے میں نے جو کچھ عرض کیا ہے طحاوی پڑھنے یا پڑھانے والے دوست میری اس بات کو زیادہ سمجھ سکتے ہیں۔ طحاوی کا ایک کمال یہ ہے کہ وہ پہلے دوسرے کا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں، اس فریق کے پورے دلائل نقل کرتے ہیں، ان کا موقف ان کی زبان میں بیان کرتے ہیں، پھر اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ ان کی مستدل احادیث بیان کرتے ہیں، پھر ان احادیث کے درمیان تطبیق دیتے ہیں، اس کی توجیہ کرتے ہیں اور عقلی توجیہ کر کے مسئلے کو مکمل طور پر واضح کرتے ہیں۔ عقلی توجیہ کا مستقل دائرہ ہے۔ عقل و قیاس کا مستقل دائرہ ہے۔ امام طحاویؒ دونوں دائرے ملا کر کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی یہی بات کہہ رہے ہیں جو اس ساری بحث کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں تین موقف ہیں تو امام طحاویؒ پہلے دو مخالف موقفوں کا ذکر کریں گے، ان کے دلائل بیان کریں گے ،ان کے دلائل کی قوت بیان کریں گے، پھر آخر میں اپنا موقف ذکر کریں گے اور اس کے سلسلہ میں اپنے دلائل بیان کریں گے۔ آخر میں اپنے موقف کی ترجیح قائم کریں گے، ترجیح کے وجوہ ظاہر کریں گے، اس پر دلائل قائم کریں گے، نقلی بھی اور عقلی بھی، اور پھر کہیں گے کہ اس بحث اور مکالمے سے یہ بات ثابت ہوئی۔

امام طحاوی کا ایک کمال اور ہے۔ یہاں اہل علم موجود ہیں وہ میری بات کو سمجھیں گے۔ امام طحاویؒ کہیں بھی یہ نہیں کہتے کہ فلاں مسئلہ میں امام صاحبؒ کا فتویٰ یہ ہے اور اس کے دلائل یہ ہیں۔ وہ یہ بات کبھی نہیں کہیں گے۔ امام طحاویؒ امام ابوحنیفہؒ کو بنیاد بنا کر قرآن و سنت کو اس کی تائید میں لانے کا انداز اختیار نہیں کریں گے، بلکہ امام طحاویؒ کہیں گے کہ اس مسئلہ میں قرآن و سنت کا فیصلہ یہ ہے اور ابوحنیفہؒ کا قول بھی یہی ہے۔ پوری کتاب میں امام طحاویؒ یہ نہیں کہیں گے کہ امام صاحبؒ یہ کہتے ہیں اور قرآن ان کی تائید کرتا ہے۔ امام ابو یوسفؒ کا کا فتوٰی یہ ہے اور فلاں حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔ چنانچہ جس بات پر آج ہم جھگڑتے ہیں، جس پر ہمارے مناظرے ہوتے ہیں، جس پر ہم بازو چڑھاتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں، امام طحاویؒ جو حنفیت کے سب سے بڑے متکلم ہیں، وہ جب بھی بات کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ قرآن اور حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے اور امام ابوحنیفہؒ بھی یہی کہتے ہیں۔ وہ یہ طرزعمل کہیں اختیار نہیں کرتے کہ امام ابوحنیفہؒ یہ بات کہتے ہیں اور قرآن اس کی تائید کر رہا ہے۔ ان دونوں باتوں میں فرق تو بالکل واضح ہے اور یقیناً یہ فرق آپ کے ذہنوں میں موجود ہو گا۔ یعنی حدیث یہ کہتی ہے اور امام ابوحنیفہؒ بھی یہی کہتے ہیں، اور امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں اور حدیث اس کی تائید میں یہ کہتی ہے، دونوں میں ایک واضح فرق ہے۔ امام طحاویؒ کا یہ کمال ہے کہ وہ امام ابوحنیفہؒ کو قرآن و سنت کی تائید میں پیش کرتے ہیں، قرآن و سنت کو حنفیت کی تائید میں کھڑا نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ موقف تو یہی صحیح ہے، امام صاحبؒ اس کی تائید کرنے والے ہیں۔

بات امام طحاویؒ کی چل پڑی ہے تو ایک بات اور دیکھیے۔ امام طحاوی کی ایک خوبی اور ہے۔ آپ ان کی کتابیں پڑھیں، وہ بحث کرتے ہیں اور جہاں اپنے موقف کو کمزور دیکھتے ہیں وہاں دوٹوک کہہ دیتے ہیں کہ یہاں دلائل دوسروں کے مضبوط ہیں۔ میں ایک مسئلہ مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ طحاوی شریف کے مباحث میں ایک بڑا مشہور معرکۃ الآراء مسئلہ ہے کہ منی پاک ہے یا ناپاک ہے؟ فقہاء کی اس بارے میں دو آرا ہیں۔ ایک یہ ہے کہ یہ ناک کی رطوبت کی طرح ہے، جیسے وہ پاک ہے اسی طرح یہ بھی پاک ہے، اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔ خصوصیت سے امام شافعیؒ کا یہی موقف ہے۔ جبکہ ہمارا یعنی احناف کا موقف یہ ہے کہ منی پیشاب کی طرح ناپاک ہے۔ اس حوالے سے دونوں طرف دلائل ہیں اور طویل بحث و مباحثہ ہے۔ یہ بحث و مباحثہ صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے۔ امام طحاویؒ نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور فریقین کے دلائل نقل کیے ہیں۔ اور آخر میں ایک جملہ کہا ہے کہ یہ جو دونوں طرف کے دلائل میں نے نقل کیے ہیں یہ سب دلائل صحیح ہیں، اس لیے روایات کی بنیاد پر ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ کس کو ترجیح دیں۔ یہاں ہم عقل اور قیاس کو استعمال کریں گے کہ ان میں سے کس کو ترجیح دینی چاہیے۔ امام طحاویؒ کا انداز اور ان کا کمال دیکھیں کہ جہاں جس مسئلہ میں جو اصل صورتحال تھی وہ بلا کم و کاست بیان کر دی۔

اب میں تحقیق کی بات کرتا ہوں۔ تحقیق کی ضروریات کیا ہیں؟ تحقیق کے تقاضے کیا ہیں؟ تحقیق کس کو کہتے ہیں اور حق تک پہنچنا کسے کہتے ہیں؟ حق تک رسائی حاصل کرنا کیا ہے اور یہ کیسے عمل میں آتا ہے؟ اس کے دلائل کیا ہیں؟ اس کے ذرائع کیا ہیں؟ اس کے طریقے کیا ہیں؟ روایت کے حوالے سے دو باتیں میں نے عرض کی ہیں امام ابوحنیفہؒ اور امام طحاویؒ کے حوالے سے۔ اب میں سب تاریخی ادوار سے صرف نظر کر کے انہیں عبور کرتے ہوئے آج کے دور میں آتا ہوں۔ وقت کی بھی قلت ہے اور اس محدود سے وقت میں دو تین باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔

ہماری آج کی جو علمی اور مذہبی تحقیقات ہیں ان میں ایک بات تو یہ شامل ہو گئی ہے اور اس بات پر مجھے معاف فرمائیں کہ ہم جس سے اختلاف کر رہے ہیں ہم اس کا موقف خود طے کرتے ہیں کہ اس کا موقف یہ ہے، خواہ وہ لاکھ کہتا رہے کہ میرا موقف یہ نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں تقیہ کر رہا ہے اس کا اصل موقف یہ ہے۔ یوں ہم مخالف کا موقف خود طے کرتے ہیں۔ یہ تحقیق نہیں ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ جس سے آپ اختلاف کر رہے ہیں اس کا موقف اسے کہنے دیں، یا خود اس سے پوچھیں کہ اس کا موقف کیا ہے، اپنا موقف وہ خود بیان کرے۔ اصولی بات یہ ہے کہ جب میں کسی کو یہ موقع نہیں دیتا کہ وہ میرا موقف طے کرے تو میں کسی کا موقف طے کرنے کا حق کیسے رکھ سکتا ہوں؟ وہ لاکھ چیختا رہے کہ میرا موقف یہ نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں، مگر ہم از خود طے کر لیتے ہیں کہ نہیں یہ تقیہ کر رہا ہے، باہر کچھ اور کر رہا ہے اور اس کے اندر کچھ اور ہے۔ اب پتہ نہیں ہم نے کوئی ایسا الٹراساؤنڈ تیار کر لیا ہے کہ ہم اندر بھی جھانک کر دیکھ لیتے ہیں۔ یہ بات اور انداز ہماری کمزوریوں میں سے ایک ہے۔

ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ آج کے دور کے بڑے محققین میں شمار ہوتے ہیں، ان کی پچاس کے لگ بھگ تحقیقی کتابیں ہیں اور ان کی تحقیق کو اہل علم کے ہاں سند کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی تحقیق کا انداز کیا ہے، دو باتیں عرض کروں گا۔

  1. مخالف کا موقف کیا ہے؟ وہ مخالف کا موقف ان کے الفاظ میں بیان کریں گے اور بتائیں گے کہ وہ اپنا موقف یہ بیان کرتے ہیں۔ مخالف کا موقف اپنی زبان میں بیان کر کے کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ میں ان کا موقف یہ سمجھا ہوں۔ یہ طریقہ درست نہیں ہے اور اصولِ تحقیق کے خلاف ہے۔ خود میرے ساتھ ایک معاملہ پیش آیا۔ ایک مسئلہ پر میں نے مضمون لکھا جس میں کہا کہ فلاں صاحب کا اس مسئلہ میں یہ موقف ہے اور مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ ان کا موقف تم نے کہاں پڑھا ہے؟ میں نے کہا کہ سنا ایسا ہی ہے۔ کہا کہ تم تحقیق کر رہے ہو اس لیے اس کا موقف خود سے پوچھو، یا تلاش کرو کہ اس نے کیا لکھا ہے، اس کے بعد بات کرو۔ یہ کیا بات ہوئی کہ میں نے ایسے ہی سنا ہے، لوگوں کے کہنے سے کسی کا موقف ثابت نہیں ہوتا۔ اس کی کتاب پڑھی ہے تم نے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہیں اس کا ہاتھ کا لکھا ہوا موقف تم نے پڑھا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کی زبان سے موقف سنا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر تم نے اس کے ذمے کیوں لگا دیا۔ اس سے پوچھو کہ تمہارا موقف کیا ہے؟ آج کے ہمارے عمومی مزاج میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی یہ ہے۔
  2. دوسری بات وہ ایک اور کرتے ہیں، یہ بھی بڑے نکتے کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصلی ماخذ کی اہمیت مسلّم ہے، اگر کہیں ضرورت ہو تو ثانوی ماخذ حوالے کے لیے تو استعمال کر سکتے ہو مگر استدلال کے لیے نہیں۔ استدلال کے لیے اصلی ماخذ ناگزیر ہیں۔ یہ بات بھی آج کے مروج اصولِ تحقیق میں ایک بڑا نکتہ ہے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ ماخذِ اصلی کیا ہیں؟ یہ ہر فن کی وہ ابتدائی کتب ہوتی ہیں جن پر اس فن کا مدار ہوتا ہے۔ اور وہ کتب بطور حوالہ اہل علم و تحقیق کے ہاں متداول بھی ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں تاریخ میں اسلاف کا طرزعمل یہ ملتا ہے کہ انہوں نے اگر ایک حوالہ حدیث کا کسی کی کتاب میں پڑھا کہ فلاں حدیث میں یوں ہے تو اس کی تلاش شروع کر دی اور اس مقصد کے حصول کے لیے، ایک حوالے کی تلاش میں آٹھ آٹھ دس دس لائبریریاں چھان ڈالیں۔ جب تک اصل کتاب سے حوالہ نہیں پڑھ لیا، اس وقت تک کسی مضمون میں اس کا حوالہ نہیں دیا۔ آج کی دنیا بھی یہی کہتی ہے کہ ثانوی ماخذ استدلال و استنباط کا سورس نہیں ہے، استدلال و استنباط کے لیے اصل ماخذ تلاش کرو اور اس مقصد کے لیے محنت کرو۔ آج کل لائبریریاں میسر ہیں، اس زمانے میں تو لائبریریاں ہوتی بھی نہیں تھیں۔ چنانچہ ہماری ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ سنی سنائی باتوں پر ہم اپنے علمی دعووں کی بنیاد رکھنے لگے ہیں۔

میرے ساتھ ایک لطیفہ پیش آیا، میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ غالباً موقوف علیہ کا سال تھا، والد صاحب نے ایک جلسہ میں بیان کیا، میں بھی ساتھ تھا، لوگوں نے کہا کہ صاحبزادہ صاحب آئے ہیں ان کو بھی بیان کرنا ہے۔ صاحبزادہ تو صاحبزادہ ہوتا ہے، میں نے جلسہ میں کچھ بیان کیا تو دوسرے دن والد صاحب کے دربار میں طلبی ہو گئی۔ ان کا ایک خاص انداز ہوتا تھا، اس سے ہمیں معلوم ہو جاتا تھا کہ آج ’’طلبی‘‘ ہو گئی ہے۔ وہ پیغام بھیجتے تھے کہ شام کا کھانا میرے ساتھ کھانا ہے، یہ ان کا اندازِ طلبی تھا۔ ہم سمجھ جاتے تھے کہ آج کچھ ہونا ہے۔ شام کے کھانے کے موقع پر کہنے لگے کہ رات تم نے فلاں واقعہ بیان کیا تھا، یہ واقعہ تم نے کہاں پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی پتہ نہیں، کسی سے سنا ہو گا۔ پوچھا، کس سے سنا ہے؟ کہا، یاد نہیں۔ اچھا! ایسے ہی بیان کر دیا، نہ یہ یاد ہے کہاں پڑھا ہے اور نہ یہ یاد ہے کہ کس سے سنا ہے۔ خبردار! آئندہ کوئی ایسی بات نہیں بیان کرنی جس کے بارے میں یقین نہ ہو اور جس کے بارے میں خود پڑھ کر تسلی حاصل نہیں کر لی ہو۔ پھر اس سلسلہ میں مثال کے طور پر دو چار مستند علماء کرام کے نام بھی لیے جو اس زمانے میں حیات تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ، حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، یہ چار نام لیے۔ پھر فرمایا کہ خبردار کوئی بات ایسی نہیں بیان کرنی جو خود نہ پڑھی ہو اور یاد نہ ہو کہ کہاں پڑھی ہے۔ یا کسی مستند عالم سے نہ سنی ہو۔ پھر یہ تین چار نام لے کر فرمایا کہ اس درجے کا کوئی آدمی بیان کرے تو اعتماد کر کے بیان کر دو لیکن سنی سنائی بات آگے بیان نہ کیا کرو۔ یہ میرا اپنا ذاتی واقعہ ہے۔

ایک بات اور ہے۔ امام طحاویؒ کے کمالات میں ایک کمال یہ بھی ہے کہ وہ مسئلہ کا درجہ بیان کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ حلال حرام کے درجہ کا ہے، یہ مکروہ و مباح کے درجے کا ہے، یہ اولٰی و غیر اولٰی کے درجے کا ہے۔ کیونکہ درجات مختلف ہوتے ہیں۔ ایک کفر کا درجہ ہے، ایک حلال و حرام کا درجہ ہے، ایک مکروہ و مباح کا درجہ ہے، ایک اولٰی و غیر اولٰی کا درجہ ہے، یہ جائز ہے، ناجائز ہے۔ عام طور پر امام طحاویؒ ایمان و کفر کی بات تو کرتے نہیں، وہ صرف فقہی دائرے میں رہتے ہیں۔

جبکہ ہمارا آج حال یہ ہے کہ اولٰی و غیر اولٰی کی بات ہو رہی ہوتی ہے اور ہم بات ایسے کرتے ہیں کہ جیسے یہودیوں سے بات کر رہے ہوں۔ ہمارے ہاتھ میں تکفیر اور تفسیق کی تلوار ہوتی ہے، اور یہ دیکھے بغیر کہ مسئلہ کا درجہ کیا ہے، یہ کفر کے درجے کی بات ہے بھی یا نہیں، اولٰی غیر اولٰی کے مسائل میں بھی اسی طرح تلواریں سونت کر کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے یہودیوں کے مقابلے میں فلسطینی کھڑے ہیں۔ ہر مسئلہ کا اپنا درجہ ہوتا ہے، حلال حرام کو حلال حرام کے درجے میں رکھیں اور اولٰی غیر اولٰی کو اولٰی غیر اولٰی کے درجے میں رکھیں۔ پرانے اہلِ علم کے ہاں تو احتیاط کا یہ عالم ہے کہ حلال حرام کے امور میں بھی دو درجے ہیں۔ علماء کرام بیٹھے ہیں میں زیادہ جسارت نہیں کرتا، ایک حلال حرام ہے منصوص، ایک حلال حرام ہے استنباطی۔ منصوص حلال حرام کا دائرہ اور ہے اور جو فقیہ اپنے استنباط کے ذریعے کسی چیز کو حلال یا حرام کہہ دے اس کا دائرہ مختلف ہے۔ اسی طرح ایک دائرہ ہدایت اور گمراہی کا ہے۔ ایک دائرہ اسلام اور کفر کا ہے۔ ان کے مابین اسلام نے جوہری فرق رکھا ہے لیکن ہمارے ذہنوں میں ان کے درمیان کوئی فرق موجود دکھائی نہیں دیتا۔ بات یہ ہوتی ہے کہ فلاں چیز سنت ہے یا سنت کے خلاف ہے، مگر ہم کفر و اسلام تک پہنچ جاتے ہیں۔

پتہ نہیں میں نے اپنے موضوع پر کوئی کام کی بات کی ہے یا نہیں لیکن دردِ دل کا اظہار ضرور کیا ہے۔ میں نے اپنے تاثرات اسی موضوع کے گرد گھومتے ہوئے آپ کے سامنے رکھے ہیں کہ تحقیق کی ماضی کی روایت کیا تھی اور ہم آج کس رخ پر چل پڑے ہیں۔ ہمارے اسلاف کی تحقیق کی روایت اور اس کی تاریخ کیا تھی اور ہم کدھر چل نکلے ہیں۔ ماضی میں ہماری تحقیق کا دائرہ کیا تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی بات کو دہرا کر اپنی بات کو ختم کروں گا کہ ہمیں اپنے بزرگوں اور اسلاف کے علم اور اجتہاد کے جو دائرے ہیں، تحقیق کا دائرہ، اختلاف کا دائرہ، روایت کا دائرہ، ان کی طرف واپس جانا چاہیے تاکہ ہم اسلام کا پیغام صحیح طریقے سے پیش کر سکیں اور اسلامی احکام کی صحیح تشریح کر کے لوگوں کو مطمئن کر سکیں۔ ہمارا اختلاف لوگوں میں کنفیوژن اور شکوک پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ اختلاف لوگوں کا کنفیوژن دور کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔ کسی بحث و مباحثے نتیجہ یہ نہیں نکلنا چاہیے کہ لوگ مزید کنفیوژ ہو جائیں بلکہ بحث و مباحثے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگر کسی مسئلہ میں کنفیوژن موجود ہے تو وہ اگر پوری طرح دور نہ بھی ہو سکے تو کچھ کم ہی ہو جائے۔

اللہ تعالٰی مجھے اور آپ کو اس کی توفیق نصیب فرمائیں۔ میں ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں اور اپنی معذرت کو دہراتا ہوں کہ یادگاری خطبے کا تو میں آدمی نہیں ہوں، میں تو ہلکی پھلکی باتوں کا عادی ہوں، اسی دائرے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، اللہ تعالٰی قبول فرمائیں، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

موضوع: