شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ نوائے وقت، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ء

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا شمار تاریخ کی ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جو اپنے علم و فضل، جہد و عمل اور ذہانت و بصیرت کے باعث معاصرین میں ممتاز اور نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ میں اپنے لیے ایک روشن باب کی بنیاد فراہم کر جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں ان کی بصیرت و تجربات سے بہت دیر تک فیضیاب ہوتی رہتی ہیں۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا تعلق یوپی انڈیا کے اس عالمی شہرت یافتہ قصبہ دیوبند سے ہے جہاں ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی کی وقتی ناکامی کے بعد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے چند بوریا نشین رفقاء نے امداد باہمی کی بنیاد پر دینی تعلیم کا مدرسہ قائم کر کے قرآن و سنت کے علوم کے تحفظ اور مسلمانوں کی دینی راہنمائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ علامہ عثمانیؒ نے اسی ماحول میں پرورش پائی اور شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ جیسے نامور استاذ و شیخ کی صحبت و تربیت نے انہیں ایک ممتاز مفسر قرآن، محدث، متکلم اور سیاست دان کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا شمار اپنے دور کے چند گنے چنے خطباء اور متکلمین میں ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق انجمن خدام الدین لاہور کے بانی حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر علامہ شبیر احمد عثمانیؒ شیرانوالہ گیٹ لاہور میں علماء اور ارباب دانش کی ایک مجلس سے خطاب کر رہے تھے، اس مجلس میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ بھی موجود تھے جو اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔ علامہ عثمانیؒ کے خطاب کو چند لمحے گزرے تو علامہ اقبال اسٹیجؒ سے اٹھ کر یہ کہتے ہوئے سامنے آ کر بیٹھ گئے کہ ان جیسے فاضل علماء کا خطاب تو سامنے بیٹھ کر سننا چاہیے۔ اس واقعہ سے علامہ عثمانیؒ کے علم و فضل کے ساتھ ساتھ علامہ محمد اقبالؒ کی علم دوستی اور علماء حق سے محبت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ بے باک سیاستدان تھے جنہوں نے جمعیۃ علماء ہند اور تحریک خلافت کے پلیٹ فارم پر آزادی کی جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا اور جب برصغیر میں پاکستان کے نام سے مسلمانوں کے الگ ملک کے قیام کی تحریک کا آغاز ہوا تو نہ صرف قیام پاکستان کی مخالفت کے سلسلہ میں جمعیۃ علماء ہند کے موقف سے کھلم کھلا اختلاف کیا بلکہ تحریر و تقریر کے ذریعے علماء اور دینی حلقوں کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنانے کے لیے شب و روز محنت کی، اور ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے نام سے ایک الگ سیاسی و دینی جماعت کی قیادت کرتے ہوئے تحریک پاکستان کی کامیابی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔

صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم میں رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کرنے میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے رفیق کار مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے جو فیصلہ کن کردار ادا کیا وہ بلاشبہ تحریک پاکستان کے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے قائد اعظم مرحوم نے قیام پاکستان کے موقع پر کراچی اور ڈھاکہ میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز ان دو بزرگوں کو بخشا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو پاکستان کے شیخ الاسلام کے خطاب سے نوازا گیا اور انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی صورت میں دستور کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے جو پارلیمانی جنگ لڑی وہ ان کی زندگی کا آخری اور سب سے اہم کارنامہ ہے۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی زندگی بھر کی سیاسی جدوجہد کا مقصد وطن کی آزادی، پاکستان کا قیام، اور پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کا نفاذ تھا۔ ان میں سے پہلی دو باتیں تو ان کی زندگی میں پوری ہو چکی ہیں جبکہ اسلامی نظام کے عملی نفاذ کا مرحلہ ابھی باقی ہے اور اس مقصد کے لیے منظم جدوجہد پاکستان کے علماء کے ذمہ علامہ عثمانیؒ کا قرض ہے۔ اللہ تعالٰی شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پاکستان کو مرحوم کی دلی خواہش کے مطابق اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے ذریعے ایک مثالی مسلم معاشرہ بنانے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔