علامہ خادم حسین رضویؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۴ نومبر ۲۰۲۰ء

علامہ خادم حسین رضویؒ سے کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں اور ان کے خطابات بھی مختلف حوالوں سے سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔ وہ بریلوی مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے اور مدرس عالم دین تھے۔ دینی تعلیمات و معلومات کا گہرا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور تحریکات کے ادراک سے بھی بہرہ ور تھے، اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا نہ صرف وسیع مطالعہ رکھتے تھے بلکہ اپنے خطابات میں کلامِ اقبالؒ کو موقع کی مناسبت سے مہارت کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔

میں مشترکہ دینی مسائل میں ہمیشہ اجتماعی اور مشترکہ جدوجہد کا داعی رہا ہوں اور عملاً بھی مشترکہ تحریکات کا متحرک کردار رہا ہوں۔ بریلوی مکتب فکر کے جن اکابر کے ساتھ گزشتہ نصف صدی کے دوران مختلف تحریکات میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا ہے ان میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ، علامہ سید محمود احمد رضویؒ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ، مولانا ابوداؤد محمد صادقؒ، صاحبزادہ حاجی فضل کریمؒ، مولانا قاضی اسرار الحقؒ، اور مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مسلکی اختلافات میں اپنے موقف پر پوری طرح قائم رہتے ہوئے مشترکہ دینی معاملات بالخصوص نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ، اور دینی اقدار کی بالادستی کی جدوجہد میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے ملی ضرورت کے ہر موقع پر جس اشتراک اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ نمایاں اور سنہری باب ہے، جو آئندہ بھی دینی جدوجہد کے قائدین اور کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اس پس منظر میں چند سال سے علامہ خادم حسین رضویؒ کی جدوجہد فطری طور پر میرے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے اور ہر مناسب موقع پر میں نے ان کے موقف اور تحریک کی کھلے بندوں تائید کی ہے۔ ان کی تحریک بطور خاص دو عنوانات (۱) تحفظ ختم نبوت اور (۲) تحفظ ناموس رسالتؐ پر نمایاں تھی مگر وہ نفاذ شریعت، اسلامی تہذیب و روایات کے تحفظ اور لا دینی فلسفہ و مزاج پر نقد و جرح میں بھی دوٹوک بات کرتے تھے اور ان کی گفتگو میں ملی تقاضوں اور قومی ضروریات کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔ انہوں نے فیض آباد راولپنڈی میں پہلی بار جب دھرنا دیا تو اس دھرنے کا جوش و خروش اور خطابات کا منظر متعدد بار دیکھنے کا موقع ملا جس سے علامہ رضویؒ کی اپنے مشن کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ اور اس کے لیے استقامت کے ساتھ ساتھ ایثار و قربانی کے تاثر میں مسلسل اضافہ ہوا۔ ان کا لہجہ سخت اور ریمارکس تلخ ہوتے تھے مگر اس کے پیچھے ان کے خلوص اور جذبہ کی دیوار دیکھ کر اسے ان کے مزاج پر ہی محمول کرنا پڑتا تھا۔ اس پر مجھے ایک پرانی بات یاد آگئی ہے کہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ جب تحریک آزادی کی جانگسل تگ و دو اور اس کے دوران طویل عرصہ کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تو ان کے لہجے اور گفتگو میں تلخی کا رنگ پیدا ہو گیا تھا جس پر غالباً شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا تھا کہ اس تلخی کے پیچھے مولانا سندھیؒ کی استقامت، صبر، قربانی، ایثار اور حوصلہ کی طویل تاریخ پر نظر ڈال لی جائے تو اس کی وجہ سمجھنا اور اسے معذوری پر محمول کرنا مشکل نہیں ہے۔

علامہ رضویؒ نے اپنی تحریک کو مشترک ماحول میں لانے کی بجائے اپنے مسلکی ٹائٹل کے ساتھ آگے بڑھایا جو میرے نزدیک ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ اس کے بغیر وہ بریلوی مسلک کے عوام کو اس درجہ میں بیدار اور منظم نہ کر پاتے جو ہماری دینی تحریکات میں ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے کہ عوام میں خاصی اکثریت رکھنے والے اس مسلک کے علماء اپنے مسلکی دائروں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے قوم و ملت کے اجتماعی مسائل کی طرف بھی اسی درجہ میں متحرک ہوں جس طرح وہ مسلکی معاملات میں جذبہ و جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ میں ایک تحریکی کارکن کے طور پر مسلسل یہ دیکھتا رہا ہوں کہ اپنی تحریک کو مسلکی دائروں میں محدود رکھتے ہوئے بھی عوامی اجتماعات اور بیانات میں مسلکی اختلافات کو انہوں نے موضوع بحث نہیں بنایا اور دوسرے مسالک کو اگر اپنے ساتھ شامل نہیں کیا تو انہیں اپنی عمومی گفتگو کا ہدف بھی نہیں بنایا اور اس طرح انہوں نے پوری توجہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ختم نبوتؐ کے اجتماعی تقاضوں پر مرکوز رکھی ہے۔ ویسے بھی نجی مجالس کی بات الگ ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی مسلک کے راہنماؤں کی نجی گفتگو کو باعث نزاع بنانا مناسب نہیں ہوتا۔

علامہ خادم حسین رضویؒ نے فیض آباد کے حالیہ دھرنے میں حکومت سے جن امور پر تحریری وعدے حاصل کیے ان کے بارے میں باہمی معاہدہ ریکارڈ پر آ چکا ہے۔ چنانچہ ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہماری خواہش ہو گی کہ حکومت کے ساتھ ان کے حالیہ معاہدہ کی فوری تکمیل کو مطالبات میں سرفہرست رکھا جائے اور اس کے لیے جدوجہد کا تسلسل قائم رکھا جائے۔

علامہ رضویؒ کے فرزند و جانشین حافظ محمد سعد حسین رضوی نے اپنی پہلی عوامی تقریر میں جن جذبات و عزائم کا اظہار کیا ہے وہ میرے جیسے تحریکی کارکن کے لیے حوصلہ اور خوشی کا باعث ہیں، ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے عزم پر قائم رہتے ہوئے اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھیں گے اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارا تعاون و حمایت انہیں بھی بدستور حاصل رہے گا۔