دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جنوری ۲۰۱۴ء

بھارت سے واپس آئے ہوئے دو ہفتے گزرنے کو ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی تک دیوبند اور دہلی کے ماحول میں ہوں۔ کچھ تو اپنا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ

لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم

جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوستوں کا حال یہ ہے کہ جہاں جاتا ہوں اسی داستانِ محبت کو دہرانے کا تقاضہ ہو جاتا ہے۔ اپنے علمی، فکری اور روحانی مرکز کے ساتھ دیوبندیوں کی عقیدت و محبت کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے! ۱۸ دسمبر بدھ کو واپسی پر واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی پہلا فون گوجرانوالہ سے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کا آیا، میں نے عرض کیا کہ ابھی لاہور نہیں پہنچا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی جلدی فون کرنے کی غرض یہ ہے کہ دیوبند کے سفر کے تاثرات بیان کرنے کی پہلی مجلس میرے ہاں ہوگی، اس کا وقت طے کر دیجیے۔ میں نے کہا کہ جمعہ کے روز مغرب کے بعد گکھڑ میں حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں میرا درس کا معمول ہے، اس لیے پہلی مجلس تو وہیں ہوگی البتہ اگر آپ عشاء کے بعد رکھنا چاہیں تو رکھ لیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس لیے اس روز مغرب کے بعد گکھڑ میں دورۂ بھارت کے تاثرات اور دیوبند کی یادوں کا تذکرہ کیا اور عشاء کے بعد حافظ گلزار احمد آزاد کی مسجد میں جمع احباب کے سامنے انہیں دہرایا۔ گکھڑ میں اگلے جمعہ کا درس بھی انہی تاثرات کے لیے مخصوص رہا۔

ہفتہ کے روز گیارہ بجے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں درس نظامی کے طلبہ کا ترجمہ قرآن کریم مکمل ہونے پر آخری درس کے لیے حاضری تھی۔ درس تو آخری سورتوں کا تھا مگر جامعہ کے مہتمم عزیزم قاری محمد ابوبکر صدیق سلّمہ کا تقاضہ تھا کہ دیوبند کے سفر کے کچھ تاثرات کا بھی تذکرہ ہو جائے جو کچھ نہ کچھ ہوگیا۔ اسی روز شام کو فیصل آباد کے عظیم دینی و تعلیمی مرکز جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں جامعہ کے فضلاء کا بہت بڑا اجتماع تھا جس میں شرکت کا مجھے بھی اعزاز بخشا گیا۔ کئی برسوں کے بعد یہ اجلاس ہو رہا تھا اس لیے بعض ذمہ دار حضرات کے ارشاد کے مطابق دو ہزار سے زائد فضلاء جامعہ اس میں شریک تھے۔ مولانا مفتی محمد طیب اور مولانا مفتی محمد زاہد نے اپنے اپنے انداز میں اپنے فضلاء کی مختلف معاملات میں راہ نمائی فرمائی جبکہ مجھے ہدایت کی گئی کہ موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ دیوبند اور دیگر مقامات کی حاضری کے احوال کا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ چنانچہ میں نے گفتگو کا آغاز ان الفاظ میں کیا کہ میں اسے اپنے لیے نیک فالی اور سعادت کی بات سمجھتا ہوں کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران مجھے تھانہ بھون کی خانقاہ میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا شاہ عالم گھورکھ پوری کے ہمراہ حاضری اور اس چھوٹے سے کمرے میں چند لمحات گزارنے کا شرف حاصل ہوا جو سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی نشست گاہ ہوتا تھا۔ جبکہ اس کے ایک ہفتہ بعد جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے اساتذہ اور فضلاء کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ’’امدادیین‘‘ کے ساتھ مخاطب ہوں۔ ۲۵ دسمبر بدھ کو جامعہ نصرۃ العلوم کی ماہانہ تربیتی نشست میں اسی حوالہ سے گزارشات پیش کیں اور ۲۶ دسمبر کو الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشست کا موضوع بھی سفر دیوبند کے احوال و تاثرات ہی قرار پایا۔ مگر سب سے زیادہ حسن اتفاق ۲۹-۲۸ دسمبر کو پشاور میں پیش آیا، پشاور کی یہ حاضری بہت عرصہ پہلے سے طے تھی، دارالعلوم سرحد کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سید قمر دامت برکاتہم انتہائی باذوق بزرگ ہیں، انہوں نے پشاور کے قریب اپنی قیام گاہ ’’موسیٰ زئی‘‘ میں کئی سالوں سے یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ اردگرد کے علماء کرام، ائمہ مساجد اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو سال میں ایک دن جمع کرتے ہیں، دن بھر اکابر علماء کرام کے بیانات ہوتے ہیں، اسے ’’علماء و طلبہ علاقائی یک جہتی کانفرنس‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے اثرات پورے علاقے میں روز افزوں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سال اس اجتماع کا ’’فروغ افکار دیوبند کانفرنس‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ اہتمام کیا گیا اور مجھے مہمان مقرر کے طور پر تفصیلی گفتگو کا شرف بخشا گیا۔

حضرت مولانا مفتی سید قمر صاحب کے ساتھ علاقہ کے دیگر سرکردہ علماء کرام مولانا قاری احسان الحق، مولانا خیر البشر، مولانا مفتی حبیب الرحمن، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا سراج الاسلام اور مولانا قاری سمیع اللہ جان فاروقی بھی اس کار خیر میں پیش پیش ہیں۔ جبکہ اسٹیج پر علاقے کے دیگر سرکردہ علماء کرام کے ساتھ بزرگ ترین علمی شخصیت حضرت مولانا مطلع الانوار دامت برکاتہم بھی تشریف فرما تھے اور وہیں اپنے پرانے دوست مولانا قاری فیاض الرحمن سے بھی ملاقات ہوگئی۔ دیوبند کے سفر کے فورًا بعد اس ’’فروغ افکار دیوبند کانفرنس‘‘ میں شرکت میرے لیے اعزاز کی بات تھی، موسیٰ زئی کی وسیع عیدگاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جن میں غالب تعداد علماء کرام اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی تھی، اور وہیں کے ایک ذمہ دار بزرگ کے ارشاد کے مطابق یہ اجتماع کم از کم پانچ ہزار افراد کے لگ بھگ ضرور تھا۔

اس موقع پر میں ایک اور سعادت سے بھی بہرہ ور ہوا، موسیٰ زئی کے ایک بزرگ میاں جمیل الرحمن صاحب ملنے کے لیے آئے اور فرمایا کہ میں آپ کے کالم اہتمام کے ساتھ پڑھتا ہوں اور خلافت و امامت کے بارے میں آپ کے مضامین مجھے بہت پسند آئے ہیں، انہیں کتابی شکل میں بھی شائع ہونا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ خلافت، جمہوریت، امامت اور نظام اسلام کے بارے میں میرے بہت سے مضامین کا ایک جامع انتخاب ’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا ہے جو حافظ محمد طاہر، مکتبہ امام اہل سنت جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ (فون ۰۳۰۶۶۴۲۶۰۰۱) سے طلب کیا جا سکتا ہے۔ میاں صاحب محترم نے تعارف کراتے ہوئے اپنے خاندان کے جد امجد حضرت مولانا حافظ منیرؒ اور ان کے فرزندوں حضرت قطب الدین عرف حاجی میاںؒ اور حضرت رکن الدین عرف فاضل میاںؒ کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ یہ بزرگ احمد شاہ ابدالیؒ کے دور میں تھے۔ احمد شاہ ابدالیؒ نے ہندو مرہٹوں کے خلاف پانی پت میں جو فیصلہ کن جنگ لڑی تھی وہ اس میں ان کے ساتھی تھے اور ان کی قبریں اسی گاؤں میں موجود ہیں۔ میرے لیے اتنی بات ہی کافی تھی، چنانچہ میں نے مولانا مفتی سید قمر کے دو رفقاء عبید اللہ صاحب اور حماد الرحمن صاحب سے کہا کہ وہ اسٹیج پر جانے سے قبل مجھے ان بزرگوں کے مرکز میں ضرور لے کر جائیں۔

ان بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے موقع پر معلوم ہوا کہ سکھوں کے خلاف اس علاقہ میں جو جنگ ہوئی تھی اس میں ایک شہزادہ شہید ہوا تھا اور اس کی قبر بھی یہیں ہے۔ اس کی قبر پر جو لوح موجود ہے اس کے مطابق اس کا نام غفران پناہ وزیر زادہ سردار محمد عمر خان خلف وزیر محمد عثمان خان نظام الدولہؒ بتایا گیا۔ یہ باتیں وہاں کے عوام میں عام طور پر مشہور ہیں جن کے بارے میں کوئی صاحب ذوق ریسرچ کر سکیں تو ایک اچھی خدمت ہوگی۔کانفرنس کا باذوق ماحول دیکھ کر طبیعت میں خاصی بشاشت پیدا ہوئی اور دیوبند کے تعارف و کردار اور دینی مدارس کی اہمیت کے حوالہ سے گفتگو بحمد اللہ تعالیٰ خاصا طول پکڑ گئی۔

اس سے قبل ۲۸ دسمبر کی شب کو پشاور شہر میں گلبہار کالونی ۴ کی مکی مسجد میں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ قاضی نے بھی علماء کرام کے ایک بھرپور اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ان کے حکم پر موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں کے موضوع پر کچھ معروضات پیش کیں، جبکہ ۲۹ دسمبر کو حیات آباد پشاور میں مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام خطباء کی ہفتہ وار کلاس میں حدود شرعیہ کے بارے میں آج کے عالمی تناظر میں مغربی دانش وروں کے اعتراضات اور حدود شرعیہ کی مخالفت کے اسباب پر گفتگو کا موقع مل گیا۔

کوشش کروں گا کہ اگلے چند روز میں ان مجالس میں ہونے والی گفتگو کی خاص خاص باتیں ترتیب کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔