چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

چنیوٹ اور سرگودھا کے اضلاع میں میرے ساتھ متعدد بار یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کسی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتا ہوں تو پابندی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سرگودھا شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے سرگودھا پہنچ چکا تھا اور مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں تھوڑی دیر کے لیے رکا ہوا تھا کہ وہیں پیغام آگیا کہ ضلعی پولیس نے چند مقررین کے خطابات سے منع کر دیا ہے جس میں میرا نام بھی شامل ہے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے پولیس افسران سے بات بھی کی مگر اجازت نہ ملی جس پر مجھے وہیں سے واپس آنا پڑا۔

گزشتہ سال چناب نگر میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری کا پروگرام تھا، سفر کی تیاری کر چکا تھا کہ فون پر اطلاع ملی کہ ضلعی حکام نے منع کر دیا ہے اس لیے سفر کی زحمت نہ کریں۔ جبکہ ابھی ۱۲ ربیع الاول کو چناب نگر میں ہی مجلس احرار کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں حاضری طے تھی مگر ایک ہفتہ قبل ہی پولیس نے کانفرنس کی انتظامیہ کو ان مقررین کی فہرست فراہم کر دی جنہیں خطاب کی اجازت نہیں تھی اس میں میرا نام بھی شامل تھا۔ اس سے مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل برادرم عبد اللطیف چیمہ صاحب نے مجھے بر وقت آگاہ کر دیا تھا اس لیے چناب نگر حاضری کی سعادت محروم رہا، ورنہ متعدد بار اس کانفرنس میں شریک ہو چکا ہوں۔

میں اس آنکھ مچولی کا ایک عرصہ سے عادی ہوں اور اس حوالہ سے ایک پرانا واقعہ یاد آگیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دور کی بات ہے، کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ اور سیکرٹری جنرل گجرات کے مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ تھے، سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داری میرے سپرد تھی جبکہ مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور مولانا اللہ وسایا متحرک اور سرگرم راہ نماؤں میں سرِ فہرست تھے۔ سیالکوٹ اس تحریک کا مرکزی پوائنٹ تھا اور مجھے اس کے لیے وہاں بار بار آنا جانا پڑتا تھا۔ ضلعی حکام نے سیالکوٹ ضلع میں مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور میرے داخلہ پر پابندی لگا دی، میں اس آرڈر کی تعمیل سے مسلسل گریز کرتا رہا تا آنکہ مجھے ’’اشتہاری ملزم‘‘ قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری ملزم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ملزم عام طریقوں سے دستیاب نہیں ہو رہا ہے اس لیے بذریعہ اشتہار اسے خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حکم نامے کی تعمیل کرے۔ یہ اشتہار متعلقہ حکام کی طرف سے تصدیق شدہ ہوتا ہے اور ملزم کے گھر کے دروازے پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ پولیس اہلکار یہ اشتہاری آرڈر لے کر آیا تو میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا، میں نے وصول کرنے سے گریز کیا تو اس نے کہا کہ یہ آرڈر میں آپ کے دفتر کے دروازے پر چسپاں کر دوں گا۔ میں نے کہا، تمہاری مرضی ہے۔ وہ باہر نکل کر پھر اندر آیا اور کہا کہ میرے پاس گوند نہیں ہے اس لیے مجھے گوند مہیا کر دیں۔ میں نے اپنے ڈیسک سے گوند کی شیشی نکال کر اسے دی اور وہ میرے خلاف آرڈر مجھ سے گوند لے کر میرے دروازے پر چسپاں کر کے چلا گیا، جسے تھوڑی دیر کے بعد اتار کر میں نے اپنی فائل میں محفوظ کر لیا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی آنکھ مچولی ہماری تحریکات میں چلتی رہتی تھی اور یہ سب کچھ پالیسی کے تحت ہوتا تھا۔ بسا اوقات گرفتاری پیش کرنا خود ہمارے تحریکی اہداف میں ہوتا تھا اور ہم آگے بڑھ کر خود کو پیش کرتے تھے مگر بعض مواقع پر گرفتاری سے بچنا بطور پالیسی طے ہوتا تھا اور پھر ہم گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس کے ساتھ جو آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے اس کی ایک مستقل داستان ہے جسے مرتب کیا جائے تو اچھا خاصا مواد جمع کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح کے بہت سے واقعات ذہن میں قطار باندھے کھڑے ہیں، قارئین کی دل چسپی کے لیے ان میں سے ایک اور واقعہ کا تذکرہ کر رہا ہوں۔ جس زمانے میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ دو دھڑوں میں تقسیم تھی اور باہمی محاذ آرائی کا سلسلہ عروج پر تھا، ہم ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی بھی پورے زور و شور سے کرتے تھے مگر باہمی سماجی روابط اور مشترکہ دینی کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی جاری رہتا تھا۔ مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ فضل الرحمن گروپ کے پر جوش اور سرگرم راہ نما تھے اور دوسری طرف درخواستی گروپ میں میرا بھی یہی حال تھا۔ مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ ان دنوں فضل الرحمن گروپ کے کارکن تھے، اوکاڑہ کی ایک مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے تھے اور حضرت مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

ایک سال محرم الحرام میں یوم عاشور کے موقع پر دوسرے بہت سے مقررین پر پابندی کی وجہ سے مولانا ایثار القاسمیؒ کی مسجد میں میرے خطاب کا پروگرام بنا لیا گیا۔ مولانا گیلانیؒ نے مجھے حکم دیا اور میں حاضر ہوگیا مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میری تقریر پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور پولیس حکام مجھ سے آرڈر کی تعمیل کرانے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں جبکہ ہم نے طے کر لیا کہ ہم آرڈر کی تعمیل نہیں کریں گے، جلسہ میں خطاب ہوگا اور بعد میں گرفتاری بھی نہیں دیں گے۔ عشاء کی نماز کے بعد جب میں ایک دوست کے ہمراہ مسجد میں پہنچا تو چاروں طرف سے پولیس نے مسجد کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور ایک پولیس آفیسر آرڈر ہاتھ میں لیے عقاب کی طرح چوکنا کھڑا تھا کہ جونہی مولانا زاہد الراشدی پر نظر پڑے انہیں دبوچ کر آرڈر کی تعمیل کرالی جائے۔ میں مخصوص احراری تکنیک کے ساتھ پولیس کے گھیرے میں سے گزرتے ہوئے مسجد کے اندر گیا اور جاتے ہی خطیب والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے بیٹھتے ہی خطاب کا اعلان کر دیا گیا اور میں نے خطبہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس سے قبل کہ متعلقہ پولیس آفیسر صورت حال کو پوری طرح سمجھ پاتا، میں تقریر کا آغاز کر چکا تھا اور اس کے لیے مجمع کے اندر سے میرے پاس پہنچنا مشکل ہوگیا تھا۔

اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ میرا خطاب مکمل ہونے کے بعد باہر نکلنے پر مجھے گرفتار کیا جانا تھا، ہم نے اس کے لیے پیش بندی کر رکھی تھی، خطاب ختم ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی، مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ اور میں دونوں مسجد کی چھت پر چڑھے اور دیوار پھلانگ کر ساتھ والے گھر کی چھت پر جا اترے، صاحب مکان ہمارے انتظار میں تھے انہوں نے ہمیں نیچے لے جا کر اندر ایک کمرے میں بند کر دیا جہاں بستر بچھے ہوئے تھے اور ہم آرام سے لیٹ گئے۔ اس کے بعد محلہ میں جو افراتفری مچی وہ قابل دید تھی، پولیس نے محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی، بہت سے گھروں میں سیڑھیاں لگا کر پولیس اہل کاروں نے ان کی چھتوں سے ہمیں تلاش کیا مگر ڈیڑھ دو گھنٹوں کی سعی لاحاصل کے بعد انہیں مایوس لوٹنا پڑا، سحری کے وقت ہمیں اٹھایا گیا، ایک ساتھی نے مجھے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور شہر سے باہر لے جاکر لاہور جانے والی گاڑی پر سوار کرا دیا۔ اس کے بعد سالہا سال تک محرم الحرام کے دوران میرے اوکاڑہ میں داخلہ پر پابندی لگتی رہی مگر جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔

اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے اور جب سے تحریری آرڈر، پابندی، گرفتاری، آنکھ مچولی، مقدمات، ضمانتوں اور بھیس بدل کر نکل جانے کے اس دل چسپ اور پر امن کھیل میں کلاشنکوف گھس آئی ہے، پولیس والے ہم سے اور ہم پولیس والوں سے خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ ورنہ نہ وہ ہم سے ڈرتے تھے اور نہ ہم ان سے ڈرا کرتے تھے بلکہ اس دل چسپ کھیل کو دونوں طرف کے باذوق لوگ انجوائے کیا کرتے تھے۔ اس لیے اب ہمیں کہیں نہ جانے کے لیے تحریری آرڈر کا انتظار نہیں ہوتا، ایک فون کال ہی سفر کا پروگرام کینسل کرنے کے لیے کافی ہوجایا کرتی ہے۔