چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

   
مقام / زیر اہتمام: 
الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ
تاریخ بیان: 
۲۰۱۸ء

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ حضرات علماء کرام! آج سے ہم اپنے دوسرے سمسٹر کا آغاز کر رہے ہیں۔ پہلے سمسٹر میں ہمارا موضوع تھا کہ موجودہ تہذیبی کشمکش اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے ساتھ دنیا کے جو فکری، ثقافتی اور تہذیبی تنازعات ہیں، ان کے کچھ حصوں کو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا تھا۔ انسانی حقوق کے چارٹر کے حوالے سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کے قوانین کے حوالے سے چند مسائل میں نے آپ کے سامنے بیان کیے تھے، جو ہمارے درمیان تنازعہ اور کشمکش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ تفصیلی بات تو میں نہیں کر سکا مگر تعارفی طور پر کچھ مسائل کے حوالے سے میں نے صرف یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس وقت ہماری مغرب کے ساتھ جو فکری جنگ، سولائزیشن وار، تہذیبی کشمکش اور ثقافتی جنگ ہے، اس کا بنیادی تعارف کیا ہے؟ ہمارے درمیان ما بہ النزاع امور کیا ہیں اور دونوں کا مختلف مسائل میں موقف کیا ہے؟

اب اس سمسٹر میں آپ سے بات ہوگی کہ اس وقت انسانی سوسائٹی میں ہمیں کن مذاہب، کن مسالک اور کن افکار سے واسطہ ہے۔ سوسائٹی تو گلوبل ہوتی جا رہی ہے اور مشرق، مغرب، شمال، جنوب میں کوئی فرق نہیں رہا، نہ معلومات کے حوالے سے اور نہ رابطوں کے حوالے سے۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس زمانے کی نشاندہی کی تھی ’’یتقارب الزمان ‘‘ یہ آپؐ کی پیشین گوئیوں میں ہے جو آپؐ نے قیامت کی نشانیوں میں بیان فرمائی تھی کہ زمانے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے، جس کا آسان ترجمہ ہم کیا کرتے ہیں کہ فاصلے سمٹ جائیں گے۔ آج کے دور میں زمینی فاصلے بھی اور زمانی فاصلے بھی سمٹ گئے ہیں اور مزید سمٹتے جا رہے ہیں۔ پہلے اونٹوں کا سفر ہوتا تھا، اب جہازوں کا ہوتا ہے۔ پہلے پیغام، خط و کتابت کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا، اب واٹس اپ کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اردگرد ماحول اور دنیا سے واقف ہونا چاہیے۔

قرآن کریم نے بھی یہی کیا تھا جب جناب نبی کریمؐ تشریف لائے اور مکہ مکرمہ میں آپؐ کی ایک جماعت بنی تو قرآن کریم کا اسلوب یہی رہا ہے کہ جزیرۃ العرب کے دائرے میں جن مذاہب سے عملی واسطہ تھا ان مذاہب کا بڑی تفصیل سے تعارف کروایا ہے۔ زیادہ تر مشرکینِ عرب تھے جو خود کو اسماعیلی یا قریشی کہتے تھے، ان کے اسلوب و عقائد، ان کی سماجی و تہذیبی روایات، ان کا خاندانی نظام، ان کا پورا سسٹم قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ مدینہ منورہ جا کر یہودیوں سے واسطہ پیش آیا تو یہودیوں کا بھی قرآن کریم نے پورا تعارف کروایا ہے۔ ان کا پس منظر، ان کی تاریخ، ان کے عقائد اور ان کی گمراہیاں کھول کر بیان فرمائیں۔ تیسرے مسلمانوں کا واسطہ جزیرۃ العرب کے وسط میں تو نہیں ایک کونے میں نجران کے عیسائیوں سے تھا۔ نجران میں عیسائی بہت بڑی تعداد میں تھے اور بنو تغلب بھی عیسائی تھے۔ تو قرآن کریم نے عیسائیوں کا تعارف بھی کروایا ہے۔ تینوں حوالوں سے کہ ان کے عقائد کیا ہیں، ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے، ان کی روایات و معمولات کیا ہیں، تہذیبی ماحول کیا ہے، اور چوتھے نمبر پر ان کی گمراہیاں بھی تفصیل سے بیان فرمائی ہیں۔

قرآن کریم کا اسلوب یہ بتا رہا ہے کہ اردگرد کے ماحول سے واقف ہونا چاہیے` خود عمل کرنے کے حوالے سے بھی اور تحریکات کے حوالے سے بھی۔ جزیرۃ العرب میں اس وقت سب سے کم واسطہ صابئین سے تھا لیکن قرآن کریم نے ان کا ذکر بھی کیا ہے، اگرچہ ان کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ اس تناظر میں ہر دور میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ماحول سے واقف ہوں کہ جن مذاہب سے ہمیں سامنا ہے، ہمارا ان کا فرق کیا ہے؟ تنازعات کہاں ہیں؟ اتفاقات و اختلافات کہاں کہاں ہیں؟ تو میں اس کو بات سمجھنے سمجھانے کے لیے تین چار دائروں میں تقسیم کیا کرتا ہوں۔

ہمارے ہاں عام طور پر ایک مغالطہ ہے کہ ہم جب تقابل مذاہب کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ہاں چند مناظرانہ مسائل ہی تقابل مذاہب سمجھے جاتے ہیں۔ عیسائیوں سے بات ہوگی تو مناظرے کے دوچار مسائل موضوع بن جائیں گے اور اسی پر سارا وقت صرف ہو جائے گا۔ وہ ایک حصہ ہے لیکن کُل یہی کچھ نہیں ہے۔ یا مثلاً ہم قادیانیوں کی بات کریں گے تو چند مناظرانہ مسائل پر مباحثہ سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم ان کے پس منظر سے واقف ہوں، تاریخ سے واقف ہوں، اور ان کا تعارف حاصل ہو۔ اس لیے میری ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے تعارف ادیان اور تقابلِ ادیان، مناظرے کے طور پر نہیں بلکہ بریفنگ کے طور پر کہ ہمارا اور ان کا فرق کیا ہے۔ پہلے تعارف کہ یہ کون لوگ ہیں ان کی ابتدا کب ہوئی، یہ کہاں کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں۔ دوسرے ہمارا ان سے فرق کیا ہے۔ اور تیسرے نمبر پر یہ بات عرض کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ اس وقت عالمی سوسائٹی میں ہمارے معاملات کی نوعیت کیا ہے، کہاں جھگڑا ہے، کہاں صلح ہے، کہاں ہم اکٹھے ہیں، کہاں الگ الگ ہیں، ہمارے عملی مسائل اس وقت کیا ہیں۔ یہ تین باتیں (۱) ان کا تعارف، (۲) ان کا مسلمانوں سے بنیادی معاملات کا فرق، (۳) اور تنازعات کی موجودہ صورتحال۔ مناظرہ چوتھے نمبر پر ہوتا ہے۔ میرا ذوق مناظرے کا نہیں ہے لیکن میں مناظرے مجادلے کی نفی نہیں کرتا۔ مناظرہ مجادلہ کیا جاتا ہے، کیا جانا چاہیے۔

اس کے بعد مذاہب کی درجہ بندی بھی ضروری ہے۔ ہم جب تقابل مذاہب کی بات کرتے ہیں تو ہمارے نزدیک ’’یہودی مسلم‘‘ جھگڑا اور ’’حنفی غیرمقلد‘‘ جھگڑا ایک ہی لیول کا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا لہجہ دونوں جگہ ایک ہی سا ہوتا ہے، گفتگو کا انداز بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ درجہ بندی کے بغیر کسی مذہب سے بات کرنا بنیادی طور پر صحیح بات نہیں ہے۔ درجہ بندی کیا ہے؟ ایک درجہ بندی تو حضرت شاہ ولی اللہؒ نے کی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں درجہ بندی اس اسلوب سے بیان کی کہ ایک ہے مذاہب و ادیان عیسائی یہودی وغیرہ، شاہ صاحبؒ اہل اسلام میں درجہ بندی کرتے ہوئے اہل قبلہ کا دائرہ بناتے ہیں۔ اہل قبلہ میں قرآن کریم، جناب نبی کریمؐ، اور قبلہ کی بات کرنے والے سب کو شامل کرتے ہیں۔ ان میں اہل سنت تو ہیں ہی، خوارج، معتزلہ، روافض اور کرامیہ جیسے اعتقادی فرقوں کو اہل قبلہ میں شمار کرتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر اہل سنت کے داخلی مذاہب، فقہاء کا دائرہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی۔ لیکن شاہ صاحبؒ کے زمانے میں بعض باتیں نہیں تھیں جو اب ہو گئی ہیں۔ اس لیے میری ترتیب میں یہ ہوتا ہے کہ:

  1. سب سے پہلے تو ادیان و مذاہب، جو مستقل ہیں، مثلاً اس وقت سات ارب کی آبادی میں ہم مسلمانوں کو مجموعی طور پر جن مذاہب سے واسطہ ہے ان میں ہندو، سکھ، بدھ مت، مجوسی، یہودی اور عیسائی مستقل مذاہب ہیں۔
  2. اس کے بعد ہمیں واسطہ ہے منحرفین سے، یہ مستقل دائرہ بن گیا ہے۔ منحرف مذاہب کا جیسے قادیانی، بہائی، نیشن آف اسلام، ذکری، رشادی وغیرہ جو نام اور ٹائٹل اسلام کا استعمال کرتے ہیں مگر نبوت و وحی کے نام پر نیا مذہب بنا لیا ہے، لیکن ہیں منحرف۔ شاہ صاحبؒ کے زمانے میں یہ دائرہ نہیں تھا۔
  3. تیسرے نمبر پر جنہیں شاہ صاحبؒ اہل قبلہ کہتے ہیں جو نئی نبوت کی بات نہیں کرتے اور اسلام کی بنیادی باتوں کو تسلیم کرتے ہیں، ان میں حق و باطل کا دائرہ ہے۔ پہلے دونوں دائروں کو کفر اسلام کا اور اس کو حق اور باطل کا دائرہ کہیں گے۔ ان میں خوارج، معتزلہ، روافض اہل باطل ہیں، جبکہ اہل سنت اہل حق ہیں۔
  4. چوتھا دائرہ اہل سنت کے داخلی اختلافات کا۔ اس دائرے میں تین ذیلی دائرے ہیں: ایک اعتقادی، دوسرا فقہی، تیسرا روحانی۔ ان تینوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے:
    1. اعتقادی تو یہ ہے کہ تمام اہل سنت کے عقائد تو ایک ہی ہیں، تعبیرات میں فرق ہے۔ اور اس میں تین مستقل مکاتب ہیں۔ اشاعرہ، ماتریدیہ، اور ظواہر۔ آج کے دور میں ظواہر کی جگہ سلفی یا اہل حدیث ہیں۔ ان میں کچھ متشددین ہیں اور کچھ معتدل، جو ہر جگہ ہوتے ہیں۔
    2. دوسرا دائرہ فقہی احکام و مسائل کا ہے۔ احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ، ظواہر۔ پانچ مکاتب فکر ہیں۔ پھر ایک خطا و صواب کا دائرہ ہے اور ایک اولیٰ و غیر اولیٰ کا دائرہ ہے۔
      • فقہاء کے آپس کے مسائل کی نوعیت خطا و صواب کی ہے۔ ہماری الجھن یہ ہے کہ ہم کسی وقت اولیٰ و غیر اولیٰ کے مسئلہ پر یا خطا و صواب کے مسئلہ پر بات کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہتھیار ہمارے پاس کفر و اسلام کے ہوتے ہیں۔ فقہاء (احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ، ظواہر) کا آپس کا دائرہ خطا و صواب کا دائرہ ہے، حق و باطل کا دائرہ نہیں ہے۔ ہم مجتہد کے بارے میں اصولی بات یہ کرتے ہیں ’’المجتھد یخطئ و یصیب‘‘۔ مثال کے طور پر ہم امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہیں ان کے فتوے کو دلیل پوچھے بغیر مانتے ہیں، لیکن یہ کہہ کر مانتے ہیں ’’صواب یحتمل الخطاء‘‘ اور اس کو حق و باطل کا عنوان نہیں دیں گے۔ حضرت امام شافعیؒ کے کسی فتوٰی کو ہم قبول نہیں کرتے تو یہ کہہ کر کہ ’’خطاء یحتمل الصواب‘‘ اور اس کو باطل نہیں کہیں گے۔
      • اس سے اگلا دائرہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے۔ ہمارے بیسیوں فقہی اختلافات اولیٰ و غیر اولیٰ پر جا کر منتج ہو جاتے ہیں۔ فقہی احکام میں بالخصوص ہم بعض اوقات بہت تشدد کر جاتے ہیں، ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ میں حنفی ہوں اور الحمد للہ شعوری حنفی ہوں، متصلب حنفی ہوں، احناف کے دائرے کو سمجھتا بھی ہوں، پابندی بھی کرتا ہوں، عمل بھی کرتا ہوں، تلقین بھی کرتا ہوں۔ لیکن یہ عرض بھی کیا کرتا ہوں کہ حنفیت کے مجادلے میں صحیح ترجمان اور آئیڈیل امام طحاویؒ ہیں۔ حنفی اور غیر فقہی اختلاف کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے میرے ذوق کے مطابق امام طحاویؒ سے بڑا کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔ فقہی مجادلے میں امام طحاویؒ کی ’’شرح معانی الآثار‘‘ کی چند خصوصیات کا میں ذکر کیا کرتا ہوں، آپ نے اس کتاب کا کچھ حصہ پڑھا ہو گا، اس کے چند صفحات پر دوبارہ غور کریں۔ طحاوی کی تمہید کی تین چار سطروں میں انہوں نے ذکر کیا کہ فقہی مجادلے کی بنیاد انہوں نے کس پر رکھی ہے۔ امام طحاویؒ کہتے ہیں، احادیث مختلف ہیں۔ ایک ایک مسئلہ پر تین تین چار چار مختلف احادیث ملتی ہیں جس سے ملحدین غلط فائدہ اٹھاتے ہیں، اور کمزور ایمان کے مسلمان شک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ دو وجہیں بیان کی ہیں۔ امام طحاویؒ کہتے ہیں میں نے الحاد کو دور کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے تذبذب کو رفع کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ گویا فقہی مجادلہ کا بنیادی مقصد امام طحاویؒ کے ہاں اختلاف کو پھیلانا نہیں بلکہ سمیٹنا ہے، شکوک کو بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے۔ امام طحاویؒ نے یہ اسلوب اختیار کیا کہ ایک مسئلہ پر مثلاً تین موقف ہیں تو تینوں کے دلائل الگ الگ بیان کریں گے۔ پہلے مخالفین کے دلائل بیان کریں گے، پوری دیانت داری سے بیان کریں گے، پھر اپنے نقطہ نظر سے اس میں کمزوری واضح کریں گے۔ پھر دوسرا موقف بیان کریں گے، ان کے دلائل بیان کریں گے، پھر اپنا موقف بیان کریں گے، پھر دلائل کا تقابل کریں گے۔ دلائل کے تقابل کی علمی بحث کے بعد اس کی درجہ بندی کریں گے کہ یہ ہمارے نزدیک جواز اور عدم جواز کا مسئلہ ہے، یا مکروہ اور غیر مکروہ کا مسئلہ ہے، یا اولیٰ اور غیرا ولیٰ کا مسئلہ ہے۔ اور جہاں اپنے دلائل میں کمزوری محسوس کریں گے وہاں اعتراف کریں گے کہ یہاں ہمارے دلائل کمزور ہیں۔
    3. اور تیسرا دائرہ صوفیاء کا ہے نقشبندی، قادری، سہروردی، چشتی۔ اہل سنت کے داخلی دائروں میں اعتقادی تعبیرات کا مسئلہ ہو، یا فقہی احکام کا مسئلہ ہو، یا روحانی سلسلے کا آپس کا کوئی مسئلہ ہو، اس پر حق و باطل کی بات نہیں کریں گے بلکہ خطا و صواب کی بات کریں گے اور اس سے اگلا دائرہ اولیٰ غیر اولیٰ کا ہے۔

مذاہب و ادیان کے تعارف کے موضوع میں پہلے ہم ادیان و مذاہب کی بات کریں گے، پھر منحرفین کے دائرے کی، اور پھر حق و باطل کے دائرے کی (اہل سنت، خوارج، روافض کی) بات کریں گے۔ اور آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس وقت جو ہماری جنوبی ایشیا میں مسلکی تقسیم ہے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث یہ ۱۸۵۷ء کے بعد کی فکری و فقہی تقسیم ہے۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے نہ کوئی دیوبندی تھا، نہ کوئی بریلوی تھا، نہ کوئی اہل حدیث تھا۔ جبکہ اعتزال جدید کا بھی ایک مستقل طبقہ ہے جن کو ہم متجددین کہتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ہماری اس مذہبی تقسیم کا سبب کیا بنا؟ اور ہمارا موجودہ فرق کیا ہے اور تنازعات کیا ہیں؟ یہ بھی جاننا ضروری ہے، اس پر بھی بات کرنا چاہوں گا۔ ہم کرامیہ اور معتزلہ کا پس منظر تو معلوم کر لیتے ہیں لیکن دیوبندی اور بریلوی جھگڑے کا پس منظر کیا ہے، ہم اسے معلوم نہیں کرتے۔ آج میں نے آپ کو درجہ بندی بتائی ہے کہ کس ترتیب سے ہم بات کریں گے، لیکن سارے کا وعدہ نہیں کرتا، ترتیب سے چلیں گے، جتنی بات کر سکے کریں گے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

Flag Counter