ڈیرہ غازی خان کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

۱۶-۱۵ جنوری کو لیہّ، کوٹ ادو، جتوئی اور ڈیرہ غازی خان کے سفر کا اتفاق ہوا، الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم حافظ محمد عثمان میرے ہمراہ تھے، وہ دار العلوم کراچی کے فاضل اور جتوئی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ لیہّ میں جمعیۃ علماء اسلام نے ایک شادی ہال میں ’’شیخ الہندؒ سیمینار‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا، اور ان کا تقاضہ تھا کہ حالیہ سفر دیوبند اور ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کے کچھ احوال ان کو سناؤں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کی تفصیلات اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکا ہوں، مگر ان کا اصرار تھا کہ ہم زبانی بھی وہ باتیں سننا چاہتے ہیں۔ جمعیۃ کے ضلعی امیر مولانا رب نواز فاروقی نے سمینار کی صدارت کی جبکہ ہمارے پرانے دوست اور جامعہ صدیقیہ لیہّ کے مہتمم حافظ محمد علی صدیقی اس کے اہتمام میں پیش پیش تھے۔ علاقہ بھر سے علماء کرام اور جماعتی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ حضرت شیخ الہندؒ کا تذکرہ تھا اس لیے کچھ دیر کے لیے پھر دہلی اور دیوبند کے ماحول میں واپس جانا پڑا اور ایک صدی قبل کی تحریک ریشمی رومال کے محرکات و نتائج پر کچھ گفتگو کے علاوہ قرآن کریم کی تعلیم عام کرنے اور قدیم و جدید تعلیم گاہوں کے درمیان ربط و مفاہمت کے فروغ میں حضرت شیخ الہندؒ کے کردار اور پیغام کا تذکرہ کیا۔

جمعرات کو صبح جامعہ مظاہر العلوم کوٹ ادو کے مہتمم مولانا مفتی عبد الجلیل کا فون آیا کہ آپ کوٹ ادو سے گزر کر جتوئی جا رہے ہیں، کیا پروگرام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ان کے فون کے بغیر بھی میرے ذہن میں ترتیب یہی تھی کہ انہیں سلام کر کے گزروں گا۔ مفتی صاحب محترم ہمارے پرانے جماعتی رفقاء میں سے ہیں، تعلیم و تدریس اور سیاست و مسلک کے محاذوں پر یکساں متحرک ہیں۔ ۸۰ سال کے لگ بھگ عمر میں بھی ان کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ راہ نماؤں میں سے ہیں اور کوٹ ادو کی ٹاؤن کمیٹی کے چیئر مین بھی رہ چکے ہیں۔

جامعہ مظاہر العلوم میں حاضری ہوئی تو اساتذہ و طلبہ نے بہت محبت کا اظہار فرمایا اور مفتی صاحب محترم کے ساتھ اساتذہ کی ایک نشست میں مختصر حاضری کے بعد ہم جتوئی کی طرف روانہ ہوگئے۔ جتوئی کا تعارف دینی حلقوں میں حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ کے حوالہ سے چلا آرہا ہے جو اَب سے نصف صدی قبل ملک کے معروف خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ سردار احمد خان تپافیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ، مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا عبد الحئی جام پوریؒ اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ساتھ تنظیم اہل سنت کی مرکزی قیادت کا حصہ تھے۔ ہم طالب علمی کے دور میں دینی مدارس کے سالانہ جلسوں میں ان کی تقریریں سننے کے لیے جایا کرتے تھے اور قلعہ دیدار سنگھ میں مولانا حاجی عبد المالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے مدرسہ کے ایک جلسہ میں مولانا قائم الدین عباسیؒ کے معرکۃ الآراء خطاب کا منظر بھی تک میرے ذہن میں تازہ ہے۔

ان کے فرزند مولانا محمد یحییٰ عباسی بھی ملک کے معروف خطیب ہیں اور متعدد بار ان سے ملاقات ہوئی ہے، مگر جتوئی میں ان کا قائم کردہ جامعہ دارالعلوم اسلامیہ دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ خوبصورت عمارت اور وسیع تعلیمی نیٹ ورک کے ساتھ ذوق و اسلوب کا امتزاج اتنا اچھا لگا کہ مولانا یحییٰ عباسی کو برمنگھم میں فون کر کے جہاں وہ آج کل تبلیغی دورے کے سلسلہ میں گئے ہوئے ہیں، انہیں مبارک باد دی۔ ان کے بھائی محمد معاویہ عباسی ہمارے میزبان تھے، وہی لیہّ سے ہمیں اپنی گاڑی پر لے کر آئے تھے اور ان کے ساتھ پورے سفر میں دل چسپی کے موضوعات پر گپ شپ رہی۔

جتوئی میں ہماری حاضری کا اصل مقصد ایک نئے تعلیمی ادارے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کرنا تھا جس کے لیے حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کراچی سے تشریف لا رہے تھے اور یہ بات سب دوستوں کے لیے حیرت اور تعجب کا باعث بنی ہوئی تھی کہ مولانا عثمانی نے خلاف معمول اس کام کے لیے وقت کیسے دے دیا؟ جتوئی کے ایک بزرگ عالم دین مولانا عبد الہادی جامعہ فاروقیہ للبنین اور جامعہ عائشہ للبنات کے نام سے دو تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں اور اب انہوں نے مین روڈ پر جامعہ دارالعلوم عثمانیہ کے نام سے ایک بڑے تعلیمی ادارے کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے جو اپنے عزائم اور مقاصد کے حوالہ سے حضرت شیخ الہندؒ کے اس پیغام کا آئینہ دار معلوم ہوتا ہے جس کا سطور بالا میں تذکرہ ہو چکا ہے۔ اس میں ان کے فاضل فرزند مولانا محمد ابوبکر فاروقی متحرک ہیں اور ان کا عزم و ذوق اس ادارے کے بہتر مستقبل کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، رحیم یار خان کے مولانا عبد الرؤف ربانی، کراچی کے مولانا مفتی عبد الحمید ربانی اور دیگر بہت سے سرکردہ علماء کرام تشریف لائے ہوئے تھے اور علاقہ بھر کے علماء کرام کا ایک عظیم اجتماع اس کار خیر میں شریک تھا۔ دارالعلوم عثمانیہ کی وسیع عمارت کا سنگ بنیاد مولانا عثمانی نے رکھا اور دوسرے بزرگ علماء کرام کے ساتھ راقم الحروف کو بھی ان کے ساتھ شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر ایک عمومی جلسہ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں علماء کرام اور علاقہ بھر کے دینی کارکن شریک ہوئے۔ اس میں مولانا محمدتقی عثمانی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد الرؤف ربانی اور علاقہ کے بہت سے سرکردہ بزرگوں نے خطاب کیا اور راقم الحروف نے بھی مدرسہ کی ضرورت و اہمیت کے موضوع پر مختصر گفتگو کی۔

مسکین پور شریف ہمارے ملک کے معروف روحانی مراکز میں سے ہے اور جتوئی سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہاں بھی حاضری کا موقع ملا، حضرت مولانا سید فضل علی قریشی نور اللہ مرقدہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ہم سبق رہے ہیں اور حضرت مولانا احمد علی سہارن پوریؒ کے شاگردوں میں سے تھے، نقشبندی سلسلہ کے اکابر میں سے تھے اور ان سے فیض حاصل کرنے والے مختلف بزرگوں کے بیسیوں روحانی مراکز اس وقت ملک کے طول و عرض میں ان کا فیض عام کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک عرصہ سے مسکین پور شریف دیکھنے کی آرزو تھی، جتوئی کے اس پروگرام کی برکت سے وہاں حاضری اور حضرت مولانا سید فضل علی قریشیؒ اور دوسرے بزرگوں کے مزارات پر فاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوگیا۔

رات کو عشاء کے بعد ڈیرہ غازی خان میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں پروگرام تھا، ہمارے عزیز شاگرد مولانا حسنین اعجاز اپنے بھائی اسامہ اعجاز کے ساتھ ہمیں لے جانے کے لیے جتوئی پہنچے تھے، وہ بھی مسکین پور شریف کی حاضری میں ہمارے ساتھ تھے۔

وہاں سے ہم کوٹلہ رحم علی شاہ گئے اور وہ خوبصورت مسجد دیکھی جس کا کافی دنوں سے شہرہ سن رہے تھے اور اسے دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ امریکہ میں رہنے والے ایک صاحب دل بزرگ ڈاکٹر سید اسماعیل شاہ صاحب نے اپنے بزرگوں کی دو سو سالہ قدیم مسجد کو وسیع، خوبصورت اور جاذب نظر مسجد و مدرسہ میں تبدیل کر کے حسن ذوق کا مظاہرہ کیا ہے جو ترکی کی طرز تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں، ہم نے عصر کی نماز وہیں ادا کی اور اللہ تعالیٰ کے اس خوبصورت گھر کو دیکھ کر روحانی سرور سے بہرہ ور ہوئے۔ عشاء کے لگ بھگ ہم ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مولانا حسنین اعجاز اور ان کے رفقاء نے ان کے گھر کے نزدیک مسجد میں جلسہ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مگر وہاں جانے سے قبل ہم جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے بزرگ رہ نما حاجی محمد غلام قاسم خان کھتران کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے، وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور دعاؤں سے نوازا، جبکہ سیرت النبیؐ کے جلسہ میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کرنے کے بعد ہم رات گیارہ بجے واپسی کے لیے لاہور کی کوچ پر سوار ہوگئے۔