فہم قرآن کریم اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جنوری ۲۰۲۱ء

(ڈاکٹر محمد طارق ایوبی کی تصنیف ’’مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا فہم قرآن‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)

’’قرآن فہمی‘‘ دین کے فہم اور تفہیم دونوں کا بنیادی تقاضہ ہے اس لیے یہ ہر دور کے اہل علم و دانش کی فکری و علمی جدوجہد کا مرکزی نکتہ رہا ہے جس کا تسلسل قیامت تک اسی طرح رہے گا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی مسلسل کا آخری، حتمی اور مکمل مجموعہ ہے جس کے نزول کے بعد رہتی دنیا تک نسل انسانی کی ہدایت اور رشد و فلاح اسی سے وابستہ ہے۔ قرآن کریم کا اساسی موضوع نسل انسانی کی ہدایت ہے اس کا دائرہ پوری نسل انسانی اور دورانیہ قیامت تک وسیع ہے، اس لیے اس کے فہم کا منطقی تقاضہ یہ ہے کہ:

  • قرآن کریم جس زبان میں نازل ہوا ہے اس کے مقام و مرتبہ، فصاحت و بلاغت اور ادبی و لسانی خصوصیات و امتیازات سے نہ صرف یہ کہ واقفیت ہو بلکہ اس کے ماضی و حال کے تنوعات، گہرائیوں اور وسعتوں تک بھی کماحقہ رسائی حاصل ہو۔
  • قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے متکلم تک براہ راست رسائی کا خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ذریعہ میسر نہیں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کی منشا و مراد سے آگاہی کے لیے جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و فرمودات اور افعال و معمولات ہی واحد اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
  • قرآن کریم کے نزول اور اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل و تشریحات کے عینی گواہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ چنانچہ نبی اکرمؐ کی تعبیرات و تشریحات اور فعل و عمل کی تفصیلات انہی سے معلوم کی جا سکتی ہیں اور وہی اس کا معیار ہیں۔
  • قرآن کریم اور سنت رسولؐ کی عملداری نے جو معاشرہ عملی طور پر تشکیل دیا اس کا اعلیٰ ترین دور صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور اتباع تابعینؒ کا زمانہ ہے۔ جسے خود جناب رسول اکرمؐ کے ایک ارشاد گرامی میں ’’خیر القرون‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے قرآن فہمی میں اس دور کا شعور و ادراک بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
  • قرآن و سنت کا دورانیہ قیامت تک ہے اور زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حالات کا تغیر اور مسلسل تہذیبی ارتقا کے نتیجے میں متنوع مسائل و معاملات کا پیش آتے رہنا انسانی سماج کا فطری تقاضہ ہے، اس لیے قرآن و سنت کی عملی تطبیق و نفاذ کے دائرے بھی حرکت پذیر رہتے ہیں۔ ان تنوعات و تغیرات کو پیش نظر رکھنا فہم قرآن کریم کا ناگزیر تقاضہ ہے جس سے شناسائی کے لیے تاریخ اور فقہی ارتقا کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔

ہمارے ہاں قرآن کریم کی سینکڑوں تفاسیر مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں جو ہمارا بہت قیمتی علمی ورثہ اور بیش بہا خزانہ ہے، اس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر ایک بات نظرانداز کرنا مشکل ہو گئی ہے کہ بیشتر تفسیروں میں اس دور کی معاشرتی ترجیحات اور مفسرین کے ذاتی ذوق و اسلوب کا غلبہ پایا جاتا ہے۔ ان دونوں باتوں کو غیر اہم قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ان سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فہم و تشریح کے تمام ضروری تقاضوں کے امتزاج کے ساتھ ساتھ ان میں توازن بھی ہو، حالات کے تغیر و ارتقا کی ضرورتوں کا لحاظ رکھا جائے، اور مختلف ادوار کی تعبیرات و تشریحات اور تطبیقات کا باہمی فرق اور اس کے اسباب و عوامل بھی پیش نظر ہوں۔

اس تناظر میں عصر حاضر میں قرآن کریم کے فہم اور تفہیم کے حوالہ سے جن بزرگوں کی علمی کاوشیں اصحاب فکر کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کراتی ہیں ان میں ہمارے شیخ محترم حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی قدس اللہ سرہ العزیز کی ذات گرامی نمایاں مقام و حیثیت رکھتی ہے۔ عربی زبان کے ساتھ ان کا تعلق و مہارت اور زبان و ادب کی گہرائیوں اور وسعتوں تک ان کی رسائی بلاشبہ قابل رشک رہی ہے، میں نے لندن کے ایک اجتماع میں ایک معروف عرب دانشور اور استاذ کو حضرت شیخ علیہ الرحمہ کی گفتگو پورے انہماک کے ساتھ سنتے دیکھا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو شیخ کی عربی سننے اور اس سے حظ اٹھانے کے لیے آتے ہیں۔

حدیث و سنت، فقہ و شریعت اور اسلامی تاریخ کی شخصیات و ادوار پر حضرت ندویؒ کی نظر اُن کے مقالات و خطبات میں جابجا جھلکتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ زمانہ کے تغیرات اور تنوعات سے ان کی کماحقہ آگاہی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف وہ امیر المومنین حضرت سید احمد شہیدؒ کی جدوجہد سے دنیا کو روشناس کرا رہے ہیں، دوسری طرف وہ مغرب کی تہذیب و فلسفہ کے نقاد و جراح دکھائی دیتے ہیں، تیسری جانب عربوں اور ترکوں کو ان کی سیاسی و تہذیبی کشمکش کے اسباب و عوامل اور نتائج و عواقب سے آگاہ کرنے میں مسلسل مصروف رہے ہیں، اور اس کے ساتھ پوری اسلامی تاریخ میں دعوت و عزیمت کے مختلف مراحل ان کی نوک قلم پر ہیں۔ تاریخ و سماج کے طالب علم کے طور پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ سے کسی حد تک روشناسی کے بعد ان کی فکری کاوشوں کو آگے بڑھانے اور زمانۂ حال میں ان کی تطبیق و نفوذ کی راہیں تلاش و ہموار کرنے میں جن شخصیات کا کردار متوجہ کرتا دکھائی دیتا ہے ان میں عملی جدوجہد کے حوالہ سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور فکری دنیا میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی جدوجہد سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے افکار و تعلیمات کے دائرے بہت وسیع اور متنوع ہیں جن میں فکری و علمی نکات کا ایک وسیع سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہو کر نوادرات کو اہل علم کے سامنے لانا آج کی علمی، دینی اور فکری ضرورت ہے۔ بالخصوص ایسے ماحول میں کہ مغرب کا فکر و فلسفہ طبعی عمر گزار کر واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے اور مغربی دانش علم و فکر کی دنیا میں کسی نئے راہرو کی تلاش میں ہے۔ قرآن کریم اور سنت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے اسلوب اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زبان میں دنیا کے سامنے لانا بلاشبہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

اس پس منظر میں حضرت ندویؒ کے فہم قرآن کریم کے حوالہ سے محترم ڈاکٹر محمد طارق ایوبی کا یہ تجزیاتی مقالہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کی اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نافع بنائیں، آمین یا رب العالمین۔