’’گلوبل فائرپاور انڈیکس‘‘ میں پاک فوج کی ترقی

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جنوری ۲۰۲۱ء

اس ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ ’’گلوبل فائر پاور انڈیکس ۲۰۲۱ء‘‘ کے مطابق پاک فوج اس سال دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست میں دسویں نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ میں یہ پندرہویں نمبر پر تھی۔ رپورٹ میں شامل پہلی دس افواج بالترتیب یوں ہیں: امریکہ، روس، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس، برطانیہ، برازیل اور پاکستان، جبکہ ترکی کا نمبر گیارہواں اور اسرائیل کا بیسواں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلح افواج کا یہ اعزاز پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر و مسرت ہے، اس سے وطن عزیز کی سلامتی و دفاع اور استحکام کے حوالہ سے یقیناً قوم کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور اس پر مسلح افواج کی قیادت بجا طور پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان اب سے سات عشرے قبل مسلم تہذیب کے تحفظ و بقا اور اسلامی نظریہ و تعلیمات کے فروغ و نفاذ کے عنوان سے دنیا کے نقشے پر ظہور میں آنے والی آزاد اور خود مختار ریاست ہے جس سے پورے عالم اسلام نے ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اور اس کا مختلف سطحوں پر اور مختلف دائروں میں وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر کی افواج میں پاک فوج کی یہ رینکنگ نہ صرف پاکستان بلکہ ملت اسلامیہ کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ اس موقع پر مجھے وہ مرحلہ یاد آ رہا ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر کے ایٹمی ممالک کی صف میں داخلے کا اعلان کیا تھا تو ایک معروف مصری صحافی فہمی ہویدی نے اپنے کالم میں اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب سوچ کے بات کرنا ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں، میں اس دور کی کسی تحریر میں اس کا تذکرہ کر چکا ہوں۔ چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص اسلامی نظریاتی حلقوں اور تحریکات نے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے جو امیدیں باندھ رکھی ہیں، اسلام دشمن عالمی قوتوں کی تمام تر سازشوں اور منفی لابنگ و پروپیگنڈا کے باوجود یہ توقعات اور امیدیں بدستور قائم چلی آ رہی ہیں۔

ایک اسلامی ریاست کے لیے قرآن کریم کی ہدایت یہ ہے کہ اس حد تک قوت پیدا کرو کہ دشمن تم سے مرعوب رہے۔ آج کی زبان میں اس کا مفہوم یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ امت مسلمہ اور عالم کفر کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے کہ قرآن کریم ہمیں اس کی تلقین کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قوت و استعداد میں ہر اضافہ ہمارے لیے باعث مسرت رہا ہے اور ہم نے ہمیشہ اس کی حمایت کی ہے کہ پاک فوج کو مضبوط سے مضبوط تر ہونا چاہیے اور اس کی عسکری ضروریات کو ہر قیمت پر پورا ہوتے رہنا چاہیے۔ فوجی اخراجات میں کمی کی جب بھی بات ہوتی ہے ہم نے ان کالموں میں اس کی مخالفت کی ہے اور پاکستان کے دفاع کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے مسلح افواج کے ضروری تقاضوں کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے‘‘ کے مصداق کچھ باتیں دوسرے رخ کی بھی عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں جن کا دائرہ دن بدن بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور محب وطن حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

  • مثلاً ایک یہ کہ پاکستان کی مسلح افواج کے ماٹو میں ’’جہاد‘‘ کا لفظ شامل ہے مگر جہاد کی شرعی اصطلاح اور عنوان کو ایک عرصہ سے بین الاقوامی سیکولر لابیوں نے جس منفی مہم کا نشانہ بنا رکھا ہے اس کے مقابلہ میں جہاد کے لیے قوم کی ذہن سازی کا ماحول دکھائی نہیں دے رہا۔ جہاد کی اصطلاح کا غلط استعمال انتہائی تکلیف دہ بات ہے مگر اس کی آڑ میں اس کے صحیح کردار کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کرتے چلے جانا بھی درست بات نہیں ہے، جبکہ اپنے موٹو کے حوالے سے اس پر غور کرنے کی ذمہ داری سب سے زیادہ عسکری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
  • اسی طرح پاک فوج وطن کی سرحدوں اور داخلی امن کے ساتھ ساتھ اس کی دستوری اور نظریاتی شناخت کی بھی محافظ ہے مگر دستور، نظریہ پاکستان اور مسلم تہذیب کے تحفظ حوالہ سے کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی، بلکہ اگر اسے بعض مسلم ممالک کی سیکولر افواج کی کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تاثر پریشانی کی حدوں کو چھونے لگتا ہے کہ مثلاً ترکی کی سیکولر فوج نے اب سے ایک عشرہ قبل تک کم و بیش پون صدی کے دوران سیکولرازم کی حفاظت کے نام پر جو کردار ادا کیا ہے، ہمارے ہاں اس حوالہ سے اسلامی نظریہ، مسلم تہذیب اور دستور پاکستان کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ کے محدود دور کے سوا کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔
  • اس کے ساتھ ڈرتے ڈرتے یہ عرض کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہے کہ دستور پاکستان کے تحت ملک اور دستور کے تحفظ کا حلف اٹھانے والوں کے سامنے بسا اوقات خود دستور ایک سوالی کی طرح ہاتھ پھیلائے دکھائی دینے لگتا ہے۔
  • پاک فوج ہماری قوت ہے، مان ہے، عزت ہے، دفاع کی ضمانت اور ہمارے قومی استحکام کی علامت ہے اس لیے کسی بھی حوالے سے اس کے خلاف انگلی اٹھنا ہمیں گوارا نہیں ہے۔ چنانچہ جب فوج کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کی تائید کرنے والوں میں بحمد اللہ ہم بھی شامل ہوتے ہیں مگر اس درخواست کے ساتھ کہ بات مکمل ہونی چاہیے کہ پاک فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہیے اور پاک فوج کو بھی سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم پاک فوج کو دنیا کی بہترین افواج کی فہرست میں ترقی کرنے پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج کی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ قوم کا یہ مان قائم رکھے اور مسلح افواج کو ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ناقابل تسخیر بنا دے، آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter