شریعت میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

ایک نظام دنیا میں سورج کی گردش کے حساب سے چلتا ہے، ایک چاند کی گردش کے حساب سے۔ سورج کی گردش والا سال ’’شمسی سال‘‘ کہلاتا ہے، جنوری، فروری، مارچ، اپریل، مئی۔ اور ایک ’’قمری سال‘‘ کہلاتا ہے محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی۔ ہماری عبادات میں، شرعی معاملات میں سورج کی گردش کا اعتبار بھی ہے اور چاند کی گردش کا اعتبار بھی ہے۔ ہمارے ہاں شریعت میں دنوں کا تعین چاند سے ہوتا ہے، اوقات کا تعین سورج سے ہوتا ہے۔

ہم جب ایام طے کرتے ہیں، یہ شب برأت ہے، یہ شب معراج ہے، یہ شب قدر ہے، یہ ایام بیض ہیں، اور یہ ایام حج ہیں۔ تو ایام جب طے کرتے ہیں کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے، یہ محرم کا مہینہ ہے، یہ عاشورہ ہے، ایام اور مہینے جب طے کرتے ہیں تو ان میں اعتبار ہوتا ہے چاند کا۔ لیکن جب اوقات طے کرتے ہیں تو ان میں اعتبار ہوتا ہے سورج کا۔

روزے کے دن کا تعین چاند سے کریں گے، یہ پہلا روزہ ہے، یہ ستائیسواں ہے، یہ انتیسواں ہے، اس کا تعلق چاند سے ہے۔ لیکن روزے کا وقت جو طے کریں گے تو اس کا تعلق سورج سے ہے۔ طلوع فجر، غروب آفتاب۔ طلوع فجر سورج کے طلوع سے پہلے ہوگی، اور غروب آفتاب سورج کا غروب ہے۔ ہمارے روزے کے دورانیہ کا تعین بھی سورج کی گردش سے ہے۔

حج کے ایام کا بھی یہی حال ہے۔ حج کے ایام طے کریں گے چاند سے،آج یوم الترویہ ہے، آج یوم الحج ہے، آج یوم الاضحٰی ہے۔ لیکن حج کے اوقات اور اعمال کا تعین سورج سے ہے۔ رمی کس وقت کرنی ہے، مزدلفہ کب جانا ہے، عرفات سے کب آنا ہے۔

ہم نمازوں کے اوقات بھی سورج کی گردش سے طے کرتے ہیں۔ فجر کس وقت ہے، ظہر کس وقت ہے، عصر کس وقت ہے، مغرب کس وقت ہے، عشاء کس وقت ہے۔ ساری نمازوں کے اوقات کا تعلق سورج کی گردش سے ہے۔ سورج کے آگے آگے سورج کے پیچھے پیچھے۔ سورج کا دورانیہ بڑھ جائے گا تو نمازوں میں وقفہ زیادہ ہو جائے گا، سورج کا دورانیہ کم ہو گا تو نمازوں میں وقفہ کم ہو جائے گا۔

تو میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں یہ نہیں ہے کہ ہم سورج کی گردش کو نہیں مانتے، ہم تو روزمرہ اسی کو مانتے ہیں۔ ہمارے اعمال اور اوقات سورج کی گردش کے حساب سے چلتے ہیں، اور ایام اور مہینے چاند کی گردش کے اعتبار سے چلتے ہیں۔

البتہ چاند کا مہینہ چھوٹا ہے سورج کے مہینے سے، دس دن کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اس میں بہت سی حکمتیں مفسرین بیان فرماتے ہیں۔ ایک حکمت یہ ہے۔ یعنی ایام کا تعلق چاند سے کرنے کی حکمتیں کیا ہیں، ایک حکمت یہ بیان فرماتے ہیں کہ چاند کا مہینہ ہر تین سال کے بعد (سورج کا) مہینہ بدل لیتا ہے۔ پیچھے آتا رہتا ہے۔ اور (سورج کے) تینتیس سال میں چاند کا مہینہ چاروں موسموں میں، جہاں چار موسم ہوتے ہیں، گردش پوری کر لیتا ہے۔ اگر ایک مسلمان بالغ ہونے کے بعد طبعی عمر کو پہنچنے تک ، یعنی اس کو تیس پینتیس سال مل جائیں، تو وہ سال کے ہر موسم کے روزے رکھ لیتا ہے۔ ٹھنڈے روزے بھی مل جاتے ہیں، گرم روزے بھی مل جاتے ہیں، لمبے روزے بھی مل جاتے ہیں، درمیانے بھی مل جاتے ہیں، چھوٹے بھی مل جاتے ہیں۔ گویا پورا سال روزے رکھے ہیں اس نے۔ ایک حکمت یہ بیان فرماتے ہیں۔

ضمناً ایک بات عرض کر دیتا ہوں۔ فقہاء مسئلہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ میں جب ہم حساب کرتے ہیں تو چاند کے حساب سے کرنی چاہیے۔ زکوٰۃ میں سال کب مکمل ہو گا، کب زکوٰۃ دینی ہے، اس کا حساب چاند کے مہینوں کے حساب سے کرنا چاہیے، شرعاً یہ ضروری ہے۔ ورنہ تینتیس سال میں ایک سال کی زکوٰۃ رہ جائے گئی۔ اگر کوئی آدمی سالانہ زکوٰۃ جنوری فروری کے حساب سے دیتا ہے تو تینتیس سال کے بعد ایک سال کی زکوٰۃ رہ جائے گی، کیونکہ یہ (سورج کے سال) تینتیس ہوں گے اور وہ (چاند کے سال) چونتیس ہوں گے۔