مسلمانوں کی تین الگ تصویریں

بہت اہم سوال ہے۔ کوئی آج سے بیس سال پہلے، برطانیہ کا شہر ہے لیسٹر، اس میں مسلمانوں کا ادارہ ہے اسلامک فاؤنڈیشن، وہاں کی ایک تقریب تھی، پروفیسر خورشید صاحب کا ادارہ ہے وہ، ہمارے پروفیسر خورشید صاحب جو ہیں سینٹ کے۔ اس وقت وہاں کے، برٹش پارلیمنٹ کے ممبر تھے جم مارشل، وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے، علاقے کے ایم پی تھے، ممبر پارلیمنٹ تھے۔ اور مسلمانوں کی تقریب تھی، تقریب تھی بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے، اس دور کی بات ہے یہ، جم مارشل نے تقریب میں ایک بات کہی، آپ کی بات کی تائید میں اس کو نقل کرنا چاہتا ہوں، اس نے کہا کہ دیکھو ہم مغرب والے، اسلام کی بات سننا چاہتے ہیں، اسلام کو اسٹڈی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمارا ایک کنفیوژن دور کر دیں۔ وہی جو آپ نے ذکر کیا ہے، اس نے کہا کہ ہمارا کنفیوژن کیا ہے؟

  1. اس نے کہا کہ اسلام کی بات ہمارے بڑے جو نسلاً بعد نسلاً ہمیں بتاتے چلے آ رہے ہیں، اسلام کی وہ تصویر بالکل الگ ہے، ہمیں جو نسلوں سے (بتایا جا رہا ہے کہ) اسلام یہ ہے اسلام وہ ہے، وہ ایک الگ پکچر ہے۔
  2. ہم بہرحال پڑھے لکھے لوگ ہیں، ریسرچ کرتے ہیں، اسٹڈی کرتے ہیں، جب اوریجنل سورسز سے اسٹڈی کرتے ہیں تو اسلام کی جو تصویر ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ اس (پہلی تصویر سے) مختلف ہے جو ہمارے بڑے بتاتے آ رہے ہیں۔
  3. لیکن جب ہم موجودہ مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک تیسری پکچر سامنے آ جاتی ہے۔

ہمیں کوئی اور پکچر بتائی جاتی ہے، اسٹڈی کر کے کوئی اور پکچر بنتی ہے، اور مسلمانوں کو دیکھ کر ایک نئی پکچر بن جاتی ہے۔ یہ تین پکچرز ہیں۔ یہ کنفیوژن آپ ہمارا دور کر دیں، اسلام کی بات ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ دعوت (کا اسلوب) اس زمانے میں بھی (یہی رہا ہے)، حضور ﷺ کے زمانے میں بھی، اور صحابہؓ کے زمانے میں، اور تابعینؒ کے زمانے میں، اور حضرات صوفیاء کرامؑ کے زمانے میں بھی، دعوت میں الفاظ کم کام دیتے ہیں اور عمل زیادہ کام دیتا ہے۔ ہم دعوت کا عمل نہیں بن رہے۔ لوگ ہمیں دیکھ کر مسلمان ہوتے تھے، باتوں سے بھی متاثر ہوتے ہوں گے، لیکن زیادہ مسلمان ہوتے تھے ہمیں دیکھ کر کہ اچھے لوگ ہیں یار، ہمیں بھی (مسلمان ہونا چاہیے)۔ خدا کرے کہ ہم کوئی صورت پیدا کر سکیں، کوشش تو ہو رہی ہے کہ ہم ایک اچھا نمونہ بن سکیں، جس دن ہم عملی پکچر صحیح کر سکے اپنی دنیا کیلئے، دنیا اس وقت اسلام کی اور ہدایت کی تلاش میں ہے، رکاوٹ ہم ہیں، ہماری زبان نہیں، ہمارا عمل، کہ ہم وہ پکچر نہیں دکھا رہے ان کو کہ جس کو دیکھ کر وہ کہیں کہ اچھے لوگ ہیں، یہ کوشش کرنی چاہیے، اللہ کرے کہ ہم اس قابل ہو جائیں۔