سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

یکم فروری کو لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی رہائش گاہ پر مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ راہ نماؤں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت راقم الحروف نے کی۔ اجلاس کے شرکاء میں مولانا عبد الرؤف فاروقی کے علاوہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (جماعت اسلامی)، مولانا عبد الرؤف ملک (متحدہ علماء کونسل)، مرزا محمد ایوب بیگ (تنظیم اسلامی)، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر (پاکستان شریعت کونسل)، مولانا عبد النعیم (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)، قاری محمد رفیق زاہد (اہل سنت والجماعت)، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین (ملی مجلس شرعی)، میاں محمد اویس (مجلس احرار اسلام)، قاری محمد رفیق وجھوی (انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ)، مولانا حافظ محمد نعمان (جامعۃ الخیر)، حافظ محمد رفیق (دارالہدٰی) اور مفتی محمد مغیرہ (جامعہ اسلامیہ) بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اجلاس میں سودی نظام کے سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت نظر ثانی کی اپیل کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے سوال نامہ کا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب بھجوانے کے لیے کام جاری ہے اور مختلف مسوّدات پر سرکردہ علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور حتمی جواب کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں تک وفاقی شرعی عدالت میں اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے اور اس کے بعد تمام مکاتب فکر کے متفقہ جواب کو آخری شکل دینے کے لیے سرکردہ علماء کرام کا قومی سطح پر سیمینار منعقد کر کے ان کی طرف سے یہ جواب وفاقی شرعی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس کیس میں جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی باقاعدہ فریق ہیں اور عدالتی کاروائی میں ان سے بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بطور خاص زور دیا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت میں کیس کی سماعت کے مختلف مراحل کے علاوہ عوامی سطح پر بھی سودی نظام کے سلسلہ میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور علماء کرام کو اس سلسلہ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں سود کی حرمت کے بارے میں قرآن و سنت کے احکام کو بار بار بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی اور ملکی معیشت میں سود کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ اور عالمی سطح پر غیر سودی بینکاری کی افادیت و ضروریات کو تسلیم کیے جانے کے حوالہ سے تازہ ترین صورت حال سے بھی علمی، دینی اور عوامی حلقوں کو متعارف کرانا چاہیے۔ طے پایا کہ اس سلسلہ میں ایک جامع بریفنگ رپورٹ مرتب کر کے علماء کرام، دینی کارکنوں، اساتذہ اور میڈیا کے اصحاب دانش میں تقسیم کی جائے گیا ور اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی کوشش کی جائے گی۔

اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ دینی مدارس کے تمام وفاقوں سے گزارش کی جائے کہ وہ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کو سودی نظام کی تباہ کاریوں اور اسلامی نظام معیشت کی برکات و فیوض سے روشناس کرانے کے لیے خصوصی تربیتی کورسز کا اہتمام کریں اور ائمہ و خطباء کو بھی ان کورسز میں شریک کریں تاکہ وہ اس اہم دینی مسئلہ پر عوام کی صحیح راہ نمائی کر سکیں۔ اجلاس تجویز کیا گیا کہ سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر سودی کاروبار کے مسلسل پھیلاؤ کا بھی نوٹس لیا جائے اور اس کی روک تھام کے لیے تاجر برادری اور دیگر حلقوں میں محنت کی جائے۔

اجلاس میں طے پایا کہ سودی نظام کے خلاف مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کو متحرک کیا جائے، اس کے لیے ابتدائی طور پر ’’سہ ماہی مہم‘‘ کا اہتمام کیا جائے، تمام دینی جماعتوں اور مراکز کے سرکردہ راہ نماؤں سے رابطہ قائم کر کے انہیں اعتماد میں کیا جائے اور ان کی سرپرستی اور راہ نمائی میں اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔

اس سلسلہ میں فیصلہ کیا گیا کہ ۲۱ فروری بروز جمعۃ المبارک پورے ملک میں ’’یوم انسداد سود‘‘ منایا جائے گا۔ ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے خطباء کرام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس روز جمعۃ المبارک کے خطبات میں سودی نظام کے خلاف آواز بلند کریں اور اسلامی نظام معیشت کی برکات بیان کر کے عوام کی راہ نمائی کریں۔ اس کے ساتھ سودی نظام کے خاتمہ اور اس سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ملک گیر دستخطی مہم چلائی جائے گی اور قوم کے تمام طبقات کو اس مہم میں شریک کیا جائے گا۔ یہ بھی طے پایا کہ ۲۱ فروری کے بعد ملک کے اہم مقامات میں سودی نظام کے خلاف سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا اور ۱۸ فروری کو منصورہ میں تحریک انسداد سود کی مرکزی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اس پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے سلسلہ میں ٹال مٹول کی پالیسی ترک کر کے واضح اور دو ٹوک اقدامات کے ذریعہ دستور پاکستان کے تقاضوں کے مطابق اسلامی نظام معیشت کو رائج کرنے کا اہتمام کرے۔

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کے سلسلہ میں یہ مشاورتی اجلاس اہم فیصلوں کے بعد مولانا عبد الرؤف ملک کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔