اختلاف رائے اور اسوۂ صدیق اکبرؓ

   
تاریخ بیان: 
۹ فروری ۲۰۲۱ء

۹ فروری ۲۰۲۱ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں نماز عصر کے بعد دیے گئے ہفتہ وار درس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کے بارے میں گزشتہ تین دروس میں مختلف باتیں عرض کی تھیں، آج اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اختلاف رائے کے حوالہ سے ان کا طرز عمل کیا تھا۔

رائے کا اختلاف فطری بات ہے، جہاں علم ہو گا اور عقل ہو گی وہاں اختلاف بھی ہو گا۔ اختلاف کا ہونا کوئی غلط بات نہیں بلکہ اختلاف کا نہ ہونا فطرت کے منافی ہے۔ ہماری امت کے دو سب سے بڑے بزرگوں حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کے درمیان بھی اختلاف ہوتا رہا ہے جو ہمارے لیے اسوہ اور نمونہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے ان دو بڑے بزرگوں کے درمیان متعدد امور میں اختلافات کا ذکر روایات میں ملتا ہے جن میں سے صرف تین واقعات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو خلافت صدیق اکبرؓ کے مختصر دور میں پیش آئے۔

پہلا اختلاف جس کا ذکر بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ کو خلافت کا منصب سنبھالتے ہی جن گروہوں اور قبائل کی طرف سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا ان میں مرتدین اور منکرین ختم نبوت کے علاوہ ایک گروہ منکرین زکوٰۃ کا بھی تھا جس کے سربراہ کا نام مالک بن نویرہ بتایا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کو اس گروہ کے خلاف جہاد میں اشکال تھا کہ یہ کلمہ پڑھتے ہیں اور دین کی باقی سب باتیں مانتے ہیں صرف زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں اس لیے ان کے خلاف سختی نہیں کرنی چاہیے۔ مگر حضرت صدیق اکبرؓ نے ان کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا جس پر دونوں بزرگوں میں مباحثہ ہوا، حضرت ابوبکرؓ نے بڑا ہونے کے ناتے سے حضرت عمرؓ کو سخت لہجے میں جواب بھی دیا اور اپنے موقف پر قائم رہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اسی طرح شرح صدر عطا فرمایا جیسے حضرت ابوبکرؓ کو شرح صدر ہو گیا تھا۔

دوسرا اختلاف قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنے کے حوالہ سے ہوا کہ مختلف جنگوں میں حافظ قرآن صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادتوں کی خبریں آنے پر حضرت عمرؓ کو قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں خدشہ اور خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے خلیفۂ رسولؐ کو تجویز دی کہ قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب کرا کے محفوظ کرا لینا چاہیے، جس سے حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر یہ ضروری ہوتا تو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتے، جب انہوں نے نہیں کیا تو میں بھی اسے ضروری نہیں سمجھتا۔ مگر بعد میں حضرت ابوبکرؓ اس کے لیے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ پر عمرؓ کی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا ہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دے کر قرآن کریم کو کتابی صورت میں لکھوا کر محفوظ کر دیا گیا۔

جبکہ تیسرا اختلاف بیت المال سے عام لوگوں کو وظائف تقسیم کرنے کے معاملہ میں ہوا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اتھارٹی تھے اور آپؐ کا ارشاد ہی قانون ہوتا تھا اس لیے اس دور میں کوئی اشکال کی بات نہیں تھی، مگر آپؐ کے بعد بیت المال سے لوگوں کو وظائف دینے کے بارے میں اصول اور قانون طے کرنے کی ضرورت تھی جس پر حضرت عمرؓ نے رائے دی کہ معاشرہ میں جو درجات فضیلت و مرتبہ کے حوالہ سے ہیں ان کے حوالہ سے وظائف کی تقسیم میں درجہ بندی کی جائے اور مختلف گریڈ طے کر کے اس کے مطابق وظائف دیے جائیں۔ مگر حضرت ابوبکرؓ نے یہ رائے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ معیشت کا معاملہ ہے اور حقوق کی بات ہے اس میں برابری کا اصول ہی چلے گا۔ ان کا ارشاد یہ ہے کہ ’’وھذا معاش فالاسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘۔ یہ معاش کا مسئلہ ہے اس میں برابری کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔ چنانچہ انہوں نے کسی قسم کی درجہ بندی کیے بغیر اپنے اڑھائی سالہ دور خلافت میں سب کو برابر وظیفے دیے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر تو خاموشی اختیار فرمائی مگر جب خود خلیفہ بنے تو وظائف کی تقسیم کا نیا نظام بنایا اور اس میں سب سے زیادہ وظیفہ ازواج مطہراتؓ کو، پھر مہاجرین کو، اس کے بعد انصار کو اور پھر دیگر طبقات کو درجہ بدرجہ وظائف تقسیم فرمائے۔ البتہ دس سال تک اس نظام پر عمل کے بعد اس کے معاشرتی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے تو حضرت عمرؓ کو الجھن ہوئی اس لیے کہ ایسے گریڈ سسٹم میں معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے اور سماج مختلف درجوں میں بٹ جاتا ہے۔ میں اس کی مثال دیا کرتا ہوں کہ جیسے ہمارے ہاں خاص طور پر اسلام آباد میں گریڈ سسٹم نے معاشرے کو مختلف دائروں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اکثر باہمی معاملات اس معاشرتی درجہ بندی کے دائروں میں طے پاتے ہیں۔ حضرت امام ابو یوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے درجہ بندی کے اس قسم کے معاشرتی نتائج دیکھے تو فرمایا کہ اب مجھے محسوس ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے اس معاملہ میں زیادہ صائب تھی، اس لیے اگلے سال سے میں اس نظام کو ان کی رائے کے مطابق ازسرنو ترتیب دوں گا، لیکن اگلے سال سے قبل وہ شہید ہو گئے اور معاملہ جوں کا توں رہا۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اختلاف رائے تو فطری امر ہے البتہ اس حوالہ سے اگر اپنے بزرگوں کے اسوہ کی پیروی کی جائے تو بہت سی الجھنوں اور نقصانات سے بچا جا سکتا ہے، اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد ۔ ۱۲ فروری ۲۰۲۱ء)