تحریکِ پاکستان میں علماء کا کردار

سوال: زاہد الراشدی صاحب! ہمیں یہ بتائیے کہ قیام پاکستان کے حوالے سے یہ جو ہمارا مذہبی طبقہ ہے خصوصاً علماء، ان کی کیا خدمات رہی ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پاکستان کے قیام میں علماء کا کردار دو مرحلوں میں ہے۔

ایک مرحلہ تو یہ ہے کہ جب یہاں مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوا اور انگریزوں نے قبضہ کیا، ایک سو سال تقریباً ایسٹ انڈیا کمپنی اور نوے سال تاجِ برطانیہ، اس انگریزوں کے قبضے کے خلاف آزادی کی جنگ کی قیادت علماء نے کی ہے۔ دوسرے طبقات بھی تھے، سب طبقات نے آزادی کی جنگ لڑی ہے علماء نے بھی اور دوسرے طبقات نے بھی۔ سراج الدولہ، ٹیپو سلطان، شہدائے بالاکوٹ، سردار احمد خان کھرل شہید پنجاب کے تھے، فقیر ایپی، حاجی صاحب ترنگزئی، حاجی شریعت اللہ، بیسیوں تحریکات ہیں جنہوں نے مسلح بھی اور پھر سیاسی بھی، ایک دور مسلح تحریکات کا تھا، بیسیوں تحریکات ہیں جنہوں نے انگریزی اقتدار کے خاتمے کے لیے جنگ لڑی، اور اس کے بعد سیاسی جدوجہد، آپ دونوں تحریکوں میں علماء کو صفِ اول میں دیکھیں گے۔

سیاسی جدوجہد کا آغاز تحریکِ خلافت سے ہوا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر احمد، حکیم اجمل خان، شیخ الہند مولانا محمود حسن، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔ اور پھر تحریک پاکستان میں جب آپ آئیں گے تو آپ کو قائد اعظم کے پیچھے مولانا اشرف علی تھانوی کھڑے نظر آئیں گے اور ان کے ساتھ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا عبد الحامد بدایونی، مولانا غلام مرشد، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی دکھائی دیں گے جو صف اول کی قیادت میں شریک تھے اور انہوں نے پاکستان کے قیام کے لیے اس درجے کی جدوجہد کی، اس وقت میں دو تاریخی حقائق کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔

  1. سلہٹ بنگال کی تقسیم کا جب فیصلہ ہوا اور مشرقی بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوا تو سلہٹ آسام کا حصہ تھا اور بہت بڑی آبادی ہے۔ تو سلہٹ میں ریفرنڈم کروایا گیا کہ انہوں نے آسام کے ساتھ رہنا ہے یا پاکستان میں شامل ہونا ہے؟ سلہٹ کے اس ریفرنڈم میں عوام کو پاکستان کے حق میں ہموار کرنے میں مولانا ظفر احمد عثمانی اور ان کی ٹیم کا بنیادی کردار ہے جس کو تاریخ آج بھی تسلیم کرتی ہے۔
  2. پھر یہ ہمارا کے پی کے (خیبرپختوخوا) جس کو صوبہ سرحد کہتے تھے، اس وقت یہاں ڈاکٹر خان صاحب کی گورنمنٹ تھی، پاکستان میں شامل ہونے کے لیے وہاں بھی ریفرنڈم کا تقاضا ہوا کہ عوام کی رائے پوچھی جائے وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا کسی دوسری طرف جانا چاہتے ہیں، وہاں پر باقاعدہ ریفرنڈم ہوا اور تاریخ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ صوبہ سرحد کا ریفرنڈم جیتنے میں بنیادی کردار مولانا شبیر احمد عثمانی اور پیر صاحب آف مانکی شریف کا تھا، یہ دو شخصیتیں ہیں جنہوں نے سرحد کے عوام کو پاکستان کے حق میں تیار کیا اور یہ پاکستان میں شامل ہوئے۔

سوال: یہ بتائیے کہ یہ کلکتہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے نام سے یہ جو جماعت بنی تھی، اس کے بننے کا کیا مقصد تھا؟

پاکستان کے قیام کے مسئلہ پر تحریک پاکستان کی حمایت کے لیے ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے نام سے یہ جماعت کلکتہ میں بنی، یہ اس لیے بنی تاکہ علماء کو تحریک پاکستان کے لیے منظم کیا جائے اور جمعیۃ علماء اسلام نے بطور پارٹی کے مسلم لیگ کے ساتھ حصہ لیا اور سارے کام میں شریک ہوئے۔

تحریک آزادی میں بھی اور تحریک پاکستان میں بھی علماء کا بنیادی کردار ہے اور تاریخی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے کراچی میں پاکستان کا پرچم لہرانے کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی سے کہا اور ڈھاکہ میں پرچم لہرانے کے لیے مولانا ظفر علی عثمانی سے کہا جو ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ تو جس طرح دوسرے طبقات تھے، کسی طبقے کی قربانیوں کا انکار نہیں ہے، کسی جماعت کی خدمات کا انکار نہیں ہے، لیکن دوسری جماعتوں اور طبقات کے شانہ بشانہ علماء بھی تحریک آزادی میں اور تحریک پاکستان میں قائدانہ کردار کا حصہ رہے ہیں اور یہ تاریخی حقیقت ہے۔