آسمانی کتابوں کا ایجنڈا

دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ وحی کا ذکر کیا ہے، کتابوں کا۔ ذرا تفصیل سامنے لے آئیں۔ کتابیں کتنی آئی ہیں بڑی؟ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے چاروں کا ذکر کیا ہے۔ ’’انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدًی و نور‘‘۔ تورات ہم نے اتاری، تورات کا ایجنڈا کیا تھا؟ ’’یحکم بھا النبیون‘‘۔ اس کے بعد ہم نے کیا اتاری؟ ’’ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ‘‘۔ انجیل جب اتاری تو اس کا ایجنڈا کیا تھا؟ انجیل کا ایجنڈا بھی یہی ہے (سورہ المائدہ)۔ زبور کس پر اتاری؟ ’’یا داوود انا جعلنٰک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق‘‘ (سورہ ص)۔ زبور کا ایجنڈا بھی کیا ہے؟ آخری کتاب کونسی آئی ہے؟ ’’انزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنًا علیہ فاحکم بینھم بما انزل اللہ‘‘ (سورہ المائدہ)۔

تورات کا ایجنڈا بھی فاحکم، انجیل کا ایجنڈا بھی فاحکم، زبور کا ایجنڈا بھی فاحکم، قرآن کا ایجنڈا بھی فاحکم۔ چاروں بڑی کتابیں ہیں۔ تورات کا ایجنڈا کیا ہے؟ ’’یحکم بھا النبیون‘‘۔ انجیل کا ایجنڈا کیا ہے؟ ’’ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ‘‘۔ زبور کا ایجنڈا کیا ہے؟ ’’یا داوود انا جعلنٰک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق‘‘۔ قرآن کریم کا ایجنڈا کیا ہے؟ ’’وانزلنا الیک الکتاب بالحق ۔۔۔۔ فاحکم بینھم بما انزل اللہ‘‘۔

اور یہاں اور وضاحت کر دی، تفصیل سے یہ بات کی ہے۔ آگے ’’وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآءھم‘‘۔ اور اگلی آیت کیا ہے؟ ’’افحکم الجاھلیۃ یبغون؟ ومن احسن من اللہ حکمًا لقوم یوقنون‘‘۔ یہ سارا تسلسل ہے تورات، انجیل، زبور، قرآن کریم سب بیان کر کے اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ ’’افحکم الجاھلیۃ یبغون؟‘‘ ان کتابوں کی حاکمیت نہیں مانتے تو کس کی مانتے ہو، جاہلیت کی؟ گویا آسمانی تعلیمات کی حکومت وحی کی حکومت ہے، اور آسمانی تعلیمات سے ہٹ کر حکومت کیا ہے؟ ’’حکم الجاھلیۃ‘‘۔ ’’من احسن من اللہ حکمًا لقوم یوقنون‘‘۔ اللہ سے زیادہ حکم کس کا ہے؟ اللہ کے حکم سے ہٹ کر باقی حکم کیا ہیں؟ ’’حکم الجاھلیۃ‘‘۔ (سورہ المائدہ)

تو یہ میں نے تھوڑا سا عرض کیا ہے کہ ریاست میدنہ کا نظریاتی پس منظر کیا ہے۔ اس کے پیچھے تورات کھڑی ہے، انجیل کھڑی ہے، زبور کھڑی ہے، قران کریم تو ہے ہی، موسٰی علیہ السلام کی تحریک آزادی کھڑی ہے، شعیب علیہ السلام کھڑے ہیں، لوط علیہ السلام کھڑے ہیں، یہ ریاست مدینہ کا نظریاتی پس منظر ہے۔