دینی مدارس کا کردار اور تحفظات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ویسے تو حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ایک کام میں ہم کچھ سست پڑ گئے تھے، اس نے پھر سے ہمیں بیدار کر دیا ہے۔ دینی تعلیمات کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہمارے معاشرے میں ڈیڑھ سو برس سے محنت ہو رہی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ لیکن جب سے دینی مدارس قائم ہیں، ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی جاری ہے جو ظاہر ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس لیے کہ دینی مدارس جس ایجنڈے پر مصروفِ کار ہیں وہ آج کی ان قوتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے جو عالمی اور علاقائی سطح پر تسلط رکھتی ہیں، اور وہ دینی مدارس کے کام کو اس تسلط کے باقی رہنے میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔

دینی مدارس اپنے قیام سے اب تک ایک ہی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہیں کہ انسانی سوسائٹی کا تعلق وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ جڑا رہے اور زمین پر بسنے والے سب لوگ اپنی زندگی آسمانی تعلیمات کی روشنی میں وحی الٰہی کی ہدایات کے مطابق بسر کریں۔ جبکہ دنیا میں آج کا رائج الوقت فکر و فلسفہ یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی، آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول کرنے کی بجائے اپنی سوچ اور خواہشات کے مطابق زندگی گزارے اور ووٹنگ کے ذریعہ سوسائٹی کی اکثریت کی خواہشات معلوم کر کے اس کی بنیاد پر ملکوں اور قوموں کا نظام چلایا جائے۔ یہ کشمکش نئی نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور جب تک اس زمین پر انسان آباد ہیں، یہ کشمکش بھی چلتی رہے گی۔

پاکستان میں ہزاروں دینی مدارس مختلف سطحوں پر مصروف کار ہیں جو قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم سے لے کر فقہ و حدیث اور دعوت و ارشاد کے تخصصات تک ہر سطح پر دینی تعلیم کا اہتمام کیے ہوئے ہیں اور کسی حکومت یا مالی ادارے سے تعاون لینے کی بجائے عام مسلمانوں کے رضا کارانہ تعاون کے ساتھ اپنا نظام چلا رہے ہیں۔ عوام بھی اس ملی و قومی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ان کے ساتھ مخلصانہ تعاون کرتے ہیں اور بحمد اللہ تعالیٰ دینی مدارس کو اس حوالہ سے کبھی عوام سے مایوسی نہیں ہوئی۔ بلکہ عوام کی دل چسپی اور تعاون ہی کی وجہ سے دینی مدارس اور ان میں طلبہ و طالبات کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور ان کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

دینی مدارس کے اس نظام کے بارے میں حکمران طبقات کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ یہ مالی اور انتظامی طور پر آزاد اور خود مختار ہیں۔ اس لیے اپنی پالیسیوں میں بھی آزاد رہتے ہیں اور تعلیمی نظام و نصاب میں حکومتوں کی مداخلت اور نگرانی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ چنانچہ وقفہ وقفہ کے ساتھ حکومتوں کی طرف سے یہ پالیسی سامنے آتی رہتی ہے کہ ان مدارس کو کسی سرکاری نظام میں لایا جائے اور ان کی آزادی و خود مختاری کو محدود کیا جائے۔ مگر اس کے لیے دینی مدارس کبھی تیار نہیں ہوئے اور اس سلسلہ میں دینی مدارس کے تحفظات کچھ اس طرح کے ہیں کہ:

  • دینی تعلیم ہمارے معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، مگر حکومت اس کے لیے کبھی سنجیدہ نہیں ہوئی، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ملک کے دستور اور قومی ضروریات کے مطابق دینی تعلیم کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا رہا۔ بلکہ جو تھوڑی بہت دینی تعلیم کسی درجہ میں سرکاری تعلیمی اداروں میں موجود ہے اس کے حجم اور معیار کو بھی مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت قیام پاکستان کے بعد دینی تعلیم کے قومی اور معاشرتی تقاضوں کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہوتی اور مختلف مراحل میں اس کا اہتمام کرتی تو دینی مدارس کا نہ صرف بہت سا بوجھ ہلکا ہو جاتا بلکہ اعتماد کی ایسی فضا بھی پیدا ہو جاتی جو دینی مدارس کو کسی سرکاری یا نیم سرکاری دائرے میں لانے کے لیے مفید بن جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا اور موجودہ حالات میں اس کی توقع بھی نہیں ہے۔ اس لیے دینی مدارس بجا طور پر یہ خدشہ و خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں سرکاری نظم کے تابع کرنے کا مقصد دینی تعلیم کے فروغ میں معاونت کرنا نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں کی طرح دینی مدارس میں اسلامی تعلیمات کے حجم اور معیار کو کمزور کرنا ہے۔
  • یہ منظر بھی دینی مدارس کے شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے کہ ملک میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف اہداف اور مزاجوں کے الگ الگ تعلیمی نصاب نئی نسل میں ذہنی خلفشار اور تہذیبی انارکی کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کی طرف تو حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے بلکہ ان کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ مگر دینی مدارس پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری نظم کی پابندی قبول کریں۔ یہ دُہرا طرز عمل بھی دینی حلقوں کے اضطراب اور بے چینی میں اضافے کا سبب ہے اور وہ دینی مدارس کی مالی و انتظامی خود مختاری کو ہر حال میں برقرار رکھنے پر مصر ہیں۔ کیونکہ وہ اس خود مختاری کے بغیر دینی مدارس کے اس تعلیمی کام کے مستقبل کو مخدوش سمجھتے ہیں جو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے جاری ہے اور جس کے ثمرات و نتائج نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
  • دینی مدارس اس سے قبل اس قسم کے تلخ تجربہ سے گزر چکے ہیں جس کا ہم نے ان کالموں میں کئی بار حوالہ دیا ہے کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں بیسیوں دینی مدارس محکمہ تعلیم اور محکمہ اوقاف نے تحویل میں لیے تھے جن میں بہاول پور کا جامعہ عباسیہ بھی شامل ہے جسے اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔ مگر ان مدارس میں سے اکثر کا وجود تک باقی نہیں رہا۔ جو ہیں ان میں تعلیم برائے نام ہے، جبکہ جامعہ عباسیہ کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے بعد اس کے نصاب میں سے درس نظامی کو دھیرے دھیرے بالکل خارج کر دیا گیا ہے جس سے دینی مدارس کے حوالہ سے رولنگ کلاس کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

اس لیے اگر دینی مدارس کسی سرکاری کنٹرول کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں تو اس کی وجوہات معقول ہیں اور حکومت کو اپنے ایجنڈے پر بے جا اصرار کرنے کی بجائے دینی تعلیم کے معاشرتی تقاضوں کا احترام کرنا چاہیے۔