دینی تقریبات میں شرکت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مدارس میں اسباق کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے اور بخاری شریف سمیت مختلف بڑی کتابوں کے اختتامی اسباق کے حوالہ سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ میرا ذوق شروع سے چلا آرہا ہے کہ ان تقریبات اور اپنے اسفار کے بارے میں قارئین کو مختصرًا آگاہ کرتا رہتا ہوں جس کے بارے میں دل چسپ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہو۔ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس اور مراکز کے بارے میں ہمیں اس سے معلومات ملتی رہتی ہیں، اور بسا اوقات ہم خود کو بھی شریک سفر سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ ایک صاحب نے فرمایا کہ تمہارے ہوئے ہوئے سرکاری اداروں کو کوئی مخبر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، تمہارے کالموں سے ان کو دیوبندی مراکز اور تقریبات کے بارے میں بہت سی معلومات خود بخود مل جاتی ہیں۔ بہرحال میں اس ذوق کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہوں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران چند مدارس کی تقریبات میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی جن کی سرسری رپورٹ نذرِ قارئین ہے۔

۱۷ اپریل جمعرات کو کھیالی گوجرانوالہ میں بنات کے ایک مدرسہ میں جو ام المومنین حضرت أم سلمہؓ کے اسم گرامی سے موسوم ہے، ختم بخاری شریف کی تقریب تھی۔ ہمارے محترم بزرگ ڈاکٹر محمد رفیق نے اپنے گھر میں یہ مدرسہ قائم کر رکھا ہے اور سالہا سال سے ختم بخاری شریف کی تقریب میں حاضری کی سعادت مجھے حاصل ہو رہی ہے۔ حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ بھی اس مدرسہ میں تشریف لے گئے تھے اور انہی کی سرپرستی میں یہ مدرسہ قائم ہوا تھا۔

اس روز شام کو پیپلز کالونی فیصل آباد کے جامعہ سعدیہ میں ختم بخاری شریف کا پروگرام تھا جو مولانا قاری محمد نعیم سعدی اور مولانا عبد الرزاق کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ مولانا قاری جمیل الرحمن اختر اور محترم حاجی احمد یعقوب چودھری قادری کے ہمراہ حاضری کا شرف حاصل ہوا اور بچیوں کو بخاری شریف میں ان کے نصاب کی آخری حدیث پڑھائی۔

جمعۃ المبارک کے موقع پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کا پروگرام تھا، یہ مدرسہ مرکزی جامع مسجد میں ۱۹۲۶ء سے قائم ہے اور شہر کا سب سے قدیمی مدرسہ ہے جو شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے مایہ ناز شاگرد حضرت مولانا عبد العزیز محدث سہالویؒ نے قائم کیا تھا۔ ان کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ اس کے مہتمم رہے ہیں ، اور اب مولانا داؤد احمد یہ ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، حضرت مولانا قاضی عصمت اللہؒ ، اور حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ آف آزاد کشمیر جیسے بزرگ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ اور مجھے کم و بیش بیس سال اس مدرسہ میں تدریس کا موقع ملا ہے۔ بخاری شریف کا آخری سبق پڑھانے کے لیے حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کے دور سے ہی شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم مسلسل تشریف لا رہے ہیں، اس سال بھی انہوں نے تشریف لانا تھا مگر عین وقت پر اچانک علالت میں اضافہ کی وجہ سے سفر نہ فرما سکے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ اس لیے یہ خدمت مجھے سر انجام دینا پڑی۔

جمعہ کی شام کو گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی مسجد میں مغرب کے بعد معمول کے ہفتہ وار درس کے بعد حافظ بشیر احمد چیمہ، قاری محمد عمر فاروق، اور جناب زاہد اقبال کے ہمراہ سیالکوٹ جانا ہوا، جہاں عشاء کے بعد مولانا حماد انذر قاسمی نے پراگ پور میں سیرت النبیؐ پر ایک جلسہ کا اہتمام کر رکھا تھا، وہاں خطاب کی سعادت حاصل کی۔

ہفتہ کے روز مغرب کے بعد لالہ موسیٰ کی مسجد شیخاں میں جمعیۃ علماء اہل سنت ضلع گجرات کے زیر اہتمام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک اجتماع سے خطاب کیا اور اس کے بعد جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جھلم کی تقریب میں حاضری دی۔ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام ملک کے اہم دینی مدارس میں سے ہے جو مجاہد اہل سنت حضرت مولانا عبد اللطیف جھلمیؒ کا صدقہ جاریہ ہے۔ ان کے بعد مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ ، اور اب ان کے فرزند مولانا قاری ابوبکر صدیق سلّمہ اس کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ مذہب اہل السنۃ والجماعۃ اور مسلک علماء دیوبند کے لیے جدوجہد میں یہ مدرسہ امتیازی شان اور تعارف رکھتا ہے۔ جامعہ حنفیہ کے زیر اہتمام ایک پبلک پارک میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر عوامی جلسہ تھا جس سے تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور حسین، وفاق المدارس کے راہ نماؤں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا قاضی عبد الرشید اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ جبکہ اسی موقع پر ختم بخاری شریف کا اہتمام بھی کیا گیا اور جامعہ حنفیہ کے دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری روایت کا درس دینے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

اتوار کو صبح دس بجے نوشہرہ سانسی گوجرانوالہ میں کالعدم سپاہ صحابہؓ کے راہ نما مولانا ارشد حمیدی کے زیر اہتمام خدمات سر انجام دینے والے بنات کے مدرسہ میں حاضری ہوئی، مشکوٰۃ شریف کا آخری سبق مولانا مفتی فخر الدین عثمانی نے پڑھایا اور بخاری شریف کا آخری سبق پڑھانے کی سعادت میں نے حاصل کی، اور اس کے بعد ساہیوال کی طرف روانہ ہوگیا۔ جہاں جامعہ رشیدیہ کی سالانہ ختم بخاری شریف کی تقریب تھی۔ مغرب کے بعد اس تقریب کا آغاز ہوا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا اور ان سے پہلے مجھے معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ میں نے عرض کیا کہ ہم نے جن اداروں سے دیوبندیت کا سبق پڑھا ہے ان میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اس ملک میں مسائل کی علمی تحقیق کے حوالہ سے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو دیوبندیت کے علمی ترجمان کا مقام حاصل ہوا ، اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ ان کا مرکز تھا۔ جبکہ دیوبندیت کے تحریکی اور تاریخی پس منظر سے نئی نسل کو جامعہ رشیدیہ ساہیوال نے متعارف کرایا، حضرت مولانا فقیر اللہؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہؒ ، حضرت مولانا قاری لطف اللہ شہیدؒ ، اور مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کی رفاقت میں یہ خدمت حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدیؒ نے بہت خوبی کے ساتھ سر انجام دی۔ اور مختلف دینی تحریکات اور اجتماعات میں مجھے بھی ان کے ساتھ نیاز مندانہ رفاقت کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

ساہیوال میں ہمارے پرانے دوست ڈاکٹر محمد اعظم چیمہ آف چیچہ وطنی نے نیا مکان بنایا ہے، اس خوشی میں انہوں نے پرانے دوستوں کو جمع کرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی، حاجی عبد اللطیف چیمہ، ڈاکٹر حافظ محمد طاہر، جناب صفدر سلیم، ڈاکٹر منظور احمد، مولانا بشیر احمد شاد اور دیگر دوستوں کے ہمراہ رات وہاں گزاری، اور پیر کی صبح کو مسجد شہداء میں درس دینے کے بعد جامعۃ الحسن میں مختصر حاضری دے کر گوجرانوالہ کی طرف واپس چل دیا۔