نعت رسولؐ کے آداب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

3 مئی کو جامعہ سرور کونینؐ بادامی باغ لاہور میں محفل حمد و نعت تھی جس میں ملک بھر کے نامور نعت خوان حضرات نے شرکت کی۔ جبکہ حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی اور مولانا مفتی محمد حسن کے خطابات ہوئے، اور مجھے بھی کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس سے دو روز بعد مسجد شہزادہ یوسف موتی بازار گجرات میں جمعیۃ علماء اہل سنت ضلع گجرات کے زیر اہتمام ماہانہ درس قرآن کریم کے عنوان سے بھی کم و بیش یہی معروضات پیش کیں۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہم اپنی نسبت کے اظہار اور شناخت کے لیے کرتے ہیں کہ اس سے انسانی سوسائٹی کی رنگا رنگ تقسیم میں ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اور آپؐ کے ساتھ نسبت کے اظہار کے بعد مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم یہ تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اکثر زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ ذکر کرنا نہیں پڑتا بلکہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ محبت اپنا اظہار خود کرتی ہے اور اس کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے ساتھ ہم جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے لیے کرتے ہیں کہ جہاں آقائے نامدار کا ذکر ہوتا ہے وہاں رحمتوں اور برکتوں کا صرف نزول نہیں ہوتا بلکہ بارش ہوتی ہے۔ جبکہ ہم جناب رسول اللہؐ کا ذکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھی کرتے ہیں کہ آپؐ کے ذکر سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔

آنحضرتؐ کا تذکرہ نثر میں ہو یا نظم میں، مدح و نعت کی صورت میں ہو یا رہبری و راہ نمائی کے حوالہ سے ہو، ہر طرح باعث برکت ہے۔ لیکن اس مبارک تذکرہ کے کچھ آداب ہیں جنہیں ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ آداب اور تقاضے قرآن کریم نے بھی بیان کیے ہیں اور خود حضورؐ نے بھی بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے دو تین کا تذکرہ کرنا اس وقت مناسب سمجھتا ہوں۔ مثلاً قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ

لَّا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۔ (سورہ النور ۲۴ ۔ آیت ۶۳)

’’رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو۔‘‘

اس کے مختلف معانی مفسرین کرامؒ نے بیان کیے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جناب رسول اللہؐ کی دعا عام آدمی کی دعا کی طرح نہیں ہے۔ دوسرا معنٰی یہ ہے کہ حضورؐ کسی کو بلائیں تو ان کا بلانا عام آدمی کے بلانے کی طرح نہیں ہے۔ اور تیسرا معنٰی یہ ہے کہ حضورؐ کو اس طرح بے تکلفی سے نہ پکارو جس طرح ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ یہ مقام ادب ہے حتیٰ کہ اس کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اگر مجلس میں تمہاری آواز رسول اللہؐ کی آواز سے بلند ہوگئی تو یہ سوء ادب تصور ہوگی اور تمہاری نیکیاں اس طرح برباد ہو جائیں گی کہ تمہیں شعور تک نہ ہوگا۔

اس پر مجھے اپنا بچپن کا ایک واقعہ یاد آیا ہے کہ ہمارے طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ میں ایک نعتیہ مشاعرہ تھا جس میں طرح مصرعہ یہ تھا:

دل زندہ جس سے ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

یہ مولانا ظفر علی خان مرحوم کی ایک معروف نعت کا مصرعہ ہے۔ مگر ایک شاعر شہید جالندھری مرحوم نے یہ کہہ کر مصرعہ بدل لیا کہ میرا حضورؐ کو ’’تمہی تو ہو‘‘ کہہ کر خطاب کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے میں اسے ’’آپ ہی تو ہیں‘‘ میں تبدیل کر رہا ہوں۔ اس شاعر کی یہ بات میرے دل میں ایسی پیوست ہوئی کہ آج تک وہ منظر آنکھوں کے سامنے زندہ ہے۔ اس لیے نعت میں یا خطابت میں آنحضرتؐ کا تذکرہ اس طرح کی بے تکلفی کے ساتھ نہیں کرنا چاہیےجیسی ہم آپس میں روا رکھتے ہیں اور ادب و احترام کے تقاضوں کو ہر طرح سے ملحوظ رکھنا چاہیے۔

اسی طرح بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ ایک عید کے موقع پر انصار مدینہؓ کے کسی گھر میں گئے، وہاں چھوٹی بچیاں اپنے بڑوں کو یاد کر کے نظمیں گا رہی تھیں۔ حضورؐ سنتے رہے لیکن جب ایک بچی نے یہ پڑھا وفینا نبی یعلم مافی غد کہ ہمارے درمیان ایک پیغمبر موجود ہیں جو آنے والے کل کی بات بھی جانتے ہیں تو آپؐ نے اسے ٹوک دیا اور فرمایا کہ بیٹی! اس کو چھوڑ دو اور باقی جو کچھ پڑھ رہی ہو، پڑھتی رہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جناب رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے ہوئے عقائد کا بالخصوص عقیدۂ توحید کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اور کوئی ایسی بات آپؐ کے حوالہ سے نہیں کہنی چاہیے جو عقیدہ کے منافی ہو اور اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر زد پڑتی ہو۔

اس کے ساتھ ہی یہ روایت بھی ہے کہ جب جناب نبی اکرمؐ کے خلاف نعوذ باللہ عرب شاعروں کی طرف سے کی جانے والی ھجو کا جواب دینے کے لیے حضرت حسان بن ثابتؓ نے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں اپنی زبان کے ساتھ قریش کے شاعروں کو چمڑے کی طرح چیر کر رکھ دوں گا تو حضورؐ نے فرمایا کیف و فیھم نسبی؟ کہ ان کی مذمت کیسے کرو گے جبکہ میرا نسب بھی ان میں ہے؟ تو حضرت حسانؓ نے کہا کہ میں قریش کی ھجو کرتے ہوئے آپ کو ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اس پر حضورؐ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ حضرت ابوبکرؓ سے مل کر ان سے نسب نامے کی تفصیل معلوم کر لیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قریش کی مذمت کرتے ہوئے آپؐ کی ذات گرامی بھی غیر شعوری طور پر زد میں آجائے۔

اس لیے میں نعت خوان حضرات سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نعت رسولؐ کا ناگزیر تقاضہ یہ ہے کہ آنحضرتؐ کا ذکر کرتے ہوئے اسلامی عقائد بالخصوص توحید کا خیال رکھا جائے۔ اورحضورؐ کا تذکرہ اس طرح بے تکلفانہ انداز میں نہ کیا جائے جیسے ہم آپس میں ایک دوسرے کا کرتے ہیں اور آپؐ کے تذکرہ میں سوء ادب کے ہر ممکنہ پہلو سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

درجہ بندی: