حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

   
مقام / زیر اہتمام: 
جامعہ اسلامیہ محمدیہ، فیصل آباد
تاریخ بیان: 
۱۷ جون ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ان کی باتوں سے جو سمجھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب کا اپنا ایک نظام ہے، آل الشیخ وہاں مذہبی، تعلیمی اور قانونی امور کے ذمہ دار ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کریں کہ سعودی عرب کا موقف کیا ہے؟ یہ ریاست کا موقف ہے یا شہزادہ کا اپنا موقف ہے؟ آل الشیخ یعنی شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کا خاندان سعودی عرب کے نظام حکومت میں برابر کا شریک ہے اور معاہدہ کے تحت وہ مذہب، قانون اور تعلیم تینوں کے نگران ہیں، یہ اصل میں ان کا کام ہے۔ لیکن جو بات سمجھی جا رہی ہے اس کی اصولی پوزیشن کیا ہے، اس پر میں دو تین حوالوں سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ شہزادہ محمد بن سلمان مسلمانوں کی بڑی شخصیت ہیں، دنیا بھر میں اس سلسلہ میں مغالطے اور غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں، اس لیے اس کی اصولی حیثیت پر بات کروں گا، سعودی عرب کے علماء کی ذمہ داری ہے، اس کی اصولی حیثیت کیا ہے؟

کیا ایک اسلامی ریاست میں اور اسلامی حکومت میں قرآن کریم کے ساتھ سنت رسول قانون اور حکم کی بنیاد ہے یا نہیں ہے؟ اس پر چند باتیں مختصراً عرض کرنا چاہوں گا۔

  1. جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں بہت سے لوگوں کو مختلف علاقوں کا حاکم مقرر کیا تھا اپنے نمائندے کے طور پر، ان کو ہدایات بھی دی تھیں، وہ حکومت بھی کرتے تھے اور علاقہ میں قانون بھی نافذ کرتے تھے۔ ان میں سے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنایا تھا، بخاری شریف کی روایت ہے ان کو یمن کا حاکم بنایا، اور ڈیوٹی پر بھیجنے سے پہلے ان کا انٹرویو لیا، پوچھا کہ اگر وہاں کوئی مسئلہ پیش آیا تو فیصلہ کیسے کرو گے ؟ انہوں نے جواب دیا ’’بکتاب اللّٰہ‘‘ میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، قرآن کریم میں جو چیز ملی اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ نبی کریمؐ نے پوچھا ’’ان لم تجد‘‘ اگر کتاب اللہ سے کوئی حکم نہ ملا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا ’’فبسنتک‘‘ تو پھر یا رسول اللہ! آپ کی سنت پر چلوں گا، سنت و حدیث میں دیکھوں گا کوئی بات مل گئی تو اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا ’’فان لم تجد‘‘ اگر میری کوئی حدیث و سنت بھی سامنے نہ ہوئی تو پھر کیا کرو گے؟ تو معاذ بن جبلؓ نے عرض کیا ’’اجتھد براءیی ولم اٰلو‘‘ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، پوری کوشش کروں گا اور کوتاہی نہیں کروں گا۔ اس پر نبی کریمؐ نے معاذ بن جبلؓ کو اس کامیاب انٹرویو پر یہ کہہ کر مبارکباد اور شاباش دی ’’الحمد للّٰہ الذی وفق رسول رسول اللّٰہ لما یحب ویرضٰی‘‘ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول اللہ کے نمائندے کو اس بات کی توفیق دی جس پر اللہ خود راضی ہے۔ تو جناب نبی کریمؐ کی وہ ہدایات جو آپ نے اپنے زمانے میں مختلف علاقوں کے حاکم مقرر کرتے ہوئے دی تھیں ان میں سنت بھی قانون کے ماخذ کے طور پر حضورؐ نے خود فرمایا۔ اول قرآن مجید، اس کے بعد حدیث و سنت، اس کے بعد اجتہاد۔
  2. جناب نبی کریمؐ کے بعد صحابہ کرامؓ میں جب خلافت آئی تو باقی بحثوں میں پڑے بغیر صحابہ کرامؓ میں سے سات یا آٹھ بزرگ ہیں جنہوں نے بطور حکمران باقاعدہ حکومت کی، خلفاء صحابہؓ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت معاویہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور حضرت مروان بن حکمؒ کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ ان کو تابعین میں شمار کریں یا صحابہ میں، اگر وہ صحابہ میں شمار ہوتے ہیں جیسے بعض محدثین کرتے ہیں تو آٹھویں بزرگ یہ ہیں۔ چلیں آپ سات ہی گن لیں۔ ان حکمران صحابہ کرام کا طرز عمل کیا تھا؟ ان کی حکومت کے دور میں اور حکومت کے نظام میں سنت قانون کا ماخذ تھی یا نہیں؟ میں دیگر بحثوں میں نہیں پڑتا لیکن تاریخی تسلسل عرض کر رہا ہوں۔ حضرت صدیق اکبرؓ کا معمول یہ تھا کہ کوئی مسئلہ پیش آتا تھا تو کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرتے تھے، اگر قرآن سے نہیں ملتا تھا تو پھر حضورؐ کی سنت تلاش کرتے تھے، اس میں سے بھی نہ ملتا تو پھر صحابہؓ سے مشورہ کرتے تھے۔ یہ تین درجے تھے۔ حضرت عمرؓ تو کئی کئی مواقع پر باقاعدہ پوچھا کرتے تھے کہ کسی کو حضورؐ کی کوئی حدیث معلوم ہے؟ یہ مسئلہ پیش آ گیا ہے تو نبی کریمؐ کا کوئی ارشاد یا کوئی فیصلہ کسی کے علم میں ہے؟ ان کی ترتیب بھی یہی تھی، قرآن کریم، اس کے بعد حدیث و سنت حکم کے لیے بھی اور قانون کے لیے بھی، اس کے بعد صحابہ کرامؓ کا مشورہ۔ یہ میں نے دو مثالیں دی ہیں ورنہ تمام حاکم صحابہ کی ترتیب یہ تھی کہ ان کی قانون اور حکم دونوں میں پہلی بنیاد قرآن کریم ہوتی تھی، دوسری بنیاد حدیث و سنت ہوتی تھی، اور تیسری بنیاد صحابہ سے مشورہ تھی، اس کو اجتہاد کہہ لیں یا اجماع کہہ لیں۔

    اس کی ایک مثال دوں گا تاکہ بات صحیح سمجھ آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کو جب مرتدین اور محاربین کا معرکہ پیش آیا، اس موقع پر حضرت عمرؓ نے ایک بات سے اختلاف کیا۔ منکرین ختم نبوت کے تین گروہ تھے، ان سے لڑنے میں تو کوئی اختلاف نہیں تھا، باقی مرتد قبائل سے لڑنے میں کوئی اختلاف نہیں تھا، لیکن منکرین زکوٰۃ کے خلاف لڑنے سے حضرت عمرؓ نے اختلاف کیا اور حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ ان سے نرمی کریں۔ بخاری شریف کی مفصل روایت ہے۔

    حضرت ابوبکر منکرین زکوٰۃ کے خلاف لڑنا چاہتے تھے اور لڑے بھی، جبکہ حضرت عمرؓ منکرین زکوٰۃ کے خلاف لڑائی کے حق میں نہیں تھے، البتہ بالآخر قائل ہو گئے تھے۔ جس بات کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دونوں حضرات کی دلیل کیا تھی؟ ایک حدیث ہے، دونوں کی دلیل وہی حدیث تھی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے فیصلے سے اختلاف کیا یہ کہہ کر کہ جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ہے ’’من قال لا الہ الا اللّٰہ عصم منی مالہ ودمہ‘‘ جس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اس نے اپنی جان بھی مجھ سے محفوظ کر لی ہے، مال بھی محفوظ کر لیا ہے۔ حضرت عمر کی دلیل یہ تھی کہ یہ منکرین زکوٰۃ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اس لیے ان کی جان و مال سے تعرض نہیں کر سکتا، اس لیے آپ ان سے لڑائی نہ لڑیں، کلمہ پڑھنے کی وجہ سے ان کی جان اور مال محفوظ ہو گئے ہیں، اب ہم ان سے تعرض نہیں کر سکتے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے جواب دیا کہ حدیث کا اگلا حصہ بھی پڑھ لیں، حدیث یہ ہے ’’من قال لا الہ الا اللّٰہ عصم منی مالہ ودمہ فحسابہ علی اللّٰہ الا بحق الاسلام‘‘ یا ’’الا بحقہ‘‘۔ مطلب یہ کہ اگر اسلام کے حق میں یا اللہ کے حق میں کوئی مسئلہ ہوگا تو یہ مال اور خون کی عصمت نہیں رہے گی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا ’’الزکوٰۃ حق الاسلام‘‘ زکوٰۃ اسلام کا حق ہے اور یہ اسلام کے حق سے انکار کر رہے ہیں، اس لیے یہ استثناء میں شامل ہیں، پہلے میں شامل نہیں ہیں۔

    ایک ہی حدیث کا پہلا جملہ حضرت عمرؓ کی دلیل تھی اور اسی حدیث کا دوسرا جملہ حضرت ابوبکرؓ کی دلیل تھی۔ جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دونوں کا مستدل حدیث تھی، وہ بھی حدیث سے استدلال کر رہے ہیں لڑائی لڑنے پر، اور یہ بھی حدیث سے استدلال کر رہے ہیں لڑائی نہ لڑنے پر۔ بالآخر حضرت عمرؓ فرمانے لگے ’’شرح اللّٰہ صدری کما شرح صدر ابی بکر‘‘ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی کھول دیا میرا بھی شرح صدر ہو گیا جیسے حضرت صدیق اکبرؓ کا شرح صدر ہو گیا تھا اس لیے میں نے اپنا اختلاف واپس لے لیا۔ لیکن جو بات میں بتانا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ حضور کے دونوں جانشینوں حضرات شیخینؓ نے ایک مسئلہ پر اختلاف کیا ہے تو دونوں کی دلیل حدیث تھی۔

    یہ میں نے ایک مثال کے طور پر عرض کیا ہے ورنہ بیسیوں مثالیں موجود ہیں، صحابہ کرامؓ کے دور میں جتنے بزرگوں نے بھی حکومتیں کی ہیں آپ ان کے فیصلے پڑھ لیں، ان کی ترتیب یہی تھی قرآن کریم، حدیث و سنت، اس کے بعد اجتماعی مشاورت جس میں اجتہاد اور اجماع صحابہؓ سب میں شامل ہیں۔

  3. امت میں جتنے بھی علمی اور فقہی مکاتب فکر ہیں، فقہی مکاتب فکر جو احکام کی تشکیل کرتے ہیں، قانون بناتے ہیں، اہل سنت کے دائرے میں پانچ ہیں: حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی اور ظاہری۔ ظاہری آج کل سلفی کہلاتے ہیں۔ یہ پانچ مکاتب فکر ہیں جو احکام، قوانین اور ضوابط کی تشکیل کرتے ہیں، تشریح کرتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں۔ ان پانچوں کی متفقہ بات یہ ہے کہ سب سے پہلی دلیل قرآن کریم ہے، اس کے بعد حدیث سنت ہے، اس کے بعد اجماع امت اور قیاس ہیں جو کہ اجتہاد کے دائرے میں ہیں۔ مشاورت، اجماع اور قیاس ایک ہی دائرے کی چیزیں ہیں، یہ تیسرا مستدل ہے۔ یہ اہل سنت کے دائرے میں امت کے تمام فقہی مکاتب فکر کا متفقہ موقف ہے اور اہل سنت کے ہاں چودہ سو سال سے اجماع چلا رہا ہے کہ ہمارے عقائد کی بنیاد بھی اور احکام کی بنیاد بھی یہ چار چیزیں ہیں ،اس کے چار درجے ہیں۔ (۱) قرآن کریم، (۲) حدیث و سنت، (۳) اجماع اور (۴) قیاس۔ اجماع اور قیاس صحابہؓ کے دور میں مشاورت کے دائرے میں تھا۔
  4. حدیث اور سنت کو قانون کا ماخذ نہ ماننا یا اس کو حجتِ قطعیہ تسلیم نہ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہمیں ہر دور میں اس سے سابقہ رہا ہے، لیکن پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ انکار کیوں کیا جاتا ہے اور حدیث کو دلیل کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا؟ اس لیے کہ اگر حدیث کو حجت تسلیم کر لیں تو ہم قرآن کریم کی تعبیر اور تشریح میں پابند ہو جاتے ہیں کہ اس کے کسی لفظ اور آیت کی وہی تشریح ہو گی جو حضورؐ نے فرمائی ہے۔ ہم تو الحمد للہ حدیث کو مستقل حجت تسلیم کرتے ہیں، لیکن اگر حدیث کو درمیان سے نکال دیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعبیر، تشریح اور اطلاق ہماری صوابدید پر ہو گا کہ قرآن کریم کی فلاں آیت کی تشریح کیا ہے؟ ہر دور کی عقل اس کی تشریح کرے گی، ہر دور کی صوابدید اس کی تشریح کرے گی، ہم قرآن کریم کی تعبیر اور تشریح میں پابندی سے آزاد ہو جاتے ہیں اور ہمیں اختیار مل جاتا ہے کہ ہم جیسے چاہیں تشریح کر لیں، جیسے چاہیں تعبیر کر لیں، جبکہ حدیث ہمیں پابند کرتی ہے کہ قرآن کریم کی وہ تعبیر اور تشریح ہمارے ہاں قابل قبول ہو گی جو حضورؐ نے کی ہے اور صحابہؓ نے جس پر عمل کیا ہے۔

    اس پر امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کا ایک ارشاد نقل کرنا چاہوں گا، ایک موقع پر آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ دلائل کی باتیں کرتے ہیں ان کے سامنے قرآن نہ پیش کیا کرو کیونکہ ’’کلام اللّٰہ ذو وجوہ‘‘ قرآن کریم کے ایک جملے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، لوگ اپنی مرضی کا معنی کریں گے۔ اس لیے جب بھی دلیل پکڑو تو حدیث سے پکڑو، کیونکہ سنت واضح ہے، دوٹوک ہے۔ سنت اور حدیث بتاتی ہے کہ فلاں آیت کا معنی یہ ہے جبکہ قرآن کریم ذو وجوہ ہے اس کے الفاظ کا ایک معنی بھی کیا جا سکتا ہے اور دوسرا بھی، ایک لفظ کے کئی معنی کیے جا سکتے ہیں۔

    میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، اگر سنت کو درمیان سے نکال دیں تو قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو۔ ’’فاقطعوا ایدیھما‘‘ کا معنی کیا ہے؟ اگر حضورؐ سے پوچھیں گے تو معنی ہے عملی طور پر ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ آپ نے فاطمہ مخزومیہ کا ہاتھ کاٹا تھا، لیکن اگر درمیان سے حدیث کو نکال دیں تو ہمارے ایک متجدد صاحب فرماتے ہیں کہ اصل میں یہ محاورہ ہے۔ ’’ہاتھ کاٹ دو‘‘ سے مراد ہے کہ ان کو آزاد نہ چھوڑو، کام کرنے کے قابل نہ چھوڑو، ہاتھ کاٹنے سے حقیقت میں ہاتھ کاٹنا مراد نہیں ہے، عمل کے حق سے محروم کر دینا مراد ہے، جیل میں ڈال دینا مراد ہے۔ چنانچہ حدیث کو درمیان سے نکال دیں تو پھر اس کی گنجائش نکل آتی ہے۔

    ان صاحب نے اس محاورے کی مثال دی کہ جب کسی بات میں ہم کوئی فیصلہ کر چکے ہوں اور کوئی آ کر دوسری بات کہے تو ہم کہتے ہیں کہ میں تو فیصلہ کر چکا ہوں، میں تو ہاتھ کاٹ کے دے چکا ہوں۔ ہمارے ہاں یہ محاورہ چلتا ہے کہ میں نے ہاتھ کاٹ کر دے دیا ہے یعنی اب معاملہ میرے اختیار میں نہیں رہا، اس سے حقیقت میں ہاتھ کاٹنا مراد نہیں ہوتا، ہاتھ کاٹ کر دینے سے مراد یہ ہے کہ میں بے اختیار ہو گیا ہوں اور ایک صاحب نے یہ معنی کیا بھی ہے۔ تو میں نے یہ بات عرض کی ہے کہ حدیث و سنت کے مستقل حجتِ قطعیہ ہونے سے انکار کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ اور چونکہ قرآن کریم سے تو انکار ممکن نہیں ہے اس لیے قرآن کریم کی تعبیر اور تشریح کو اپنے اختیار میں لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ حدیث اور سنت کو درمیان سے نکالا جائے۔

  5. ہمیں پہلے بھی اس طرح کے امور سے سابقہ پیش آتا رہا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، گھبرانے کی بات نہیں ہے، معتزلہ کے دور میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو جو کوڑے لگے تھے تو کیوں لگے تھے؟ عباسیہ سلطنت کے زمانے میں معتزلہ اقتدار کا حصہ بن گئے تھے، اعتزال ریاست نے سنبھال لیا تھا، مامون الرشید کے بارے میں آتا ہے اور اس کے بعد معتصم باللہ وغیرہ معتزلی ہو گئے تھے تو انہوں نے علماء پر سختی کی تھی اور سب سے زیادہ سختی امام احمد بن حنبلؒ پر ہوئی تھی۔ صرف امام احمد بن حنبلؒ نہیں، بلکہ بیسیوں علماء کو سزائیں دی گئی تھیں، ان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ کیوں؟ اسی تعبیرات کے مسئلہ پر کہ قرآن کریم کی تعبیر وہ ہو گی جو ہم کریں گے، جبکہ علماء کہتے تھے کہ نہیں، قرآن کریم کی تعبیر وہی ہو گی جو حضور علیہ السلام نے کی ہے۔

    آپ غور فرمائیں کہ معتزلہ اور عباسیوں کے زمانہ میں ہم سزاؤں اور کوڑوں کا ایک پورا دور بھگت چکے ہیں۔ اسی طرح دیکھیں کہ خارجیوں کا موقف کیا تھا خارجیوں نے بھی اس دور میں کمی نہیں کی۔ ضحاک خارجی ان کا کمانڈر تھا، ایک دور میں ضحاک نے بصرہ پر قبضہ کر کے چھ ہزار مسلمان شہید کیے تھے، یہ کہہ کر کہ میرے عقیدے کے مطابق یہ مرتد ہوگئے ہیں لہٰذا ان کا قتل واجب ہے۔ تاریخ میں یہ ریکارڈ پر ہے۔ بصرہ پر قبضہ کرنے کے بعد اسی ضحاک خارجی نے کوفہ پر قبضہ کر لیا تھا اور اس نے کوفہ کی جامع مسجد میں ڈیرے لگا لیے تھے اور اعلان کر دیا تھا کہ سارے کوفہ والے آ کر میرے ہاتھ پر توبہ کریں ورنہ سب کو مار دوں گا۔ کوفہ میں اللہ تعالی نے حوصلہ اور جراءت عطا کی امام اعظم ابوحنیفہؒ کو کہ وہ اس کے سامنے کھڑے ہوگئے، اس سے مکالمہ کیا، اس سے بحث کی اور اسے اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ طویل مکالمہ ہے، اس میں سے صرف ایک ٹکڑا ذکر کرتا ہوں۔

    امام اعظمؒ نے اس سے پوچھا کہ لوگوں کو کیوں قتل کر رہے ہو؟ اس نے کہا یہ مرتد ہوگئے ہیں۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ کیسے مرتد ہوئے؟ مرتد تو اسے کہتے ہیں جو دین بدل دے، یہ تو جس دین پر پیدا ہوئے تھے اسی پر قائم ہیں تو یہ مرتد کیسے ہوئے ہیں، انہوں نے کونسا دین چھوڑا ہے؟ وہ موٹے دماغ کا آدمی تھا یہ بات ذہن میں پھنس گئی، کہنے لگا دوبارہ کہو۔ امام اعظمؒ نے فرمایا کہ میں نے کہا ہے کہ مرتد تو وہ ہوتا ہے جو ایک دین چھوڑ کر دوسرے دین میں چلا جائے، یہ لوگ جس دین پر پیدا ہوئے تھے اسی پر ہیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی تو تم ان کو مرتد کیسے کہہ رہے ہو؟ روایت میں آتا ہے مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے ’’امام اعظمؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں پورا واقعہ لکھا ہے کہ اس پر ضحاک نے اقرار کیا ’’اخطاءنا‘‘ کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے، لیکن غلطی کا احساس چھ ہزار بصریوں کو مارنے کے بعد ہوا۔ معتزلہ نے بھی کمی نہیں کی اور خارجیوں نے بھی کمی نہیں کی۔ خارجیوں اور معتزلہ کی طرف سے یہ رویہ ہم بھگت چکے ہیں۔

    ہمارے ہاں اکبر بادشاہ نے کیا کیا تھا، اکبر بادشاہ نے دین الٰہی کا جو اعلان کیا تھا اس کی بنیاد بھی یہی تھی کہ قرآن کی تعبیر میں کروں گا، پچھلی تعبیرات منسوخ ہو گئی ہیں، اب میں مجتہد اعظم ہوں، میں تعبیر کروں گا اور میں مختار ہوں جیسے مرضی تعبیر کروں، اور یوں دین الٰہی کی بنیاد رکھی۔ احکام میں کتنی تبدیلیاں کی تھیں میں اس تفصیل میں نہیں جاتا لیکن یہ جملہ ضرور کہوں گا کہ اکبر بادشاہ نے احکام اور قوانین میں جو تبدیلیاں کی تھیں وہ آج ہمارے بہت سے حکمران بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔ اکبر بادشاہ نے شرعی احکام میں وہی تبدیلیاں کی تھیں جن تبدیلیوں کے لیے آج بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ احکام و قوانین کی بنیاد حدیث و سنت نہیں ہے۔ یہ رویہ ہم بھگت چکے ہیں، اس لیے میں نے عرض کیا کہ ہم معتزلہ کو بھی بھگت چکے ہیں، خوارج کو بھی بھگت چکے ہیں، اکبر بادشاہ کو بھی بھگت چکے ہیں، اور بھی کوئی آیا تو اس کو بھی بھگت لیں گے ان شاء اللہ العزیز۔ اسلام اپنی اصل اجماعی تعبیر پر قائم ہے، اس تعبیر پر جو حضورؐ نے کی ہے اور جو صحابہؓ نے کی ہے، اور ان شاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا، اللہ تعالی ہمیں استقامت اور حوصلہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

Flag Counter