افغانستان کی صورتحال – سنجیدہ توجہ کی ضرورت

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ دسمبر ۲۰۲۱ء

افغانستان کی صورتحال اور ہماری دینی و ملی ذمہ داریوں کے حوالہ سے دینی و سیاسی حلقوں کو توجہ دلانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی رابطہ مہم جاری ہے، اس سلسلہ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کےتین اجلاسوں کی کارگزاری پیش خدمت ہے۔ تفصیلی گذارشات ۲۲ دسمبرکے اجلاس کے بعد پیش کروں گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔

(۱)

’’لاہور (پ ر) مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دانشوروں نے افغانستان میں امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو فوری تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے لیے رابطہ مہم کا فیصلہ کیا ہے اور 22 دسمبر بدھ کو لاہور میں ’’آل پارٹیز افغان سیمینار‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جو جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء مولانا قاری محمد زوار بہادر کی میزبانی میں ان کے ادارہ میں ہو گا۔

یہ اجلاس ۲ دسمبر کو جمعیت علماء اسلام (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی میزبانی میں جامع مسجد خضراء سمن آباد لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت ہوا جس میں مولانا عبد الرؤف ملک، قاری منصور احمد، قاری محمد زوار بہادر، عبد اللطیف خالد چیمہ، مولانا محمد امین ربانی، رانا مقصود احمد ایڈووکیٹ، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، مفتی شاہد عبید اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فتح کابل سے لے کر آج تک کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا اور اس امر پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ امارت اسلامی افغانستان کو اخلاقی و سیاسی اور معاشی مدد فراہم کرنا پوری امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے دنیا بھر میں مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

مولانا زاہد الراشدی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ افغان حکومت اور افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا، امریکہ جنگ کے ذریعے جو ایجنڈا ہار چکا ہے وہ اب معاشی دباؤ کے تحت منوانا چاہتا ہے، لیکن ہم رائے عامہ اور اہم شخصیات کو بیدار کر کے امریکی ایجنڈے کے سامنے رکاوٹ پیدا کرنا اپنے ایمانی جذبے کا تقاضا سمجھتے ہیں۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو چاہیے کہ سب سے پہلے امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ عبد اللطیف خالد چیمہ نے کہا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے گھبرا کر عالمِ کفر نت نئے پینترے بدل رہا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے لیے پُرامن اور محفوظ افغانستان کسی نعت سے کم نہیں ہے جب کہ مکار دشمن پاکستان اور افغانستان میں قیامِ امن کا دشمن ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ امارت اسلامی افغانستان کی سیاسی و معاشرتی اور اخلاقی حمایت کے لیے ملک بھر میں کیمپین چلائی جائے گی اور ایک وسیع رابطہ کمیٹی تشکیل دے کر اس مہم کو آگے بڑھا جائے گا۔ نیز زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بریفنگ کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے رہنماء علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے اجلاس کے بعد عبد اللطیف خالد چیمہ سے فون پر گفتگو میں اجلاس کے مکمل فیصلوں سے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے اپنی مکمل تائید و حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت مظلوم افغان عوام کو انسانی بحران کا مسئلہ درپیش ہے، ایسے میں ان کے حق میں آواز اٹھانا انسانیت کی بھی بہت بڑی خدمت ہے۔ ‘‘

(۲)

’’پاکستان شریعت کونسل سندھ کی صوبائی شورٰی نے امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے رویہ کو افغان عوام کی معاونت میں رکاوٹ قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کے لیے دوسری جماعتوں کے تعاون سے رابطہ عوام مہم اور سفر ناموں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی مجلسِ شورٰی کا اجلاس آج جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی میں امیر سندھ مولانا قاری اللہ داد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مرکزی نائب امیر مولانا رشید احمد درخواستی اور سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے بھی خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر شرکاء میں ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، محمد اسلم شیخ ایڈووکیٹ، مولانا حافظ محمد اکبر، مولانا حافظ اقبال، مولانا قاری حضرت ولی، مولانا احتشام الحق خیری، مولانا مفتی حبیب احمد درخواستی، مولانا شفیق، مولانا مفتی ثناء اللہ محمود، مولانا عبد الوہاب، مولانا عدنان مکیانوی اور دیگر حضرات شامل ہیں۔

اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے امارتِ اسلامی افغانستان کے حوالے سے مسلم ممالک کے رویہ کو بطور خاص افسوسناک قرار دیا گیا کہ امارت اسلامی افغانستان کے کنٹرول کے بعد اسے تسلیم نہ کرنا افغانستان کو معاشی طور پر محصور کر دینے اور سفارتی دنیا میں تنہا کرنے کے مترادف ہے جو قطعی طور پر غلط بات ہے۔ جبکہ افغانستان کے اثاثے امریکہ نے منجمند کر رکھے ہیں اور مختلف اطراف سے افغان عوام کی امداد کے راستے بند کر دیے گئے ہیں جس کی سب سے بڑی صورت ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنا ہے۔

پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور راہنماؤں کے درمیان اس سلسلہ میں مشاورت اور رابطہ کا کام جاری ہے اور ۲۲ دسمبر بروز بدھ کو لاہور میں ایک کل جماعتی سیمینار میں مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی اور اس کے مطابق ملک بھر میں تمام مکاتب فکر اور طبقات کے راہنماؤں کے ساتھ رابطے قائم کر کے مہم کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اجلاس میں اوقاف ایکٹ کے سلسلہ میں حکومتی حلقوں کی طرف سے ترامیم کے وعدہ کی تکمیل کا مطالبہ کیا گیا کہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی طرف سے پیش کر دہ ترمیمی اوقاف بل اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

اجلاس میں یورپی یونین کی طرف سے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قوانین کو تبدیل کرنے کے مطالبہ کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے حوالہ سے کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘

(۳)

’’پاکستان شریعت کونسل نے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کر کے افغان عوام کو موجودہ سنگین معاشی بحران سے نجات دلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ یہ مطالبہ آج پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے سرکردہ علماء کرام کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ اجلاس میں مسلم وزراء خارجہ کی اسلام آباد میں تشریف آوری کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلم حکومتوں کو امارتِ اسلامی افغانستان کو فوری طور پر تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ملتِ اسلامیہ کی آزادانہ حیثیت اور مسلم ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کی طرف بھی سنجیدہ توجہ دینی چاہیے جو عالمی ایجنڈوں کے حصار سے نجات حاصل کرنے کے سوا ممکن نہیں ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو تسلیم نہ کرنا افغان عوام کے ساتھ تعاون اور سنگین بحران میں ان کا ہاتھ بٹانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے اور مسلم دنیا کے تمام طبقات اور اداروں کو اس طرزعمل پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو اپنی سوچ اور رویہ میں تبدیلی لانا ہو گی ورنہ وہ مسلم امہ کی نمائندگی کے حوالہ سے بارگاہِ ایزدی کے ساتھ ساتھ تاریخ میں بھی سرخرو نہیں ہو سکیں گے۔

اجلاس میں مولانا ثناء اللہ غالب، حافظ سید علی محی الدین، ملک سعید احمد اعوان، مفتی محمد عبد اللہ خان، مولانا عبد الماجد، مفتی خان محمد، سید اعجاز شاہ کاظمی، حافظ سید علی معین الدین، سید سعید الرحمٰن شاہ کاظمی اور دیگر حضرات شریک تھے۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان کے منجمد اثاثے فوری بحال کیے جائیں اور میدانِ جنگ میں اپنی شکست کو مذاکرات کی میز پر فتح میں بدلنے اور معاشی ناکہ بندی کے ذریعے افغان قوم کو مغربی ایجنڈا قبول کرنے پر مجبور کرنے کا طرزعمل ختم کیا جائے۔‘‘

   
Flag Counter