حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے کہ انہوں نے علماء دیوبند کے مسلک کی ترویج اور خاص طور پر حنفیت کے دفاع کے لیے جو مسلسل سعی و کاوش زندگی بھر کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت خداوندی نے انہیں خاص طور پر اس مقصد کے لیے پیدا کیا تھا اور ذوق و صلاحیت ودیعت فرمائی تھی۔ علمی زندگی کے آغاز میں ان کی تحقیق و مطالعہ کا میدان مسیحیت تھا اور وہ بائبل کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے، انجیل برنباس پر ان کا تحریر کردہ پیش لفظ ان کے اس ذوق کی بہترین علامت ہے۔ خود میرے گھر میں ایک مسیحی پادری صاحب کے ساتھ ان کا مکالمہ ہوا اور انہوں نے مسیحی دنیا کے بعض خود ساختہ عقائد کا جس طرح دلیل و استدلال کے ساتھ رد کیا وہ اس موضوع پر ان کی گرفت کا مضبوط اظہار تھا۔ مگر افسوس کہ یہ مکالمہ جو ہمارے محترم دوست اور ساتھی ڈاکٹر غلام محمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی کوشش سے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں میری رہائش گاہ پر اب سے کم و بیش چالیس سال قبل ہوا تھا، اسے محفوظ نہ کیا جا سکا۔ ورنہ وہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں کے لیے بہت فائدہ کی چیز ہوتی۔

حالات کے اتار چڑھاؤ نے مولانا محمد امین صفدرؒ کا رخ حنفیت کے دفاع کی طرف موڑ دیا جو بلاشبہ وقت کی ایک اہم ضرورت تھی اور اس کے لیے مولانا موصوف جیسا متحمل، بردبار اور حوصلہ مند شخص ہی درکار تھا۔

فقہی و علمی مسائل میں جذباتیت، سطحیت اور جوشیلا پن اکثر اوقات فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بن جایا کرتے ہیں۔ بالخصوص جب دوسری طرف بھی قابل احترام شخصیات ہوں تو احتیاط کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایک موقع پر ہمارے ایک معروف خطیب جو مرحوم و مغفور ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں، آمین یا رب العالمین۔ ایک فقہی مسئلہ پر احناف کے موقف کا ذکر کرتے اپنے خطاب میں دوسری طرف طنز و تشنیع کے تیر برسا رہے تھے اور مجھے ان کے اس انداز تخاطب سے کوفت ہو رہی تھی۔ خطاب سے فارغ ہوئے تو میں نے تنہائی میں ان سے پوچھا کہ حضرت! آپ جس موقف کو طعن و تشنیع اور طنز و استہزا کا نشانہ بنا رہے تھے، کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ موقف کن کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین کا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے ساتھ یہ موقف حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی ہے اور بعض روایات میں اسے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف بھی بتایا گیا ہے۔ فرمانے لگے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ میں نے گزارش کی کہ کسی موقف کو اس طرح طنز و استہزا کا نشانہ بنانے سے قبل یہ معلوم کر لینا چاہیے کہ ہماری اس تیر اندازی کے نشانے پر امت کے مسلمہ و متفقہ بزرگ تو نہیں ہیں؟

مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ چونکہ متعلقہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں سے واقف ہوتے تھے اس لیے فرق مراتب اور ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے تھے۔ دلیل کے ساتھ بات کرتے تھے، استدلال کا نشتر کند نہیں ہوتا تھا، اور ہنستے مسکراتے اس انداز سے چٹکی بھرتے تھے کہ مخالف تلملاتے ہوئے بھی مہارت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جایا کرتا تھا۔

مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر مجھے اپنے استاذِ محترم فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات رحمہ اللہ تعالیٰ یاد آجاتے تھے۔ وہ اسی طرح کے دھیمے متکلم اور ٹھنڈے مناظر تھے۔ گرمی نہیں کھاتے تھے، بلا وجہ جوش کا اظہار نہیں کرتے تھے، سخت کلامی سے حتی الوسع گریز کرتے تھے، مگر ٹھنڈے دھیمے لہجے میں اپنے مخالف کو دلائل کے اتنے مضبوط جال میں جکڑ دیتے تھے کہ بے بسی کے ساتھ تڑپتے رہنے کے سوا اس کے پاس اور کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ جاتا تھا۔

میرا ذوق اور دائرہ کار سب احباب جانتے ہیں ، قدرے مختلف ہے۔ میرا میدان کار عالمی لادینیت، سیکولر ازم، قادیانیت اور بین الاقوامی اسلام دشمن لابیاں ہیں۔ اندرونی اور داخلی تنازعات میں عام طور پر عملاً شریک نہیں ہوتا۔ البتہ سنجیدہ کام کرنے والوں سے حسب موقع تعاون ضرور کرتا ہوں۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں نے بے تکلفی سے کہا کہ حضرت! آپ تو ہمارے میدان کے آدمی تھے، آپ کدھر نکل گئے۔ یعنی آپ کا اصل میدان تو مسیحیت تھا، آپ دوسرے محاذ کی طرف کیسے چلے گئے؟ مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کی مسلسل زیادتیوں نے میرا رُخ ان کی طرف کر دیا ہے۔ ان کی بات بھی ٹھیک تھی اور ویسے بھی کام کا میدان متعین ہونا اور اس میں محنت کا موقع ملنا در اصل توفیق ایزدی سے ہوتا ہے اور حکمت خداوندی ہی بہتر جانتی ہے کہ کس سے کہاں اور کیسے کام لینا ہے۔

مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے فاضل دوست مولانا ظفر اقبال آف کراچی (zafar.q.iqbal@gmail.com) نے حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی سوانح مرتب کرنے کا بیڑا اٹھا ہے اور وہ اس میں مسلسل مصروف ہیں۔ مولانا موصوف ایک پختہ کار فاضل اور دانش ور ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان کی تحقیقی کاوشیں اصحابِ ذوق سے داد وصول کر چکی ہیں۔ ان کا بیعت کا تعلق والد محترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز سے ہے۔ جبکہ بھرپور استفادہ و اعتماد کا تعلق مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود دامت برکاتہم سے ہے۔ ان دونوں بزرگوں سے انہوں نے خوب استفادہ کیا ہے۔ ان کے اعتماد و شفقت سے بہرہ ور ہوئے ہیں اور انہی کے فکر و فیض کو عام کرنے میں ہر وقت مستعد رہتے ہیں۔ مولانا محمد امین صفدرؒ کی سوانح و خدمات کے حوالہ سے مولانا ظفر اقبال کی محنت و کاوش کے بعض پہلوؤں سے میں نے آگاہی حاصل کی ہے اور ان کے لیے دل سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔