شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
شیخ الہند سوسائٹی گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء

(یہ مضمون ۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء کو شیخ الہند سوسائٹی گوجرانوالہ کی ماہانہ فکری نشست میں پڑھا گیا۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور عزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا۔

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا تعارف دیوبند کی فکری اور علمی درس گاہ کے پہلے طالب علم کی حیثیت کرایا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ دیوبند کے قصبہ کی مسجد چھتہ میں انار کے درخت کے زیر سایہ ۱۸۶۶ء کے دوران قائم ہونے والے دینی مدرسہ کے پہلے طالب علم تھے اور اس سبقت کا تاج سعادت آپ کے سر پر حسن و خوبی کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ مگر میرے نزدیک شیخ الہندؒ کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ ان آہوں، تمناؤں، آرزوؤں، سحر خیز دعاؤں اور آنسوؤں کا ثمرۂ طیبہ تھے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اس خطۂ زمین میں دین اسلام اور ملت اسلامیہ کے مستقبل کے بارے میں پریشان و مضطرب ہزاروں کڑھتے جلتے دلوں اور جل تھل آنکھوں سے رواں دواں تھے۔ دیوبند ایک علمی، فکری اور سیاسی تحریک کا عنوان ہے اور اس عنوان کے ساتھ اگر کسی شخصیت کو ایک جامع اور مکمل علامت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو وہ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی ذاتِ گرامی ہے۔

شیخ الہندؒ نے جس دور میں شعور کی آنکھ کھول کر اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالی تو یہ وہ دور تھا جب برطانوی سامراج کے غلبہ کا ناقوس دنیا کے کم و بیش ہر خطہ میں بج رہا تھا اور عالم اسلام کے بیشتر ممالک برطانوی، فرانسیسی اور ولندیزی استعمار کی غلامی کے شکنجے میں جکڑے جا چکے تھے۔ کم و بیش پانچ سو سال تک عالم اسلام کی قیادت و حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے والی ترکی کی خلافت عثمانیہ ’’یورپ کا مردِ بیمار‘‘ کا لقب پا کر عالمِ نزع میں قدم رکھ رہی تھی اور خلافت عثمانیہ کی گرفت میں کمزوری کے احساس کے ساتھ ہی عالم اسلام کے روحانی مراکز مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت القدس کے خلاف استعماری قوتوں کی سازشوں کا دائرہ وسیع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ چنانچہ دیوبند میں چالیس سال سے زائد عرصہ تک تعلیمی خدمات سرانجام دینے کے بعد جب آپ نے اپنی تدریسی و تعلیمی محنت کے ثمرات کو مجتمع کرنے کے لیے ’’جمعیۃ الانصار‘‘ کی تشکیل کی طرف اپنے شاگردوں کی راہنمائی فرمائی تو یہ نقطۂ آغاز تھا آپ کی اس جدوجہد کا جو بہت تھوڑے سے عرصہ میں نہ صرف متحدہ ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گئی بلکہ اس کے اثرات افغانستان، ترکی، حجاز مقدس اور عالمِ اسلام کے دیگر حصوں تک وسیع ہوگئے۔ اور آپ نے نہ صرف برصغیر پاک و ہند کی آزادی کی تحریک کی راہنمائی اور قیادت کی بلکہ آپ کی فکری جدوجہد سے افغانستان، ترکی اور حجاز کی تحریکات نے بھی استفادہ کیا۔ اور اس موقع پر محض جذبات و عقیدت کے حوالہ سے نہیں بلکہ واقعات اور شواہد کے تجزیہ کی بنیاد پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے اس ارشاد کی تصویب و تصدیق کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہ جاتا کہ حضرت مولانا محمود حسنؒ کے لیے شیخ الہند کا لقب ان کی علمی حیثیت اور جدوجہد کی وسعت سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ انہیں شیخ العالم کے لقب سے یاد کر کے ہی ان کی شخصیت اور جدوجہد کے اصل دائرہ کار کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ بنیادی طور پر برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے قائد تھے لیکن ان کا دلِ دردمند عالم اسلام کی اجتماعی مشکلات سے بے گانہ نہ تھا اور ان کی تگ و دو کے اہداف میں متحدہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے دیگر ممالک میں استعماری قوتوں کی سازشوں اور استحصال سے مسلمانوں کو نجات دلانا بھی شامل تھا۔

متحدہ ہندوستان کی جنگ آزادی کا تسلسل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد ٹوٹ چکا تھا اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کی پٹی پر قبائلی حریت پسندوں کے معرکہ ہائے حریت اس تسلسل کو باقی رکھنے کی ایک کوشش دکھائی دے رہے تھے۔ مگر قومی سطح پر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی استعمار کی غلامی کا طوق گردن سے اتار دینے کی اس جدوجہد کو حضرت شیخ الہندؒ نے ہی منظم کیا جسے دنیا ریشمی رومال کی تحریک کے نام سے یاد کرتی ہے اور جس کے لیے شیخ الہندؒ نے نہ صرف ملک کے اندر لاکھوں دلوں میں بغاوت اور حریت کی دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکایا تھا بلکہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کے ساتھ باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے بیرونی پشت پناہی اور تعاون کے ساتھ بغاوت کی اس عظیم جدوجہد کو منظم کر لیا تھا۔ لیکن عالمی جنگ میں ترکی کے حلیف جرمنی کی شکست کے بعد عالمی حالات سازگار نہ ہونے کے باعث یہ جدوجہد پروان نہ چڑھ سکی اور اس کا نتیجہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ شیخ الہندؒ کی گرفتاری اور مالٹا جزیرہ میں نظربندی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ تحریکات آزادی میں مزاحمت، تشدد اور تصادم کی بنیاد پر منظم کی جانے والی قومی سطح کی آخری تحریک تھی جس کے بعد تحریکاتِ آزادی کا رخ عدم تشدد کی طرف مڑ گیا۔

افغانستان اپنے بہادر عوام کی دینداری اور غیرت و حمیت کی وجہ سے بے سروسامانی کے باوجود ہندوستان کے مجاہدین آزادی کا ایک روایتی پشت پناہ تھا اور اس کی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کی پٹی ہندوستان کی آزادی کی جنگوں کا بیس کیمپ بنی ہوئی تھی جہاں حاجی صاحب ترنگزئی کی قیادت میں عملی جہاد کا سلسلہ جاری تھا۔ برطانوی استعمار نے اس پریشانی سے جان چھڑانے کے لیے افغانستان پر قبضہ کرنے کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا اور باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا۔ مگر اس جنگ کے آغاز سے قبل شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے تلمیذ خاص مولانا عبید اللہ سندھیؒ کابل پہنچ کر افغانستان میں شیخ الہندؒ کے شاگردوں، خوشہ چینوں اور آزاد قبائل کے حریت پسندوں کے درمیان رابطہ اور اعتماد کا ایک ایسا نظام قائم کر چکے تھے جس کا سامنا برطانوی استعمار کی منظم افواج نہ کر سکیں۔ مولانا سندھیؒ نے کابل میں بیٹھ کر افغانستان اور آزاد قبائل میں شیخ الہندؒ کے علمی و فکری اثرات کو مجتمع کر کے ایک ایسی قوت کی شکل دے دی جس نے افغانستان کی جنگِ استقلال میں بنیادی کردار ادا کیا اور بالآخر برطانوی استعمار اس بات پر مجبور ہوگیا کہ افغانستان کی آزادی اور استقلال کا احترام کرتے ہوئے اس کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد قرار دے کر اسے عبور نہ کرنے کا سمجھوتہ کرے۔

ترکی کی خلافت عثمانیہ پانچ سو سال تک مسلمانوں کی خدمات سرانجام دینے کے بعد اضمحلال کا شکار ہونے کے باوجود ایک حد تک مسلمانوں کی وحدت کی علامت اور قوت و شوکت کے نشان کی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھی۔ یورپ کی صلیبی قوتوں کو عثمانی خلفاء بالخصوص سلطان محمد فاتحؒ کی مجاہدانہ یلغار ابھی تک یاد تھی اور قسطنطنیہ پر مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے دلوں میں لگنے والے گھاؤ مندمل نہیں ہو پائے تھے۔ اس لیے ان صلیبی قوتوں کی تمام تر حکمت عملی اور پالیسیوں کا محور یہ نکتہ قرار دیا گیا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہو خلافت عثمانیہ کا تیاپانچہ کر کے نہ صرف عالم اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے بلکہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین کر یہودیوں کے حوالے کیا جا سکے تاکہ اس عظیم احسان کے صلہ میں صیہونی اور صلیبی قوتوں کے درمیان اشتراک و اتحاد کی راہ ہموار ہو اور یہودیوں کی دولت عالمی اثرات اور سازشی ذہن کو مغربی استعمار کے حق میں استعمال کرنے کی صورت پیدا ہو۔ چنانچہ خلافت عثمانیہ کے ایک صوبہ حجاز مقدس کے گورنر شریف مکہ حسین کو انگریزوں نے پورے عرب کی خلافت کا لالچ دے کر بغاوت کے لیے تیار کیا اور ترکوں کی خلافت کے خلاف فتویٰ کی آڑ میں ان کے خلاف عالم اسلام میں نفرت اور غیظ و غضب کی آگ بھڑکانے کا سامان مہیا کیا۔ شریف مکہ حسین کے ایما پر ترکوں کے خلاف فتویٰ جب مرتب ہوا اور اس کی ترتیب و اشاعت میں ہندوستان کے بعض علماء بھی شریک کار ہوئے تو حضرت شیخ الہندؒ ان دنوں حجاز میں تھے، آپ کے سامنے یہ فتویٰ پیش ہوا مگر آپ نے کمالِ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فتویٰ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ترکوں کے خلاف یہ فتویٰ شریف مکہ کی بغاوت کی بنیاد بنا جس کے نتائج پر ایک نظر ڈال لیجئے:

  • خلافتِ عثمانیہ کے زیرنگیں عرب علاقے کئی مستقل عرب حکومتوں میں تبدیل ہوگئے۔
  • اسی بندر بانٹ میں استعماری قوتوں نے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے اور ان کے لیے الگ اسرائیلی ریاست کے قیام کی راہ نکالی۔
  • خود خلافت عثمانیہ یہ وار نہ سہہ سکی اور یورپ کا یہ ’’مرد بیمار‘‘ آخری ہچکی لے کر عالمی نقشے سے غائب ہوگیا۔

مگر اس کے برعکس شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی طرف سے ترکوں کے خلاف فتوٰی پر دستخط سے انکار کے اثرات یہ ظاہر ہوئے کہ پورے ہندوستان میں خلافتِ عثمانیہ کے حق میں مولانا محمد علی جوہرؒ اور دیگر قومی قائدین کی راہنمائی میں تحریک خلافت کے عنوان سے ایک پرجوش تحریک چلی جو آزادی کی آئندہ جدوجہد کی بنیاد ثابت ہوئی۔ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے سامنے دراصل پورے عالم اسلام کی آزادی کا تصور تھا اور وہ استعماری قوتوں کے زیر تسلط تمام مسلم ممالک کی حریت کے لیے مضطرب تھے۔ لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان استعماری قوتوں میں سب سے بڑا استعمار برطانوی سامراج ہے اور اس کی قوت کا اصل سرچشمہ متحدہ ہندوستان ہے۔ اس لیے عالم اسلام کی آزادی کا دارومدار اس پر ہے کہ ہندوستان آزاد ہو تاکہ برطانوی استعمار میں باقی ممالک کو زیر تسلط رکھنے کی سکت باقی نہ رہے اور پھر دوسری استعماری قوتوں کو بھی مسلم ممالک کو آزادی دینے پر مجبور ہونا پڑے۔ چنانچہ شیخ الہندؒ کی جدوجہد کا اصل ہدف متحدہ ہندوستان کی آزادی رہا ہے اور اس مضبوط و مستحکم بنیاد پر انہوں نے عالم اسلام کی تمام تحریکات آزادی کو نہ صرف فکر و نظر کی توانائی عطا فرمائی بلکہ جہد و عمل اور ایثار و استقامت کا حوصلہ بھی بخشا۔

آج شیخ الہندؒ کے اس تصور کی صداقت تاریخ کی ایک روشن حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ہی عالم اسلام کے گرد استعماری قوتوں کے غلبہ کا حصار دیکھتے ہی دیکھتے ربع صدی سے بھی کم عرصہ میں ٹوٹ گیا ہے اور میں اسے افغانستان اور آزاد قبائل کے ساتھ شیخ الہندؒ کے گہرے فکری، علمی اور سیاسی روابط ہی کا ثمرہ قرار دوں گا کہ افغانستان پر روسی استعمار کی مسلح یلغار دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

آج آپ افغانستان میں روس جیسی عالمی استعمار اور سپرپاور کے خلاف صف آرا افغان مجاہدوں اور حریت پسندوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو ان میں ایک بڑی تعداد ان علماء کی نظر آئے گی جو حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور حضرت مولانا عبد الحقؒ کے صرف دو واسطوں سے شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی شاگردی کا شرف رکھتے ہیں۔ اور اس طرح عملاً افغانستان کے جہاد کی کڑیاں بھی شیخ الہندؒ کی اسی تحریک سے جا ملتی ہیں جس کا مقصد عالم اسلام کو ہر قسم کے استعمار اور سامراج سے نجات دلا کر مکمل آزادی اور غلبۂ اسلام کی منزل سے ہمکنار کرنا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ کے فکر و عمل اور ایثار و قربانی کے وارث افغان مجاہدین پورے عالم اسلام کے تشکر کے مستحق ہیں کہ انہوں نے:

  • بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن کی دینی غیرت و تشخص کا تحفظ کیا۔
  • پاکستان اور مشرق وسطیٰ کی طرف روسی استعمار کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا۔
  • اپنی جرأت و استقامت اور جذبۂ جہاد کے ساتھ روس کی ان مسلم ریاستوں میں دینی بیداری کی لہر دوڑا دی جو روسی سامراج کے آہنی شکنجہ میں جکڑی ہوئی ہیں۔ اور آج جب روس جیسی عالمی قوت اپنے زیر تسلط مسلم علاقوں بالخصوص قازقستان اور ازبکستان میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی دینی بیداری سے خوفزدہ ہو کر افغانستان سے واپسی کی راہیں تلاش کر رہی ہے تو فکر و نظر کی جبینِ نیاز عالمِ تصور میں اس عظیم شخصیت کے سامنے خم ہونے کے لیے بے چین ہے جسے دنیا شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔