آزادی مارچ اور انقلاب مارچ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈاکٹر طاہر القادری کا یوم شہداء گزر گیا ہے اور عمران خان کے آزادی مارچ کا دن قریب تر ہے جس میں عمران خان کے قافلہ کے ساتھ جانے کا اعلان ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی انقلاب مارچ کے نام سے کر دیا ہے۔ اس طرح تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک دونوں کے کارکنوں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگیا ہے جہاں وہ 14 اگست کو جمع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دونوں کا ہدف یہ بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے الگ کر دیا جائے جس کے بعد عمران خان کے بقول قوم کو بادشاہت سے آزادی مل جائے گی۔ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری اسے انقلاب سے تعبیر کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے انقلاب مارچ اور آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اس سے ان خطرات و خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے جو اس حوالہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے سامنے لائے جا رہے تھے کہ خلفشار میں اضافہ ہوگا، انارکی پھیلے گی اور لا قانونیت کی نئی لہر پیدا ہوگی، جو جمہوری نظام کے ساتھ ساتھ قومی وحدت کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات، طعن و تشنیع، تشدد کی کاروائیوں، اور دھمکیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ 14 اگست جو ملک کا یوم آزادی ہے اس صورت حال میں بہت بڑی باہمی محاذ آرائی کے دن کا رنگ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جو مسلح تصادم کے بعض افسوسناک واقعات کے باعث انتہائی خطرناک ہوگیا ہے۔

جہاں تک طرز عمل اور طریق کار کا تعلق ہے، تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ حکومتی طرز عمل پر بھی سنجیدہ حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کے ان خدشات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ یہ سب کچھ شاید کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دینا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس سارے پیش منظر سے قطع نظر ہم نفس مسئلہ کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت گہما گہمی، باہمی کشاکش، محاذ آرائی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جذبہ غالب ہوگیا ہے۔ اور جن قومی مسئلوں کے عنوان سے یہ تحریکات شروع کی گئی تھیں وہ پس منظر میں چلے گئے ہیں، بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کشمکش اور محاذ آرائی کو محاذ جنگ بنایا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ اصل مسئلہ اس سے گم ہو کر رہ جائے۔ اور نعرے بازی اور باہمی الزام تراشی کی دھند میں قومی مسائل کو نظروں سے اوجھل کر دیا جائے۔

ہمارے خیال میں ان تحریکات کا باعث یا بہانہ بننے والے دو مسئلے ہیں جو اہم قومی مسائل میں سے ہیں، اور جو ہر دور میں قومی سیاسی راہ نماؤں کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار رہے ہیں۔ ایک مسئلہ ملک کے عمومی نظام کا ہے جو نو آبادیاتی دور کی یادگار ہے اور جس نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھانے اور ان میں اضافہ کرتے چلے جانے کا کردار ہی ادا کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت فک کل نظام کے نعرہ کے ساتھ پورے نظام کی تبدیلی کی بات کرتی تھی اور ملکی نظام میں ہمہ گیر تبدیلیوں کی داعی تھی۔ مگر اب منظر عامہ بدل گیا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کی قیادتیں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے تحفظ کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ جبکہ ان کا نعرہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اچک لیا ہے اور وہ پورے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے اسے بدل دینے کے نعرہ کے ساتھ میدان میں کھڑے ہیں۔ وہ اس میں کس حد تک سنجیدہ ہیں اور نظام کی تبدیلی کے اس نعرہ میں ان کی پشت پر کون ہے، اس بحث میں پڑے بغیر ’’نظام کی تبدیلی کے نعرہ‘‘ کی حد تک یہ تبدیلی بہرحال آچکی ہے کہ ملک کے نظام کو چیلنج کرنے اور اسے تبدیل کرنے کا پرچم اب ڈاکٹر طاہر القادری کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ نعرہ اصل میں جن جماعتوں کا تھا ان کا وزن ’’اسٹیٹس کو‘‘ اور مروجہ سسٹم کے تحفظ کے پلڑے میں نظر آتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔

دوسرا مسئلہ عمران خان نے اٹھایا ہے کہ ملک کے انتخابی نظام میں مؤثر تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت ہے، اور گزشتہ الیکشن میں مبینہ طور پر ہونے والی دھاندلیوں کے سدباب کے ساتھ ساتھ انتخابی نظام میں مؤثر اصلاحات ناگزیر ہوگئی ہیں جو ایسی دھاندلیوں کا راستہ روک سکیں۔ مسئلہ کی سنگینی کی حد تک عمران خان کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور ان کے تحریکی طریق کار پر تحفظات کے باوجود ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ جہاں تک انتخابی نظام کا تعلق ہے اس سے باری باری جیتنے والے چند مخصوص طبقات کے علاوہ قوم کا کوئی طبقہ بھی مطمئن نہیں ہے۔ مختلف ادوار میں قومی سطح پر اس نظام کی اصلاح کی باتیں پورے زور و شور کے ساتھ ہوتی رہی ہیں۔ جس دور میں بایاں بازو ترقی پسندی کے ٹائٹل کے ساتھ قومی سیاست کا ایک اہم کردار تھا اس کی طرف سے طبقاتی نمائندگی کو اس کا حل بتایا جاتا تھا۔ پھر 1970 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی اور تحریک استقلال نے متناسب نمائندگی کو اس کا حل قرار دیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں آئین کی دفعات 62/63 اسی انتخابی نظام کو درست کرنے کے لیے ترتیب دی گئیں اور موجودہ پارلیمنٹ نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی اسی غرض سے قائم کی ہے۔ لیکن یہ ساری تجاویز اور اصلاحات ایک نادیدہ ریڈ لائن کو عبور کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ اور اب بھی ان میں پیش رفت کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

اس لیے ہم ایک طرف تو تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادتوں سے یہ عرض کریں گے کہ اگر وہ اپنے ان دو اہم مقاصد ’’ملکی نظام کی تبدیلی‘‘ اور ’’انتخابی نظام میں مؤثر اصلاحات‘‘ میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی جدوجہد کو اشتعال، لا قانونیت، انارکی اور تشدد سے ہر قیمت پر بچانا ہوگا۔ ورنہ وہ اپنے مقاصد میں ناکامی کے علاوہ اپنی سنجیدگی اور سیاسی وزن و قیمت کو بھی داؤ پر لگا دیں گے۔ اور دوسری طرف حکومت سے یہ گزارش کرنا ضروری ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی مخاصمت اور اشتعال انگیز بے لچک رویہ کو اصل مسائل سے صرف نظر کا بہانہ نہ بننے دے۔ اور امن و امان کے قیام کی ہر ممکن کوشش کے ساتھ ساتھ نو آبادیاتی نظام سے نجات اور انتخابی نظام کی اصلاح کے قومی مسائل کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ صورت بھی نکالی جائے۔ جبکہ اس حوالہ سے جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء پاکستان اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کی قیادتوں سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملکی نظام کی تبدیلی، نظام مصطفیؐ کا نفاذ اور نو آبادیاتی نظام سے نجات کا نعرہ اصل میں تو ان کا تھا، اور انہوں نے اس کے لیے طویل جدوجہد کی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے تساھل اور بے توجہی سے ’’نظام کی تبدیلی‘‘ کا یہ نعرہ مستقل طور پر غیر سنجیدہ عناصر کے ہاتھ میں چلا جائے اور ملک میں ایک صحیح اور عادلانہ نظام کے جو امکانات کسی درجہ میں موجود ہیں وہ بھی سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہو کر رہ جائیں۔