خوشی اور غم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

۱۴ اگست کو چارسدہ کے مسلم کالج میں یوم آزادی کے حوالہ سے ایک تقریب میں شریک تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری کا موبائل فون پر میسج آیا کہ صدارتی ایوارڈ ملنے پر مبارک باد ہو۔ مجھے اس سلسلہ میں کچھ بھی علم نہیں تھا اس لیے سمجھ نہ پایا کہ کون سے ایوارڈ پر مبارک باد دی جا رہی ہے۔ خیال تھا کہ تقریب سے فارغ ہو کر ڈاکٹر صاحب محترم سے دریافت کروں گا مگر تھوڑی دیر میں کراچی سے ڈاکٹر محمد شکیل اوج کا فون آگیا، انہوں نے مبارک باد دی اور بتایا کہ ہر سال یوم آزادی کے موقع پر مختلف شعبوں کی اہم شخصیات کو جو صدارتی ایوارڈز دیے جاتے ہیں ، اس سال ان کی فہرست میں ان کا اور میرا نام شامل ہے۔ میں نے ان سے بھی عرض کیا کہ مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمار خان کو معلوم ہوگا، عمار خان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ چند روز قبل آپ کا تعارفی خاکہ (سی وی) مانگا گیا تھا جو میں نے بھجوا دیا تھا، اس کے علاوہ مجھے بھی کوئی علم نہیں ہے۔

ایک دو روز بعد ڈاکٹر شکیل اوج صاحب کا پھر فون آیا کہ وہ علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کے پاس بیٹھے ہیں، ان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی مکتب فکر کے بڑے علماء کرام میں سے ہیں، تدریس و تعلیم اور تحقیق و تصنیف میں زندگی بسر ہوئی ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ و حواشی اور مسلم شریف کی شرح بھی لکھی ہے جو ان کی تصانیف میں نمایاں ہیں۔ ان میں انہوں نے دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے درمیان متنازعہ مسائل کے حوالہ سے ایسی تعبیرات پیش کی ہیں جو ان کے خیال میں دونوں کو قریب لانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ کوشش بہرحال لائق تحسین ہے اور میں نے بعض مقامات پر اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان سے علیک سلیک ہوئی اور انہوں نے ربع صدی قبل کا ایک واقعہ یاد دلایا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ کی ایک سیرت کانفرنس میں ہم دونوں شریک ہوئے تھے۔

چند روز بعد لاہور کے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی طرف سے مبارک باد کا خط ملا جس کے ساتھ یہ اطلاع تھی کہ وہ ستمبر کے آغاز میں صدارتی ایوارڈ پانے والی شخصیات کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتمام کر رہے ہیں اور مجھے بھی اس میں شریک ہونا ہے۔ میں نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر دی کہ مجھے چونکہ کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ہے اس لیے میں اس نشست میں شریک نہیں ہو سکوں گا۔ غزالی ٹرسٹ ایک اچھا اور منظم تعلیمی نیٹ ورک ہے جو جناب سید عامر محمود کی سربراہی میں ملک کے مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ جوہر ٹاؤن لاہور میں ٹرسٹ کے ہیڈ کوارٹر میں یہ تقریب ہوئی جس کے بعد پھر ان کا خط آیا کہ آپ کی غیر حاضری بہت محسوس کی گئی ہے۔ میں نے دوبارہ شکریہ کے ساتھ معذرت کی اور عرض کیا کہ میں اس معاملہ میں بہت محتاط بلکہ کمزور واقع ہوا ہوں اس لیے باضابطہ اطلاع تک ایسی کسی تقریب میں شمولیت نہیں کر سکوں گا۔ اس پس منظر میں گزشتہ روز اسلام آباد سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے لیٹر وصول ہوا ہے کہ آپ کو اس سال تعلیمی سلسلہ میں نمایاں کارکردگی کے عنوان سے صدارتی ایوارڈ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

سرکاری وظائف اور اعزازات کے حوالہ سے میرا موقف وہی ہے جو سیدنا حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا تھا کہ تقاضہ اور پیچھا کیے بغیر از خود کوئی چیز ملتی ہے تو اسے قبول کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ میرے لیے زندگی میں کسی سرکاری اعزاز کا پہلا موقع ہے اور ’’کفران نعمت‘‘ سے بھی بچنا چاہتا ہوں۔ اس لیے اس پر صدر پاکستان اور متعلقہ حکام کا شکر گزار ہوں۔ ایسا موقع بہرحال خوشی کا ہوتا ہے لیکن میری خوشی ڈاکٹر محمد شکیل اوج کی المناک شہادت نے چھین لی ہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ تھے اور ملک کے نامور اسکالرز میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ بہت سی کتابوں کے مصنف اور ہزاروں طلبہ کے استاذ تھے۔ چند ماہ قبل ان کی دعوت پر کراچی یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ وہ کراچی میں ایک عرصہ سے جاری دہشت گردی کا شکار ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس دہشت گردی کا پس منظر مزید افسوس ناک ہے کہ ان کے قتل پر بی بی سی نے جو خبر نشر کی اس میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف کراچی کے کسی بڑے مدرسہ نے مرتد اور واجب القتل ہونے کا فتویٰ صادر کیا تھا جو دو روز تک سوشل میڈیا میں گردش کرتا رہا اور اسی ماحول میں ان کے المناک قتل کا واقعہ رونما ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کوئی فتویٰ نہیں تھا بلکہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم کے نام سے ایک جعلی فتویٰ تراش کر اسے اس مذموم مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس کی وضاحت مفتی صاحب نے ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ:

’’ابھی ہمارے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ کسی ٹی وی چینل نے یہ خبر نشر کی ہے کہ جامعہ کراچی (کراچی یونیورسٹی) کی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب کے قتل کا جو درد ناک واقعہ پیش آیا ہے، اس سلسلے میں کوئی فتویٰ میری جانب سے یا جامعہ دارالعلوم کراچی کے دار الافتاء کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب کو واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔ میں بحیثیت جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر اور بحیثیت صدر مفتی جامعہ دارالعلوم کراچی واضح اعلان کرتا ہوں کہ اس طرح کا کبھی کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا گیا۔مزید وضاحت یہ بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ آج سے پورے دو سال پہلے ۱۹ ستمبر ۲۰۱۲ء کو خود ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب کا ایک خط آیا تھا جس میں انہوں نے ہمارے دارالافتاء کی طرف منسوب واجب القتل قرار دیے جانے کے فتوے کی تردید یا تصدیق چاہی تھی۔ چنانچہ دارالافتاء دارالعلوم کراچی کی طرف سے مکمل تحقیق کرنے کے بعد جامعہ دارالعلوم کراچی کے ناظم جناب مولانا مفتی عبد الرؤف سکھروی نے جواب لکھ دیا تھا کہ ہماری طرف سے اس طرح کا کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوا۔ اور جس فتویٰ کی فوٹو کاپی ڈاکٹر محمد شکیل اوج نے خط کے ساتھ بھیجی تھی اس کے بارے میں ان کو لکھ دیا گیا تھا کہ یہ سراسر دھوکہ دہی اور جعل سازی پر مبنی ہے۔ اب پھر میں (مفتی محمد رفیع عثمانی) اور دارالافتاء کے حضرات مولانا مفتی محمود اشرف، مولانا مفتی عبد المنان اور مولانا محمد یعقوب اس جعلی فتویٰ کی مکمل تردید کرتے ہیں۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی جاری کردہ اس وضاحت کے ساتھ جامعہ دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء کے ناظم مولانا مفتی عبد الرؤف سکھروی کی یہ تحریر بھی ملاحظہ کر لی جائے جو جامعہ دارالعلوم کی طرف سے اشتہار کی صورت میں شائع ہوئی ہے کہ

’’دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی انتظامیہ کی طرف سے عامۃ المسلمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بعض دھوکہ باز لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے دارالافتاء یا جامعہ دارالعلوم کراچی کے اکابر کی طرف کوئی تحریر یا فتویٰ منسوب کر کے اسے تقسیم کرتے ہیں یا اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایسی تحریر استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ بعض اوقات کسی دوسرے درست فتویٰ کی عبارت ختم کر کے صرف اکابر کے دستخطوں کو جعل سازی (اسکیننگ اور فوٹو) کے ذریعہ اپنی جعلی تحریر پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے متعدد واقعات ہمارے علم میں آچکے ہیں۔ جامعہ کراچی کے پروفیسر جناب شکیل اوج صاحب مرحوم کے بارے میں بھی دو سال قبل ایک جعلی فتویٰ اسی طرح بنایا گیا تھا جس کی تردید ہمارے دارالافتاء کی طرف سے اسی وقت خود ان کے نام خط میں کر دی گئی تھی۔ اور اب صدر دارالعلوم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے دوبارہ اس کی تردید اخبارات اور ریڈیو وغیرہ پر کر دی ہے۔ لیکن جعل سازی کا ایک تازہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت صدر دارالعلوم کراچی کے لیٹر پیڈ اور دستخط کی کاپی کر کے جناب پروفیسر مرحوم کے بارے میں ایک خود ساختہ عبارت کو حضرت صدر دارالعلوم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اسے ٹویٹر وغیرہ پر پھیلایا جا رہا ہے۔ لہٰذا عامۃ الناس سے درخواست ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت یا ادارے کے بارے میں ہماری کوئی تحریر یا فتویٰ قبول کرنے سے پہلے جامعہ دارالعلوم کراچی اور دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی سے اس کی تصدیق ضرور کر لیا کریں۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا مفتی عبد الرؤف سکھروی کی ان وضاحتی تحریروں سے جو صورت حال سامنے آئی ہے اسے اگر معمولی بات سمجھ لیا جائے تو یہ سمجھنے والوں کے حوصلہ اور ظرف کی بات ہوگی۔ مگر واقعہ کا ظاہری تناظر یہ بنتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور ذمہ دار دارالافتاء کے نام سے ایک خود ساختہ تحریر پھیلائی گئی اور اس ماحول میں کراچی یونیورسٹی جیسے اہم تعلیمی ادارے کے سینئر استاذ اور ملک کے ایک معروف اسلامی اسکالر کو واجب القتل قرار دے کر انہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی نے وضاحت اور تردید جاری کرنے میں کسی تامّل اور تاخیر سے کام نہیں لیا۔ مگر منصوبہ سازوں کی چابک دستی دیکھیں کہ وضاحت جاری ہونے تک ان کی جعل سازی اپنا کام دکھا چکی تھی۔ یہ قتل اس جعلی فتویٰ کی وجہ سے ہوا ہے یا قتل کے اسباب کو دھندلکوں میں غائب کرنے کے لیے مصنوعی فتویٰ کا یہ ماحول عمدًا بنایا گیا ہے، دونوں صورتوں میں یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔

چنانچہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کا یہ المناک قتل المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ اصحابِ فکر و دانش کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے کہ وہ قوم کو اس دہشت گردی، جعل سازی اور خاص طور پر مذہبی جذبات کے انتہائی گھناؤنے استعمال کے ماحول سے نجات دلانے کے لیے کیا لائحہ عمل تجویز کرتے ہیں۔

صدارتی ایوارڈز کی اس فہرست میں ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب بھی شامل تھے اور ان کی شہادت کا غم تمغہ امتیاز ملنے کی خوشی پر ہزاروں گنا بھاری ہے۔ اس لیے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ مجھے کوئی مبارک باد دینے کی بجائے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے لیے دعا کریں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم مذہبی جذبات کے شرمناک استعمال کے خوگر حضرات کو ہدایت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔