شرح صحیح مسلم شریف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

برادرم مولانا عبد القیوم حقانی کو میں نے شیخ المحدثین حضرت مولانا عبد الحق قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت کرتے، پاؤں دابتے، اور شب و روز ان کے علوم و فیوض کے موتی چنتے دیکھا تھا۔ اور آج اس کے ثمرات و نتائج کا بھی انہی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا ہوں۔ اللہ والوں کی صحبت و خدمت آخرت کے درجات کی بلندی کا ذریعہ تو بنتی ہی ہے، دنیا میں بھی اپنے فیض سے محروم نہیں رکھتی۔ آج کے دور میں اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو مولانا عبد القیوم حقانی کی شب و روز سرگرمیوں کو دیکھ لیا جائے۔ وہ خطابت و تدریس کا شاہسوار ہونے کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ان کی کوئی نہ کوئی تصنیف ارباب ذوق کے ہاتھوں میں ان سے داد وصول کر رہی ہوتی ہے۔ اپنے معاصرین میں میرے لیے مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبد القیوم حقانی ہمیشہ قابل رشک رہے ہیں کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں اور کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ اور جو بھی لکھتے ہیں وہ کسی نہ کسی اہم دینی اور ملی ضرورت پر ہوتا ہے اور ارباب علم و ذوق کے استفادہ کا باعث بنتا ہے۔ ؂ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

اس وقت میرے سامنے مولانا حقانی کی تالیف کردہ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ کی پانچ ضخیم جلدیں ڈیسک پر پڑی ہیں جو آغاز سے کتاب الایمان تک ہیں۔ اور ان کی سرسری ورق گردانی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ امام مسلمؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کو حدیث کی کتابوں میں امام بخاریؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بعد سب سے نمایاں حیثیت اور درجہ حاصل ہے۔ اور بخاری شریف کی مجموعی فوقیت کے باوجود مسلم شریف کو بعض حوالوں سے اس پر ترجیح حاصل ہے جس کا مختلف محدثین نے ذکر کیا ہے، اور ان دونوں کتابوں کے مطالعہ و تدریس کا ذوق رکھنے والوں کو خود بھی محسوس ہوتی ہیں۔

مجھے بخاری شریف والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مسلم شریف عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے الگ الگ ذوق کی طرح ان دونوں بھائیوں کا ذوق بھی متنوع تھا، اور میں نے اپنی افتادِ طبع کے مطابق دونوں سے بحمد اللہ تعالیٰ پوری طرح حظ اٹھایا ہے۔ دونوں بزرگوں کے تدریس سے معذور ہو جانے کے بعد انہی کے حکم پر ان کی زندگی میں مجھے بخاری شریف اور مسلم شریف دونوں کی تدریس کا شرف میسر آیا ہے۔ میں جب طلبہ کے سامنے ان چاروں بزرگوں کے متنوع اذواق کا ذکر کرتا ہوں اور ہر ذوق کی اہمیت الگ الگ بیان کرتا ہوں تو بہت سے طلبہ کے لیے میری یہ باتیں اجنبی سی ہوتی ہیں اور اکثر کے سروں کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ مگر بہرحال ان متنوع ذوقوں کی رنگا رنگی سے ہی علوم حدیث اور کتابوں کی شروح کی بہاریں قائم ہیں اور قیامت تک ان بہاروں کی رونقوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

امام بخاریؒ کے مزار پر خرتنگ (ازبکستان) میں حاضری کا شرف مجھے، مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ ، مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ ، مولانا سعید احمد جلال پوریؒ اور دیگر علماء کے ساتھ حاصل ہوا تھا۔ بلکہ حضرت امام بخاریؒ کی قبر پر بخاری شریف ہاتھ میں لے کر مولانا مفتی نظام الدین شامزئیؒ نے ایک حدیث کی قرأت کی تھی۔ میں بھی اس کے سماع میں شریک تھا۔ مگر امام مسلمؒ کے مزار کو دور سے ہی دیکھ سکا۔ 1987ء میں علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ایران کے دورہ میں شریک تھا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، حافظ حسین احمد اور دوسرے علماء بھی شامل تھے۔ تہران سے بذریعہ ٹرین مشہد جاتے ہوئے فجر کی نماز ہم نے نیشاپور کے ریلوے اسٹیشن پر جمی ہوئی برف پر پڑھی تھی۔ اس وقت ہمیں کچھ فاصلے پر ایک گنبد دکھائی دے رہا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ امام مسلمؒ کا مزار ہے۔ ٹرین کا اسٹاپ تھوڑا تھا، اس لیے ہم وہاں تک جانے کی حسرت دل میں لیے ہی آگے روانہ ہوگئے۔

میں عرض کیا کرتا ہوں کہ امام مسلمؒ خالصتاً محدثانہ شان رکھتے تھے۔ وہ حقیقتاً ان ’’اہل الحدیث‘‘ کے سرخیل تھے جنہیں محدثین کا مستقل طبقہ شمار کیا جاتا تھا۔ وہ فقہی استنباط و استدلال کے دائروں کی طرف نہیں گئے۔ اس لیے میری طالب علمانہ رائے میں ان کے فقہی مسلک کا کھوج لگانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ محدثین کا اپنا ایک تعارف ہے اور ان کی علمی تحقیق و جستجو کا اپنا ایک مستقل میدان ہے۔ اس لیے امام مسلمؒ کو اسی دائرے میں رکھتے ہوئے ان کے علوم و فیوض سے استفادہ کرنا چاہیے۔ بلکہ میری ایک طالب علمانہ ’’اپچ‘‘ یہ بھی ہوتی ہے کہ امام بخاریؒ کی ترتیب فقہی ہے کہ وہ کسی مسئلہ میں ایک موقف قائم کرتے ہیں اور ترجمۃ الباب میں اسے بیان کر کے اس کے موافق دلائل لاتے ہیں۔ پہلے قرآن کریم سے استدلال کرتے ہیں، پھر احادیث لاتے ہیں بلکہ بعض احادیث کا صرف وہ جملہ لاتے ہیں جو ان کی دلیل بن سکتا ہے۔ اور اس کے بعد آثار صحابہؓ و آثار تابعینؒ سے اپنے موقف کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ یہ خالصتاً فقہی ترتیب ہے۔ جبکہ امام مسلمؒ کو صرف حدیث سے غرض ہوتی ہے، وہ ایک حدیث کی سند اور متن بیان کرتے ہیں اور پھر اس متن کے زوائد مختلف اسناد کے ساتھ بیان کر کے حدیث کو مکمل کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بخاری شریف کی ایک حدیث کا متن مکمل کرنے کے لیے مختلف ابواب کی چھان بین کرنا پڑتی ہے۔

مسلم شریف کی شروح ہر دور میں لکھی گئی ہیں۔ ہمارے اکابر میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی شہرہ آفاق شرح ’’فتح الملہم‘‘ نے عرب و عجم کے اہل علم سے خراج تحسین وصول کیا ہے۔ اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت فیوضہم نے اس کا تکملہ لکھ کر ایک وقیع اور عظیم خدمت سر انجام دی ہے۔ اردو میں بھی مختلف حضرات نے اس سلسلہ میں کام کیا ہے جو اپنی اپنی جگہ اہمیت و افادیت رکھتا ہے۔ لیکن اس امر کی ضرورت تھی کہ ایک مفصل اور مبسوط اردو شرح سامنے آئے جو حدیث کے طلبہ اور مدرسین کی راہ نمائی کرے۔ اور اس مصروف دور میں بہت سی شروح کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت سے بے نیاز کر دے۔ اس لیے کہ طلبہ کا تو وہ معیار اور ذوق ہی نہیں رہا۔ اکثر مدرسین کا حال یہ ہے کہ علوم حدیث اور عربی شروح سے استفادہ اور رجوع کے لیے ان کے پاس ذوق ساتھ ساتھ وقت بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے مسلم شریف کے حوالہ سے یہ ہمارے تعلیمی و تدریسی دائرے کی اہم ضرورت تھی جو مولانا عبد القیوم حقانی نے پوری کی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ان کے لیے ذریعہ آخرت بنائیں، آمین۔

مولانا حقانی نے شرح مسلم میں اس محدثانہ ترتیب کو پوری طرح برقرار رکھا ہے کہ سند اور رواۃ کی وضاحت کرتے ہیں، ان کی خصوصیات و امتیازات کا ذکر کرتے ہیں، متن کے الفاظ اور جملوں کی تشریح کرتے ہیں، حدیث کا مفہوم و مصداق واضح کرتے ہیں، اس کے حوالہ سے ضروری کلامی و فقہی مسائل پر بحث کر کے اپنا موقف بیان کرتے ہیں، مختلف اقوال و مذاہب کا حوالہ دیتے ہیں، اور موجودہ معاشرتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری احکام و مسائل کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ ان کی یہ ہمت قابل داد اور لائق تحسین ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کی یہ عظیم علمی خدمت صرف تدریسی اور تعلیمی ضروریات کا احاطہ کرتی ہے اور اس سے مدرسین اور منتہی طلبہ ہی کسی حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جبکہ عام پڑھے لکھے لوگوں اور ان کے ساتھ ساتھ تدریس کے دائرہ سے ہٹ کر صرف خطابت و امامت کا فریضہ سر انجام دینے والے علماء کرام، خطباء، حفاظ و قرآء، اور ائمہ مساجد کے لیے تدریسی موشگافیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے بخاری شریف اور مسلم شریف کے سادہ ترجمہ اور آسان حواشی کی ضرورت اب بھی باقی ہے جو ظاہر ہے کہ مولانا عبد القیوم حقانی جیسا کوئی با ذوق اور با ہمت عالم دین ہی پوری کر سکتا ہے۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کی اس کاوش کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں اور علم وتحقیق کے میدان میں مزید آگے بڑھنے اور بڑھتے چلے جانے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔