کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء

امریکہ بہادر نے مولانا فضل الرحمن خلیل کو بھی دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور ان پر مختلف النوع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ اس میں اس قدر تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ کیونکہ مولانا فضل الرحمن خلیل اپنے طالب علمی سے ہی جس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث دیکھے جا رہے ہیں ان کے پیش نظر یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ اس لیے مولانا فضل الرحمن خلیل اگر مجھے اپنے رد عمل کے اظہار میں ترجمانی کا موقع دیں تو میں اس کے لیے صرف ایک شعر کے اس مصرعہ پر اکتفا کروں گا کہ

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

مولانا فضل الرحمن خلیل کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، اور اس دور سے جانتا ہوں جب وہ افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جہاد میں شرکت کے لیے مولانا ارشاد احمد شہیدؒ ، قاری سیف اللہ اختر، مولانا مسعود کشمیری شہید، اور سعادت اللہ خان کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے طلبہ کو تیار کیا کرتے تھے۔ میں ان چاروں کو پاکستان کے دینی مدارس کے حوالہ سے جہاد افغانستان کے ’’السابقون الاولون‘‘ کہا کرتا ہوں۔ پھر ان کے ساتھ کمانڈر خالد زبیر شہیدؒ ، مولانا مسعود ازھر اور دوسرے حضرات بھی شامل ہوگئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ قافلہ بڑھتے بڑھتے لشکر جرار کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ مجھے مختلف اوقات میں ان سے ہر ایک کے ساتھ شریک کار ہونے کا موقع ملا ہے اور متعدد محاذوں پر جانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔

لیکن افغانستان میں روسی استعمار کی مسلح مداخلت کے خلاف مزاحمت کی یہ جنگ خود امریکہ بہادر کے نزدیک جہاد تھی، جنگ آزادی تھی، اور اس میں حصہ لینے والے ’’فریڈم فائٹر‘‘ شمار کیے جاتے تھے۔ اس لیے امریکہ اور عالمی رائے عامہ اس کی پشت پر تھی اور نہ صرف ہتھیار اٹھانا جائز تھا، بلکہ نوجوانوں کو اسلحہ کی تربیت دینا اور انہیں جنگجو بنانا بھی کار خیر تصور ہوتا تھا۔ اس لیے کسی کو کوئی پریشانی نہیں تھی اور نہ ہی کسی کو کوئی اعتراض یا اشکال تھا۔ بات اس وقت بگڑی جب افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان کی جگہ امریکی فوجیں اتریں تو ان فریڈم فائٹرز نے کہا کہ غیر ملکی فوجیں تو غیر ملکی ہی ہوتی ہیں۔ خواہ روس کی ہوں یا امریکہ کی ہوں۔ کیونکہ افغانستان نہ سوویت یونین کا حصہ تھا اور نہ ہی امریکہ کی ریاست تھا کہ ان میں سے کسی کی فوجوں کی آمد کو ملک کا داخلی مسئلہ قرار دیا جا سکتا۔ اس لیے ان کے ہتھیاروں کا رخ امریکہ کی طرف مڑ گیا اور پلک جھپکتے ہی وہ ’’فریڈم فائٹر‘‘ سے ’’دہشت گرد‘‘ کے روپ میں آگئے۔

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جنگ عروج پر تھی اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے مجاہدین اس میں شریک ہونے کے لیے دھڑا دھڑ آرہے تھے۔ ہم بھی سیاسی اور صحافتی محاذ پر ان کی حتی الوسع سپورٹ کر رہے تھے۔ ایک موقع پر روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے دفتر میں بائیں بازو کے دو دانش ور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں اس بات پر بحث ہوگئی کہ پاکستان کے مولوی اور دنیا بھر سے جہاد کے نام پر آنے والے نوجوان کس کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ ہمارے عزیز ترین ساتھی مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ بھی میرے ساتھ شریک گفتگو تھے۔ ان دانش ور دوستوں کا کہنا تھا کہ مولوی صاحبان امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ کا فائدہ امریکہ کو ہوگا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ تھوڑا سا انتظار کر لیں، جنگ میں کامیابی کے بعد اس خطہ کے لیے امریکہ بہادر نے جو ایجنڈا تجویز کر رکھا ہے، اگر یہ مجاہدین اس ایجنڈے کے کسی خانے میں فٹ ہوگئے اور اس کو انہوں نے قبول کر لیا تو میں آپ کا موقف مان لوں گا کہ انہوں نے امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے امریکی ایجنڈے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے خلاف بھی صف آرا ہوگئے تو آپ کو میری یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ ان مجاہدوں نے امریکی امداد و حمایت سے فائدہ ضرور اٹھایا ہے لیکن امریکہ کی جنگ نہیں لڑی بلکہ اس جنگ میں ان کے اپنے اہداف ہیں جس کے لیے وہ میدان میں اترے ہیں۔

آج منظر بالکل واضح ہوگیا ہے۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیا۔ لیکن میری گزارش ہے کہ یہ غلطی بھی جان بوجھ کر کی گئی اور کچھ عرصہ انتظار ہوتا رہا کہ کیا ان مجاہدین کو امریکہ کے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے کسی خانے میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟ قارئین کے ذہن میں یہ بات یقیناً ہوگی کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد بھی امریکہ بہادر کچھ عرصہ خاموش رہا ہے جس سے یہ تاثر بھی قائم ہوا کہ کہیں یہ بھی امریکہ کی کسی حکمت عملی کا حصہ تو نہیں؟ اس دوران کچھ کوششوں کو میں بھی جانتا ہوں جو افغانستان میں طالبان کی حکومت کو امریکہ کے علاقائی اور عالمی ایجنڈے میں ایڈجسٹ کرنے کے لیے کی گئیں۔ اور جب یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ یہ لوگ امریکی ایجنڈے کو قبول کرنے اور اس میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کر دیا گیا۔ اور آج اس جنگ کا دائرہ افغانستان، عراق اور شام کے علاوہ افریقہ کے ممالک تک وسیع کرنے کے باوجود ان ’’دہشت گردوں‘‘ کا دماغ ’’درست‘‘ نہیں کیا جا سکا۔ اور وہ بدستور اپنے ہی ایجنڈے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کی سرگرمیوں کا دائرہ تنگ تر کرتے چلے جانے کی پالیسی بتدریج آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

ہمارے نزدیک افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسے مستحکم ہونے کے لیے کچھ وقت درکار تھا اور عالم اسلام کی دینی قوتوں کی مختلف شعبوں میں مسلسل اور بھرپور مدد اور حمایت کی ضرورت تھی، جس کا منطقی تقاضہ تھا کہ اس دوران کوئی اور محاذ نہ کھولا جائے اور تمام تر توجہات ’’بیس کیمپ‘‘ کو مضبوط اور مستحکم کرنے پر مرکوز کر دی جائیں۔ ہم نے دھیمے لہجے میں یہ بات کرتے اور لکھتے بھی رہے مگر نعروں اور ترانوں کی گونج میں دھیمے لہجے کی ایسی باتیں کون سنتا ہے۔ چنانچہ بہت سے دوسرے محاذ کھولنے میں جلد بازی سے کام لیا گیا اور ’’بیس کیمپ‘‘ بھی ہمارے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ مگر اب ’’اے کاش ہم ایسا نہ کرتے‘‘ کا ورد کرنے کے سوا ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟

بہرحال مولانا فضل الرحمن خلیل کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ اس لیے کہ

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

امریکہ کی نظر میں وہ بدل گئے ہوں گے مگر ہمیں تو وہ اسی جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں جہاں وہ روسی استعمار کے خلاف جہاد افغانستان میں کھڑے تھے۔ اور ان کی پشت پر عالم اسلام اور امریکہ بہادر بھی کھڑا تھا۔ وہ تو وہیں کھڑے ہیں، یہ پیچھے والے خدا جانے کہاں غائب ہوگئے ہیں؟