پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ہم چار آدمی یعنی مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری محمد طیب حنفی، حاجی عبد اللطیف خالد چیمہ اور راقم الحروف آج کل اس کوشش میں ہیں کہ سنی شیعہ کشمکش جو صورت حال اختیار کرتی جا رہی ہے اس پر ملک کے عمومی دینی اور مسلکی ماحول میں پائے جانے والے سکوت بلکہ حبس کی کیفیت سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا کی جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ خاموشی اور بے توجہی درست نہیں ہے اور صورت حال کو پوری طرح سمجھنے کے بعد جدوجہد کی حکمت عملی اور ترجیحات طے کیے بغیر جذباتی اور سطحی رد عمل اختیار کرنے میں بھی فائدہ کی بجائے نقصان ہے، اس لیے اس سلسلہ میں طویل مشاورت اور غور و خوض کی ضرورت ہے۔

ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس کے لیے کوئی نیا فورم قائم کرنے کی بجائے ۱۹۸۸ء میں اسی حوالہ سے قائم ہونے والے ’’متحدہ سنی محاذ‘‘ کو دوبارہ متحرک کیا جائے جو ۱۰، ۱۱ جنوری ۱۹۸۸ء کو شیرانوالہ گیٹ لاہور میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی صدارت میں منعقد ہونے والے دو روزہ قومی سنی کنونشن میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ کی سربراہی میں تشکیل پایا تھا۔ اس میں دیوبندی مسلک کی کم و بیش تمام جماعتیں شریک تھیں۔ اور اس میں اس وقت کے حالات کی روشنی میں موقف اور مطالبات طے کیے گئے تھے اور روزنامہ اسلام کے زیر نظر کالم میں ۷ مارچ ۲۰۱۳ء کو شائع ہو چکے ہیں۔

جبکہ اس سے قبل ۱۹۷۳ء میں اس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ایک ہزار سنی علماء کرام کی طرف سے ’’سنی مطالبات‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پیش کی گئی تھی جو تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت قاضی مظہر حسین نور اللہ مرقدہ نے اس وقت کے حالات کے تناظر میں تحریر فرمائی تھی۔ اور اس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ ، مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید حامد میاںؒ ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، مولانا محمد اجمل خانؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا تاج محمودؒ ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سمیت تمام سنی مکاتب فکر کے ایک ہزار کے لگ بھگ علماء کرام نے دستخط کیے تھے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ان دونوں متفقہ دستاویزات کو آئندہ جدوجہد کی بنیاد بنایا جائے اور پاکستان کو دستوری طور پر ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کے مطالبہ کے ساتھ منظم محنت کا آغاز کیا جائے۔ عاشورہ محرم الحرام کے بعد اس سلسلہ میں وسیع مشاورت کا اہتمام کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ سردست ۱۹۷۳ء کی مذکورہ متفقہ یاد داشت کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جو اس وقت تحریک خدام اہل سنت کے چکوال کے دفتر نے کتابچہ کی صورت میں ایک ہزار علماء کرام کے ناموں کے ساتھ شائع کیا تھا۔

بخدمت جناب ذوالفقار علی بھٹو، وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان۔

سلام مسنون! عرض آنکہ پاکستان میں سنی مسلمانوں کی بہت غالب اکثریت پائی جاتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے قریباً ۲۵ سالہ طویل دور میں اصحاب اقتدار عمومًا اقلیتی فرقوں کی نا حق دلجوئی اور ناز برداری کی خاطر، بلکہ اپنے مخصوص شخصی اور سیاسی مصالح و مفادات کے تحت سنی اکثریت کے حقوق کو نظر انداز بلکہ پامال کرتے رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں یہ عظیم اسلامی شاندار تاریخی کارناموں کی وارث قوم (سنی مسلمان) ہر پہلو سے انتہائی پستی اور بد حالی میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اب چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جدید آئین منظور ہو کر ۱۴ اگست ۱۹۷۳ء سے نافذ ہو چکا ہے۔ اس لیے سوادِ اعظم (مسلمانان اہل السنت والجماعت) کے ملکی اور ملی حقوق کے تحفظ کی خاطر ہم بعض اہم مطالبات پیش خدمت کر رہے ہیں، جو درج ذیل ہیں:۔

مطالبہ نمبر ۱: متعلقہ نصاب دینیات

  1. سرکاری یا نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب دینیات میں صرف سنی عقائد و احکام پر مشتمل دینیات کی تعلیم نافذ کی جائے جو بحیثیت اکثریت ان کا اسلامی اور جمہوری حق ہے۔ اور جو دوسرے جمہوری ممالک کے مروّجہ دساتیر اور تعامل سے بھی ظاہر ہے۔ مثلاً آئرلینڈ کے دستوریہ میں یہ الفاظ موجود ہیں:

    ’’مملکت وہاں کے شہریوں کی غالب اکثریت کے عقیدہ کے محافظ کے طور پر اپاسٹامک اور رومن چرچ کی خاص حیثیت تسلیم کرتی ہے‘‘۔

    اسی طرح ناروے کی دستوریہ میں درج ہے کہ

    ’’ایونیحبلیکل لوتھرن مذہب مملکت کا پبلک مذہب رہے گا۔ اس مذہب کے پیروکاروں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش اسی مذہب کے مطابق کریں۔ جینورٹس کو برداشت نہیں کیا جائے گا، بادشاہ ہمیشہ ایونیحبلیکل لوتھرن مذہب کا پیرو ہوگا۔‘‘ (بحوالہ روزنامہ نوائے وقت، راولپنڈی ۱۱ مئی ۱۹۷۳ء)

    اور خصوصًا اپنے پڑوسی ملک ایران کے نصاب تعلیم کی مثال بھی ہمارے لیے زبردست حجت ہے۔ کیونکہ وہاں حکومت کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں میں صرف شیعہ اثنا عشریہ کی دینیات کی تعلیم کا انتظام ہے۔ سنی دینیات کو نصاب تعلیم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا پاکستان کے تعلیمی نصاب میں بھی صرف سنی اکثریت کی دینیات کا نفاذ ہونا چاہیے۔ نہ یہ کہ شیعہ اقلیت کو سنی اکثریت کے مساوی درجہ دے دیا جائے۔

  2. سنی دینیات کا انتظام حکومت کی طرف سے اہل سنت کے علمائے محققین کے مشورہ سے کیا جائے جس میں عقیدہ ختم نبوت اور کمالات رسالت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے علاوہ رحمت للعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض یافتہ مقدس جماعت (صحابہ کرامؓ) کے حالات، بالخصوص خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ۔ ازواج مطہرات حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، اور حضرت حفصہؓ وغیرہ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک صاحبزادوں حضرت قاسمؓ، طاہرؓ، طیبؓ، اور بنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ، حضرت ام کلثومؓ، اور خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا تذکرہ، تعلیم کا ضروری جز ہونا چاہیے۔ اور سنی دینیات کے معلّم بھی صرف سنی اساتذہ ہونے چاہئیں۔
  3. شیعہ وغیرہ اقلیتی فرقوں کو آئین پاکستان کی حسب ذیل دفعہ کے تحت ان کے مخصوص مذہبی اداروں میں ان کی مذہبی تعلیم کا حق دیا جا سکتا ہے کہ

    ’’کسی مخصوص مذہبی گروہ کو اس گروہ کے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کا بندوبست کرنے کی اجازت ہوگی اور انہیں اس سلسلے میں منع نہیں کیا جا سکے گا۔ اور وہ اپنے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں ایسا کرنے کے لیے بالکل آزاد ہوں گے۔‘‘ (آئین پاکستان دفعہ ۲۲ شق ۳ نمبر ۱)

    اور آئین کی مندرجہ شق سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اکثریت کی دینیات کا انتظام ہوگا۔ اور اقلیتی فرقے اپنے اپنے مخصوص اداروں میں اپنی مذہبی تعلیمات کا انتظام کرنے کے مجاز ہو سکتے ہیں۔

  4. شیعہ اقلیتی فرقہ کی طرف سے ان دنوں میں پھر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے: (ا) کراچی کے اجلاس منعقد ۳۰ ستمبر ۱۹۷۲ء میں ’’سنی شیعہ نصاب کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق سنی شیعہ مشترکہ نصاب نافذ کیا جائے۔‘‘ (ب) ’’اس مشترکہ نصاب کے مرتب ہونے تک ۱۹۷۰ء میں بارہ رکنی بورڈ کی منظور کردہ دینیات کی کتابیں پڑھانے کا حکم دیا جائے۔‘‘

    حالانکہ نصاب تعلیم کی یہ دونوں صورتیں اہل سنت کے اسلامی اور جمہوری حقوق کے خلاف ہیں۔ علاوہ ازیں اس سلسلہ میں یہ بھی گزارش ہے کہ کراچی کے اجلاس منعقدہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۲ء میں سنی شیعہ نصاب کمیٹی نے جو یہ فیصلہ کیا ہے کہ ’’سنی و شیعی عقائد و عبادات کے ابواب تو جدا جدا ہوں گے، لیکن دینیات کی کتاب ایک ہوگی، کلاس بھی ایک ہوگی، استاد بھی ایک ہوگا، اور امتحان بھی ایک ہوگا۔‘‘

    یہ ایک مضحکہ خیز تجویز ہے جو اہل سنت کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ

    1. مشترکہ نصاب کی اس مجوزہ صورت میں شیعہ اقلیتی فرقہ کو سنی غالب اکثریت کے ساتھ مساوی درجہ پر رکھا گیا ہے۔
    2. مجوزہ صورت میں استاذ اور کلاس ایک ہونے کی وجہ سے سنی اساتذہ پر اپنے عقیدہ و ایمان کے خلاف دینیات کی تعلیم لازمی قرار پاتی ہے، اسی طرح سنی طلبہ کو ایک ہی کلاس میں شیعہ دینیات پڑھنی پڑے گی اور بلا ضرورت اپنے عقیدہ و ایمان کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی تعلیمات چونکہ ناقابل برداشت ہوتی ہیں، اس لیے اس سے تعلیم و تعلم کا اصلی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
    3. علاوہ ازیں نصاب تعلیم کی مروجہ صورت آئین پاکستان کی حسب ذیل دفعہ کے تحت بے اثر اور کالعدم ہو جاتی ہے کہ

      ’’کسی شخص کو جو کسی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہو ایسی مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا، اور نہ کسی مذہبی رسم میں شرکت کے لیے کہا جائے گا، نہ مذہبی عبادت کرنا ہوگی، اگر یہ ہدایات اس کے اپنے مذہب کی بجائے کسی اور مذہب سے متعلق ہوں۔‘‘ (دفعہ ۲۲ نمبر ۱)

    اسی طرح متبادل صورت میں شیعہ کا یہ مطالبہ بھی مسترد کر دینا چاہیے کہ ۱۹۷۰ء کے بارہ رکنی بورڈ کی منظور کردہ دینیات کی کتابیں پڑھانے کا حکم دیا جائے‘‘۔ کیونکہ جب سرکاری تعلیمی اداروں میں جمہوری اصول کے تحت صرف سنی اکثریت کی دینیات کا نفاذ ضروری ہے تو پھر شیعہ دینیات کے داخل نصاب ہونے کا مسئلہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔

  5. شیعہ دینیات کا مطالبہ اس لیے بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ سنی عقائدِ اصول اور شیعی عقائدِ اصول میں تضاد پایا جاتا ہے۔ چنانچہ سنی دینیات میں جن امور کا اثبات ضروری ہے، شیعہ دینیات میں ان میں سے اکثر امور کی نفی پائی جاتی ہے۔ مثلاً سنی دینیات میں خلفائے راشدین حضرت ابوبکرؓ صدیق، حضرت عمرؓ فاروق، حضرت عثمانؓ ذوالنورین اور حضرت علیؓ المرتضیٰ کو بالترتیب برحق خلفاء تسلیم کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس کے برعکس شیعہ دینیات میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بلا فصل ماننا ان کے ایمان کی بنیاد ہے اور ان کی اذان میں بھی حضرت علی المرتضیٰؓ کے لیے خلیفۂ بلا فصل کے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی ہی خلیفہ بر حق ہیں۔ اور نعوذ باللہ خلفائے ثلٰثہ حضرت ابوبکرؓ صدیق، حضرت عمرؓ فاروق، اور حضرت عثمانؓ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضرت علیؓ کی خلافت کو غصب کرنے والے ہیں، اور کسی درجہ میں بھی ان کے نزدیک برحق خلیفہ نہیں ہیں۔ تو کیا حکومت کے لیے ان دونوں متضاد عقائد و نظریات کی سرپرستی تعلیمی اداروں میں جائز اور معقول ہو سکتی ہے؟
  6. سنی شیعہ مشترک نصاب ہو یا جداگانہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں متضاد و متخالف عقائد و نظریات کی تعلیم کی بنا پر سنی و شیعہ طلبہ میں مذہبی مباحثات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس سے اساتذہ بھی متاثر ہوں گے اور تعلیمی نظام میں انتشار پیدا ہو کر فرقہ وارانہ فساد و منافرت کا باعث بن جائے گا۔
  7. اگر شیعہ اقلیتی فرقہ کی دینیات کو کسی صورت میں بھی داخل نصاب ہونے کا حق دیا جائے تو اس کے بعد مرزائی، عیسائی اور ہنود تک مذہبی اقلیتوں کو بھی ان کی دینیات کو داخل نصاب کرنے کا حق دینا پڑے گا۔ جس کی وجہ سے خود حکومت سخت مشکلات میں مبتلا ہو جائے گی۔ لہٰذا مذکورہ وجوہات کی بناء پر ہمارا یہ مبنی بر حق مطالبہ ہے کہ سنی اکثریت کے اسلامی اور جمہوری حقوق کے پیش نظر سرکاری تعلیمی اداروں میں صرف سوادِ اعظم اہل سنت کی دینیات کو ہی داخل نصاب کیا جائے اور شیعہ اقلیتی فرقہ کی طرف سے ان کی دینیات کو داخلِ نصاب کرنے کے مطالبات کو مسترد کر کے اہل سنت کی عظیم اکثریت کو مطمئن کیا جائے۔

مطالبہ نمبر ۲ : متعلقہ ماتمی جلوس شیعہ

شیعہ اقلیتی فرقہ کے ماتمی جلوسوں پر پابندی لگا دی جائے اور ان کے مخصوص مذہبی رسوم و شعائر کی ادائیگی کو ان کے امام باڑوں اور ان کی عبادت گاہوں میں محدود کر دیا جائے۔ کیونکہ

  1. حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے سلسلہ میں شیعوں کے جو ماتمی جلوس نکالے جاتے ہیں وہ مذہب شیعہ کے اصول کے تحت بھی عبادت میں شمار نہیں ہو سکتے۔ اور اگر وہ ان کو عبادت قرار دینے پر مصر ہیں تو عبادت کے لیے ان کو اپنی عبادت گاہیں استعمال کرنی چاہئیں نہ کہ عام شاہراہیں اور گلی کوچے۔
  2. مروجہ ماتمی جلوس سواد اعظم اہل سنت کے عقیدہ کے تحت ناجائز اور حرام ہیں۔ لہٰذا اقلیتی فرقہ کو یہ حق نہیں ملنا چاہیے کہ ان کے ایسے مذہبی رسوم و مظاہر جو سنی سواد اعظم کے نزدیک ناجائز ہیں، اہل سنت کے گھروں کے سامنے، ان کی مساجد اور ان کے دینی مدارس کے سامنے، ان کی گلی کوچوں میں ادا کیے جائیں۔ یہ طریق عبادت صریح اشتعال انگیزی پر مبنی ہے جس کی وجہ سے دن بدن باہمی منافرت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور باوجود سنی مسلمانوں کے صبر و تحمل کے ہر سال محرم و چہلم کے ماتمی جلوسوں کی وجہ سے متعدد مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسی بنا پر ایران جیسے ملک میں بھی شیعی ماتمی جلوسوں کی اس طرح اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ وہاں کا سرکاری مذہب شیعہ اثنا عشری ہے۔ لہٰذا اسلامی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی خاطر ہمارا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ ماتمی جلوسوں کے سابقہ لائسنس بالکل منسوخ کر دیے جائیں، تاکہ ان ماتمی جلوسوں کی بنا پر جو فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوتے رہتے ہیں، ان کا بالکلیہ انسداد ہو سکے۔

مطالبہ نمبر ۳

اہل سنت کے اوقاف کے لیے علیحدہ سنی اوقاف بورڈ قائم کر دیا جائے اور سنی اوقاف کی آمدنی شرعی ضوابط کے تحت سنی مفادات پر صرف کی جائے اور ان کی نگرانی اور انتظام کے لیے بھی صرف سنی افسران متعین کیے جائیں۔

مطالبہ نمبر ۴: متعلقہ نشریات ریڈیو و ٹیلی ویژن

  1. ریڈیو اور ٹیلی ویژن بہترین ذرائع ابلاغ ہیں، لیکن عام طور پر ان کے ذریعے جو گانے بجانے وغیرہ کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں، وہ ساری قوم کے لیے عموماً، اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے خصوصًا مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں، اور اب جبکہ آئینِ پاکستان میں یہ دفعہ رکھ دی گئی ہے:

    ’’پاکستان کے مسلمانوں کو اس قابل بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگیوں کو اسلام کے بنیادی نظریے اور اصولوں کے مطابق ڈھال لیں، اور قرآن پاک اور سنت نبویؐ کے روشنی میں زندگی کے مطالب کو اچھی طرح سمجھ لیں‘‘۔ (آئین دفعہ ۳۱)

    اسلامی طرز زندگی اس بناء پر ضروری ہے کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ کتاب و سنت کے خلاف ان مخرب اخلاق پروگراموں پر بالکل پابندی لگا دی جائے تاکہ پاکستان کے نوجوان مسلمان طاؤس و رباب کی بجائے شمشیر و سناں ہاتھ میں لے سکیں۔

  2. ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر جو مذہبی اور تبلیغی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں وہ عموماً شیعہ اقلیتی فرقے کے عقائد و نظریات کے تحت ہوتے ہیں اور خصوصًا محرم اور چہلم کی نشریات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ایک شیعہ اسٹیٹ ہے۔ سواد اعظم اہل سنت کے عقائد کے خلاف شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر شامِ غریباں کے پروگرام اور ماتم اور سینہ کوبی اور ذوالجناح اور زنجیر زنی کے مناظر بذریعہ ٹیلی ویژن دکھائے جاتے ہیں، جو کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آئمہ اہل بیت کے ارشادات و اعمال کے بھی خلاف ہیں۔ اہل سنت کے جذبات ان کے ذریعہ مجروح کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا یہ اہم مطالبہ ہے کہ شیعہ اقلیتی فرقہ کے ان پروگراموں پر بالکل پابندی لگا دی جائے۔
  3. ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ جہاں شیر خدا حضرت علیؓ المرتضیٰ، حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضائل و مناقب نشر کیے جاتے ہیں وہاں دیگر خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ فاروق اور حضرت عثمانؓ ذوالنورین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب مثلاً سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدؓ، فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، فاتح مصر حضرت عمرو بن العاصؓ، امین امت حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ، کاتب وحی حضرت امیر معاویہؓ وغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے حالات و کمالات کو بھی قوم کے سامنے پیش کیا جائے، جنہوں نے محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست فیضان حاصل کیا اور رضائے الٰہی کی قرآنی سند حاصل کی۔ جو رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک ما انا علیہ و اصحابی کے تحت ما بعد کی امت کے لیے معیار حق ہیں۔ جن کی تاریخی جانبازیوں اور مجاہدانہ قربانی سے طاغوتی طاقتیں سرنگوں ہوئیں۔ قیصر و کسرٰی کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا ہوا، روم و ایران مفتوح ہوئے، پرچم اسلام بلند ہوا، نور توحید سے بر و بحر روشن ہوئے، اور جن کے ذریعہ قرآن حکیم کی عظیم پیشگوئی ’’غلبہ اسلام‘‘ تکمیل پذیر ہوئی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
  4. جملہ اصحاب و اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و ناموس کو قانونی تحفظ دیا جائے، اور جو شخص کسی صحابی کی بھی توہین کا مرتکب ہو اس کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

مطالبہ نمبر ۵ : متعلقہ مسئلہ ختم نبوت

کتاب اللہ، ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعامل صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی روشنی میں تمام امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والا نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج اور قطعی کافر ہے اور اس کو ماننے والے بھی قطعی کافر ہیں۔ اسی بنا پر فرنگی دور کے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کو تمام علمائے امت نے کافر قرار دیا ہے۔ اور اس کو نبی یا مجدد ماننے کو بھی کافر کہا ہے۔

علاوہ ازیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین جدید میں بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم کے حلف نامہ میں عقیدہ ختم نبوت کو بایں الفاظ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ:

’’میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں، اور خدا پر میرا یقین کامل ہے، اور اس کی کتاب قرآن پاک پر جو کہ آخری کتاب ہے، آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر (جن پر خدا کی رحمت ہو) جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا، قیامت کے دن پر، رسول کی سنت و حدیث پر، قرآن پاک کے احکامات پر‘‘۔ (آئین پاکستان تیسری شیڈول حلف صدر دفعہ ۴۲)

لیکن باوجود اس کے مرزائی گروہ کے افراد اسلام کے نام پر ملک کی اہم کلیدی آسامیوں پر متمکن ہیں اور اس وجہ سے عروج و اقتدار حاصل کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے کسی طرح بھی اسلام اور پاکستان کے وفادار نہیں بن سکتے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے حالیہ اس فیصلے کے رد عمل میں کہ ’’مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں‘‘ مرزائیوں کی طرف سے شائع کردہ ٹریکٹ بعنوان ’’احمدیوں کے بارے میں آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد تجزیہ اور حقیقت حال‘‘ اور ربوہ کے ڈکٹیٹر مرزا ناصر احمد کے مطبوعہ خطبہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ مورخہ ۱۳ مئی ۱۹۷۳ء میں انہوں نے اپنے ناپاک عزائم کو آشکارا کر دیا ہے۔ اور ۲۵ لاکھ مسلح مرزائیوں کی طاقت کے بل بوتے پر خونی انقلاب لانے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ اس بنا پر مرزائیت کے بارے میں ہمارا یہ کم از کم بنیادی مطالبہ ہے کہ:

  1. مرزائیوں کو صراحتًا غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
  2. ان کو کلیدی آسامیوں سے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
  3. مرزا ناصر کے خطبہ اور مذکورہ ٹریکٹ کو ضبط کر کے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، اور ملک و ملت کے خلاف مرزائیوں کے ناپاک عزائم اور ان کی گہری سازشوں کا بالکلیہ سدباب کر دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ پاکستان اور مسلمانان پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی شر سے محفوظ رکھیں اور دین اسلام کو غلبہ عطا فرمائیں، آمین، والسلام۔