سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جنوری ۲۰۱۵ء

جامعۃ الرشید کراچی کے قائم کردہ علمی و فکری فورم ’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ (CPRD) نے گزشتہ سال کے آخری دن ۳۱ دسمبر کو اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس روز سنٹر کے مرکز اسلام آباد میں سی پی آر ڈی کے ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس مولانا مفتی عبد الرحیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی منیب الرحمن، جنرل (ر) حمید گل، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، سینیٹر طلحہ محمود، جناب ڈاکٹر انعام الرحمن، جناب ایاز وزیر، ڈاکٹر محسن نقوی، مولانا سید عدنان کاکاخیل، چودھری عبد الجبار اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ فورم کا مختصر تعارف اس کے ابتدائی تعارف نامہ میں یوں کرایا گیا ہے کہ:

’’ملک کا سیاسی، مذہبی اور معاشرتی منظر نامہ اس امر کا متقاضی ہے کہ مسائل کے ایسے حل تجویز کیے جائیں جو معاشرے کے تمام طبقات فکر کے لیے کسی ایک متفقہ قومی، نظریاتی اور اساسی بنیاد پر یکساں طور پر قابل قبول ہوں۔ الحمد للہ! جامعۃ الرشید CPRD کی پشت پر ایسا مؤقر ادارہ ہے جس کے طفیل CPRD وہ توانائیاں، استعداد اور صلاحیت رکھتا ہے جو بین المسلکی ہم آہنگی کے لیے فرقہ واریت و تعصبات، نفرتوں اور تنگ نظری کی خلیج کو پاٹ کر سٹیک ہولڈرز کو اہم اور مشترک مقاصد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکتا ہے۔ اور امن، بھائی چارے، مفاہمت، یگانگی کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ قومی تقاضوں کے مطابق دینی و دنیاوی تعلیمی نظام تعلیم کے مختلف النوع مسائل اور ان کے حل کے قابل قبول ماڈل پیش کر سکتا ہے۔ یہی CPRD کا خلاصہ ہے۔‘‘

جبکہ اس کے اہداف اور طریق کار کی یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ہم:

  • پاکستان میں اہل فکر و دانش کو ایک آزاد اور غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کریں گے جہاں بلا تفریق و امتیاز نتیجہ خیز باہمی تبادلہ خیال ممکن ہو۔
  • معاشرے کے سلگتے مسائل کی نشاندہی کرنے کے بعد ایک منظم اور مربوط تحقیق و مکالمہ کے میکنزم سے گزر کے قابل عمل حل تلاش کریں گے۔
  • آزادیٔ اظہار خیال و رائے کو ممکن بنانے کے لیے بے باک مکالمے کا راستہ اختیار کریں گے۔

اس پس منظر میں ایڈوائزری بورڈ نے افتتاحی اجلاس میں معروضی مسائل و مشکلات کی ترجیحات کے تعین اور اہم ترین مسائل پر فکری و علمی پیش رفت کے امکانات پر جس ماحول میں بحث و مباحثہ کا آغاز کیا ہے وہ بلاشبہ حوصلہ افزا ہے۔ اور امید قائم ہو رہی ہے کہ اس کے نتائج و ثمرات ملک و قوم کے حق میں بہتر ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔