’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جنوری ۲۰۱۵ء

علماء کرام اور دینی کارکنوں بالخصوص نوجوان علماء میں سے کسی دوست کو امت کے اجتماعی مسائل و مشکلات کے حوالہ سے فکرمند اور متحرک دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ اور حتی الامکان ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی کوشش کرتا ہوں۔ گزشتہ روز جوہر ٹاؤن لاہور میں مولانا میاں محمد اسلم ندیم اور قصور میں مفتی محمد سفیان کی سرگرمیاں دیکھنے کا موقع ملا اور اطمینان و مسرت میں اضافہ ہوا۔

میاں محمد اسلم ندیم ہمارے پرانے ساتھی ہیں اور پاکستان شریعت کونسل میں ہمارے ساتھ شریک کار چلے آرہے ہیں، جوہر ٹاؤن کی مسجد عبد اللہ بن مسعودؓ کے خطیب ہیں، انہوں نے دیگر علماء کرام بالخصوص مولانا الطاف الرحمن گوندل کی رفاقت سے جوہر ٹاؤن کے خطباء و علماء کو مربوط رکھنے کے لیے علماء کونسل کے نام سے ایک مقامی فورم بنا رکھا ہے جس کے تحت مختلف مساجد میں ہفتہ وار دروس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور علاقہ کے علماء کرام و خطباء باہمی مشاورت کے ساتھ دینی سرگرمیوں کو منظم کرتے ہیں۔ مجھے اسی پروگرام کے تحت 11 جنوری کو مسجد ختم نبوت اور مسجد عبد اللہ بن مسعودؓ میں دو اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا۔

مفتی محمد سفیان جامعہ اشرفیہ لاہور کے فاضل اور متخصص ہیں اور اس کے دارالافتاء کے ساتھ منسلک ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کا دارالافتاء ان دنوں مولانا مفتی شاہد عبید کی نگرانی میں علماء کرام اور تاجر برادری میں کاروبار کی حلال صورتوں کو متعارف کرانے اور باہمی مالی معاملات میں حلال و حرام کے فرق کو اجاگر کرنے کے لیے محنت کر رہا ہے۔ جبکہ مفتی محمد سفیان نے اسی دائرے میں قصور شہر میں وقتاً فوقتاً علماء کرام اور تاجروں کی مشترکہ مجالس کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

’’اسلامی طریقہ تجارت کورس‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کلاس کا آغاز 17 جنوری سے ہو رہا ہے جو ہفتہ کی شام کو مسجد ختم نبوت اسلام پورہ میں اور اتوار کی شام کو مسجد عثمانؓ علی احمد شاہ کالونی میں ہوا کرے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اسی سلسلہ میں 10 و 11 جنوری کو مسجد ختم نبوت اسلام پورہ قصور میں دو روزہ ’’انسدادِ سود سیمینار‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کی مختلف نشستوں سے مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا مفتی طیب امین، مفتی حافظ محمد سفیان اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ عنوانات میں (۱) کیا سودی نظام کا متبادل ممکن ہے؟ (۲) سود کی تعریف و اصول، نقصانات اور اس کی مروجہ صورتیں (۳) کاروبار کے لیے شرعی مشاورت کی ضرورت و اہمیت اور (۴) سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد کی معروضی صورت حال، شامل تھے۔ علاقہ کے خطباء اور تاجر حضرات نے اس میں شرکت کی اور اس حوالہ سے مفید معلومات اور راہ نمائی سے بہرہ ور ہوئے۔

مولانا مفتی طیب امین دارالعلوم کراچی کے فاضل و متخصص ہیں، ایک کاروباری ادارہ ’’نافع‘‘ لاہور کے شرعی مشیر ہیں، انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہر سطح کے تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تجارت و کاروبار کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے تجارت و معیشت کے معاملات کی مہارت و تجربہ رکھنے والے مفتیان کرام سے رابطہ رکھیں اور ان سے راہ نمائی حاصل کر کے اپنے کاروبار کو حرام سے بچانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام اور تاجر حضرات کے درمیان عدم رابطہ حرام کی بہت سی صورتوں کے فروغ پانے کا ذریعہ ہے اور اس کے سد باب کے لیے علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروبار کی مروجہ صورتوں سے آگاہی حاصل کریں اور تجربہ کار مفتیان کرام کی راہ نمائی میں پہلے خود تیاری کر کے پھر اپنے علاقہ کے تاجر حضرات کی راہ نمائی کریں۔

مولانا مفتی شاہد عبید نے اپنے خطاب میں کہا کہ بے خبری اور عدم آگاہی کے باعث ہمارے تجارتی نظام اور ماحول میں حرام کی صورتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حالانکہ کاروباری معاملات میں حرام کی صورتیں کم ہیں اور حلال کے ذرائع اس سے کہیں زیادہ موجود و میسر ہیں جن کی طرف راہ نمائی کر کے حرام کے فروغ کو روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سود اپنی تمام صورتوں میں حرام ہے اور سود کے کاروبار پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں موجود ہیں۔ جبکہ فقہاء کرام نے مرابحہ، مضاربہ اور مشارکہ کی ایسی صورتیں واضح کی ہیں جو سود کا بہترین متبادل ہیں اور حلال ہونے کے ساتھ ساتھ منافع میں اضافہ اور مال کے محفوظ ہونے کی ضمانت بھی دیتی ہیں۔ ان صورتوں کو آج کے حالات کی روشنی میں زیادہ واضح کرنے اور ان کی تطبیق کی صورتیں نکالنے کے لیے ذمہ دار مفتیان کرام کو محنت کرنی چاہیے۔ قواعد و ضوابط موجود ہیں، اور اصول و فروع کا ایک وسیع ذخیرہ فقہاء کرام کی تصریحات میں میسر ہے۔ اصل بات موجودہ حالات میں ان کی تطبیق اور ان پر عمل درآمد کی ہے جو ذمہ دار مفتیان کرام کی نگرانی میں ہی صحیح طور پر منظم کیا جا سکتا ہے۔

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ حرام سے بچنا شرعی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی ضرورت بھی ہے کہ سود اور حرام کے دیگر کاروباروں کی وجہ سے معاشرتی بے سکونی، بے برکتی اور نحوست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ہم عام طور پر دعائیں قبول نہ ہونے کی جو شکایت کرتے رہتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام خوری کو قرار دیا ہے۔ اور برکت و سکون کے مسلسل کم ہونے کا باعث بھی حلال و حرام میں فرق نہ کرنا ہے۔ ہمیں عام لوگوں کو اس سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں آگاہ کرتے رہنا چاہیے۔ علماء کرام کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ حلال و حرام کے فرق کو واضح کرتے ہوئے لوگوں کو حرام سے بچنے کی ترغیب دیں اور حلال کی صورتیں وضاحت کے ساتھ بیان کریں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص حرام سے بچنے کے لیے اس کی متبادل صورت دریافت کرتا ہے تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت بلالؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عمدہ کھجوریں پیش کیں اور بتایا کہ میں نے عام کھجوریں دو صاع دے کر ان کے بدلے ایک صاع عمدہ کھجوریں حاصل کی ہیں تاکہ آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو سود ہے اور جائز نہیں ہے۔ اس پر حضرت بلالؓ نے پوچھا کہ اگر ایسا کرنا ضروری ہو جائے تو پھر کیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجوروں کا براہ راست تبادلہ کرنے کی بجائے رقم کے عوض عام کھجوریں بیچ کر اسی رقم کے عوض عمدہ کھجوریں خرید لو، اس سے یہ سود نہیں رہے گا۔

اس لیے حرام کا متبادل دریافت کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے جبکہ اس کے متبادل کی طرف راہ نمائی کرنا سنت رسولؐ ہے۔ علماء کرام کو اس نہج پر کام کرنا چاہیے اور تاجر برادری کی راہ نمائی کرنی چاہیے۔

راقم الحروف نے سود کے انسداد کے سلسلہ میں دینی حلقوں کی جدوجہد سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور علماء کرام اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کی جدوجہد میں اس سے تعاون کریں۔