شاہ عبد اللہ مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جنوری ۲۰۱۵ء

المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالم اسلام ایک مخلص اور مدبر راہنما سے محروم ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ عبد اللہؒ کم و بیش نصف صدی سے سعودی عرب کے حکومتی نظام کا اہم حصہ چلے آرہے تھے اور شاہ فہدؒ کی وفات کے بعد انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کے طور پر منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے عالم اسلام کی وحدت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دینی حلقوں کی معاونت کے لیے اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خصوصی محنت کی ہے اور بہت سے حوالوں سے انہیں ایک بیدار مغز اور ترقی پسند حکمران کے طور پر عالمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے اور آل سعود نے آل شیخؒ کے تعاون سے سعودی عرب کے اسلامی امتیاز و تشخص اور حرمین و شریفین کی خدمت کے میدانوں میں جو سعی و محنت تسلسل کے ساتھ کی ہے وہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔

عالمی ماحول اور سیاسیات میں آل سعود کی ترجیحات کے بارے میں ہمارے جیسے نظریاتی کارکنوں کو ہر دور میں تحفظات رہے ہیں جو آج بھی ہیں اور آئندہ بھی ان کے امکانات کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ لیکن اب سے ایک صدی قبل خلافت عثمانیہ کے بکھر جانے اور عالم عرب میں وسیع تر جغرافیائی اکھاڑ پچھاڑ کے موقع پر انہوں نے حجاز و نجد اور ان کے اردگرد کے بہت سے علاقوں کو المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے نام سے وحدت کے دائرہ میں شامل کیا اور حرمین شریفین کے گرد ایک وسیع سلطنت کا حصار قائم کر دیا، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے حوصلوں کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ اور عالم اسلام نے سعودی حکومت کو خلافت عثمانیہ کے متبادل کے طور پر اپنے دلوں میں جگہ دی۔ حتیٰ کہ سعودی مملکت کے بانی شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں برصغیر پاک و ہند کے اکابر علماء کرام جن میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ بھی شامل تھے، یہ تجویز پیش کی کہ اگر وہ خلافت کا اعلان کر دیں تو انہیں عالم اسلام میں امیر المومنین کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ اس وقت کے حالات کا جبر تھا کہ شاہ عبد العزیزؒ نے مملکت کے ٹائٹل کو ترجیح دی۔ البتہ ملک کے داخلی ماحول میں احکام شریعت کے نفاذ کی طرف عملی پیشرفت کر کے اس خلا کو زیادہ محسوس نہیں دیا اور اس کے ساتھ ہی الشیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ تعالیٰ کے علمی و دینی خاندان کو اپنے ساتھ شریک کار بنا کر اس دینی چھاپ کو اور زیادہ گہرا کر دیا۔

شاہ عبد العزیزؒ اور ان کے بیٹوں شاہ سعودؒ، شاہ فیصلؒ، شاہ خالدؒ، شاہ فہدؒ، اور شاہ عبد اللہؒ کے ادوار حکومت کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو تمام تر شکایات و تحفظات کے باوجود یہ بات حقیقت ہے کہ

  • عالمی ماحول اور عالم اسلام کی معروضی صورت حال میں انہوں نے سعودی عرب میں شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کے بارے میں کوئی دباؤ قبول نہیں کیا، اور اپنی مملکت اور بساط کے دائرہ میں قرآن و سنت کی عملداری کو بہت حد تک قائم رکھا ہے۔
  • حرمین شریفین کی ترقی و توسیع اور انتظام و انصرام میں والہانہ جذبہ کے ساتھ سعی و محنت کی، جس کے ثمرات و آثار کھلی آنکھوں سے سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔
  • حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ان کی ہمیشہ ترجیحی پالیسی رہی ہے۔ اور اگر حجاج کرام کو دستیاب موجودہ سہولتوں کا آج سے ایک صدی سے قبل کے حالات سے موازنہ کیا جائے تو آل سعود کی خدمات کے اس پہلو پر خراج تحسین پیش نہ کرنا ناشکری قرار پاتا ہے۔
  • دنیا کے مختلف حصوں میں آفات اور ظلم و جبر کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی امداد اور ان کی بحالی کے لیے سعودی عرب کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے۔ اور اس میں پیشرفت مسلسل جاری رہتی ہے۔
  • دنیا بھر میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا فروغ اور دینی تعلیم کی حوصلہ افزائی اس حکمران خاندان کی روایت چلی آرہی ہے۔
  • عالم اسلام کی وحدت اور ملت اسلامیہ میں یگانگت کے فروغ کے لیے سعودی حکومت مستقل طور پر سرگرم عمل رہتی ہے۔
  • سعودی عرب میں امن کے قیام اور خاص طور پر حرمین شریفین میں نظم و وحدت کا ماحول برقرار رکھنے میں سعودی حکومت کی پالیسی قابل داد چلی آرہی ہے۔

ان پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھنے میں شاہ عبد اللہؒ نے مختلف حیثیتوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اس لیے ان کی جگہ لینے والے شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ سے بجا طور پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف ان پالیسیوں کو جاری رکھیں گے بلکہ ان میں مزید بہتری پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور ان تحفظات و شکایات کی طرف بھی توجہ دیں گے جن کا عالم اسلام کے مختلف حلقوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً اظہار کیا جاتا ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز رحمہما اللہ تعالیٰ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔ اور ان کے جانشین شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کو خادم الحرمین الشریفین کی حیثیت سے سعودی عرب، عالم اسلام اور امت مسلمہ کی خدمت سر انجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔