’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ مارچ ۲۰۰۴ء

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق کو چرچ آف پاکستان اور پریسٹیرین چرچ آف پاکستان سے شکایت ہے کہ انہوں نے بائبل کا جو انگریزی متن شائع کیا ہے اس میں بہت سی آیات حذف کر دی گئی ہیں۔ یہ شکایت ماہنامہ کلام حق نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں کی ہے اور بتایا ہے کہ چرچ آف پاکستان کی انگریزی بائبل میں چالیس کے لگ بھگ آیات میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں بعض آیات بالکل حذف کر دی گئی ہیں اور بعض آیات کے اہم جملے نکال دیے گئے ہیں۔

ماہنامہ کلام حق کے خیال میں ان آیات میں ردوبدل کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے کلامِ مقدس میں سے وہ تمام آیات حذف کر دی جائیں جن سے خداوند یسوع مسیح کا تجسم، الوہیت، کفارہ، مردوں سے زندہ ہونا اور آسمان پر صعود فرمانا ثابت ہوتا ہے تاکہ خداوند یسوع مسیح کی دوبارہ آمد مشکوک ہو جائے اور خداوند کو وہی حیثیت حاصل ہو جائے جو دوسرے انبیاء کرام کو حاصل ہے اور انہوں نے اس طرح خداوند مسیح کی الوہیت اور پاکیزگی اور فوق البشر ہونے کا انکار کیا ہے اور یہ ایک مذموم جسارت ہے کہ اس کی موجودگی میں مسیحیت کی ساری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ ماہنامہ کلام حق نے اسے ’’نئی امریکی بائبل‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ترجمہ کے ذریعے کلیسا میں بدعتی تعلیم رائج کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہنامہ کلام حق نے مقدس متی، مقدس مرقس، مقدس یوحنا، مقدس لوقا، رسولوں کے اعمال، رومیوں کے نام خط، کرنتھیوں کے نام پہلا خط، عبرانیوں کے نام خط اور مقدس یوحنا کا پہلا خط عام کے علاوہ عہد نامہ قدیم میں سے زبور، یسعیاہ اور زکریاہ نامی رسالوں میں چالیس سے زائد مقامات کی نشاندہی کے ساتھ ان آیات کی تفصیل بھی بیان کی ہے جن میں مذکورہ ردوبدل کیا گیا ہے۔

جہاں تک (۱) حضرت عیسٰی علیہ السلام کی الوہیت (۲) ان کا نسلِ انسانی کے گناہوں کا کفارہ بننا (۳) سولی پر موت پانے کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر اٹھایا جانا (۴) اور اللہ تعالیٰ کے کلام اور روح کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں ظاہر ہونے کا عقیدہ ہے، اگر ماہنامہ کلام حق کے ریمارکس کے مطابق اس نئی امریکی بائبل میں آیات کے حذف اور ردوبدل کا مقصد یہی ہے جو اس نے بیان کیا ہے تو یہ مقصد اور اقدام مسلمانوں کی طرف سے خیرمقدم کا مستحق ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسیحیوں کے اسی غلو کو مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حضرت عیسٰیؑ خدا نہیں اور نہ ہی خدائی میں حصہ دار ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، وہ اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا السلام دونوں پاک دامن ہیں۔ اور حضرت عیسٰیؑ سولی پر نہیں لٹکائے گئے اور نہ ہی ان پر موت وارد ہوئی ہے بلکہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لیے گئے ہیں اور اسی حالت میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ جب وہ سولی پر لٹکے ہی نہیں اور نہ ہی ان پر موت وارد ہوئی ہے تو کفارے کا یہ عقیدہ بھی غلط ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے پوری نسل انسانی کے گناہوں کے بدلے موت کی سزا قبول کر کے ان گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔

اس پس منظر میں نئی امریکی بائبل کا یہ مبینہ رجحان ہمارے نزدیک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ مسیحیوں میں ان خود ساختہ عقائد سے پیچھا چھڑانے کا ذوق بیدار ہو رہا ہے جو حضرت عیسٰیؑ کی اصل تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بعد میں کچھ لوگوں نے یہ عقائد گھڑ کر انہیں مسیحی تعلیمات میں شامل کر دیا تھا۔ ورنہ اسلامی تعلیمات کی رو سے آسمانی مذاہب کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپس میں باپ شریک بھائی ہیں جن کی مائیں الگ الگ ہیں۔ اس ارشادِ نبویؐ کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ سب انبیاء کرامؑ کا عقیدہ ایک ہی ہے البتہ شریعتیں الگ الگ ہیں۔ اس لیے قرآن و سنت کی تشریحات کے مطابق حضرت عیسٰیؑ اور ان کے حواریوں کے عقائد وہی تھے جو اسلام کے بنیادی عقائد کے طور پر قرآن کریم نے بیان کیے ہیں اور عقائد کے حوالہ سے مسلمانوں اور اصل مسیحیوں بلکہ اصل یہودیوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سالہ مکی دور میں جب قریش مکہ کے مظالم اور ایذا رسانی سے تنگ آکر بہت سے صحابہ کرامؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جہاں مسیحیوں کی حکومت تھی اور اصحمہ نجاشیؓ وہاں کے حکمران تھے تو مکہ مکرمہ کے قریشیوں نے ایک وفد بھیج کر بادشاہ اصحمہ نجاشی سے شکایت کی کہ یہ ہمارے بھگوڑے ہیں انہیں واپس کیا جائے۔ اس پر نجاشی بادشاہ نے ان مہاجرین کو بلایا تو مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے وضاحت کی ہم بھگوڑے نہیں بلکہ ایک سچے دین کی پیروی کی وجہ سے ان قریشیوں کے مظالم کا شکار ہیں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے امان کی خاطر ہم نے حبشہ کا رخ کیا ہے۔ یہ بات سن کر نجاشی بادشاہ نے مہاجر مسلمانوں کو مکہ مکرمہ کے وفد کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا جس پر وفد کے قائد نے دوسرا رخ اختیار کیا کہ یہ مسلمان حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کی گستاخی کرتے ہیں۔ نجاشی بادشاہ نے اس کی وضاحت طلب کی تو حضرت جعفرؓ نے سورہ مریم کی ان آیات کریمہ کی تلاوت کی جن میں حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی، حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بغیر باپ پیدا ہونے اور ان کے اس اعلان کا تذکرہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہوں۔ نجاشی بادشاہ نے حضرت جعفرؓ کی یہ تقریر سن کر کہا کہ اصل حقیقت یہی ہے جو تم نے بیان کی ہے اور میں بھی اسی کا اعتقاد رکھتا ہوں۔ چنانچہ نجاشی بادشاہ نے مہاجر مسلمانوں کو نہ صرف پناہ اور تحفظ دینے کا اعلان کیا بلکہ خود بھی اسلام قبول کر لیا اور اسی ایمان پر وفات پائی جس پر جناب نبی کریمؐ نے اصحمہ نجاشیؓ کو یہ خصوصی اعزاز بخشا کہ مدینہ منورہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔

جناب رسول اکرمؐ نے اس وقت کی سب سے بڑی مسیحی ریاست سلطنت روما کے سربراہ قیصر کو دعوتِ اسلام کا جو خط لکھا اس میں بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دو باتیں اسلام اور اصل مسیحیت کے درمیان قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہیں:

  • اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں-
  • اور انسان ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں بلکہ سب مل کر خدا کی حاکمیت کے سامنے جھک جائیں۔

یہی بات قرآن کریم میں تمام اہلِ کتاب کو عمومی دعوت کے طور پر کہی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ کتاب بالخصوص مسیحی اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کی الوہیت، تثلیث اور ان کے خدا کا بیٹا ہونے کا عقیدہ سے دستبردار ہو کر انہیں خدا کا بندہ اور رسول مانیں اور اللہ تعالیٰ کی خالص توحید کا اقرار کر لیں تو ان کے ساتھ مصالحت و اشتراک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مگر قرآن کریم کی مذکورہ آیت میں اس کے ساتھ یہ بھی صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر وہ اس بات کو قبول نہ کریں تو آپ کہہ دیں کہ تم سب گواہ رہو کہ ہم اسی عقیدہ کو ماننے والے ہیں۔

اس لیے اگر ماہنامہ کلام حق کے بقول چرچ آف پاکستان کی شائع کردہ نئی امریکی بائبل کی مذکورہ ’’تحریفات‘‘ کا مقصد توحید خداوندی کی طرف رجوع اور اس کے خلاف خودساختہ عقائد سے پیچھا چھڑانا ہے تو ہمارے نزدیک خوش آئند بات ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ایک اور بات پھر سے واضح ہوگئی ہے کہ تورات اور انجیل کے بارے میں قران کریم نے جو یہ کہا تھا کہ ان میں یہودی اور مسیحی علماء اپنی مرضی سے ردوبدل کرتے رہتے ہیں اور مسیحی علماء کی طرف سے قرآن کریم کے اس دعویٰ کو ہر دور میں جھٹلایا جاتا رہا ہے۔ بائبل کے مذکورہ بالا انگلش ترجمہ نے قرآن کریم کے اس اعلان کی ایک بار پھر تصدیق کر دی ہے کہ ’’کتاب مقدس‘‘ میں ردوبدل اور تحریف کا کام صرف ماضی میں نہیں ہوا بلکہ اب بھی جاری ہے اور آج کے جدید دور میں بھی بائبل کی آیات اور ان کے جملوں کو حذف کر دینا اور اپنے کسی مقصد کے لیے ان کو آگے پیچھے کر دینا کوئی غیر معمولی کارروائی نہیں بلکہ ’’روٹین ورک‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کے بعد ہم قارئین کی دلچسپی کے لیے بطور نمونہ ماہنامہ کلام حق کے دیے گئے چالیس سے زیادہ حوالوں میں سے صرف ایک کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جس کے مطابق ’’مقدس لوقا‘‘ کی انجیل کے باب ۱۶ کی بارہ آیات (۹ تا ۲۰) سرے سے انگریزی ترجمہ سے نکال دی گئی ہیں۔ وہ آیات پاکستان بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور کی شائع کردہ اردو ’’کتاب مقدس‘‘ میں یوں درج ہیں:

  1. ہفتہ کے پہلے روز جب وہ سویرے جی اٹھا تو پہلے مریم مگدلینی کو، جس میں سے اس نے سات بدروحیں نکالی تھیں، دکھائی دیا۔
  2. اس نے جا کر اس کے ساتھیوں کو، جو ماتم کرتے اور روتے تھے، خبر دی۔
  3. اور انہوں نے یہ سن کر کہ وہ جیتا ہے اور اس نے اسے دیکھا ہے، یقین نہ کیا۔
  4. اس کے بعد وہ دوسری صورت میں ان میں سے دو کو، جب وہ دیہات کی طرف پیدل جا رہے تھے، دکھائی دیا۔
  5. انہوں نے بھی جا کر باقی لوگوں کو خبر دی مگر انہوں نے ان کا بھی یقین نہ کیا۔
  6. پھر وہ ان گیارہ کو بھی، جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تھے، دکھائی دیا اور اس نے ان کی بے اعتقادی اور سخت دلی پر ان کو ملامت کی کیونکہ جنہوں نے اس کے جی اٹھنے کے بعد اسے دیکھا تھا انہوں نے ان کا یقین نہ کیا تھا۔
  7. اور اس نے ان سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔
  8. جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا اور جو ایمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائے گا۔
  9. اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے، وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔
  10. نئی نئی زبانیں بولیں گے، سانپوں کو اٹھائیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیزیں پیئں گے تو انہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا، وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائیں گے۔
  11. غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف بیٹھ گیا۔
  12. پھر انہوں نے نکل کر ہر جگہ منادی کی اور خداوند ان کے ساتھ کام کرتا رہا اور کلام کو ان معجزوں کے وسیلے سے، جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے، ثابت کرتا رہا، آمین۔

یہ بارہ آیات کیتھولک بائبل کے اردو ترجمہ میں موجود ہیں لیکن ماہنامہ کلام حق کے مطابق انہیں چرچ آف پاکستان کی شائع کردہ سرکاری انگریزی بائبل یا نئی امریکی بائبل سے نکال دیا گیا ہے۔ اور یہ عمل حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حوالہ سے بنیادی عقائد کے بارے میں آج کی مسیحی دنیا کی باہمی کشمکش کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ آسمانی کتابوں تورات اور انجیل میں ان کے ماننے والوں کی طرف سے من مانی تحریفات اور ردوبدل کے مسلسل جاری رہنے کی تازہ ترین تصدیق فراہم کرتا ہے۔

درجہ بندی: