’’آب حیات‘‘ کا انٹرویو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۵ء

(لاہور سے شائع ہونے والے ایک دینی جریدہ ماہنامہ ’آب حیات‘ کی طرف سے گزشتہ دنوں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی سے ایک انٹرویو لیا گیا جو مذکورہ جریدہ کے جنوری ۲۰۰۵ کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ یہ انٹرویو’آب حیات‘ کے شکریہ کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

سوال: سب سے پہلے تو ہم آپ کو اپنے رسالہ ماہنامہ ’آب حیات‘ کی انتظامیہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے کچھ بتائیں۔

جواب: ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میں آباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آباو اجداد کسی زمانے میں نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہو گئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرا زخان صفدر صاحب دامت برکاتہم اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی مدظلہ العالی چھوٹے بچے تھے کہ ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آ گئے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مدرسہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر پنجاب کے مختلف مدارس، بالخصوص مدرسہ انوار العلوم، مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں درس نظامی کا بڑا حصہ پڑھا۔ ۱۹۴۱ء تا ۱۹۴۲ء میں دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔والد محترم ۱۹۴۳ ء سے گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مقیم ہیں۔ میری ولادت ۱۹۴۸ ء میں ۲۸ اکتوبر کو ہوئی۔ میری والدہ محترمہ کا تعلق راجپوت خاندان سے تھا اور ہمارے نانا مرحوم مولوی محمد اکبر صاحب گوجرانوالہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب تالاب دیوی والا، رام بستی کی ایک مسجد کے امام تھے۔

سوال: اپنی دینی ودنیاوی تعلیم کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کریں۔

جواب: میں نے قرآن مجید گکھڑ کے مدرسہ تجوید القرآن میں مختلف اساتذہ کرام سے حفظ کیا جس میں سب سے آخری اور بڑے استاد محترم قاری محمد انور صاحب ہیں جو کہ آج کل مدینہ منورہ میں تحفیظ القرآن کے استاد ہیں۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۰ ء کو میرا حفظ مکمل ہونے پر گکھڑ کی جامع مسجد میں جو تقریب ہوئی، اس میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا قاری فضل کریم اور حضرت مولانا قاری محمد حسن شاہ صاحب نے شرکت فرمائی تھی اور میں نے آخری سبق ان بزرگوں کو سنایا تھا۔ درس نظامی کے بڑے حصہ کی تعلیم میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حاصل کی اور میرے اساتذہ میں حضرت والد محترم مدظلہ اور حضرت عم مکرم مدظلہ کے علاوہ حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی محمد اسلم صاحب، حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ صاحب اور حضرت مولانا جمال احمد بنوی مظاہری مدظلہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۶۹ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم سے میں نے فراغت حاصل کی۔

سوال: عملی زندگی میں کب اور کیسے قدم رکھا؟

جواب: دوران زمانہ طالب علمی مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ کی معاونت کے لیے بطور نائب خطیب میرا تقرر ہو چکا تھا، جبکہ اس سے قبل کم وبیش دو سال تک گتہ مل راہ والی کی کالونی کی مسجد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتا رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مدرسہ انوار العلوم میں ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۰ء تک درس نظامی کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتا رہا ہوں۔

سوال: اپنے دینی کام اور معاشرتی مصروفیات پر روشنی ڈالیں۔

جواب: ۱۹۸۲ء میں مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے مستقل خطیب کی حیثیت سے میں نے ذمہ داری سنبھال لی تھی جو کہ بحمد اللہ تعالیٰ اب تک حسب استطاعت نباہ رہا ہوں۔ مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں تقریباً ۲۰ سال تک تدریسی خدمات انجام دیتا رہا ہوں جبکہ گزشتہ چھ سات سال سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات میرے سپرد ہیں اور والد محترم مدظلہ کی معذوری کے بعد صدارتِ تدریس اور نظامتِ تعلیمات کا بوجھ بھی میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

علاوہ ازیں ۱۹۸۹ ء میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی قائم کی جس کا مقصد دعوت اسلام اور دینی تعلیم کے حوالے سے عصری تقاضوں کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف دینی حلقوں کو توجہ دلانا تھا۔ بعد میں جی ٹی روڈ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب ہاشمی کالونی میں ایک کنال زمین کسی دوست نے وقف کر دی جہاں باقاعدہ عمارت تعمیر کر کے تعلیم وتربیت کا ایک نظام قائم ہے اور مختلف کلاسوں کے علاوہ درس نظامی کے فضلا کی ایک سالہ کلاس اس وقت زیر تعلیم ہے جس میں اس سال تیرہ علماے کرام شریک ہیں جنھیں انگریزی وعربی زبانوں اور کمپیوٹر ٹریننگ کے علاوہ بین الاقوامی قانون، تقابل ادیان، تاریخ اسلام اور حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب کی تعلیم کے ساتھ سیاست، معیشت اور نفسیات کے مضامین کا تعارفی مطالعہ کرایا جاتا ہے اور تحقیق ومطالعہ کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔ اکتوبر ۱۹۸۹ء سے ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جسے علمی حلقوں میں بحمد اللہ تعالیٰ توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اس کام میں میرے دو بڑے معاون حافظ محمد عمار خان ناصر اور مولانا حافظ محمد یوسف ہیں۔ عمار خان ناصر میرا بیٹا ہے جو نصرۃ العلوم کا فاضل اور اس میں درس نظامی کا مدرس ہے۔ اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ تحقیق ومطالعہ کے ذوق سے بہرہ ور ہے۔ مولانا حافظ محمد یوسف بھی نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں اور درس نظامی کے علاوہ انگلش کے بھی اچھے استاد ہیں۔

صحافتی زندگی میں طالب علمی کے دوران ۱۹۶۵ء میں روزنامہ ’’وفاق‘‘ لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے داخل ہوا۔ اس کے بعد جمعیت علماے اسلام کے آرگن ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کے ساتھ تعلق رہا اور متعدد بار کئی برس تک ایڈیٹر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اسلام آباد اور روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد میں کئی سال مستقل کالم نگار کے طور پر وابستہ رہا اور ’’نوائے قلم‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتا رہا۔ اب یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور میں لکھ رہا ہوں جبکہ روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں بھی ’’نواے حق‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار کالم لکھتا ہوں۔

بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک میں جانا ہوا جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، ازبکستان، ترکی، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور کینیا شامل ہیں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران شعبان المعظم اور اس کے ساتھ رمضان المبارک کا کچھ حصہ برطانیہ اور امریکہ میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروفیت رہتی ہے اور متعدد دینی اداروں سے مشاورت اور معاونت کا تعلق ہے۔

سوال: آپ نے کون سی جماعتوں اور تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا؟

جواب: سیاسی وتحریکی ذوق طالب علمی کے دور سے ہے۔ جمعیۃ طلباے اسلام پاکستان کو منظم کرنے میں حصہ لیا اور جمعیۃ علماے اسلام میں بتدریج شہر، ضلع، صوبہ اور مرکز کی سطح پر سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے کاموقع ملا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میرا انتخاب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی تجویز پر ہوا اور پھر ان کی وفات تک ان کی معاون ٹیم کے ایک متحرک رکن کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں عملی حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کیا۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا تو اس کی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کی نمائندگی کی۔ پنجاب کا قومی اتحاد کا نائب صدر اور پھر سیکرٹری جنرل رہا۔ ۱۹۸۸ء میں اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا تو اس میں بھی دستور ساز اور منشور ساز کمیٹیوں میں جمعیۃ علماء اسلام (درخواستی گروپ) کی نمائندگی کی اور صوبائی نائب صدر رہا۔

ملکی سیاسیات کے حوالہ سے اب بھی جمعیۃ علماے اسلام پاکستان سے وابستہ ہوں اور اس کا باقاعدہ رکن ہوں مگر متحرک کردار سے کنارہ کش ہوں، البتہ عملی سیاست سے ہٹ کر فکری اور نظریاتی کام کے حوالے سے حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کر رکھا ہے۔

گزشتہ عشرہ کے اوائل میں لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ایک فکری اور علمی فورم ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے قائم کیا جو کہ علمی اور فکری میدان میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت مولانا منصوری اس کے چیئرمین جبکہ میں سیکرٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہوں۔

سوال: پاکستان شریعت کونسل بنانے کی وجہ، اس کے اغراض ومقاصد اور اس کی کارکردگی پر روشنی ڈالیں۔

جواب: جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، پاکستان شریعت کونسل کے قیام کا مقصد عملی سیاست سے ہٹ کر خالصتاً فکری اور نظریاتی کام کے حوالے سے جدوجہد کرنا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ذریعے اسلامائزیشن اور دیگر ملی ودینی مسائل کے بارے میں دینی حلقوں کو متوجہ کرنے اور رابطہ کا ماحول قائم رکھنے کے لیے ہم سرگرم عمل رہتے ہیں۔ پاکستان شریعت کونسل میں ہمارے ساتھ مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا سیف الرحمن ارائیں، مولانا عبد العزیز محمدی، مولانا میاں عصمت شاہ کاکاخیل، مولانا سخی داد خوستی، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا محمد نواز بلوچ، مولانا صلاح الدین فاروقی، جناب احمد یعقوب چوہدری، حاجی جاوید ابراہیم پراچہ اور دیگر بہت سے احباب شریک ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھتے ہوئے بھی ہم علمی ونظریاتی کاموں کے لیے باہمی مشاورت سے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور ہمارا دائرۂ کار یہ ہے کہ کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اس کے بارے میں متعلقہ لوگوں کو توجہ دلائی جائے، مسئلہ کی نوعیت کو بریفنگ رپورٹ کی صورت میں واضح کیا جائے اور اس کے حل کے لیے مشترکہ محنت کی راہ ہموار کی جائے۔ اس سے زیادہ کوئی کام ہم اپنے ذمہ نہیں لیتے اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کے متعلقہ لوگوں کو متحرک کر کے اس کے لیے جدوجہد کی راہ نکالی جائے اور ان سے حتی الوسع تعاون کیا جائے۔

سوال: کیا کبھی قید وبند کی نوبت بھی پیش آئی؟

جواب: تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفی ﷺ، گوجرانوالہ میں مسجد نور کو محکمہ اوقاف سے واگزار کرانے کی تحریک اور دیگر متعدد تحریکات میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بھٹو دور میں کئی بار جیل یاترا کی۔ مسجد نور کی تحریک میں کم وبیش چار ماہ اور تحریک نظام مصطفی ﷺ میں ایک ماہ جیل کاٹی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بار تھوڑی تھوڑی مدت کے لیے جیل جانے کا موقع ملا۔

سوال: دینی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے بارے میں آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟

جواب: دینی مدارس کے نظام تعلیم کے بارے میں ایک عرصہ سے اس رائے کا اظہار کر رہا ہوں کہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا بہرحال تحفظ ہونا چاہیے اور انھیں کسی قسم کی سرکاری سرپرستی اور امداد قبول نہیں کرنی چاہیے۔ نیز دینی مدارس کو اپنے بنیادی اہداف میں بھی کوئی تبدیلی قبول نہیں کرنی چاہیے اور انھیں معاشرے میں دینی تعلیم کے فروغ، اسلامی روایات واقدار کے تحفظ اور دینی خدمت کے لیے رجال کار کی فراہمی کے کام پر ہی بنیادی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ البتہ اپنے اہداف ومقاصد کے حوالے سے انھیں آج کی ضروریات اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے ان کی روشنی میں تعلیمی نصاب ونظام میں مناسب ترامیم اور تبدیلیوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

سوال: آپ دینی مدارس کے نصاب میں عصری نصاب کی شمولیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ نیز حکومت مدارس کے نصاب میں تبدیلی چاہتی ہے، جبکہ مدارس اس کی مزاحمت کر رہے ہیں۔ عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ مدارس یہ مزاحمت کیوں کر رہے ہیں، جبکہ وہ ان مضامین کو داخل نصاب کرتے چلے جا رہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے۔

جواب: دینی نصاب تعلیم میں انگلش زبان، کمپیوٹر ٹریننگ، بین الاقوامی قانون، تقابل ادیان ، مغربی فلسفہ وتہذیب، تاریخ اسلام اور ان جیسے دیگر ضروری مضامین کا اضافہ ایک ناگزیر ضرورت ہے جس سے صرف نظر کے نقصانات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی فنی اور فکری تربیت کے نظام ونصاب کی بھی ضرورت ہے جس کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

سوال: پاکستان کے عصری نظام تعلیم اور عصری اداروں پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

جواب: عصری نظام تعلیم کا تو سرے سے کوئی رخ ہی متعین نہیں ہے اور نہ ہی اہداف طے ہیں۔ وقت کی حکومت اسے اپنے رجحانات کے مطابق جس طرف کھینچنا چاہتی ہے، کھینچتی رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں اس کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے اور اب تو اسے آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے سے عالمی سیکولر ایجوکیشنل سسٹم کا تابع فرمان بنانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جس پر عمل درآمد کی صورت میں ہمارے قومی تعلیمی نظام ونصاب میں باقی ماندہ اور رہی سہی دینی علامات وروایات بھی ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہماری دینی جماعتوں کے نزدیک اس مسئلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے ان کی تگ ودو اور سرگرمیوں میں عصری تعلیمی نظام پر نظر اور خرابیوں کی نشان دہی واصلاح کا کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔

سوال: پاکستان کی سیاسی صورت حال کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: ملک میں قومی سیاست کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ گروہی، طبقاتی اور علاقائی سیاست کی گرم بازاری ہے۔ مختلف طبقات اور گروہ اپنے اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں اور اجتماعی وقومی سیاست کا کوئی ماحول آج تک قائم نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے قومی معاملات پر سیاست دانوں کی گرفت نہیں ہے اور وہ دیگر طاقت ور قوتوں کے آلہ کار سے زیادہ کوئی کردار اپنے لیے حاصل نہیں کر سکے۔ سیاست دانوں کی اپنی نااہلی کے ہاتھوں ہم قومی خود مختاری سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمارے معاملات کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں رہا۔ دینی سیاست کی علم بردار جماعتیں بھی اصولی اور نظریاتی سیاست کے بجائے معروضی سیاست پر آگئی ہیں اور اس کان نمک میں وہ بھی نمک ہی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت قومی خود مختاری کی بحالی اور سیاسی اداروں کا استحکام ہے، مگر کوئی اس کے لیے آواز اٹھانے اور قربانی دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہمارے سیاسی ادارے بلکہ ریاست کے دیگر بنیادی ستون بھی اندھی طاقت کی بھٹی میں پگھل کر رہ گئے ہیں اور قومی خود مختاری، سیاسی مفادات کے دھندلکوں میں غائب ہو گئی ہے۔

سوال: نائن الیون کے حادثے کے بعد پاکستان نے جو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر یو ٹرن لیا ہے اور پرویز مشرف نے جو دینی ومذہبی جماعتوں اور اداروں کے متعلق سخت رویہ اپنایا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: نائن الیون کے حادثہ کے بعد جنرل پرویز مشرف نے خارجہ پالیسی میں جو یو ٹرن لیا ہے اور داخلی طور پر دینی قوتوں کو دبانے اور کرش کرنے کی جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ ایک طویل پروگرام کا حصہ ہے۔ اس میں کمی یا نرمی کا سردست کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، بلکہ اس ایجنڈے کے مختلف نئے تقاضے سر اٹھاتے جا رہے ہیں۔ دینی حلقوں کو اس امتحان سے بہرحال گزرنا ہوگا اور صبر وحوصلہ کے ساتھ آنے والے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہمارے اسلاف اور اکابر نے دین اور ملت کے حوالے سے جو ورثہ ہم تک پہنچایا ہے، ہم اسے کسی نقصان کے بغیر اگلی نسلوں تک منتقل کر دیں اور اسے اس کی اہمیت اور نزاکتوں کا صحیح طور پر احساس دلا دیں۔ اگر ہم ایسا کر پائے تو یہ اس مشن میں ہماری کامیابی اور سرخ روئی متصور ہوگی۔ اس سے زیادہ ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

سوال: اس وقت دنیا بھر میں دہشت گردی کی وجہ اور محرکات کیا ہیں؟

جواب: اس وقت جس عمل کو دنیا میں دہشت گردی کہا جا رہا ہے، وہ خود امریکا کا پیدا کردہ ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلحہ کی ٹریننگ دی اور روسی جارحیت کے خلاف افغان عوام کی مزاحمتی جنگ کو جہاد تسلیم کرتے ہوئے اس کی سیاسی وعسکری سرپرستی کی۔ اب وہی لوگ مختلف علاقوں میں امریکی بالادستی کے خلاف برسر پیکار ہیں تو انھیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ ایک امریکی دانش ور نے مجھ سے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس میں جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ بالکل درست بات ہے کہ ہمارے ہاں جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تعلیم ہم نے دی ہے مگر عملی ٹریننگ تم نے دی ہے اور اسے عملی عسکریت کا رخ تم لوگوں نے دکھایا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں بھی جہاد کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جنھیں دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو اس کی عملی ٹریننگ کا نسب نامہ امریکہ سے جا ملتا ہے۔ اسلحہ اور اس کی ٹریننگ کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے مگر امریکہ اس بات کو قبول کرنے کی اخلاقی جرات سے محروم ہے اور اس کی ذمہ داری بھی دینی مدارس کے کھاتے میں ڈال کر دنیا کے سامنے سرخ رو ہونا چاہتا ہے۔

سوال: اس وقت امریکہ کی سربراہی میں لڑی جانے والی جنگ دو تہذیبوں کے باہمی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مستقبل قریب میں اس کی کیا صورت حال ہوگی اور عالمی امن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جواب: اس وقت دنیا میں جو تہذیبی جنگ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کے نام سے انسانی حقوق کا چارٹر یک طرفہ طور پر منظور کر کے اسے ساری دنیا کے لیے لازمی قرار دے دیا تھا۔ یہ چارٹر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہے اور قرآن وسنت کے بیسیوں احکامات کی نفی کرتا ہے، لیکن اسے آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا واحد معیار قرار دے کر اسلامی دنیا پر اسے قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کے خلاف لابنگ اور پراپیگنڈا کی ہمہ گیر مہم جاری ہے اور اسی کے حوالے سے قرآن وسنت کے احکام اور مسلمانوں کی دینی روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہ یک طرفہ تہذیبی جنگ اور ون وے ثقافتی یلغار ہے جس میں سب کچھ ایک ہی طرف سے ہو رہا ہے۔ دوسری طرف مکمل سناٹا ہے، خاموشی ہے اور خود سپردگی کا مکروہ منظر ہے۔ صرف دینی حلقے اور غریب مسلمان اس حد تک میدان میں کھڑے ہیں کہ وہ اس یلغار کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور مغرب کی تہذیبی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے کیمپ کی طرف سے اور کیا ہو رہا ہے؟ یہ انھی دینی حلقوں اور غریب مسلمانوں کی مزاحمتی مدافعت کی برکت ہے کہ مقابلے کی کچھ فضا بنی ہوئی ہے، ورنہ جہاں تک مسلمان ملکوں کے حکمران گروہوں، بالادست طبقات اور دانش وروں کا تعلق ہے، اگر ان کے بس میں ہوتا وہ دینی روایات، اسلامی اقدار اور ملی ورثہ کا لباس اتار کر کب کے اس حمام میں ننگے ہو چکے ہوتے۔

سوال: مسلمانوں کے موجودہ زوال کے اسباب کیا ہیں؟

جواب: مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے میرے نزدیک سب سے نمایاں باتیں تین ہیں:

  1. خلافت راشدہ کے بعد ہم کوئی مستحکم سیاسی نظام قائم نہیں کر سکے۔ خلافتوں کا وجود غنیمت تھا، لیکن ان کی بنیاد طاقت اور خاندانوں پر رہی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے خلافت کے قیام کو عام مسلمانوں کی صواب دید پر چھوڑ دیا اور رائے عامہ پر اعتماد کیا تھا، مگر ہم اس روایت کو قائم نہ رکھ سکے جبکہ یورپ نے اسے اپنا لیا۔
  2. خلافت راشدہ میں فلاحی اور رفاہی ریاست کا جو تصور اجاگر ہو رہا تھا، ہم اس کا تسلسل قائم نہ رکھ سکے اور یہ روایت بھی ہم سے یورپ نے چھین لی۔
  3. سائنس اور ٹیکنالوجی میں یورپ کو پیش قدمی کا راستہ دکھا کر خود ہم اس راہ سے ہٹ گئے اور میدان یورپ کے حوالے کر دیا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے اور اس میدان میں مغرب سے پیچھے رہ جانے کی سزا خدا جانے ہم کب تک بھگتتے رہیں گے۔ اس شعبہ میں ہماری بے بسی کا یہ عالم ہے کہ عسکری قوت تو رہی ایک طرف، ہم اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیا خود تیار کرنے سے قاصر ہیں اور خود اپنے وسائل سے براہ راست استفادہ کی صلاحیت سے بھی بہروہ ور نہیں ہیں۔

سوال: پاکستان کے پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے پر آپ کے کیا ریمارکس ہیں؟

جواب: یہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کرنے اور قادیانیوں کے خلاف دستوری فیصلہ کو غیر موثر بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے اور ملک کے دینی حلقوں کو اس پر حکومت سے موثر احتجاج کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی لابیاں اور غیر ملکی این جی اوز ایک عرصہ سے اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے دستور میں شامل اسلامی دفعات اور خاص طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے جمہوری فیصلے کو غیر موثر بنا دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کا مطالبہ منظور نہیں کیا جا رہا اور اب پاسپورٹ سے بھی مذہب کا خانہ حذف کر دیا گیا ہے جو کہ ملک کے نظریاتی تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات سے انحراف ہے۔

سوال: آج کے ماحول میں ہمیں کون کون سے چیلنج درپیش ہیں اور علماے کرام کو اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟

جواب: آج امت مسلمہ کو آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، چاروں طرف سے دشمنان اسلام کی یلغار کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں بہت کچھ کہنے کی ضرورت اور گنجایش ہے۔ علماے کرام اور دینی کارکنوں سے میری یہی گزارش ہے کہ دینی جدوجہد سے لاتعلق نہ رہیں، کیونکہ اس دور میں، اس ماحول میں دین کی جدوجہد سے کلیتاً لاتعلق رہنے میں مجھے ایمان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ جس شعبہ میں آپ آسانی سے کام کر سکتے ہیں، وہاں کریں، لیکن دینی جدوجہد میں خاموش تماشائی نہ بنیں۔ جو شخص دین کے جس شعبے میں اور دینی جدوجہد کے جس محاذ پر کام کر رہا ہے، اسے کام کرنے دیں۔ اس کی مخالفت نہ کریں، حوصلہ شکنی نہ کریں، آپس میں رابطہ اور مشاورت کا ماحول بنائیں، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اسی سے قوت پیدا ہوگی اور باہمی اعتماد بڑھے گا۔

سوال: میڈیا کی طرف ہمارے دینی طبقہ کا رجحان کم ہے اور لادین طبقہ پوری طرح میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: میڈیا اور ذرائع ابلاغ نے پوری طرح دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف اسلامی عقائد واحکام اور قوانین کے متعلق پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ دوسری طرف دینی قوتوں اور اسلامی تحریکات کی کردار کشی کی مہم جاری ہے اور انھیں دہشت گرد اور بنیاد پرست قرار دے کر ان کے خلاف پوری دنیا میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تیسری طرف بے حیائی، ناچ گانا، عریانی اور سفلی خواہشات کو ابھار کر نئی نسل کو اخلاقی طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔ اس یلغار کا سامنا بھی اہل حق ہی نے کرنا ہے اور یہ بھی علماے کرام اور دینی مراکز کی ذمہ داری میں شامل ہے۔

دینی صحافت سے تعلق رکھنے والے حضرات کے حوالے سے میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے درمیان مشاورت اور تبادلہ خیال کا کوئی ایسا نظم ضرور قائم ہونا چاہیے جس کے تحت دینی جرائد کے مدیران گرامی اور قلم کار حضرات وقتاً فوقتاً مل بیٹھیں، مسائل پر باہمی تبادلہ خیالات کریں، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں، باہمی تقسیم کار کے ذریعہ مختلف شعبوں میں کام کی صف بندی کریں اور ایک دوسرے کو مختلف حوالوں سے سپورٹ کریں۔

سوال: ’’آب حیات‘‘ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ماہنامہ ’’آب حیات‘‘ وقتاً فوقتاً میری نظروں سے گزرتا رہتا ہے اور میں مولانا محمود الرشید حدوٹی کی صلاحیتوں اور جوش عمل کا معترف ہوں۔ وہ جس حوصلہ اور جذبات کے ساتھ دینی حلقوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں، وہ قابل داد ہے اور اس سے نوجوان علماے کرام کو حوصلہ ملتا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا محمود الرشید حدوٹی اور ان کے رفقاے کرام کے حوصلہ اور عزائم میں برکت دیں اور ذوق، سلیقہ، توفیق، قبولیت اور نتائج وثمرات سے بہرہ ور فرماتے رہیں۔ آمین یا رب العالمین۔

سوال: ’’آب حیات‘‘ پڑھنے والوں کے نام کوئی پیغام؟

جواب: ماہنامہ ’’آب حیات‘‘ ایک مقدس اور اصلاحی تحریک ہے۔ قارئین اس کوپھیلانے کی حتی الوسع کوشش کریں۔ خود بھی پڑھیں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کے مطالعہ کی ترغیب دیں۔

آب حیات: ہم اپنی طرف سے، مدیر اعلیٰ مولانا محمود الرشید حدوٹی صاحب اور ادارہ ’’آب حیات‘‘ کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قیمتی مصروفیات میں سے ہم کو وقت دیا۔