مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مارچ ۲۰۱۵ء

حضرت مولانا مجاہد الحسینی کے ساتھ کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی۔ ۱۷ مارچ کو فیصل آباد کے ایک ہوٹل میں خورشید احمد ندیم صاحب کے قائم کردہ فکری فورم کی نشست تھی، مولانا موصوف مہمان خصوصی تھے اور مولانا مفتی محمد زاہد نے اسٹیج سیکرٹری کے طور پر اس کا نظم کیا۔ مجھے مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے گفتگو کی دعوت دی گئی، جبکہ خورشید احمد ندیم نے اپنے فورم کے مقاصد اور پروگرام کی وضاحت کی کہ علماء کرام اور اہل دانش کا ملی و قومی مسائل کے لیے مل بیٹھنا اور ان کے درمیان باہمی تبادلۂ خیالات کا اہتمام ضروری ہے اور یہ فورم اسی کے لیے سرگرم عمل ہے۔

مولانا مجاہد الحسینی ہمارے ملک کے چند سینئر ترین علماء کرام میں سے ہیں، شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے شاگرد ہیں، قیام پاکستان کے وقت مجلس احرار اسلام میں سرگرم تھے اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران روزنامہ ’’آزاد‘‘ پاکستان کے مدیر کی حیثیت سے تحریک کا اہم کردار رہے ہیں۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سینکڑوں راہنماؤں کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ ان میں شامل تھے۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا سید ابوالحسنات قادریؒ اور دیگر راہنماؤں کے ساتھ محبوس رہے۔ ان دنوں کے واقعات اکثر سنایا کرتے ہیں اور فیصل آباد کی مذکورہ نشست میں بھی انہوں نے شاہی قلعہ کے بعض واقعات کی یاد تازہ کی۔ وقتاً فوقتاً ماضی کی یادوں کو کریدتے رہتے ہیں اور مختلف اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔

میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اختلاف کے اظہار کے طریقوں پر ضرور توجہ دینی چاہیے کہ بات اختلاف سے نہیں بگڑتی بلکہ اظہار کے انداز اور رویے سے خراب ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑے اختلاف کو اگر نرمی کے ساتھ افہام و تفہیم کے لہجے میں بیان کیا جائے تو اس سے کوئی الجھن جنم نہیں لیتی۔ لیکن اگر معمولی سے اختلاف کو الفاظ کی تندی اور لہجے کی درشتگی کے حوالہ کر دیا جائے تو تنازعات جنم لیتے ہیں اور جھگڑے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ میں نے اس موقع پر والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا جو وہ اپنے شاگردوں کے سامنے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ موقف مضبوط رکھیں لیکن اظہار کے انداز میں لچک پیدا کریں۔ الفاظ نرم ہوں اور لہجہ مفاہمانہ ہو تو بات بگڑتی نہیں بلکہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا مخاطب یہ محسوس کر رہا ہو کہ آپ اسے سمجھانے کی فکر میں ہیں تو وہ مشکل سے مشکل بات پر بھی غور کرے گا۔ لیکن اگر اس کا احساس یہ بن جائے کہ آپ اس سے لڑ رہے ہیں یا اس کی تحقیر کر رہے ہیں تو وہ معمولی سی بات سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے اصل ضرورت رویوں کی اصلاح کی ہے اور مکالمہ کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی ہے کہ ایک دوسرے کی بات دلیل کے ساتھ سمجھی جائے اور دلیل کے ساتھ ہی سمجھانے کی کوشش کی جائے۔

اس سے قبل اسی روز جامعہ اسلامیہ محمدیہ میں شش ماہی امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات کی تقسیم کی تقریب تھی۔ جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا عبد الرزاق ہمارے پرانے دوست اور پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل ہیں۔ ان کے ارشاد پر تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور اساتذہ و طلبہ سے تھوڑی بہت گفتگو بھی ہوئی جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مدارس دینیہ کا بنیادی کردار دینی تعلیمات کا فروغ اور معاشرہ میں دینی ماحول کی بقا ہے جس کے لیے مدارس کا موجودہ نظام کم و بیش ڈیڑھ سو برس سے سرگرم عمل ہے اور بحمد اللہ تعالیٰ اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ دینی مدارس کے لیے وقفہ وقفہ کے بعد مشکلات اور پریشانیوں کا جو ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے وہ بھی ہماری تاریخ اور روایات کا حصہ ہے۔ آغا شورش کاشمیریؒ تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنما تھے، انہوں نے آزمائش اور امتحان کے ایک مرحلہ میں مخدوم العلماء حضرت مولانا عبد الہادی دین پوری رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ یہ آزمائش اور امتحانات مسلسل ہمارے پیچھے کیوں لگے رہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ یہی تو ہمارے راستے کے سنگ میل ہیں جن سے اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ ہم صحیح سمت سفر کر رہے ہیں اور ہمارا رخ منزل ہی کی جانب ہے۔ اس لیے آزمائش اور مشکلات سے گبھرانے کی ضرورت نہیں، یہ آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ اپنا کام دلجمعی اور حوصلہ کے ساتھ کرتے رہنا چاہیے اور اپنے بزرگوں اور اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اکابر کا نام تو لیتے ہیں مگر ان سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے حالات و خدمات کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے بزرگوں کے حالات اور طرز عمل سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان کے نقش قدم کو حرز جان بنایا جائے۔