سینٹ کے انتخابات اور دینی حلقوں کی امیدیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ مارچ ۲۰۱۵ء

سینٹ آف پاکستان کے حالیہ انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی علماء اور کارکنوں کے لیے خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ بطور خاص اس ماحول میں جبکہ قومی سیاست میں دینی حلقوں اور مدارس کو مسلسل کردار کشی اور سیکولر لابیوں کی طرف سے انہیں قومی سیاست کے میدان سے باہر دھکیل دینے کی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس مہم کی سرپرستی عالمی استعمار اور میڈیا پورے شعور اور مہارت کے ساتھ کر رہے ہیں، ایک مولوی کا ایوان بالا میں دوسرا بڑا منصب حاصل کر لینا حالات کے دھارے کی مخالف سمت کامیاب سفر کی علامت ہے۔ اس پر بہت سے لوگوں کو تعجب اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر جب سینٹ کے چیئرمین کے لیے میاں رضا ربانی کا نام سامنے آیا تھا اور مولانا فضل الرحمن کی سرگرمیاں اس کے پیچھے جھلک رہی تھیں تو مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ آئندہ دو چار روز میں کیا ہونے جا رہا ہے اور میں نے کچھ دوستوں سے ذکر بھی کر دیا تھا کہ مولانا عبد الغفور حیدری کا نمبر لگ گیا ہے۔

اسے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی مہارت اور پارلیمانی گٹھ جوڑ پر ان کی مضبوط گرفت سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو بلاشبہ درست ہے۔ مگر میں اسے موروثی سمجھتا ہوں اس لیے کہ اس حوالہ سے ان کی سرگرمیاں دیکھ کر میرے سامنے ماضی کے بہت سے مناظر گھوم جاتے ہیں۔ جہاں تک میاں رضا ربانی اور مولانا عبد الغفور حیدری کے انتخاب کا تعلق ہے مجھے ذاتی طور پر دونوں سے خوشی ہوئی ہے، اس لیے کہ میاں رضا ربانی ایک محب وطن اور با اصول سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ دین کی اہمیت و ضرورت کا شعور و ادراک رکھنے والے راہ نما سمجھے جاتے ہیں۔ اور مولانا عبد الغفور حیدری کے اس منصب پر فائز ہونے سے قومی سطح پر دینی سیاست کا تناسب و توازن ایک نازک وقت میں پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ملک کی پارلیمانی سیاست کے دھارے میں ۱۹۶۲ء کے الیکشن کے دوران شامل ہوئی تھی جب مولانا مفتی محمودؒ قومی اسمبلی میں اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ مغربی پاکستان اسمبلی میں علماء کی آواز بنے تھے جبکہ بعد میں مشرقی پاکستان سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آنے والے بزرگ پیر محسن الدین احمدؒ بھی اس قافلہ کا حصہ بن گئے تھے۔ پارلیمانی سیاست میں جمعیۃ کا یہ دور صدر محمد ایوب خان مرحوم کی طلب کردہ گول میز کانفرنس پر مکمل ہوگیا تھا جب مولانا مفتی محمودؒ اور پیر محسن الدین احمدؒ نے کانفرنس میں شریک ہو کر مسلمان کی دستوری تعریف طے کرنے اور علماء کرام کے ۲۲ نکات کو دستور کا حصہ بنانے کے مطالبات کو کانفرنس کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا تھا۔ دوسرا دور ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد شروع ہوا جس میں جمعیۃ کی پوزیشن اور پیش رفت کا تناسب کچھ اس طرح تھا:

  • قومی اسمبلی میں جمعیۃ کے سات ارکان تھے جو کہ بعد میں جماعتی دھڑے بندی کے باعث مولانا مفتی محمودؒ کے گروپ میں صرف چار رہ گئے تھے۔ مگر اس کے باوجود مولانا مفتی محمودؒ حزب اختلاف کے قائد منتخب ہوئے اور سالہا سال تک اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
  • سرحد اسمبلی میں چالیس ارکان کا ایوان تھا جن میں جمعیۃ کے صرف چھ ارکان تھے مگر مولانا مفتی محمودؒ صوبہ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔
  • بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کا ایوان بیس ارکان پر مشتمل تھا جن میں جمعیۃ کے تین رکن تھے، ان میں سے ایک صوبائی وزیر اور دوسرا ڈپٹی اسپیکر بنا۔ ڈپٹی اسپیکر ژوب کے مولانا شمس الدین شہیدؒ تھے جو میرے ساتھی تھے، دورہ حدیث میرے ساتھ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کیا تھا اور علاقہ کے سب سے بڑے نواب کو الیکشن میں شکست دے کر اسمبلی میں پہنچے تھے۔
  • ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں بھٹو حکومت کے خلاف ملک کی نو سیاسی جماعتوں نے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ بنایا تو تنظیمی یا عدی لحاظ سے جمعیۃ کو کوئی نمایاں حیثیت حاصل نہیں تھی مگر اس کے باوجود مولانا مفتی محمودؒ اس کے سربراہ منتخب ہوئے اور ان کے ایک رفیق کار یعنی راقم الحروف کو پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات سر انجام دینے کا موقع ملا۔
  • ۱۹۷۲ء کے دستور کی تشکیل میں اسلامی دفعات کی شمولیت کا مرحلہ بہت دشوار تھا اور دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ کا اپنا جماعتی گروپ صرف چار ارکان پر مشتمل تھا، اس کے باوجود انہوں نے اہم اسلامی دفعات کو دستور کا حصہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

اس پس منظر میں مجھے مولانا فضل الرحمن کی اس مہارت اور کارکردگی پر کوئی تعجب نہیں ہوا بلکہ اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے عظیم والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ کی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اس حوالہ سے ان کے لیے مسلسل دعاگو بھی رہتا ہوں۔ مگر خوشی اور اطمینان کے اس اظہار کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا رخ بھی ہے جس کا ذکر نہ کرنے سے بات یکطرفہ رہ جائے گی اور دل میں اس کی کسک باقی رہے گی۔ ایک پہلو یہ ہے کہ معروضی سیاست اور نظریاتی سیاست کا توازن مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور جیسا دکھائی نہیں دے رہا جس پر خود جمعیۃ کے بہت سے راہ نما اور کارکن پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی تفصیلات عرض کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن شاید ابھی اس کا وقت نہیں ہے، مگر یہ بات جن دوستوں سے عرض کر رہا ہوں وہ اسے بہت اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سارے معاملات کے لیے صرف پارلیمانی سیاست پر انحصار نے ہماری تحریکی قوت کو کمزور بلکہ مضمحل کر دیا ہے۔ اس کے نقصانات حال میں تو دکھائی دے ہی رہے ہیں مگر مستقبل کا نقشہ اس سے کہیں زیادہ پریشان کن دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے پارلیمانی سیاست میں اس نمایاں پیش رفت پر مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبد الغفور حیدری کو دلی مبارک باد دیتے ہوئے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس کے دوسرے رخ کو بھی سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے۔