ڈاکٹر مہاتیر محمد کے فکر انگیز خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۵ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد عصر حاضر میں عالم اسلام کے وہ منفرد سیاسی راہ نما اور مفکر ہیں جو مغربی فلسفہ وثقافت اور عالم اسلام کے بارے میں مغرب کی پالیسیوں اور طرز عمل پر کھلم کھلا تنقید کرتے ہیں اور ملت اسلامیہ کے حقوق ومفادات کے حق میں دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ وہ تقریباً ربع صدی تک ملائشیا کے حکمران رہے ہیں اور مسلم ممالک میں رائج نظاموں کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے ملائشیا کو معاشی لحاظ سے مغرب کے چنگل سے نجات دلانے میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ آج کے دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے لائق تقلید ہے۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے ایک کانووکیشن میں ڈاکٹر مہاتیر محمد، جنوبی افریقہ کے قومی لیڈر نیلسن منڈیلا اور اردن کے شہزادہ حسن بن طلال کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر مہاتیر محمد نے قانون کی حکمرانی اور آج کے عالمی ماحول کے تناظر میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے، وہ عالم اسلام کے دینی وفکری حلقوں کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ انھوں نے اسلامی قوانین کے نفاذ میں حائل عملی مشکلات کاذکر کیا ہے جسے یقیناًمغرب اور اس کے نظام سے مرعوبیت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اسے اسلامی تعلیمات پر یقین اور ایمان کی کمزوری سے تعبیر کرنا انصاف کی بات ہوگی۔ ہمیں ڈاکٹر صاحب موصوف کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں ہے، لیکن ہمارے خیال میں جن باتوں کی انھوں نے نشان دہی کی ہے، انھیں عملی مشکلات اور رکاوٹوں کے پس منظر میں دیکھنا ہی قرین قیاس ہوگا جن کا قابل عمل حل پیش کرنا بہرحال دینی وعلمی حلقوں کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس خطاب کا اردو ترجمہ جناب عبد الباری رانا نے کیا ہے اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد نے ۱۵ مارچ ۲۰۰۵ کو اسے شائع کیا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا خطاب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ راشدی)

سب سے پہلے میں انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس نے مجھے یہ اعزازی ڈگری دی ہے۔ اگرچہ میں ایک قانون دان نہیں ہوں، لیکن میں نے قانون کا مطالعہ ضرور کیا ہے۔ میں آپ کی اجازت سے قانون کے بارے میں، خاص طور پر قانون کی حکمرانی کے موجودہ حالات کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

ابتدائی تہذیبوں کے دور میں قانون سازوں کو سب سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ بادشاہتوں کی عظمت بھی اسی وجہ سے تھی کہ انھوں نے قوانین عطا کیے تھے جن کی وجہ سے لوگوں میں نظم ونسق قائم کیا جاتا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حمو رابی کے کوڈ پہلے تحریری قانون کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں جو شاہ حمو رابی نے بنائے تھے۔ دنیا کے بڑے مذاہب نے بھی قوانین بنائے تھے جن کا مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا تھا۔ بہت سی صورتوں میں قوانین خدا کے عطا کردہ تھے۔ اس سے قبل انسانی معاشروں نے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے خود اپنے قوانین تیار کیے۔ یورپ میں برٹش کامن لا اینڈ کوڈ نپولین اس کی مثال ہیں، لیکن یہ بھی ناکام ثابت ہوئے۔ ہم انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے باوجود معاشرے میں انصاف کے قریب نہیں پہنچ سکے۔

ابھی تک نا انصافیوں کے خلاف ضمانت کے طور پر قوانین پر بھرپور اعتماد کیا جاتا ہے اور اس لیے آج بھی ہر ملک میں قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہے۔ اگر کوئی ملک قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، اس سے محض نفرت یا مذمت ہی نہیں کی جاتی، بلکہ بعض اوقات حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ اور بغاوت بھی ہو جاتی ہے اور قانون کی حکمرانی نافذ کی جاتی ہے کہ قانون کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے جنگ اور تشدد کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن انسان کے بنائے ہوئے قوانین اکثر غیر منصفانہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب برٹش کامن لا کے تحت کسی شخص کو ایک بھیڑ چرانے پر سولی پر چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہ سزا قانون کے لحاظ سے درست تھی، لیکن غیر منصفانہ تھی۔ سپین میں تحقیقات کے دوران تشدد کو قانونی تصور کیا جاتا تھا اور جن لوگوں کو گرفتار کیا جاتا تھا، ان سے تشدد کے ذریعے اقبال جرم کرانے کے بعد زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ یہ بھی قانون کے مطابق درست تھا لیکن غیر منصفانہ تھا۔ برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے دور میں مقدمہ چلائے بغیر گرفتار کرنا قانونی تھا اور اس کے لیے قوانین موجود تھے۔ پھر برطانیہ نے آزاد ہونے والی نو آبادیوں پر، جن میں ملائشیا جیسے ملک شامل ہیں، بغیر مقدمہ چلائے گرفتاری کی اجازت کی مذمت شروع کر دی اور اس کا یہ موقف ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی غیر منصفانہ ہے۔ لیکن جب دہشت گردی کے حملے شروع ہوئے تو انھوں نے مشتبہ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید کر دیا اور اس وقت قانون کی حکمرانی کے لیے ان کا شور وغوغا بلا تخفیف جاری رہا۔

اخلاقیات کے بارے میں نسلی امتیاز کے یورپی نظریات، ماسوائے ہم جنسی کے بہت سے یورپی ممالک کے مطابق خوش مزاجی کے حقوق اور جنسی شادیوں کے بارے میں قوانین موجود ہیں، حتیٰ کہ پادری بھی مردوں کو شریک زندگی رکھ سکتے ہیں۔ یہ عمل بھی قانون کی حکمرانی کے مطابق ہے، لیکن کیا یہ اخلاقی لحاظ سے درست ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ قانون کی حکمرانی ایک منصفانہ یا اخلاقی لحاظ سے بلند معاشرے کی ضامن نہیں۔ بلاشبہ ہمیں قوانین کی ضرورت ہے، بشرطیکہ ہمیں بادشاہوں، سلطانوں اور آمروں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ لیکن عوام کو نا انصافی سے بچانے کے لیے صرف قوانین ہی کافی نہیں، حتیٰ کہ آزاد جج بھی انصاف کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ جج بھی انسان ہوتے ہیں۔ عام انسانوں کی طرح جج بھی احساسات اور جذبات کے تابع ہوتے ہیں اور ان سے بھی فیصلوں میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ جج بھی متعصب ہو سکتے ہیں، سیاسی وابستگیوں اور سیاسی عقائد سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملائشیا میں جج سیاسی اثر ورسوخ کے حامل افراد کو رہا کر دیتے ہیں ، اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے جرم کا ارتکاب نہیں کیا، بلکہ پراسیکیوٹرز غلط طریقے سے کیس پیش کرتے ہیں۔

عدلیہ کی آزادی ناگزیر طور پر اہم ہے۔ عدلیہ پر تنقید کے نتیجے میں کسی شخص کو توہین عدالت کے لیے عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے، اس لیے جج غیر جانبدار رہ کر سخت سے سخت سزا دیتے ہیں، کوئی خوف محسوس نہیں کرتے، لیکن اگر جج جان بوجھ کر اور کھل کر تعصب کا اظہار کریں تو وہ ناجائز اور غیر منصفانہ ہے۔ تنقید سے بالاتر ہونے کے نتیجے میں نا انصافیاں کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے عدالتوں کے تین درجے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اپیلیں کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ حتمی طور پر رحم کی اپیلوں کی بھی گنجایش رکھی جاتی ہے۔ اس طرح نا انصافی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، لیکن ان اپیلوں پر بھاری رقوم خرچ ہوتی ہیں۔ صاف طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غریبوں کے مقابلے میں امیروں کو زیادہ انصاف حاصل ہوتا ہے۔ بعض اوقات جج عدالتی نظر ثانی کے نظریے کے تحت خود اضافی اختیارات حاصل کر لیتے ہیں۔ کسی شخص کی طرف سے عدالتوں سے رجوع کیے بغیر بھی کوئی سنیئر جج کوئی کیس نظر ثانی کے لیے طلب کر لیتا ہے۔ اس سے بھی یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ انصاف کو یقینی بنا دیا گیا ہے، لیکن اس سے بھی عوام کی اکثریت سے منتخب ہونے والی حکومت کو، جو معاشرے کے مسائل سے موثر طور پر نمٹ رہی ہو، مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقدمے بازی سے افراد اور گروپوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا ازالہ ہو جاتا ہے، لیکن ججوں کا امتیاز اس قدر وسیع ہے کہ غیر معقول فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلے زیادہ اور مزید معقول ہوتے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مصائب کو کور کرنے کے لیے انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور انشورنس کی لاگت میں اضافے سے کسی قوم کے معیار زندگی اور مقابلے کی پوزیشن کی لاگت بڑھ جاتی ہے، لیکن ججوں کا اپنے فیصلے کے مجموعی اثرات سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک وہ محسوس کرتے ہیں کہ انصاف کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہر چیز غیر ضروری ہے۔ امتیاز اور خود مختاری معاشرت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسلامی قانون، شریعت کیا ہے؟ اس کے نفاذ کے سلسلے میں نا انصافی ہو سکتی ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے، اس لیے یہ مکمل ہے۔ اسلام ایک مذہب ہے، لیکن ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اسلام کے پیروکار اس کی تکمیل سے بہت دور ہیں۔ ہم مسلمانوں میں جرائم، مسلمانوں کے درمیان جنگیں اور مسلمانوں میں انتہا سے زیادہ دولت اور انتہا سے زیادہ غربت دیکھتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو سرعام گناہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ مسلمانوں کا غیر اسلامی رویہ عام ہے۔ کیا یہ اسلام کی وجہ سے ہے جو کچھ مسلمان آج کر رہے ہیں؟ یقیناًنہیں۔ یہ مسلمانوں کی انسانی کمزوریاں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس مثالی زندگی پر کاربند نہیں ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح اسلامی قوانین مکمل ہیں، اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ مسلمانوں کے رویے کی وجہ سے اسلامی قوانین غیر منصفانہ نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ جرم کا شکار ہونے والے کو سزا دینا غیر منصفانہ ہے جب تک کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔ ایک ایسی لڑکی کی مثال ہی لے لیں جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو۔ وہ زیادتی کرنے والے کو شناخت کرتی ہے اور مجرم کے خلاف اس کی رپورٹ بھی درج کراتی ہے، لیکن وہ مجرم کے خلاف چار گواہ پیش کرنے سے قاصر ہے تو بعض مسلمان قانون دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا ہے اور اس طرح حقائق کو سزا دی جا رہی ہے اور ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا تی۔ دوسری طرف اگر وہ زیادتی کا مقدمہ درج کراتی اور اس کے نتیجے میں کسی بچے کو جنم دیتی ہے تو اسے زنا کا ملزم ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی سزا سنگ ساری قرار دی جاتی ہے۔ کیا ہم اسے اسلامی انصاف قرار دے سکتے ہیں؟ آج کے دور میں جب کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے بچے کی ولدیت کی تصدیق کی جا سکتی ہے، کیا ہم ڈی این اے کے ذریعے فراہم کیے جانے والے ثبوت کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ کیا اس طرح اسلامی قانون اس قدر غیر منصفانہ ہے؟ کیا اسلامی قانون فرسودہ ہے؟

قرآن میں جرائم کے ضابطوں اور سزاؤں کو بیان کر دیاگیا ہے، لیکن قرآن میں کئی جگہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’جب تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ اگر جرم کا شکار ہونے والے کو سزا دی جاتی ہے اور مجرم کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ کسی معیار، کسی بھی مذہب کی رو سے غیر منصفانہ ہے اور ایسے فیصلے کو اسلامی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اسلامی قانون نہیں جو غلط ہے۔ ہم قرآنی آیات کا غلط مطلب اور غلط توضیح کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔

ملائشیا میں مختلف نسلوں اور مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ ملائشیا میں قانون کے نفاذ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اسلامی تعلیمات پر کاربند ہیں، لیکن ہمیں اسلام کے تقدس اور مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلق کو ختم کیے بغیر کام کرنا پڑتا ہے۔ ہم یہ سب کچھ یہ تاثر پیدا کیے بغیر کرتے ہیں کہ مسلمان ممالک کا نظام اچھا نہیں، منصفانہ اور شفاف یا مستحکم اور ترقی یافتہ نہیں۔ ہم یہ سب کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اسلام دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی برداشت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور اسلام میں جبر کی کوئی گنجایش نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ مسلمان حکومت سب کے لیے منصفانہ ہے۔ اس لیے ملائشیا میں انصاف پر زور دیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین تک ہی انصاف کے تقاضوں کو بالاتر رکھ کر سزائیں نہیں دی جاتیں۔ اگر انصاف کیا جاتا ہے تو یہ اسلامی ہے۔ اگر انصاف نہیں کیا جاتا تو یہ غیر اسلامی ہے۔

چونکہ اسلام بد نظمی سے نفرت کرتا ہے اور جس کام سے بھی بد نظمی پیدا ہو، وہ اسلام کے مطابق نہیں ہو سکتا، اس طرح اگر ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم مل کر کوئی ایسا جرم کرتے ہیں شریعت میں جس کی سزا عضو کاٹنا ہے تو اس صورت میں انصاف کے تقاضے اور ملک میں امن وامان کی صورت حال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان اور غیر مسلم، دونوں کے ہاتھ کاٹنے سے بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کی طرف سے احتجاج کیا جا سکتا ہے جس سے ملک میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا ممکن نہیں۔ دوسری طرف مسلمان کے ہاتھ کاٹ دینا اور غیر مسلم کو معمولی سزاے قید دینا بھی نا انصافی ہوگی اور نا انصافی غیر اسلامی ہوگی۔ اس مسئلے کا اسلامی حل یہی ہے کہ دونوں ملزموں کو یکساں سزا دی جائے، یعنی ہلکی سزائے قید۔ بہت سے مسلمان علما اس معاملے میں بلاشبہ اختلاف کریں گے۔ اسلامی سزا منصفانہ ہو یا غیر منصفانہ، ہر قیمت پر اس پر عمل کیا جائے، ورنہ یہ اسلامی نہیں ہوگی۔ لیکن ہمیں اس نقطہ سے اختلاف ہے۔ اسلامی قانون پر عمل درآمد کے نتیجے میں انصاف ہونا چاہیے اور اس سے ملک میں بد نظمی نہیں پیدا ہونی چاہیے۔

بہت سی ایسی باتیں ہیں جن پر آج ہم عمل کر رہے ہیں، لیکن جو بظاہر اسلامی تعلیمات کے خلاف نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام انسانوں اور دوسرے جانداروں کی تصاویر بنانے سے منع کرتا ہے۔ اسلامی قانون کے مطابق تصاویر لازماً جیو میٹرک ڈیزائن تک محدود ہونی چاہییں، لیکن آج بیشتر مذہبی علما اپنی تصاویر کی نمائش کرتے ہیں اور ایکشن اور باتیں کرتے ہوئے مووی تیار کراتے ہیں۔ کیا ہم ایسا کرکے اسلامی تعلیمات اور قوانین سے انحراف کر رہے ہیں؟ ہم ایسا نہیں کر رہے۔ تصاویر کے خلاف تعلیمات اس وجہ سے تھیں کہ حضور کے دور میں اہل عرب مورتیوں کی پرستش کرتے تھے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ یہ محض تصاویر ہیں اور ہم ان کی پرستش نہیں کرتے، اس لیے اگر ہم تصاویر بنا رہے ہیں اور ان کی پرستش نہیں کرتے تو ہم قرآنی تعلیمات سے انحراف کر کے کوئی گناہ نہیں کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں تصاویر بنانے اور ان کی نمایش کرنے سے ہم کسی طرح بھی گریز نہیں کر سکتے۔ ماضی کے دور میں جب تصاویر پینٹ کی جاتی تھیں تو اس وقت ان تصاویر پر پابندی لگانا ممکن تھا۔ فوٹو گرافی پر پابندی لگانا نہیں، اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ تصاویر کی پرستش نہ کی جائے۔ یقیناًایسی تصاویر کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیے جنھیں خدا یا حضور سے مشابہت دی گئی ہو۔

ہم اکیسویں صدی عیسوی میں رہ رہے ہیں۔ ساتویں صدی میں جو چیزیں تھیں، وہ قطعی طور پر تبدیل ہو گئی ہیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج روز مرہ کا معمول ہیں، لیکن چودہ سو سال پہلے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہم میں سے بعض لوگ اسلام کی پہلی صدی کے حالات کو پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف اسی ماحول میں سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کا قانون اور تعلیمات صرف چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کی مناسبت سے تھے اور وہ موجودہ دور کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اسلام تمام زمانوں کے لیے ہے۔ اگر آج ہم اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور انھیں پوری طرح سمجھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ اسلامی تعلیمات پر کاربند رہنا ممکن ہے اور اس پر موجودہ دور کے حالات زندگی کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ ہم اسلامی قانون کی حکمرانی پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم اس کی توضیح ضابطوں اور سزاؤں تک ہی نہ کریں، بلکہ اس کے بجائے اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ انصاف کے حصول کا ضامن ہو۔ اگر ضروری ہو تو ہم اس کی ہیئت کو نظر انداز کر کے اس کی روح پر عمل کریں اور اسلامی قانون کی روح انصاف ہے۔ ضابطے اور سزائیں اس کی اقسام ہیں اور اسے لازماً تمام قوانین پر لاگو ہونا چاہیے جو بیان کردہ ہوں یا انسان کے بنائے ہوئے ہوں۔ انصاف کی حکمرانی ہی اہم ہے۔

درجہ بندی: