دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جون ۲۰۱۵ء

پاکستان میں دستور کی اسلامی بنیادوں کے حوالہ سے جنوری 1951ء کے دوران کراچی میں تمام مکاتب فکر کے 31 سرکردہ علماء کرام نے جمع ہو کر ’’22 متفقہ دستوری نکات‘‘ پیش کیے تھے جو کئی بار منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور کم و بیش تمام مکاتب فکر کی دینی و سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مسلسل اتفاق کا اظہار کرتی آرہی ہیں۔ جبکہ اس کے دو سال بعد جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا جو 11 جنوری سے 18 جنوری تک مسلسل جاری رہا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ جبکہ اس وقت کراچی کے حافظ مجددی صاحب (مکان 4 ڈی، بلاک آئی، شمالی ناظم آباد، کراچی) نے یہ پمفلٹ کی شکل میں شائع کی تھیں اور ہمیں اس کی کاپی اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق صاحب نے فراہم کی ہے۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے ڈاکٹر صاحب موصوف کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ (راشدی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

جنوری 1951ء میں تمام اسلامی فرقوں اور گروہوں کے معتمد علیہ علماء کا جو اجتماع دستور اسلامی کے مسائل پر غور کرنے کے لیے کراچی میں منعقد ہوا تھا اس کے مرتب کردہ 22 اصول ’’اسلامی مملکت کے بنیادی اصول‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں اور بفضل خدا مسلم پبلک میں قبول عام بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ابتداء میں یہ خیال تھا کہ کسی قریبی وقت میں دوبارہ یہ اجتماع منعقد کر کے ان اصولوں کے مطابق ایک دستور کا خاکہ بھی مرتب کر دیاجائے۔ لیکن بعد میں یہی مناسب سمجھا گیا کہ مجلس دستور ساز کی مقرر کردہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی جب اپنی رپورٹ پیش کرے، اس وقت ہی یہ اجتماع منعقد کیا جائے اور اس رپورٹ کو مدارِ بحث بنا کر جس قسم کی اصلاحات اس میں ضروری سمجھی جائیں کر دی جائیں۔ چنانچہ 22 دسمبر 1952ء کو جب مجلس دستور ساز میں مذکورہ بالا رپورٹ پیش ہوگئی تو اس اجتماع کے دوبارہ منعقد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس میں شرکت کے لیے انہی اصحاب کو دعوت دی گئی جو جنوری 1951ء کے اجتماع میں مدعو تھے۔

11 جنوری 1953ء کو کراچی میں یہ اجتماع منعقد ہوا اور 18 جنوری تک 9 اجلاس مختلف اوقات میں حسب ذیل اصحاب کے زیر صدارت منعقد ہوئے۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ حضرت مولانا سید سلیمان صاحب ندوی۔ حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب۔ حضرت مولانا داؤد غزنوی صاحب۔ حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی۔

ان اجلاسوں میں پوری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اگرچہ مدارِ بحث مذکورہ بالا رپورٹ کا مستند اردو ترجمہ رہا جو حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ لیکن چونکہ ترجمہ میں بکثرت نقائص تھے اس لیے رپورٹ کے مصنفین کا منشاء سمجھنے کے لیے اصل انگریزی رپورٹ کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔

اجتماع کی کارروائی میں بڑی سہولت ہو جاتی اگر مجلس دستور ساز کے قائم کیے ہوئے تعلیمات اسلامیہ بورڈ کی تجاویز بہم پہنچ جاتیں لیکن افسوس ہے کہ مجلس دستور ساز کے صدر نے اس اجتماع کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا پسند نہیں کیا۔

الحمد للہ اس اجتماع میں تمام فیصلے بالاتفاق کیے گئے ہیں جنہیں اطلاع عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

دستوری سفارشات پر ہر مکتبۂ خیال کے مشاہیر علماء کا متفقہ تبصرہ اور ترمیمات

حصہ (۱)

باب (۲) مملکت کی پالیسی کے رہنما اصول

پیراگراف (۲) شق (۲) ضمن (الف): رپورٹ میں اس ضمن کی موجودہ عبارت سے یہ گنجائش نکلتی ہے کہ حکومت نظامِ تعلیم کو سابق انگریزی دور کی بنیادوں پر برقرار رکھتے ہوئے صرف اس امر کی کوشش کرے کہ مسلمانوں کے لیے بس قرآن مجید کی تعلیم لازم کر دے، اور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ کس قسم کی زندگی قرآن مجید اور سنت رسول کے مطابق ہوتی ہے دینیات کا ایک کورس مقرر کر دے۔ لیکن یہ انتظام کسی طرح بھی تعلیم اور تربیت کی ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو سابق ملحدانہ نظام تعلیم کے بدولت پیدا ہو رہی تھیں۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس ضمن کے موجودہ الفاظ کو حسب ذیل الفاظ سے بدل دیا جائے۔

’’مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے اور ملک کے نظامِ تعلیم میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے مسلمان اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنت رسول کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘

پیراگراف (۲) شق (۲) ضمن (ب) : اس ضمن میں رپورٹ کی موجودہ تجویز اس لحاظ سے ناقص ہے۔ ایک یہ کہ وہ صرف شراب خوری کو ممنوع کرتی ہے نہ کہ شراب فروشی، شراب سازی وغیرہ کو بھی، اور دوسرے مسکرات کے بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ شراب، جوئے، عصمت فروشی کے انسداد کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کرتی جس سے اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں یہ فواحش غیر معین مدت تک جاری رہیں گے۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے۔

’’ہر قسم کی مسکرات، جوئے اور عصمت فروشی کا تاریخِ نفاذِ دستور سے زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر قانون سازی کے ذریعہ مکمل انسداد کیا جائے۔‘‘

پیراگراف (۲) شق (۴) : اس شق میں رپورٹ کے مصنفین نے موجودہ قوانین ملکی کو کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا ہے جس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ نفاذِ دستور سے پہلے کے خلافِ اسلام قوانین غیر معین مدت تک ملک میں نافذ رہیں گے۔ حالانکہ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس شق کو بدل کر حسب ذیل صورت میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔

’’شق (۴) ضمن (الف): موجودہ قوانین کو پانچ سال کے اندر کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کر دینے کا مناسب انتظام کیا جائے۔

شق (۴) ضمن (ب): قرآن پاک اور سنت کے وہ احکام جو قانونی صورت میں نافذ کیے جا سکتے ہیں ان کی تدوین و تنفیذ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔ البتہ کوئی قانون جو مسلمانوں کے شخصی معاملات سے متعلق ہو، ہر فرقے کے لیے کتاب و سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں بنایا جائے گا جو اس کے نزدیک مستند ہو اور کوئی فرقہ دوسرے فرقے کی تعبیر کا پابند نہ ہوگا۔ نہ کوئی قانون ایسا بنایا جائے گا جس سے کسی فرقے کے مراسم و فرائضِ مذہبی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو۔‘‘

پیراگراف (۲) شق (۶): اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے ہمارے نزدیک یہ عبارت مناسب ہوگی۔

’’مملکت کی کوشش ہونی چاہیے کہ بلا امتیاز مذہب و ملت پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے کھانے، کپڑے، مکان، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات زندگی کا نظام کرے۔ خصوصاً ان کے لیے جو بیروزگاری، کمزوری، بیماری یا ایسی ہی کسی دوسری وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر اپنی روزی کمانے کے قابل نہ ہوں۔‘‘

پیراگراف (۲) شق (۷): اس شق میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدل پر مبنی ہوگی۔ اس لیے موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:

’’مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصول عدل عمرانی پر مبنی ہونی چاہیے، اور بلا امتیاز مذہب، نسل یا رنگ عوام کی ہر قسم کی بہبودی کا انتظام کیا جائے، اور اس پر اس طرح عمل درآمد ہونا چاہیے کہ‘‘

پیراگراف (۲) شق (۷) ضمن (ج): اس شق میں اگرچہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا مفہوم بہت وسیع ہے، لیکن خصوصیت کے ساتھ محنت پیشہ اور زراعت پیشہ لوگوں کے معاوضوں کا معاملہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا الگ ذکر کر دینا اور اس امر کی صراحت کرنا ضروری ہے کہ ملک میں اس طبقہ کے معاوضوں کا معیار کم از کم اس حد تک پر رکھا جائے گا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ لہٰذا ہماری رائے میں موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے۔

’’مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور معاوضوں کا ایسا منصفانہ معیار مقرر کیا جائے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں اور ان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔‘‘

پیراگراف (۲) شق (۱۰): اس شق میں رپورٹ کی موجودہ عبارت ناقص ہے اور یہ نقص خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ لسانی تعصبات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اس کو حسب ذیل عبارت سے بدلنا چاہیے۔

’’مملکت کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں میں سے جغرافیائی، قبائلی، نسلی اور لسانی اور اسی قسم کے دوسرے غیر اسلامی جذبات دور کرنے اور ان میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ملت اسلامیہ کی سا لمیت، وحدت، استحکام اور اس طرز فکر کے لوازمات اور اس مقصد کو سب سے مقدم رکھیں جس کی تکمیل کے لیے پاکستان قائم ہوا۔

اضافے:

مذکورہ بالا ترمیمات کے علاوہ ہمارے نزدیک رپورٹ کے رہنما اصولوں پر حسب ذیل امور کا اضافہ بھی ضروری ہے۔

شق (۲) ضمن (و): ’’اسلامی علوم و ثقافت کے فروغ کا مؤثر انتظام کیا جائے۔‘‘

شق (۷) ضمن (د): ’’حکومت کے ادنیٰ و اعلیٰ ملازمین کے معاوضوں کا تفاوت اعتدال پر لایا جائے۔‘‘

مزید نئی دو شقیں (۱)

(الف) ’’مملکت کے لیے اس امر کا اہتمام لازمی ہوگا کہ مسلم امیدوارانِ ملازمت اور ملازمینِ حکومت کے انتخاب، تقرر اور ترقی کے مواقع پر قابلیت اور کارکردگی اور دیگر متعلقہ عوامل کے ساتھ ساتھ اسلامی کردار اور شعائر اسلام کی پابندی کا مؤثر لحاظ رکھا جائے۔‘‘

(ب) ’’تمام سرکاری ملازمتوں کی ٹریننگ میں خواہ وہ فوجی ہوں یا سول، مسلمانوں کے لیے دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا خاص انتظام کیا جائے تاکہ ریاستِ پاکستان کے ملازمین کا اخلاقی معیار بھی معیارِ قابلیت کی طرح بلند ہو۔‘‘

(ج) ’’مسلمان ملازمینِ حکومت کو فرائض دینی کی پابندی اور شعائر اسلام کے التزام میں پوری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔‘‘

’’دہریت و الحاد کی تبلیغ اور قرآن و سنت کی توہین و استہزاء کا بذریعہ قانون سازی انسداد کیا جائے۔‘‘

باب(۳) قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب

پیراگراف (۳) : اس پیراگراف میں صرف سلبی حیثیت سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کوئی قانون سازی قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہوگی۔ بلکہ ایجابی طور پر اس اصولی حقیقت کو دستور میں ثبت ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں قرآن و سنت کے احکام و ہدایات ہی قانون کا اصل سر چشمہ ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیراگراف کے بعد اس عبارت کا اضافہ ضروری ہے۔

’’اور مملکت کے قوانین کے ماخذ اساسی، چیف سورس، قرآن و سنت ہوں گے۔‘‘

پیراگراف (۴، ۵، ۶ اور ۸): حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب۔ حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بد ایونی اور حضرت مفتی صاحبداد صاحب نے اس کی بجائے ایک دوسری تجویز پیش کی جو ضمیمے میں درج ہے۔

ان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی روک تھام کے لیے علماء کے ایک بورڈ کے قیام کی جو صورت پیش کی گئی ہے وہ نہ کسی لحاظ سے معقول ہے اور نہ اس طرح کی قانون سازی کو روکنے کے لیے مؤثر ہی ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے بہت سی نئی خرابیوں کے پیدا ہو جانے کا قوی امکان ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس طرح دوسرے قوانین کے معاملے میں حدود و دستور سے متجاوز قانون سازی کی روک تھام کے لیے تعبیرِ دستور کے اختیارات سپریم کورٹ کے سپرد کیے گئے ہیں، اسی طرح پیراگراف (۳) کے معاملے کو بھی سپریم کورٹ پر ہی کیوں نہ چھوڑا جائے۔ البتہ یہ امر ضروری ہے کہ جس وقت تک ہمارے ملک میں نئے دستور کے تقاضوں کے مطابق کتاب و سنت میں بصیرت رکھنے والے فاضل جج پیدا نہ ہوں اس وقت تک کے لیے کوئی ایسا عارضی انتظام تجویز کر دیا جائے جس سے سپریم کورٹ میں پیراگراف (۳) کے منشاء کے مطابق کتاب و سنت کی صحیح تعبیر کی جا سکے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیراگراف (۴ تا ۶) کو اور ان سے تعلق رکھنے والے پیراگراف ۸ کو حذف کر دیا جائے اور ان کے بجائے حسب ذیل پیراگراف رکھا جائے۔

(۱) ’’پیراگراف (۳) کے تحت مجالس قانون ساز کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف جو دستوری اعتراضات یا تعبیر دستور کے مسائل پیدا ہوں، ان کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پانچ علماء مقرر کیے جائیں گے جو سپریم کورٹ کے کسی ایسے جج کے ساتھ جسے امیر مملکت تدین و تقویٰ اور واقفیتِ علوم و قوانینِ اسلامی کے پیش نظر اس مقصد کے لیے نامزد کرے گا، مل کر اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ قانون کتاب و سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟‘‘

(۲) ’’ان علماء کا تقرر اسی طریقے سے ہوگا جو سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘

(۳) ’’اس منصب کے لیے ایسے ہی علماء ہوں گے جو (الف) کسی دینی ادارے میں کم از کم دس سال تک مفتی کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہوں۔ یا (ب) کسی علاقے میں کم از کم دس سال تک مرجع فتویٰ رہے ہوں۔ یا (ج) کسی باقاعدہ محکمہ قضاء شرع میں کم از کم دس سال تک قاضی کی حیثیت سے کام کر چکے ہوں۔ یا(د) کسی دینی درسگاہ میں کم از کم دس سال تک تفسیر، حدیث یا فقہ کا درس دیتے رہے ہوں۔‘‘

(۴) ’’یہ انتظام پندرہ سال کے لیے ہوگا اور اگر ضرورت ہو تو رئیس مملکت اس مدت میں توسیع کر سکتا ہے۔‘‘

(۵) ’’ان عالم دین ججوں کے لیے جملہ ضوابط وہی ہوں گے جو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں دوسرے ججوں کے متعلق تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘

پیراگراف (۷): رپورٹ میں اس پیراگراف کو دیکھ کر ہمیں سخت حیرت ہوئی کہ جن لوگوں نے پیراگراف (۳) میں اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ اس مملکت میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بننا چاہیے، ان کے قلم سے یہ بات کیسے نکلی کہ اس مملکت کے مالی معاملات قرآن اور سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد رہیں گے۔ اگر یہ ریاست خدا اور رسول کے احکام و فرامین کو بالاتر قانون تسلیم کرتی ہے جیسا کہ پیراگراف (۳) کے الفاظ سے ظاہر ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ریاست کے مالیات خدا اور رسول کے دائرہ اثر (جورسڈکشن) سے باہر ہوں۔ ہمارے نزدیک جس طرح اسلام دنیا کے ہر معاملے میں ہمارا بہترین رہنما ہے، اسی طرح مالی معاملات میں بھی ہے۔ ہم اس کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ ہمارے دستور کی ایک دفعہ میں مالیات کی حد تک اسلام کی رہنمائی پر صاف صاف عدم اعتماد کا اعلان کر دیا جائے۔ البتہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سردست کچھ مدت کے لیے ریاست کے مالی معاملات کو اسلام کے مطابق درست کرنے میں عملی مشکلات مانع ہوں گی۔ مگر اس کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مالی مسودات قانون پر باب سوم کے احکام کا اطلاق ہونے کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کر دی جائے۔ لہٰذا اس باب کا پیراگراف (۷) حذف کر کے اس کی جگہ پر یہ عبارت ہونی چاہیے۔

’’باب ہذا کے احکام کا اطلاق مالی مسودات قانون پر تاریخ نفاذ دستور سے پانچ سال کی مدت کے اختتام پر ہو گا۔‘‘

حصہ (۲)

وفاقیہ اور اس کے علاقہ جات

پیراگراف (۹): اس دفعہ کی شق (۱) میں مملکت کا نام صرف پاکستان تجویز کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کافی نہیں ہے، اس کے بجائے مملکت کا نام ’’جمہوریہ اسلامیہ پاکستان‘‘ ہونا چاہیے۔

اس نام پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع ہے۔ آخر جب روس میں کثیر التعداد غیر اشتراکیہ کی موجودگی جمہوریہ روس کو اشتراکی جمہوریہ کہنے میں مانع نہیں ہے، تو پاکستان کے لیے غیر مسلموں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع کیوں ہے۔ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوئی ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار قراردادِ مقاصد میں بھی کیا جا چکا ہے اور اس رپورٹ کا پیراگراف (۳) بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔

علاوہ بریں اس میں حسب ذیل اضافے بھی ہونے چاہئیں۔ شق (۱) کے بعد حسب ذیل عبارت۔

’’ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزا انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسل، لسانی یا قبائلی وحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہوگی، جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع اختیارات سپرد کیے جائیں گے۔‘‘

شق (۲) کے بعد حسب ذیل عبارت۔

’’ولایات مملکت کو مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔‘‘

اس کے بعد موجودہ شق (۲) شق (۴) ہو جائے گی۔

حصہ (۳)

باب (۱) عاملہ

پیراگراف (۲۳) شق (۲): اس میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار اُن امور میں داخل کیا گیا ہے جو صدر ریاست کی صوابدید پر چھوڑے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ انتخابات میں انصاف قائم کرنا اس ریاست کے وجود کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے۔ اور انصاف کے تمام دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد اور عدلیہ کے دائرہ عمل میں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی شق (۲) سے ’’اور انتخابی عدالتوں‘‘ کے الفاظ حذف کر دینے چاہئیں۔ اس کی متبادل تجویز ہم حصہ دوازدھم (۱۲) در باب انتخابات میں پیش کریں گے۔

پیراگراف (۲۸) شق (۲ و ۳): ان دونوں شقوں میں اس امر کا امکان رکھا گیا ہے کہ ایسے اشخاص وزیر اعظم اور وزیر بن سکیں جو مجالس قانون میں منتخب ہو کر نہ آئے ہوں یا انتخاب میں ناکام ہوئے ہوں اور پھر اقتدار کی کرسی پر چھ مہینے تک فائز رہنے کے بعد انتخاب جیتنے کی کوشش کریں۔ یہ چیز نہایت قابل اعتراض اور نقصان دہ بھی ہے۔ کسی شخص کو وزارت کی کرسی پر بٹھا کر پھر انتخاب جیتنے کا موقع دینا حکومت کی انتظامی مشینری کو اور رائے دہندوں کو سخت اخلاقی انحطاط میں مبتلا کرنے کا موجب ہوگا۔ لہٰذا اس دروازہ کو قطعی بند ہونا چاہیے اور یہ دونوں شقیں حذف کی جانی چاہئیں۔

اس غلطی کا اعادہ پیراگراف (۸۹) شق (۲) میں بھی کیا گیا ہے جہاں ولایات (یونٹس) میں غیر منتخب لوگوں کے وزیر اعلیٰ اور وزیر بن جانے اور پھر انتخاب جیتنے کے امکانات رکھے گئے ہیں۔ لہٰذا پیراگراف (۸۹) شق (۲) کو بھی حذف کیا جانا چاہیے۔

باب (۲) وفاقی مقننہ

اس باب میں ایوانِ ولایات (ہاؤس آف یونٹس) اور ایوانِ جمہور (ہاؤس آف دی پیپل) کی ترکیب و تشکیل جس طرح کی گئی ہے اس میں متعدد امور ایسے ہیں جو اس مجلس کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہیں اور ان میں بڑی بے اصولی بھی پائی جاتی ہے۔ مگر چونکہ اس وقت مختلف صوبوں کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ان امور میں گفت و شنید ہو رہی ہے اور ہم اس میں خلل ڈالنا پسند نہیں کرتے اس لیے ان کے بارے میں ہم سرِدست اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔

پیراگراف (۴۰) شق (۱): اس میں ایوانِ ولایت کی نشست پر کرنے کے لیے کسی شخص کے نا اہل ہونے کے جو چار وجوہ بیان کیے گئے ہیں ان میں مسلم ارکان کے لیے پانچویں وجہ کا بھی اضافہ ہونا چاہیے جس کے الفاظ یہ ہوں:

’’فرائضِ اسلام کا پابند اور فواحش سے مجتنب نہ ہو۔‘‘

اس وجہ کا اضافہ پیراگراف (۴۷) در باب ایوانِ جمہور اور پیراگراف (۱۰۱) در باب مجالسِ مقننۂ ولایات میں بھی ہونا چاہیے۔

پیراگراف (۴۰) شق (۱) ضمن (۴): اس ضمن کی موجودہ عبارت قابل اعتراض ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایوانِ ولایات کا ہر رکن لازماً اس ولایت کا باشندہ ہونا چاہیے کہ جس سے وہ منتخب ہو کر آئے۔ یہ پاکستانیوں کے درمیان صوبائی تعصبات کو مستقل طور پر قائم رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگا۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس عبارت کو بدل کر یوں کر دیا جائے۔

’’مملکت کے کسی حصہ کی فہرست رائے دہندگان میں اس کا نام درج ہو۔‘‘

اس غلطی کا اعادہ پیراگراف (۴۷) شق (۴) میں بھی کیا گیا ہے اور اس کی بھی مذکورہ بالا طریقے پر اصلاح ہونی چاہیے۔

پیراگراف (۴۲) ضمن (۵): اس میں ہر اس شخص کو ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے جسے کسی عدالت مجاز نے کسی جرم کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا دی ہو۔ یہ ’’کسی جرم‘‘ کا لفظ بہت وسیع ہے، اس کی زد میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جنہیں سیاسی اسباب کی بناء پر سزا دی گئی ہو۔ اس کی بجائے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق میں کسی دوسرے جرم کے الفاظ حذف کر کے ’’کسی اخلاقی جرم‘‘ کے الفاظ رکھے جائیں۔

یہی اصلاح پیراگراف (۴۸) شق (۵) اور پیراگراف (۱۰۲) شق (۵) میں بھی ہونی چاہیے۔

پیراگراف (۴۲) شق (ز): اس شق میں ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے ہر اس شخص کو نا اہل قرار دیا گیا ہے جو سرکاری ملازمت سے ’’بد اطواری‘‘ کی بنا پر برخاست کیا گیا ہو۔ یہ بد اطواری بھی بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہین جن کو کسی وقت کسی پارٹی کی حکومت سیاسی اسباب سے برخاست کر دے۔ درآں حالیکہ وہ کسی اخلاقی خرابی میں مبتلا نہ پائے گئے ہوں۔ لہٰذا اس شق میں ’’بد اطواری‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی جرم کی نوعیت کی ہو‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیے۔

یہی اصلاح پیراگراف (۴۸) شق (ز) اور پیراگراف (۱۰۲) شق (ز) میں بھی ہونی چاہیے۔

پیراگراف (۵۰) شق (د): اس میں ہر اس شخص کو رائے دہندگی کے حق سے محروم کیا گیا ہے جس نے کسی عدالت مجاز سے ’’کسی جرم‘‘ کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پائی ہو۔ اس پر بھی ہم کو وہی اعتراض ہے جو پیراگراف (۴۲) شق (۵) کے سلسلہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ’’کسی جرم‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی نوعیت کا ہو‘‘ کے الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔ یہی اصلاح پیراگراف (۱۰۶) شق (د) میں بھی ہونی چاہیے۔

پیراگراف (۶۶) شق (۱): اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مقننہ کے ہر رکن کے لیے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھانا لازم ہوگا۔ یہ بالکل مناسب ہے لیکن اس کے ساتھ ہر رکن مقننہ کو یہ حلف بھی اٹھانا چاہیے کہ وہ مقننہ کی کارروائیوں میں اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ دے گا۔ لہٰذا اس شق میں ’’وہ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھائے‘‘ کے بعد ان الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔

’’نیز اس امر کا حلف اٹھائے کہ وہ اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ استعمال کرے گا۔ اس فقرے کا اضافہ پیراگراف (۱۱۸) شق (۱) میں بھی ہونا چاہیے۔

حصہ (۱۰ )

در باب عدلیہ

عدلیہ کے باب میں کسی مقام پر حسب ذیل دو دفعات کا اضافہ ضروری ہے۔

(۱) ’’عدلیہ کے ہر اہل منصب کے تقرر و ترقی میں تقرر کرنے والے کے پیش نظر من جملہ دیگر عوامل، متعلقہ کے تقویٰ و تدین اور اصلی ماخذ کے ذریعہ علوم و قوانین اسلامی سے واقفیت بھی مؤثر عوامل اور وجہ ترجیح کی حیثیت رکھیں گے۔‘‘

یہ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام انتظامیہ اور مقننہ کے ارکان سے بھی بڑھ کر عدالت ہائے انصاف کے احکام کے تدین و تقویٰ کو اہمیت دیتا ہے۔ اور جبکہ اس مملکت میں یہ اصول تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں کے قوانین اسلام کے اصول و احکام پر مبنی ہوں گے۔ تو یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے حکامِ عدالت قوانینِ اسلامی سے واقف ہوں۔

(۲) ’’مقننہ یا انتظامیہ کو ٹربیونلز (خاص عدالتیں) مقرر کرنے کے اختیارات نہ ہوں گے۔‘‘

یہ اس لیے ضروری ہے کہ کسی خاص مقدمہ کے لیے یا خاص نوعیت کے مقدمات کے لیے انتظامیہ کا اپنی اغراض اور مصلحتوں کی بنا پر خود یا مقننہ کے ذریعہ سے خاص عدالتیں قائم کرنا اور ان کے اختیارات داد رسی پر من مانی حدود و قیود عائد کرنا قطعاً خلاف انصاف ہے۔ اور اس اختیار کو جس بے جا طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اس کی نہایت بری مثالیں دیکھی جا چکی ہیں۔ اس لیے خاص عدالتیں مقرر کرنے کے طریقے کو از روئے دستور بند ہونا چاہیے اور ہر قسم کے مقدمات ملک کی عام عدالتوں ہی کی طرف رجوع کیے جانے چاہئیں۔

باب (۱) عدالت عظمیٰ

پیراگراف (۱۸۲): اس میں سپریم کورٹ کو اس اختیار سے محروم کیا گیا ہے کہ وہ مسلح افواج سے متعلق کسی عدالت یا ٹربیونل کے صادر کیے ہوئے کسی حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے۔ ہمارے نزدیک یہ قید غیر منصفانہ ہے جبکہ ہمارے دستور میں سپریم کورٹ کو آخری عدالت انصاف قرار دیا جائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے کسی شخص کو خواہ وہ فوجی ہو، سولین یا عام شہری، انصاف حاصل کرنے کے لیے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع نہ دیا جائے۔ اگر فوجی عدالتوں میں کسی شخص کو بے انصافی کی شکایت ہو تو آخر کیوں وہ ملک کی آخری عدالت انصاف سے اپیل نہ کر سکے۔ لہٰذا پیراگراف (۱۸۲) کی حسب ذیل عبارت حذف کی جانی چاہیے۔

پیراگراف (۱۸۷): اس پیراگراف میں سپریم کورٹ کے اس اختیار کو کہ وہ انصاف کی غرض کے لیے کوئی شہادت یا دستاویز طلب کر سکے، وفاقی مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین سے محدود کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مقننہ کوئی ایسا قانون بنا دے جس میں کسی خاص قسم کی شہادتیں یا دستاویزیں طلب کرنا ممنوع ہو تو سپریم کورٹ انہیں طلب نہ کر سکے گا۔ خواہ انصاف کے لیے اس کا طلب کرنا کتنا ہی ضروری ہو۔ یہ بات اسلامی اصول عدل کے قطعاً خلاف ہے۔ اسلام کی رو سے جس شہادت کے بغیر انصاف نہ کیا جا سکتا ہو وہ جس کے پاس بھی ہو عدالت اس کو طلب کرنے کا حق رکھتی ہے، اور اس شخص کے لیے کتمان حق جائز نہیں۔ لہٰذا اس پیراگراف سے یہ الفاظ حذف کر دیے جائیں۔

’’بحفظ احکام موضوعہ مقننہ وفاقی‘‘

نیز پیراگراف کے اختتام پر حسب ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے۔

’’البتہ عاملہ کو حق ہونا چاہیے کہ اگر اس کے نزدیک کسی شہادت یا دستاویز کا افشا مملکت کے تحفظ و استحکام کے منافی ہو تو وہ عدالت سے استدعا کر سکتی ہے کہ اس کے اخفا کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔‘‘

باب (۲) عدالت ہائے عالیہ

پیراگراف (۲۰۵) شق (۲): اس پیراگراف میں ہائی کورٹ کے اختیارات پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کسی عدالت کے ایسے فیصلوں پر اعتراض کر سکے جن کی اپیل یا نگرانی کسی اور طریقہ سے ہائی کورٹ میں نہ ہو سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک یہ پابندی ولایات کی بلند ترین عدالت کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے روکتی ہے۔ ہائی کورٹ کو تو اس امر کے پورے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں کہ جب کبھی اس کے علم میں کوئی ایسا معاملہ آئے جس میں اس کی ماتحت عدالتیں انصاف کرنے سے قاصر رہی ہوں، وہ اس کا نوٹس لے اور انصاف بہم پہنچانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی یہ شق پوری کی پوری حذف کی جانی چاہیے۔

حصہ (۱۱)

باب ملازمین و ماموریۂ ملازمت سرکاری

پیراگراف (۲۲۲) شق (۱): اس شق میں یہ کہا گیا ہے کہ وفاقی مقننہ میں امیر مملکت کی اجازت کے بغیر اور ولایت (یونٹس) کی مجالس مقننہ میں حاکمان ولایات کی اجازت کے بغیر کوئی ایسا مسودہ قانون نہیں پیش کیا جا سکتا جو اُن تحفظات کو منسوخ یا محدود کرتا ہو جو دفعہ ۱۹۷ ضابطۂ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطہ دیوانی میں سرکاری ملازمین کو دیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ شق سخت قابل اعتراض ہے۔ اگر ریاست پاکستان کے ملازمین، امیر مملکت اور حاکمان ولایت کے ملازم نہیں بلکہ پاکستان کی پبلک کے ملازم ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پبلک کے نمائندے اس کے ملازموں کے حقوق و اختیارات اور امتیازات میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے کوئی مسودہ قانون پیش کرنے میں امیر مملکت اور حاکمان ولایات کی اجازت کے محتاج ہوں۔ آزاد پاکستان میں تو دفعہ ۱۹۷ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطہ دیوانی جیسی صریح غیر منصفانہ دفعات کا کتاب آئین پر موجود رہنا ہی شرمناک ہے۔ کجا کہ دستور میں ان دفعات کو بچانے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ ان میں ترمیم اور تنسیخ کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون نہ پیش کیا جا سکے جب تک کہ امیر مملکت اور حاکمان ولایات اس کی اجازت نہ دیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس پیراگراف کی یہ شق حذف کی جائے۔

حصہ (۱۲)

در باب انتخابات

اس باب میں کسی مقام پر حسب ذیل عبارات کا بصورت پیراگراف اضافہ ہونا ضروری ہے۔

(الف) ’’امیرِ مملکت، حاکمانِ ولایات اور عمالِ حکومت کے لیے یہ ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ انتخابات میں کسی شخص یا پارٹی کے خلاف یا موافق رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے۔‘‘

(ب) ’’مرکزی اور صوبائی وزیر اعظم، وزراء مملکتی، وزراء اور نائب وزراء، اور پارلیمنٹری سیکرٹری کے لیے ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ کسی شخص یا پارٹی کے موافق یا خلاف سرکاری اثرات اور وسائل کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

(ج) ’’مرکزی مقننہ اور ولایات کی مجالسِ مقننہ میں ہر نشست جو خالی ہوگئی ہو، زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر اندر بذریعہ ضمنی انتخاب پر کرنی ضروری ہوگی۔‘‘

پیراگراف (۲۳۴) شق (۲): اس میں انتخابی کمیشن کے ’’ارکان کا تقرر بھی چیف کمشنر کے تقرر کی طرح محض امیر مملکت کی صوابدید پر موقوف کر دیا گیا ہے۔‘‘

جہاں تک چیف کمشنر کا تعلق ہے اس کے تقرر کے معاملے میں تو اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ امیر مملکت ہی کی صوابدید پر ہو۔ لیکن انتخابات کی آزادی کے لیے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا الیکشن کمیشن محض امیر مملکت ہی کا ساختہ پرداختہ نہ ہو۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق کے الفاظ ’’اور چیف کمشنر انتخابات سے‘‘ لے کر ’’اپنی صوابدید پر مقرر کرے گا‘‘ تک حذف کر دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے۔

’’اور امیر مملکت چیف کمشنر انتخابات کو اپنی صوابدید پر اور دوسرے انتخابی کمشنروں کو چیف کمشنر انتخابات کی سفارش پر ایسے قانون کے (دو تین الفاظ مٹے ہوئے ہیں) کرے گا جو وفاقی مقننہ اس بارے میں وضع کرے۔‘‘

نیز (دو تین الفاظ مٹے ہوئے ہیں) اداروں کو محفوظ کرنے کے لیے پیراگراف (۲۳۴) شق (۲) میں یہ اضافہ ہونا چاہیے۔

’’چیف الیکشن کمشنر کا تقرر مستقل ہونا چاہیے، اس کے سپرد مرکز اور ولایات میں نہ صرف عام انتخابات کا انتظام ہوگا بلکہ وقتاً فوقتاً خالی ہونے والی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا انتظام بھی ہوگا۔ نیز انتخابات کے لیے رائے دہندگان کی فہرستوں کو ہر وقت تیار رکھنا بھی اس کا فرض ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر کا مرتبہ سپریم کورٹ کے ججوں کے مماثل ہوگا اور اس پر بھی وہ پابندیاں عائد کی جائیں جو پیراگراف (۲۲۷) شق (۲) و (۳) میں پبلک سروس کمیشن کے صدر پر عائد ہوتی ہیں۔

’’چیف الیکشن کمشنر وہی شخص مقرر کیا جائے گا جو کم از کم تین سال کسی ہائی کورٹ میں جج رہ چکا ہو۔‘‘

پیراگراف (۲۳۹) شق (۲): اس شق میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں امیر مملکت اور ولایات میں حاکمان ولایات کو دیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ حصہ (۳) کے پیراگراف (۲۳) میں ہم کہہ چکے ہیں، یہ چیز انتخابات کی آزادی کے لیے مضر ہے۔ لہٰذا اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے یہ عبارت ہونی چاہیے۔

’’انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں سپریم کورٹ اور ولایات میں ہائی کورٹ کو ہونا چاہیے۔‘‘

ضمیمہ اول

فہرست اول: اس فہرست میں حسب ذیل مضامین کا اضافہ کیا جائے۔

(۱) ’’مملکت کے رہنما اصول کے مطابق تعلیمی پالیسی کا تعین، توافق اور رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کا قیام۔‘‘

(۲) ’’رہنما اصول کے مطابق مملکت کی بنیادی آئیڈیالوجی اور نصب العین کا تحفظ۔‘‘

فہرست اول و سوم: ان دونوں فہرستوں میں نمبر (۳) اپنی موجودہ صورت میں سخت قابل اعتراض ہے۔ احتیاطی نظربندی کے اختیارات اب تک جس طریقے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں وہ سیفٹی ایکٹ اور اس قسم کے دوسرے قوانین کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اور یہ قوانین نہ صرف شریعت کے خلاف ہیں بلکہ عقلِ عام اور انصاف کے عالمگیر تصورات کے بھی خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ خود وہ لوگ جنہیں آج ان اختیارات پر اصرار ہے اپنی بے اختیاری کے زمانے میں دوسروں پر شدت کے ساتھ یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ ان کے خلاف سیفٹی ایکٹ ایک جیسے قوانین استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ان دونوں فہرستوں کے نمبر (۳) میں ’’احتیاطی نظر بندی‘‘ کے بعد حسب ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے۔

’’بشرطیکہ جس شخص کو اس غرض کے لیے بند کیا جائے اسے پندرہ دن کے اندر اندر عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے اور اس کو صفائی کا پورا موقعہ دیا جائے، اور مدت نظر بندی کی تعین کا اختیار عدالت کو حاصل ہوگا۔‘‘

ضمیمہ دوم

اس ضمیمہ میں مسلم نشستوں کے عنوان کے کالم میں پنجاب کے بالمقابل ۸۸ کی جگہ ۸۷ کا عدد درج کیا جائے۔ اور ایک نئے کالم کا اضافہ کیا جائے جس کا عنوان ’’قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستیں‘‘ ہو۔ اس کالم میں پنجاب کے بالمقابل ایک کا عدد درج کیا جائے۔ نیز ضمیمہ دوم کی تشریحات میں حسب ذیل پانچویں دفعہ کا اضافہ کیا جائے۔

’’پنجاب میں قادیانیوں کی ایک نشست پر کرنے کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کے قادیانی بھی ووٹ دینے اور مذکورہ نشست پر رکن منتخب ہو سکنے کے مستحق ہوں گے۔‘‘

قادیانی کی تشریح یوں کی جائے۔

’’قادیانی سے مراد وہ شخص ہوگا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتا ہو۔‘‘

یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بناء پر دستور بنائیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی آباد ہے وہاں اس قادیانی مسئلہ نے کس قدر نازک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کر کے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہوگیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی یہ غلطی بڑی افسوس ناک ہوگی کہ وہ جب پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آراء بھی ہیں، اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا (جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو (تین چار الفاظ مٹے ہوئے ہیں) الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔

علاوہ برین بنیادی حقوق کی جو رپورٹ 1950ء میں پیش کی گئی تھی اور بسرعت منظور بھی کر لی گئی تھی اس کے پیراگراف (۳) کا یہ حصہ بھی حذف ہونا چاہیے۔

’’ماسوا اس صورت کے جب کہ ریاست کی سلامتی کو کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو یا کوئی نازک ہنگامی حالت رونما ہو جائے۔‘‘

مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ استثنائی فقرہ ہیبس کارپس کے حق کو بعض سورتوں میں معطل کر دیتا ہے در آں حالیکہ اسلامی شریعت کسی حالت میں بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی مسلم یا ذمی شہری کو ملک کی سب سے اونچی عدالت انصاف کے پاس حبسِ -- کے خلاف داد رسی کے لیے جانے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔

اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس

(۱) حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندوی۔ صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۲) حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۳) حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد صاحب۔ صدر مرکزی جمعیۃ علماء پاکستان۔
(۴) حضرت مولانا داؤد غزنوی۔ صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان۔
(۵) حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام۔
(۶) حضرت مولانا احمد علی صاحب۔ امیر انجمن خدام الدین لاہور۔
(۷) حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان۔
(۸) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان، و سرپرست دارالعلوم کراچی۔
(۹) حضرت مولانا شمش الحق صاحب افغانی۔ وزیر معارف ریاست قلات۔
(۱۰) حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بد ایونی۔ صدر جمعیۃ علماء پاکستان سندھ۔
(۱۱) حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی۔ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۲) حضرت مولانا خیر محمد صاحب۔ مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان۔
(۱۳) حضرت مولانا حاجی محمد امین صاحب۔ خلیفہ حاجی ترنگ زئی پشاور (سرحد)
(۱۴) حضرت مولانا اطہر علی صاحب۔ صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔
(۱۵) حضرت مولانا ابو جعفر محمد صالح صاحب۔ (پیر سر سینہ شریف) نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و امیر جمعیۃ حزب اللہ مشرقی پاکستان۔
(۱۶) حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب۔ ناظم جمعیۃ اہل حدیث پاکستان۔
(۱۷) حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب۔ جامعہ دینیہ در الہدیٰ ٹھیٹھری، خیر پور میرس سندھ۔
(۱۸) حضرت مولانا محمد صادق صاحب۔ مہتمم مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی۔
(۱۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب فرید پوری۔ پرنسپل جامعہ قرآنیہ ڈھاکہ۔
(۲۰) حضرت مولانا مفتی محمد صاحبداد صاحب۔ کراچی
(۲۱) حضرت مولانا پیر محمد ہاشم جان صاحب مجددی سرہندی۔ ٹنڈو سائن داد حیدر آباد۔
(۲۲) حضرت مولانا راغب احسن صاحب ایم اے۔ نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔
(۲۳) حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب۔ نائب صدر جمعیۃ المدرسین سرسینہ شریف مشرقی پاکستان۔
(۲۴) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان۔
(۲۵) حضرت مولانا حافظ کفایت حسین صاحب۔ مجتہد ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان۔
(۲۶) حضرت مولانا مفتی جعفر حسین صاحب مجتہد رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۲۷) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری۔ شیخ التفسیر دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار سندھ۔
(۲۸) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری۔ صدر مجلس احرار اسلام پاکستان۔
(۲۹) حضرت مولانا امین الحسنات صاحب پیر مانکی شریف۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام۔
(۳۰) جناب قاضی عبد الصمد صاحب سربازی۔ قاضی قلات بلوچستان۔
(۳۱) جناب مولانا احتشام الحق صاحب۔ مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الٰہ۔ خطیب جامعہ مسجد جیکب لائن کراچی۔
(۳۲) جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری۔ سیکرٹری تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۳۳) جناب مولانا دین محمد صاحب۔ نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔

نوٹ: اس اجتماع میں حضرت مولانا حماد اللہ صاحب بوجہ علالت، حضرت مولانا بدر عالم صاحب بوجہ ہجرت مدینہ منورہ، اور پروفیسر مولانا عبد الخالق صاحب رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان بعض نجی مصروفیات کے باعث شرکت نہ فرما سکے۔

ضمیمہ

ہمارے نزدیک دفعہ نمبر (۴) کے الفاظ حسب ذیل ہوں۔

’’ایسی صورت میں جب کہ مجلس مقننہ میں کتاب و سنت کی تعبیر و تعریف پر اعتراض ہو تو ضروری ہوگا کہ یہ سوال ماہرین قوانین اسلامی (علماء پاکستان) کے بورڈ کے پاس بھیجا جائے۔ یہ بورڈ اپنا جو فیصلہ صادر کرے مجلس مقننہ اس کی پابند ہوگی۔‘‘

اسی طرح دفعہ نمبر (۵) کی شق نمبر (۱) میں تشکیل بورڈ کے متعلق ہماری ترمیم یہ ہے کہ

’’حکومت پاکستان علماء کی ان مذہبی جماعتوں سے جو مرکزی اور صوبہ جاتی حیثیت سے قیام پاکستان کے بعد سے کام کر رہی ہیں، اور جن کا نظام اس وقت تک باقاعدہ قائم ہے، ان سے علماء پاکستان کے نام طلب کرے اور امیر مملکت ان کا اعلان کر دے۔

ماہرین قوانین اسلامی سے مراد علماء دین ہی ہوں تو انہیں ایسا باوقار و با اختیار ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ ناطق ہو۔ ہمیں علماء کے اجتماع کی اس تجویز سے کہ کتاب و سنت کی تعبیر کا فیصلہ کرنے کے لیے ’’سپریم کورٹ‘‘ کے ساتھ علماء منسلک ہوں، بحالت موجودہ اختلاف ہے۔ اس لیے علماء کا محض کتاب و سنت کی تعبیر و معانی بتانے کے لیے ’’سپریم کورٹ‘‘ کے ججوں کے ساتھ منسلک ہونا بے کار و بے معنی ہے۔ البتہ مسلمانوں کے اہم مسائل دینی کے تصفیہ کے لیے اگر علماء بحیثیت جج یعنی ’’قاضی‘‘ مقرر کیے جائیں (جن کی ضرورت نزاکت حالات کے باعث لازمی ہے) تو موزوں ہو سکتا ہے۔‘‘

مولانا ابوالحسنات قادری۔ مولانا محمد عبد الحامد القادری البدایونی۔ مفتی محمد صاحب داد۔