نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جولائی ۲۰۱۵ء

سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرپشن کے حوالہ سے نیب کے کردار پر بحث کا ایک منظر قومی پریس کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔ بعض قومی اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب سے ۵۰ میگا اسکینڈلز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مالیات بدعنوانی، قبضہ مافیا اور اختیارات سے تجاوز کی کیٹیگریز میں میگا اسکینڈلز کی تفصیلات چیئرمین نیب کے دستخطوں سے جمع کرائی جائیں۔ عدالت نے پہلے درجہ میں مالیاتی اسکینڈلز، دوسرے درجہ میں اراضی کی خرید و فروخت سے متعلق کرپشن، اور تیسرے درجے میں نیب ملازمین کے اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے اس کیس کی سماعت کے دوران معزز جج صاحبان کے ابتدائی ریمارکس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے تاکہ معاملہ کی نوعیت اور سنگینی کا کچھ اندازہ ہو سکے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کا ارشاد ہے کہ نیب کی جانب سے ملزموں کو چھوڑنے کی شرح سب سے زیادہ ہے اور نیب میں ۷۵ فی صد شکایات پلی بارگین (Plea Bargain) کے نتیجے میں ختم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم نیب حکام کی جانب سے ملک میں بدعنوانی کے خاتمہ کا پرچار کا سن سن کر تھک چکی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ کرپشن پاکستان کا المیہ بنتا جا رہا ہے، بڑے کیسوں میں ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا رہا اور پٹواری سطح کے افراد کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیب کے وسائل محدود ہیں، اگر ان کو چھوٹے کیسوں کے پیچھے لگائیں گے تو بڑے کیسوں کا کیا بنے گا؟ جسٹس مقبول باقر نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا نیب بڑے فراڈیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے؟ اور جسٹس جواد ایس خواجہ نے یہ بھی کہا کہ لوگ کرپشن کر کے اس کا تھوڑا حصہ واپس کرتے ہیں اور پھر نیب کی چھتری لے کر آزادی سے گھومتے ہیں۔

یہ ملک میں کرپشن کے خاتمہ کے لیے حکومتی اقدامات کا ایک ہلکا سا منظر ہے جس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے حکمران پاکستان کو کرپشن سے نجات دلانے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔ جبکہ کرپشن کی سطح کی ایک جھلک ہم ابھی چند دن قبل دیکھ چکے ہیں کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم نے ملک کا دورہ کرنے والے ایک برادر ملک کے وزیر اعظم کی اہلیہ کی طرف سے اپنی اہلیہ کو بطور ہدیہ دیا جانے والا قیمتی ہار قومی خزانہ میں جمع کرانے کی بجائے گھر میں رکھ لیا جو متعلقہ اداروں کی طرف سے مسلسل پیچھا کرنے پر کئی سال کے بعد واپس کیا گیا ہے۔

ہار کی واپسی کی خبر جن تفصیلات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھتے ہوئے ہمیں دور نبویؐ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو کسی علاقہ سے زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا۔ اس دور میں تحصیلدار اور محصولات وصول کرنے والے کے لیے ’’عامل‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے واپس آئے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وصول شدہ اموال پیش کیے مگر ایک گٹھڑی علیحدہ رکھ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس گٹھڑی میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ کچھ تحائف ہیں جو لوگوں نے مجھے ذاتی طور پر دیے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنی ماں کے گھر میں بیٹھے رہتے تو کیا یہ تحفے تمہیں وہاں بھی ملتے؟ یہ کہہ کر وہ گٹھڑی باقی مال میں شامل کرا دی کہ یہ تمہیں ڈیوٹی کی وجہ سے ملے ہیں اس لیے بیت المال کا حصہ ہیں۔ پھر یہ قانون بن گیا کہ سرکاری ڈیوٹی کے دوران اس حیثیت سے جو تحفے وصول ہوں وہ قومی خزانے کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور آج بھی بین الاقوامی سطح پر یہ ضابطہ ہے کہ ملک کا دورہ کرنے والے غیر ملکی حکمران جو تحفہ پیش کریں یا کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے ہوئے کسی حاکم کو کوئی تحفہ پیش کیا جائے وہ قومی خزانے کا حق ہوتا ہے اور اسے وہاں جمع کرانا پڑتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تاریخی واقعہ یہ بھی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کی اہلیہ محترمہ کو قیصر روم کی اہلیہ نے تحفہ کے طور پر خوشبو بھیجی تو حضرت عمرؓ نے اہلیہ سے کہا کہ یہ تمہارا حق نہیں اس لیے اسے مدینہ منورہ کی خواتین میں تقسیم کر دیا جائے۔ اور اہلیہ محترمہ کو ہدایت کی کہ تقسیم کرتے ہوئے اپنا حصہ تھوڑا سا کم رکھنا تاکہ تقسیم کرتے ہوئے جو خوشبو تمہاری انگلیوں کے ساتھ لگ جائے اس کے ساتھ حساب برابر رہے۔

سابق چیف جسٹس محترم جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے تھے کہ ہمارا سب سے بڑا قومی مسئلہ کرپشن ہے۔ اور سب سے بڑی ضرورت گڈ گورننس ہے جس کے لیے ہمیں حضرت عمرؓ سے راہ نمائی حاصل کرنا ہوگی۔

قومی سطح پر یہ بھی کرپشن ہی کی ایک خوفناک شکل ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ہدف زیادہ تر نچلے طبقے کے افراد بنتے ہیں جبکہ با اثر لوگ اور کسی بھی ذریعہ سے اثر و رسوخ رکھنے والے حضرات گرفت اور مواخذہ سے بچ نکلتے ہیں۔ اس کا ذکر محترم جسٹس جواد ایس خواجہ نے مذکورہ بالا ریمارکس میں کیا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوموں کے اسی طرز عمل کو ان کی تباہی کا باعث قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم سے پہلی قوموں کی بربادی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ عام آدمی جرم کرتا تو وہ پکڑا جاتا تھا اور سزا پاتا مگر کوئی با اثر شخص جرم کا مرتکب ہوتا تو وہ سزا سے بچ جاتا تھا۔ آج ہماری صورت حال بھی یہی ہے جس کی وجہ سے کرپشن قومی مسئلہ سے بڑھ کر قومی المیہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اور اس صورت حال کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو پاکیزگی سے بہرہ ور نہیں کرتا جس میں کمزور آدمی اپنا حق وصول نہ کر سکے۔

سپریم کورٹ میں فراڈ اور کرپشن کے ۵۰ بڑے کیسوں کے بارے میں رپورٹ پیش ہونے کے بعد بحث کی صورت حال کیا ہوگی، یہ آنے والا وقت بتائے گا مگر یہ ابتدائی بحث بھی ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اور جسٹس (ر) افتخار چودھری کے یہ ریمارکس دوبارہ یاد دلا رہی ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے ہمیں حضرت عمرؓ سے راہ نمائی حاصل کرنا ہوگی۔