قیام پاکستان کا بنیادی مقصد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ اگست ۲۰۱۵ء

گزشتہ روز (۱۲ اگست) سمبڑیال کی جامع مسجد عثمانیہ میں منعقدہ ایک تقریب میں ’’قیام پاکستان اور علماء کرام‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا۔ گفتگو کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ ! قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے علاقہ میں حکومت خود مسلمانوں کی ہونی چاہیے اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مطابق ملک کا نظام تشکیل پانا چاہیے۔ یہ اسلام کے تقاضوں میں سے ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ اور ماضی کے تسلسل کا حصہ ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی قائم ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام یہ کیا کہ حکومتی اور ریاستی نظام قائم کیا، جس کی بنیاد ’’میثاق مدینہ‘‘ کے نام سے مختلف قبائل اور مذاہب کے لوگوں کے درمیان ایک معاہدہ پر تھی، اور جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم کی حیثیت حاصل تھی۔ اس حکومت اور حکومتی نظام کا تاریخی پس منظر بھی بہت دل چسپ ہے جو بخاری شریف کی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ہجرت کے بعد اور جنگ بدر سے پہلے، یعنی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام مدینہ کے پہلے سال ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ بنو خزرج کے ایک سردار عبد اللہ بن ابی نے ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا اور ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سوار قریب سے گزرے تو اس نے سواری کے قدموں سے اٹھنے والے غبار کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لیا اور کہا کہ گزرتے ہوئے ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہاں جمع دیکھ کر موقع سے فائدہ اٹھایا اور قرآن کریم سنا کر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جس پر عبد اللہ بن ابی نے نخوت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مجلسوں میں آکر یہ باتیں مت کیا کرو اور جو آپ کے پاس آئے اس کو سنایا کرو۔ مجلس میں حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ بھی موجود تھے جو غیرت میں آئے اور عبد اللہ بن ابی کو ٹوکتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجالس میں ضرور تشریف لائیں گے اور ہم ان کی باتیں سنا کریں گے۔ اس پر مجلس میں جھگڑے کی صورت پیدا ہوگئی جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت و حوصلہ کے ساتھ کنٹرول کیا، ورنہ مار کٹائی اور جنگ و جدال کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو خزرج کے بڑے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ سے اس واقعہ کی شکایت کی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبر و حوصلہ کے مظاہرہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جو تکلیف پہنچی ہے یہ اس پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہا ہے۔ اس لیے صبر و تحمل کا اظہار ہی مناسب ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آپ کی تشریف آوری سے قبل اس علاقہ کے تمام قبائل نے باہمی مشورہ سے ایک مشترکہ حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور عبد اللہ بن ابی کو بادشاہ بنانے پر بھی اتفاق کر لیا تھا۔ بس ابھی تاج پوشی کی تقریب کا فیصلہ ہونا باقی تھا کہ اس دوران آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس کا حکمرانی کا خواب خاک میں مل گیا، اس کو اسی بات کا غصہ ہے جس کا اظہار وہ اس انداز سے کر رہا ہے۔

اس طرح مدینہ منورہ اور اردگرد کے قبائل نے جس مشترکہ حکومت کا فیصلہ کیا ہوا تھا وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تکمیل تک پہنچا اور ’’میثاق مدینہ‘‘ کے عنوان سے ایک تحریری دستور پر اتفاق رائے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاکمانہ حیثیت کو بھی سب نے تسلیم کر لیا اور ایک ریاست وجود میں آگئی جس کا دائرہ پھیلتے پھیلتے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک پورے جزیرۂ عرب کو محیط ہوگیا۔

اس دوران لوگوں کے تنازعات کے فیصلے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، قبائل کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اور مقدمات بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوتے تھے۔ مسلمانوں کے تنازعات و مقدمات تو اپنی جگہ تھے، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی جھگڑوں کا مقدمہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوتا تھا۔ بلکہ غیر مسلموں کے آپس کے تنازعات و مقدمات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم کی حیثیت حاصل تھی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ یہودیوں میں زنا کے جرم کا ارتکاب ہوا تو دونوں فریقوں کے یہودی ہونے کے باوجود مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ نے فیصلہ صادر فرما کر یہودی جوڑے کو سنگسار کرا دیا۔ اس لیے اسلامی تاریخ کا آغاز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت مبارکہ سے ہوا تھا کہ جونہی مسلم سوسائٹی کو یہ حیثیت حاصل ہوئی تو اسلامی ریاست کی تشکیل کی گئی اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔

برصغیر پاک و ہند اور بنگلہ دیش وغیرہ میں مسلمانوں نے ایک ہزار سال کے لگ بھگ حکومت کی ہے اور ہر دور میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ مسلمان اقلیت میں تھے مگر طاقت و قوت کی وجہ سے انہوں نے حکومت کی۔ مگر جب انگریز قابض ہوئے اور دنیا میں طاقت کی بجائے ووٹ اور گنتی کے ساتھ اقتدار کے فیصلے ہونے لگے تو اس خطہ کے بہت سے مسلمان دانش وروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ ہم اقلیت میں ہیں اور ووٹ اور تعداد کے حوالہ سے ہندو ہمیشہ کے لیے غلبہ قائم کر لیں گے، اس لیے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے انہیں الگ ریاست کی شکل دے کر مسلمانوں کے اقتدار اور اسلامی تہذیب کے تحفظ کا اہتمام ضروری ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے قیام پاکستان کی تحریک چلائی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے ساتھ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ ، پیر صاحب آف مانکی شریفؒ ، اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ جیسے اکابر علماء کرام نے تحریک پاکستان کا ساتھ دے کر اسے کامیاب بنایا اور ۱۹۴۷ء میں ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک اسلامی ریاست وجود میں آگئی۔

مگر قیام پاکستان کو سرسٹھ سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس کا مقصد تشنۂ تکمیل ہے اور کوئی حکومت بھی پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالہ سے سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک نہ صرف فکری اور اخلاقی انارکی کا شکار ہے بلکہ بیرونی قوتوں کی سازشوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے ہم سب کو ’’یوم آزادی‘‘ کے موقع پر اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنا کر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کو قائم کریں گے اور قیام پاکستان کے مقصد کی تکمیل کرتے ہوئے ملک کے باشندوں کو امن و سلامتی کی حقیقی منزل سے ہمکنار کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔