نومسلموں کے مسائل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ ستمبر ۲۰۱۵ء

لاہور سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں ۴ ستمبر کو چھپنے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والے خاندان کا اہل خانہ اور رشتہ داروں نے سماجی بائیکاٹ کرتے ہوئے گھر سے نکال دیا۔ قبول اسلام کرنے والی چار بچوں کی ماں اپنے معذور شوہر کے ساتھ در در کی ٹھوکریں کھا کر انصاف کے لیے لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئی۔ خانیوال کے چک ۳۳ کی رہائشی رچل اور اس کے معذور شوہرپطرس خلیل جوزف نے ایک سال قبل اپنے چار بچوں کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد رچل نے اپنا نام میمونہ اور پطرس خلیل جوزف نے اپنا نام بلال رکھا تو ان کے خاندان اور رشتہ داروں نے انہیں بچوں سمیت گھر سے نکال دیا۔ نو مسلم خاندان رشتہ داروں کی بے اعتنائی کے بعد لاہور آگئے اور ایک سال سے پارکوں اور مسجدوں کے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ نو مسلم خاتون کا معذور شوہر درباروں سے اپنے بچوں کے لیے کھانا لا کر ان کا پیٹ پال رہا ہے۔ نو مسلم جوڑا آٹھ سالہ عائشہ، چھ سالہ مقدس، چار سالہ حسن اور ڈیڑھ سالہ غلام حسین کو اپنے ہمراہ لے کر دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ نو مسلم خاتون کا سب سے چھوٹا بیٹا غلام حسین پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی سے محروم ہے۔‘‘

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں اچھی خاصی تعداد میں رہتی ہیں اور انہیں دستور کے مطابق شہری حقوق حاصل ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے اندر تبلیغ کرنے اور انہیں غیر مسلم بنانے کے مواقع بھی انہیں میسر ہیں جن سے مسیحی اقلیت کے مشنری ادارے اور قادیانی مبلغین سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ مسیحی مشنریوں کی طرح غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے کوئی منظم کام قومی سطح پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر اس قسم کی کوئی تحریک پائی جاتی ہے۔ مختلف مقامات پر کچھ افراد یا مقامی ادارے ضرور اس طرف توجہ دیتے ہیں جن کی کوشش سے بہت سے لوگ مسلمان بھی ہو جاتے ہیں، مگر مسلمان ہو جانے کے بعد انہیں جو مسائل درپیش ہوتے ہیں ان کا کوئی مناسب حل معاشرتی سطح پر دیکھنے میں نہیں آتا۔

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں خطابت کے گزشتہ پینتالیس سالہ دور میں سیکڑوں افراد اور بیسیوں خاندان میرے سامنے مسلمان ہوئے ہیں۔ میرا معمول یہ ہے کہ نو مسلم افراد اور خاندانوں کا جس علاقے سے تعلق ہو وہاں کے کسی سرکردہ دوست کو توجہ دلا دیتا ہوں کہ ان کا خیال رکھیں اور مشکلات میں ان سے تعاون کریں۔ مگر ظاہر ہے کہ میں بھی صرف توجہ ہی دلا سکتا ہوں، اس کا اہتمام کرنا اور دوستوں سے بار بار کہنا میرے بس میں نہیں ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ کسی دردمند صاحب خیر یا احساس رکھنے والے عالم دین کے رابطہ میں آجائیں تو کچھ نہ کچھ گزارہ ہو جاتا ہے۔ ورنہ نو مسلم حضرات اسی طرح بھٹکتے رہتے ہیں، کچھ مجبور ہو کر واپس چلے جاتے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے بھیک اور خیرات کے عادی ہو جاتے ہیں۔

نو مسلموں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ قبول اسلام کے بعد اپنے سابقہ ماحول سے کٹ جاتے ہیں، رشتہ داروں کے قطع تعلق کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ روزگار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثریت کو نہ نیا ماحول قبول کرتا ہے اور نہ ہی مناسب روزگار ملتا ہے۔ اسی طرح پرانے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں جبکہ نو مسلم ہونے کی وجہ سے نہ انہیں کوئی رشتہ ملتا ہے اور نہ ہی ان کا رشتہ کوئی قبول کرتا ہے۔ اور وہ ایک مسلمان معاشرے میں اچھوت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انہیں وہ معاشرتی تحفظ اور قدر و منزلت میسر نہیں آتی جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ اور ان کے بیٹے بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں عمر گزار دیتے ہیں۔

اس صورت حال کی وجہ اسلام اور اس کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے جو خود اپنی جگہ طبقاتی اونچ نیچ اور برادری ازم کے احساس برتری کا شکار ہے۔ اور یہی رویہ جب کسی نو مسلم کو درپیش ہوتا ہے تو اس کے لیے اس کا عذاب ڈبل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ پہلی برادری سے کٹ چکا ہوتا ہے، نئی برادری اسے قبول نہیں کرتی اور معاشرتی قدر و منزلت اور نئی رشتہ داریوں سے محرومی کے ساتھ اگر روزگار کا مسئلہ بھی شامل ہو جائے تو اس فرد یا خاندان کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔

ہمارے محترم دوست مولانا عبد الرؤف فاروقی نے جامعہ اسلامیہ کامونکی میں مذاہب کے تقابلی مطالعہ و تحقیق کا مرکز بنایا تو ہمارے درمیان مشاورت ہوئی کہ اس کے ساتھ نو مسلم افراد اور خاندانوں کو سنبھالنے کی بھی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ اور انہیں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروری دینی تعلیم اور تربیت کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ کیونکہ قبول اسلام کے بعد انہیں دینی تعلیم و تربیت کے بغیر اسی حال پر چھوڑ دینا قطعی طور پر غلط بات ہے۔ اس سے وہ قبول اسلام کے فوائد و ثمرات سے بالکل محروم رہ جائیں گے۔ مولانا فاروقی اور ان کے رفقاء نے اپنی حد تک تھوڑا بہت بندوبست کیا ہے اور کچھ حضرات کو سنبھالا بھی ہے مگر نچلی سطح کے چند ایک ادارے آخر کتنا کام کر سکیں گے؟

کچھ عرصہ قبل غیر مسلموں میں دعوت اسلام کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کے موضوع پر ایک مذاکرہ میں شرکت کا موقع ملا تو یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی معاشرہ میں غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی راہ میں تین بڑی رکاوٹیں ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ غیر مسلموں کی ذہنی سطح اور ان کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے اور پھر دعوت دینے کا کوئی منظم پروگرام ملکی سطح پر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ (۲) دوسری یہ کہ ہمارا مسلکی طور پر یہ باہمی منافرت کا ماحول ایک غیر مسلم کو قبول اسلام کے حوالہ سے کنفیوژ کر دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر کے کون سے کیمپ میں جائے گا؟ (۳) تیسری رکاوٹ یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے والا پہلے معاشرے سے کٹ جانے کے باوجود نئے معاشرے کے لیے اس درجہ میں قابل قبول نہیں ہوتا جو اس کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے جس سے وہ معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

مذاکرہ کے شرکاء کا خیال تھا کہ اگر ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا کوئی بندوبست کیا جا سکے تو خود پاکستان کے اندر دعوت اسلام کا ایک وسیع میدان موجود ہے۔

بہرحال خانیوال کے ایک گاؤں کی یہ نو مسلم فیملی مذکورہ بالا خبر کے مطابق لاہور میں جس طرح ایک سال سے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے وہ ہم سب کے لیے ’’لمحۂ فکریہ‘‘ ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس کے لیے کیا کیا ہے؟ لیکن دراصل یہ کام اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارت مذہبی امور کا ہے کہ وہ کوئی ایسا نیٹ ورک ضرور بنائے جس کے تحت نو مسلم افراد اور خاندانوں کو باعزت طور پر سنبھالا جا سکے اور اس کے ساتھ رفاہی تنظیموں اور دینی اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلہ کی نزاکت کو محسوس کریں اور باہمی مشاورت کے ساتھ اس کا کوئی حل نکالیں۔