مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

ضلع گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور مختلف دینی تحریکات کے سرگرم راہنما حضرت مولانا محمد اقبال نعمانیؒ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کا دو روز قبل علی پور چٹھہ میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کمالیہ سے تھا اور جامعہ خیر المدارس ملتان کے فضلاء میں سے تھے۔ کم و بیش نصف صدی قبل علی پور چٹھہ کی مرکزی جامع مسجد کی خطابت کے منصب پر فائز ہوئے اور آخری عمر میں شدید علالت اور معذوری تک اس حیثیت سے علاقہ کے عوام کی دینی اور مسلکی راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ انہوں نے عید گاہ میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا جو ان کی یادگار اور صدقۂ جاریہ ہے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ سرگرم رہے۔

ایک دور میں علی پور چٹھہ کے علاقہ میں تین بزرگ ہماری جماعتی اور مسلکی سرگرمیوں کا محور ہوتے تھے: مولانا محمد اقبال نعمانیؒ ، مولانا محمد اسحاق کھٹانہؒ اور حکیم عبد اللطیف صاحب۔ اس تکون نے جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت اور پھر سپاہ صحابہؒ کی جدوجہد میں مسلسل کام کیا ہے اور ان کی تیار کردہ کھیپ آج بھی ان میدانوں میں مصروف عمل ہے۔ ان میں اول الذکر دونوں بزرگ اپنا اپنا کام مکمل کر کے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ حکیم عبد اللطیف صاحب بحمد اللہ تعالیٰ حیات ہیں اور چند دن قبل علی پور چٹھہ حاضری کے موقع پر مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ حکیم صاحب محترم ضعف اور پیرانہ سالی کے باوجود اب بھی متحرک ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھیں، آمین۔

حضرت مولانا محمد اقبال نعمانیؒ ہمارے محترم اور بزرگ دوست تھے، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے عقیدت و محبت کا گہرا تعلق رکھتے تھے اور ہر معاملہ میں ان سے راہ نمائی اور مشاورت کا اہتمام کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبولیت سے نوازیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔