مولانا محمد احمد لدھیانوی کی کامیابی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اہل السنۃ والجماعۃ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے انتخابی معرکہ بالآخر جیت لیا ہے اور انتخابی عذر داری میں ان کے مخالف امیدوار کو نا اہل قرار دے کر مجاز اتھارٹی نے مولانا احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے بہرہ ور کر دیا ہے۔ جھنگ کا ضلع دینی راہ نماؤں کی سیاسی سرگرمیوں کا ہمیشہ سے ایک اہم میدان رہا ہے۔ مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ ، مولانا حق نواز جھنگویؒ ، مولانا بشیر احمد خاکیؒ ، مولانا ایثار القاسمیؒ ، مولانا محمد اعظم طارقؒ اسی ضلع سے الیکشن لڑتے رہے ہیں اور منتخب ہونے والے ارکان کی آواز ایوانوں میں گونجتی رہی ہے۔ چنیوٹ کے الگ ضلع بن جانے کے بعد مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی سیٹ تو ضلع چنیوٹ میں چلی گئی جس پر ان کے بیٹے مولانا محمد الیاس چنیوٹی دو بار الیکشن جیت چکے ہیں۔ مگر جھنگ میں اس نمائندگی کا خلا محسوس ہو رہا تھا جو مولانا محمد احمد لدھیانوی کے قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ جانے کے بعد کسی حد تک پورا ہوگیا ہے۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی اہل سنت کے حقوق و مفادات کے لیے مخلصانہ جدوجہد اور مسلسل قربانیوں کی تاریخ رکھنے والی جس جماعت کے سربراہ ہیں اور ملک بھر میں سنی کاز کے لیے جس گرمجوشی اور استقامت کے ساتھ متحرک ہیں اس جدوجہد کا بھی تقاضہ ہے کہ منتخب ایوانوں میں ان کی آواز پہنچے۔ کیونکہ اس کے بغیر کسی جدوجہد کا نتیجہ خیز ہونا موجودہ حالت میں مشکل ہے۔ جن ایوانوں نے ملک و قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں وہاں تک مؤثر آواز نہ پہنچے تو کوئی اچھی سے اچھی محنت بھی نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔

میں کم و بیش ہر موقع پر یہ بات بار بار کہتا رہتا ہوں کہ کسی بھی دینی جدوجہد کے لیے نہ خالی پارلیمانی نمائندگی کافی ہے اور نہ ہی محض تحریکی قوت پر اکتفا ثمرآور ہو سکتا ہے۔ ان دونوں کا متوازن امتزاج ضروری ہے جس کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے ہم ایک عرصہ سے اس سلسلہ میں کسی پیش رفت سے محروم ہیں، اور گزشتہ کامیابیوں کا دفاع کرتے رہنے پر ہی ہم نے قناعت کر لی ہے۔ تحریک ختم نبوت میں ہم اس کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں اور موجودہ حالات میں آئندہ بھی ہمارے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی کے ساتھ اسٹریٹ پاور اور عوامی قوت کو متحرک رکھا جائے اور دینی جدوجہد کے اہداف طے کرتے ہوئے ان کی طرف پیش قدمی کی جائے۔

اہل سنت کے حقوق و مفادات کے تحفظ اور مستقبل قریب میں صاف دکھائی دینے والے خدشات و خطرات کے سدباب کے حوالہ سے بھی اسی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور رائے عامہ کی بیداری کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ متعلقہ ایوانوں تک رسائی اور وہاں موجود ارکان کی ذہن سازی اور بریفنگ اب ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی کے قومی اسمبلی میں پہنچ جانے کو ہم نیک فال سمجھتے ہوئے انہیں اس کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ اہلِ حق کی آواز کو اس اعلیٰ ایوان میں صحیح طور پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔