حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فکر و فلسفہ اور دور حاضر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ فروری ۲۰۱۶ء

بعض دوستوں کے تقاضے پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ کو اردو زبان میں قدرے تسہیل کے ساتھ پیش کرنے کی سعادت کی ہے جبکہ ’’باب الاتفاقات‘‘ کو بھی اسی انداز میں پیش کرنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس کی تمہیدی گزارشات قارئین کی نذر کی جا رہی ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ بارہویں صدی کے ان عظیم علماء امت میں سے تھے جنہوں نے دین کے مختلف شعبوں میں اجتہاد و تجدید کا کام سنبھالا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت سے وہ اس کٹھن گھاٹی سے اس طرح کامیابی سے گزرے کہ ان کے علوم و فیوض اور سعی و کاوش سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ دینی علوم کے فروغ اور ترویج میں ان کے ذوق و اسلوب کی ضرورت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔وہ ایک بڑے محدث، مفسر ، مجاہد ،متکلم اور صوفی تھے۔انہوں نے ان تمام دائروں میں تجدید و اجتہاد کے نقوش قائم کیے ہیں جن سے رہتی دنیا تک ارباب علم و دانش راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آج کے دور میں شاہ ولی اللہ کے علوم و فیوض ، فلسفہ و فکر اور ذوق اسلوب کی ضرورت و اہمیت کا جس سطح پر احساس و اظہار کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ ان دو شہادتوں سے کیا جا سکتا ہے جن کا راقم الحروف خود راوی ہے۔

شکاگو یونیورسٹی امریکہ میں ایک نو مسلم خاتون ڈاکٹر ایم۔کے ہرمینسن شعبہ علوم اسلامیہ میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔فلسفہ میں سان ڈیاگو یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے قرآن کریم سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور دینی علوم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ انہوں نے شاہ ولی اللہؒ کو اپنے مطالعہ و تحقیق کا خصوصی عنوان بنایا اور اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شاہ ولی اللہ کی معرکة الارا کتاب ’’ حجة اللہ البالغہ‘‘ کا انہوں نے انگلش میں ترجمہ کیا اور اب شکاگو یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی اپنے ذوق کے مطابق خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی پاکستانی ہیں، وہ ان کے ساتھ ۱۹۸۹ء میں پاکستان تشریف لائیں تو گوجرانوالہ بھی آئیں۔ جس کی وجہ انہوں نے خود یہ بیان کی کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے علوم و فلسفہ پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مرتب کرتے ہوئے انہیں جامعہ نصرة العلوم کے بانی حضرت صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کی تصنیفات سے استفادہ کا موقع ملا ہے۔ حضرت صوفی صاحبؒ راقم الحروف کے چچا محترم اور شاہ ولی اللہ ؒ کے فلسفہ و حکمت کے متخصصین میں سے تھے۔ انہوں نے جامعہ نصرة العلوم کے دورہ حدیث کے نصاب میں ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ کو باضابطہ طور پر شامل کیا جو وہ خود پڑھاتے تھے۔ اور ان کی وفات کے بعد سے اس کے کچھ ابواب دورہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کی سعادت مجھے حاصل ہو رہی ہے، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ڈاکٹر صاحبہ محترمہ نے کہا کہ وہ صوفی صاحب سے ملاقات اور ان سے کچھ مسائل پر گفتگو کے ارادہ سے آئی ہیں جو ان کے شوہر پروفیسر محمد علوی ، پروفیسر عبداللہ جمال مرحوم ، اور راقم الحروف کے ہمراہ جامعہ نصرة العلوم میں ہوئی۔ ڈاکٹر ایم۔ کے ہرمیسن نے دوسری وجہ یہ بیان کی کہ انہوں نے سنا ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک ادارہ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے نام سے قائم ہوا ہے، وہ اسے دیکھنے آئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی قائم کرنے والوں میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ لیکن اس وقت وہ اس مرحلہ میں تھا کہ زمین خریدی جا چکی تھی، تعمیراتی کام ابتدائی مراحل میں تھا اور تعلیمی پروگرام کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔اب یہ ادارہ جامعة الرشید کراچی کے زیر انتظام ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے کام کر رہا ہے جس میں دینی و عصری دونوں علوم کی تعلیم دی جاتی ہے اور راقم الحروف بھی اس کے مشاورتی نظام کا حصہ ہے۔

اس موقع پر میں نے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے لئے محترمہ کا انٹرویو لیا جس میں انہوں نے اپنے قبول اسلام اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔اور اپنے اس تاثر کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا میں اسلام کا پیغام و دعوت کے لیے شاہ ولی اللہ کا اسلوب اور ان کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہے۔اگر آپ ان کے لہجے میں حکمت اور لاجک کے ساتھ مغرب کو اسلام سمجھائیں گے تو اس کی سمجھ میں جلدی آئے گا اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دوسری شہادت برطانیہ کے ایک نومسلم دانش ور ڈاکٹر یحیٰ برٹ کی پیش کرنا چاہوں گا جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل جان برٹ کے فرزند ہیں۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے بھی اسلامی علوم کے مطالعہ و تحقیق کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اسی حوالہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔ان کے اعزاز میں ایک موقع پر لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے ایک استقبالیہ دیا گیا جس کی صدارت راقم الحروف نے کی۔ اس نشست میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بھی یہ بات زور دے کر کہی کہ مغرب کو اسلام کے حوالہ سے دعوت دیتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کا اسلوب اختیار کرنا ہوگا اور مغرب انہی کی زبان میں اسلام کو صحیح طریقے سے سمجھ پائے گا۔ یحیٰ برٹ کا کہنا تھا کہ حکمت و دانش اور لاجک کے ساتھ روحانیات وجدانیات کا متوازن امتزاج حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا امتیاز ہے اور آج مغرب کو اسی کی ضرورت ہے، جس کی طرف علماء اسلام کو بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے علم و فضل اور سعی و کاوش کے بہت سے دائرے ہیں جو اس وقت ہمارے موضوع میں شامل نہیں ہیں لیکن علمی دنیا میں ان کی سعی مشکور کو سب سے زیادہ اہمیت اس حوالہ سے دی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلامی عقائد، احکام، قوانین اور روایات کی حکیمانہ تشریح کی۔اور انسانی معاشرہ اور سماج کو موضوع بنا کر سماج کے نفع و نقصان اور سوسائٹی کے خیر و شر کی بنیادوں اور تقاضوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ کہا جاتا ہے کہ سماجیات (سوشیالوجی) کو باقاعدہ موضوع بنا کر ابن خلدون نے اپنے دور میں بات کی تھی، ان کے بعد اس سلسلے میں امام غزالیؒ، شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ، امام خطابی ؒ اور دیگر حضرات کا نام لیا جاتا ہے۔ مگر اسے باقاعدہ ایک فن کی حیثیت سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒنے مدون کیا اور ان کی تصنیف ’’حجة اللہ البالغہ‘‘ اسی حوالے سے ایک شاہکار کتاب تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے حجة اللہ البالغہ میں ’’علم اسرار دین‘‘ (دینی عقائد و احکام کی حکمتوں اور فلاسفی کا علم) کو اپنی ان کاوشوں کا نام دیا ہے اور کتاب کے مقدمہ میں اس کے تعارف کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کوئی بات کہنے کے بجائے اس مقدمہ کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے، جو ہوگا تو خلاصہ ہی مگر ہماری زبان میں ہوگا اور اس میں کہیں کہیں ہم ضرورت کے مطابق اپنی توضیحی گزارشات بھی الگ عنوان کے ساتھ ذکر کریں گے۔